ارٹی کیریا Urticaria

ارٹی کیریا Urticaria

Courtesy of London Allergy

پوری دنیا میں ارٹیکیریا کے تقریباؑ 5۔1٪ سے 5٪ مریض ہیں اور یہ معلومات ایک خاص قسم Dermographism ارٹی کیریا کی ہے۔ ارٹی کیریا Urticaria کو اردو میں چھپاکی یا پتی اچھلنا بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی الرجی ہے اور نوٹ کر لیں جیسے بہت ساری اقسام کا علاج تو کیا اسباب تک دریافت نہیں ہوۓ ان میں ارٹی کیریا بھی شامل ہے۔ یہ شروع میں ٹھیک ہو جائے تو ٹھیک ورنہ خود ہی ٹھیک ہوتی ہے دوسرا یہ کہ اسکے ہونے کے بہت سارے اسباب ہیں تو ایک ٹوٹکہ یہ ہے کہ اسباب ڈھونڈ کر علاج کیا جائے۔ مسؑلہ یہ ہے کہ سبب ملتا ہی نہیں ہے۔ اسکو انگریزی میں Chronic Idiopathic Urticaria (CIU) یا پھر (Chronic Spontaneous Urticaria (CSU بھی کہتے ہیں۔ تحقیق کہتی ہے کہ جن لوگوں کو یہ الرجی ہوتی ہیں ان میں سے 5٪ لوگوں کو زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے۔ ایسے مریضوں کو قوتِ معدافعت کو کم  کرنے والی ادویات دے کر علاج کیا جاتا ہے۔  انجیئوایڈیما چھپاکی کی ہی قدرے گہری شکل ہے۔ تقریباً 10٪ لوگوں کو سوجن تادیر رہتی ہے اسے angioedema کہتے ہیں جبکہ تقریباً 40٪ لوگوں کو دونوں مرض ہوتے ہیں۔ 

حالتوں کے لحاظ سے دو طرح کا ہوتا ہے ایک acute اور دوسرا chronic۔ کرانک میں بھی دو قسم کا ہوتا ہے

  • (Spontaneous    without      Trigger (Chronic  Idiopathic Urticaria

  • Inducible    with        Trigger

جیسا کے نام سے ظاہر ہے کہ پہلے میں کوئی وجہ نطر ہیں آتی جبکہ دوسری میں کوئی  خاص خوراک، ادویات وغیرہ سے ہو سکتا ہے۔

Urticaria has  Different Types

  • Symptomatic  Dermographism
  • Cold  Urticaria
  • Cholinergic  Urticaria
  • Contact  Urticaria
  • Delayed   Pressure   Urticaria
  • Solar   Urticaria
  • Heat   Urticaria
  • Vibratory   Urticaria

ایسی بیماریاں جو صرف ڈپریشن سے ہوتی ہیں جانیے

ارٹی کیریا Urticaria - Physical Urticaria

Physical Urticaria

علامات

یہ جلد کی ایک الرجی کی قسم ہے جس میں خارش کرنے کو دل کرتا ہے جہاں خارش ہوتی ہے وہاں پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں جو تھوڑی دیر میں خود ہی غایؑب ہو جاتے ہیں۔ مریض بے چینی اور میٹھی کھجلن محسوس کرتا ہے۔ اسے پنجابی میں دھپڑ پڑنا بھی کہتے ہیں۔ یہ ابھار یا ورم کے قطعے چھوٹے چھوٹے بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے بھی ۔ ورم کے یہ ابھار جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتے ہیں۔ جب تک یہ جلد تک محدود رہیں کوئی خطرے کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن جب یہ اندرونی اعضاء خاص طور پر سانس کی نالیوں کے اندر نکل آئیں تو جان کو بھی خطرہ لا حق ہو سکتا ہے۔

طبیب کے متعلق چند ضروری ہدایات

مریض کے متعلق چند ضروری ہدایات

اسباب

ھماری جلد کے نیچے خون کے 2 سفید خون کے خلیۓ مستول (mast) اور بیسوفل (basophil) ہوتے ہیں جنکا کام ورم، چوٹ ایسی چیزیں جن سے حساسیت ہوتی ہے اور پیراسایؑٹس کو ختم کرنے کے لیے ہسٹامایؑن اور heparin پیدا کرنا ہے۔ عام حالت میں ہستٹامؑن ناقابلِ عمل ہوتا ہے مگر مندرجہ بالا وجوہات سے عملی شکل اختیار کر کے خون کی چھوٹی نالیوں capillaries کے منہ کھول دیتا ہے جس سے بلڈ سیرم نکل آتا ہے اور مقامی طور پر پتی اچھلنے لگتی ہے۔ بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں شدید خارش ہوتی ہے جو کچھ گھنٹوں کے بعد کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہسٹامایؑن Histamine جب زیادہ پیدا ھونا شروع ہو جاۓ تو الرجی کا باعث بنتا ہے۔ یہ سارا کام autoimmune disorder کی وجہ سے ہوتا ہے۔

نوٹ: Heparin خون کو پتلا رکھنے والا کیمیکل ہے۔ لہزا پتی اچھلنے میں ڈسپرین یا کوئ blood thinner دوا نہ لیں۔

ارٹی کیریا Urticaria

cells of immune system

دیسی طب کی رو سے یہ بیماری خون کی گرمی اور صفراء کی زیادتی سے ہوتی ہے۔ مختلف اقسام میں نظام انھضام کی خرابی، ایلوپیتھک ادویات (اسپرین، آئبوپروفین، انٹی بایوٹک داوئی خاص طور پر پنسیلین اور بلند بلڈ پریشر کے لیے دوا ACE Inhibitors)، ویکسین، بچہ دانی کی بیماری، گندھے استرے سے شیو کرنے سے، Helminthic آنتوں کے کیڑے، زہریلے کیڑے کا کاٹنا جن میں کھٹمل، شہد کی مکھی وغیرہ شامل ہیں۔ گرم اور دیر ھضم اغزاء سے بھی ہو سکتی ھے۔ مردوں اور بوڑھوں کو زیادہ ہوتی ہے۔ پینی سیلین، ایمپی سیلین، اسٹرپٹومائی سین، کینا مائی سین، سیفا لکسین مونو ہائیڈریٹ، سیفے لوریڈین، کلوکسا سیلین، اموکسی سیلین، ارتھرو مائی سین وغیرہ اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے پتی اچھلنے کا عمل ان مریضوں میں ہوجاتا ہے جن کو ان دواؤں سے حساسیت ہوتی ہے۔

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

پرہیز و غزا

زیادہ گرم تیز ثقیل اور نمکین اشیاء سے مکمل پرہیز کروایں۔ زود ہضم، بکری کا شوربہ، بھوک رکھیں، ترکاریاں زیادہ لیں۔ لہسن پیاز بھی اگر نقصان پہنچایں تو چھوڑ دیں ورنہ یہ مفید ہیں۔ سب سے آسان بات یہ ہے کہ جس جیز سے الرجی ہو رہی ہے وہ چھوڑ دیں۔ کھانے میں مصنوعی زایؑقہ دار کیمیکلز نہ لیں۔ پالتو جانوروں کو نکال دیں یا انکو ویکسین لگوایں۔ ڈسپرین یا اسپرین جیسی خون پتلا کرنے والی ادویات نہ لیں۔ اسکے علاوہ انڈوسڈ درد کو دور کرنے والی دوا نہ لیں۔ خون صاف کرنے والی اور پیٹ صاف کرنے والی دیسی ادویات لے سکتے ہیں۔

مصفٰی خون و معتدل خون: برادہ آبنوس، برادہ شیشم منڈی بوٹی، برگ حنا، برگ بکایؑن، برگ نیم، گل حنا، گل نیم، صندل، شاہترہ، چوب چینی، چرایؑتہ، تاڑی، سرس، سم، سم الفار، چھال کچنال، عشبہ، سرپھوکہ، نیل کنٹھی، نگندبابری، بکن بوٹی، عناب، برگ فالسہ، شہد، گندھک، برہم ڈنڈی، ہرن کھری (کتاب المفردات)

پھیپھڑوں کا کینسر Lung Cancer

خیروعافیت کی دعا

ٹوٹکے

ایلوپیتھی میں جہاں اور بہت ساری بیماریوں کا علاج نہیں ہے تو اسکا بھی نہیں ہے۔جنکو کرانک الرجی ہے انکو الرجی کی 1 گولی کھاتے رہنا پڑتی ہے ساری زندگی۔ اگر اسکا علاج ہو جاۓ تو ٹھیک ورنہ خود ہی ٹھیک ہوتی ہے اور سالوں (chronic) چل سکتی ہے۔ تو اگر ایلوپیتھی کی دوا ہی کھانی ہے جسکے بہت سارے سایؑڈ ایفیکٹ ہیں تو کیوں نہ دیسی علاج کیا جاۓ۔ کچھ لوگوں کو مکمل آرام ہو بھی جاتا ہے لہزا دیسی طریقہ علاج سے رجوع کرتے ہیں۔ ایک بات ہر یاد رہے کے درج زیل ٹوٹکے chronic urticaria کے لیے ہیں ان میں سے کوؑی ایک یا دو آزمایں اور ساتھ میں پرہیز و غزا بھی ٹھیک کریں۔

  1. ناریل اور تلوں کے تیل میں تھوڑا سا کافور شامل کر کے جسم کی گہری مالش کریں۔

  2. مصفیٰ خون ادویا کا استعمال کروایں مثلاٰ معجون عشبہ 1 تولہ کھلا کر عرق مرکب مصفیٰ 12 تولہ میں شربت عناب 4 تولہ ملا کر پلانا مفید ہے۔ (از حازق)

  3. مالش: پھٹکڑی 2 ماشہ، عرق گلاب 5 تولہ، روغن گل 1 تولہ میں ملا کر مالش کریں یا روغن صندل 1 تولہ کو عرق گلاب 10 تولہ میں ملا کر مالش کریں۔ (از حازق)

  4. پپیتہ کے تخم باریک پیس لیں اور مناسب مقدارمیں روغن کنجد ملایں، چھان کر مالش کریں۔ (از کتاب المفردات)

  5. جس وقت پِتی اچھلنے لگے اسی وقت گھی کو ھینگ میں ملا کر مالش کریں۔

  6. دودھ میں آدھا چمچ نیم کا تیل استعمال کریں پتی ہمیشہ کے لیے چلی جائے گی۔

  7. سردی کے باعث اگر پِتی اچھلے تو آنولے کے چورن کو گڑ میں ملا کر استعمال کریں۔ دونوں 1-1 چمچ لیں۔

  8. 1 چمچ ترپھلہ چورن شھد کے ساتھ استعمال کریں۔

  9. چندن کا تیل ملنے سے پِتی چلی جاتی ہے۔

  10. اگر معدہ یا خوراک کی نالی میں پیراسایٹس ہیں تو 2-4 لہسن کے جوۓ استعمال کریں 3 دن تک۔ لہسن قدرتی انٹی بایؑوٹکس، انٹی فنگس، انٹی آکسیڈینٹ ہے۔ اسکے بعد اگلے 3 دن کچھ لونگ روزانہ استعمال کریں۔ دونوں طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ کھیرے, پپیتے اور کدو کے بیج مکس کر کے 2 چمچ شہد کے ساتھ لیں اور شام کو ادرک کا قہوہ یا چاۓ پیؑں 1 ہفتہ تک لگاتار، روزانہ پپیتہ کھایں۔ ویسے تو دہی اور سرخ مرچ بھی پیراسایؑٹس کو ختم کرتے ہیں مگر یہ بعض الرجی کی اقسام کو شدید کر سکتے ہیں۔

  11. پٹول، نیم کی چھال، بانسہ، ترپھلہ، گوگل (مقل)، پیپل، ان سب کو 4-4 گرام کی مقدارمیں لے کر انکا کاڑھا بنا کر استعمال کریں۔

  12. غسل کرتے وقت پانی میں 2 چمچ زیرے کا عرق اور 1 چمچ لیموں کا عرق ڈالیں۔

  13. ایلوا، بورہ ارمنی اور مرمکی ہموزن پیس لیں اور انکے برابر وزن میں شہد اور سرکہ ملا لیں۔ پِتی کی جگہ پر لگایؑں۔

  14. یہ تیار شدہ مرکبات میں سے کسی ایک کو استعمال کریں جبکہ ترکیب استعمال اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے۔ شربت عناب، عرق مصفیٰ خون، معجون عشبہ۔

  15. صبح شام پودینہ کے پتوں کا پانی 2 چاۓ کے چمچ، عرقِ گلاب 3/4 کپ میں ملا کر دینا ہر طرح کی الرجی، پتی اُچھلنا اور خارش میں مفید ہے۔

  16. کھجلی اور جسمانی خارش میں سرسوں کے پتے پکا کر کھانا اور سرسوں کا تیل لگانا مفید ہوتا ہے.

  17. پودینہ کی پتیاں جلن اور خارش کو رفع کردیتی ہے۔ اس غرض سے پودینہ کو دس گرام تازہ پتوں کا رس نصف پیالی عرق گلاب میں ملا کر پلایا جاتا ہے۔

  18. 10 گرام پودینہ کو 20 گرام گڑ دونوں کو 2 کپ پانی میں ابال لیں جب پانی آدھا رہ جاۓ تو روزانہ صبح شام استعمال کریں۔

  19. پانی میں چینی گھول کر 11 مرتبہ “کن فیکون” پڑھ کر دم کریں اور 3 بار پلانیں۔ یہ عمل گیارہ روز تک کریں۔

  20. فلفل سیاہ (کالی مرچ) 2 تولہ، جل نیم 2 تولہ۔ دونوں کو پیس کر چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 2 گولیاں روزانہ تازہ پانی کے ساتھ 2 ہفتہ کھا کر دیکھیں۔

  21. گرم چیزیں کھانے سے اگر خون میں حدت سے چھپاکی ہو تو افسنتین، گلِ سرخ، برک ںیم، برکِ مہندی، بالچھڑ مکد ہر ایک 250 گرام۔ تربد سفید 100 گرام، تمہ خشک 4 عدد، چینی 3 کلو۔ ادویات کو پانی میں ابال کر شربت بنا لیں۔ صبح شام کھالی پیٹ 2 چمچ استعمال کریں۔ کافی ساری الرجی میں اکثیر ہے۔

ارٹی کیریا Urticaria - Courtesy of American Family Physician

Courtesy of American Family Physician

جدید تحقیق

ارٹی کیریا Urticaria

Allergy Checker Device

  • ASCIA کے مطابق ہر 6 میں سے 1 آدمی کو ارٹیکیریا ہوتا ہے جبکہ بچوں میں یہ شرح زیادہ ہے۔

  • زیادہ تر الرجی کی اقسام خود ہی 2 ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور اگر اسکو تنگ کرنے والے فیکٹرز سے بچا جائے تو آرام آجاتا ہے۔

  • اسپرین، گرم و تیزغزا، الکوحل، مصالحہ جات وغیرہ سے اجتناب کریں۔

  • ارٹیکیریا کا باعث بننے میں ایلوپیتھی ادویات جیسے کہ انٹی بایوٹکس، NSAIDS، نیند کی گولیاں بھی شامل ہیں۔

  • ٹماٹر، سٹرابیری، پریزرویٹوز اور خوراک کو رنگنے والے کیمیکلز وغیرہ ہسٹامایؑن کے اخراج کا باعث بنتے ہیں۔

  • ارٹیکیریا کی 2 اقسام ہیں 1- خودمدافعاتی (40٪) 2- نامعلوم وجوھات والی (60٪)۔

  • ایک ریسرچ کے مطابق 27 اقسام کے بیکٹیریا ہسٹامن کو بڑھاتے ہیں۔ جبکہ 14 اقسام کے بیکٹیریا ہسٹامن کو کم کرتے ہیں۔

  • تقریباً 5٪  بچوں کو خوراکی الرجی ہوتی ہے۔

  • British Journal of Dermatology کی ایک تحقیق کے مطابق جو کہ 1981 میں 330 مریضوں پر کی گیؑ تھی ارٹی کیریا زیادہ تر رات کو ہوتا تھا اور الرجی والی خوراک کھانے سے اور خاص طور پر ڈبہ بند خوراک canned foods کھانے سے شدید ہو جاتا تھا۔ جبکہ 79٪ میں وجہ معلوم ہی نہیں کی جا سکی اس کو idiopathic کہتے ہیں۔ اور جن میں وجہ معلوم ہویؑ ان کی وجہ asprin, infection and stress تھا۔ جبکہ New England Journal of Medicine کے ایک تحقیق مقالہ 2013 کے مطابق Omalizuma سے کچھ مریضوں کو مکمل طور پر افاقہ ہوا تھا۔ مگر یہ اخری اپشن ہونا چاۓ کیونکہ اسکے فایؑدے سے زیادہ نقصان ہیں۔ اسکو معالج سے پوچھے بغیر استعمال بالکل نہ کریں۔

  • American Academy of Alergy کی 2014 کی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ لمبے عرصے تک رہنے والی فیزیکل الرجی ہے جو کہ کؑی سالوں تک رہ سکتی ہے۔ اس میں مستول خلیات کا بڑا دخل ہے۔ اسکے علاوہ دیگر وجوہات میں ہرپس، ہیلیکو بیکٹر، Helminthic آنتوں کے کیڑے، Cryoglobulinemia, Serum Sickness,  Systemic Lupus Erythematosus, Thyroid, Endocrine Disorders، Dermatomyositis, Connecting Tissues Disease, Polymyositis, Sjögren’s syndrome, Still Disease, chronic vasculitis اوری ٹیومر، مانع حمل ادویات، اور جوڑوں کی دیگر پیچیدہ امراض شامل ہیں۔ اسکے علاوہ 30٪ سے 50٪ تک مریضوں میں عام طور پر ایک خاص قسم کی انٹی باڈی بنتی ہے جسکو LgG Antibody کہتے ہیں۔ یہ انٹی باڈی مختلف انفیکشنز میں جسم کو بیرونی حملے سے بچاتی ہے۔

  • اگرچہ ہسٹامن معدے کے بیکٹیریا کو مارتا ہے مگر زیادہ بننے سے پتی اچھلتی ہے۔ اسکو ڈایامن آکسیڈیز ہضم نہیں کرپاتا۔ زایؑد ہسٹامن بننے کے درج ذیل اسباب ہیں۔
    • Lectin نامی پروٹین
    • Laptinنامی پروٹین
    • Ghrelin
    • Nerve Growth Factor
    • Estrogen
    • Mercury اور بھاری دھاتیں
    • Somatostatin
    • Substance P
    • VIP, Neurotensin, Secretin
    •  یہ خوراک نہ کھایں: باسی مچھلی، پہلے سے پکا ہوا ڈبہ بند گوشت، ڈبہ بند خمیری خوراک، خمیری اشیاء، الکحل، تمباکو نوشی، سٹرس پھل، پنیر، چاکلیٹ، کافی، اناجوں میں پایا جانے والا گلوٹن، ٹماٹر، آلو، خشک میوہ، پپیتہ، مونگ پھلی، انناناس، ریڈ وایؑن، گرم مصالحے، پالک، سٹرابری، ہلدی, دالیں، ملٹھی، سویا، گاۓ کا دودھ میں phosphoproteins۔
    • مسلز میں پایا جانے والا Carnosine
    • تیزابیت کو دور کرنے والی دوا Cimetidine
    • خون پتلا کرنے والی ادویات
    • Haptens پروٹین
      •  یہ اشیاء کھا سکتے ہیں: تازہ خوراک، وٹامن سی، DO والی خوراک، heparin زیادہ پیدا کرنے والی خوراک جیسے بند گوبھی، گرین ٹی، چھوٹا گوشت وغیرہ, Progesterone اگر اسٹروجن زیادہ ہے، عظم الکعب Astragalus، chinese skullcap، زنک، میگنیشیم، نیازبو،

———————————————————————————————————————————————————–

ارٹی کیریا Urticaria - symptomatic urticaria

Symptomatic Dermographism

طوالت سے بچنے کے لیے ہم یہاں اوپر والی قسم کو بیان کریں گے۔ اسکے کئی نام ہیں مثلاً Dermatographic urticaria، dermatographism ،skin writing, dermatographia وغیرہ۔ یہ جسمانی ارٹی کیریا (Physical Urticaria) کی 7 اقسام میں سے ایک قسم ہے اور سب سے عام ہے۔ یہ خود بہ خود یا تھوڑے علاج سے ٹھیک ہو جاۓ تو اچھا ہے ورنہ ساری زندگی ادوات سے اسکو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ یہ جلدی امراض Cutaneous Diseases کی فہرست میں آتی ہے۔ Wikipedia کے مطابق 2-5٪ آبادی کو یہ والی الرجی ہے۔ قدرتی طور پر ایک صحت مند انسان میں 3۔0 – 1 نینوگرام فی ملی لٹر پلازمہ میں ہستامن ہونی چاۓ۔ جب اس سے مقدار بڑھ جاۓ تو الرجی کا باعث بنتی ہے۔ امریکن اکیڈمی آف الرجی کی تحقیق کے مطابق پوری دنیا میں 3٪ سے 5٪ تک ابادی اس سے متاثر ہے جن میں سے بہت کم کو ادویات کی ضرورت پڑتی ہے۔

علامات

کسی ناخن یا چابی کی ہلکی سی خراش سے جلد پر ابھار آ جاتے ہیں جیسا کہ اوپر والی تصویر سے واضح ہے۔ 15-30 منٹ کے بعد یہ دھپڑ خود ہی غایؑب ہو جاتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ پھر نہیں ہوتے۔ اگر علاج نہ کیا جاۓ تو بار بار دھپڑ پڑتے ہیں۔ مریض ہر وقت خارش کرتا رہتا ہے۔ بے چینی نمایاں ہوتی ہے۔ متاثرہ جگہ گرم اور سرخ ہو کر دھپڑ بنا دیتی ہے۔ کھجلی سے مریض بےحال ہو جاتا ہے۔ یہ کسی عمر میں بھی ہو سکتا ہے مگر جوانوں میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔ مرض کی شدت گرم آب و ہوا، گرم خوراک، گرم غسل، گرم بستر، تولیے یا کسی چیز کی رگڑ، ورزش وغیرہ سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات چھوٹی آنت میں رہ جانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے گیس، ڈکار، پیٹ درد و اکڑاؤ، قبض وغیرہ جیسی علامات شامل ہیں۔ جبکہ چھوتی آنت میں بیکٹیریا رہ جانے کی دیگر وجوہات میں گلوٹن، لیکٹوز، فریکتوز کا نہ ھضم ہونا اور وتامن بی12 کی کمی بیان کی جاتی ہے۔ اسی لیے جنکو دودھ پینے سے گیس بنتی ہے ان میں لیکٹوز کو ہضم کرنے والا انزایؐم لیکٹیز نہیں ہوتا۔ بعض اوقات زیادہ چکنایؑاں کھانے اور انکے نہ ہضم ہونے سے بھی چھوٹی آنت میں بیکٹیریا بنتے ہیں۔

اسباب

اسکی وجہ جدید سایؑنس معلوم نہیں کر سکی۔ مگر کہا جاتا ہے کہ ہسٹامن نامی کیمیایؑ مادہ مستول خلیات کی وجہ سے خون کی بہت چھوٹی شریانوں سے نکل کر دھپڑ بناتا ہے۔ جبکہ کچھ مریضوں میں خاص پروٹین، ادویات جیسے پینسیلین، سکیبیز scabies اور کچھ پیراسایؑٹس کی وجہ سے یہ مرض ہو سکتا ہے۔ اور معدے کے پیراسایؑٹس کو مارنے والی انٹی ہسٹامن ادویات کی زیادہ مقدار بھی الرجی کا باعث بنتی ہے۔ دراصل جسم کا معدافتی نظام بعض اوقات دھوکہ کھا جاتا ہے جس کے مطابق جسم یہ سمجھتا ہے کہ کویؑ ایسا عمل ہوا ہے جو کہ جسم کے لیے صیح نہیں (جیسے ایک جراثیم کے حملے میں جسم معدافتی ردعمل دیکھاتا ہے) تو نتیجاتاً مستول خلیات ہسٹامن خارج کرتے ہیں جو کہ خون کی چھوٹی نالیوں capillaries کے منہ کھول دیتا ہے جس سے بلڈ سیرم نکل آتا ہے اور مقامی طور پر پتی اچھلنے لگتی ہے۔

جسم کی میٹابولزم گڑبڑ ہونے سے، باسی کھانا کھانے سے، فریج میں رکھی اشیاء کھانے سے، فریج کا پانی بھی نہ پیؑں، کولڈ درنکس سے بچیں۔ کاپال بھاتی پریانام 15 منٹ روزانہ کری. تفصیل اس لنک سے دیکھیں۔ (سوامی رام دیو)

کچھ لوگوں کو چھوٹی آنت میں پاۓ جانے والے بیکٹیریا سے اور کچھ لوگوں کو gluten intolerance سے diamine oxidase انزایؑم کم بنتا ہے۔ جبکہ بعض ایشیایؑ افراد کو جینیاتی طور پر DO انزایؑم میں بگاڑ ہوتا ہے۔ اور بعض لوگوں کو معدہ کے کسی نقص کی وجہ سے یہ مرض ہو جاتا ہے جن میں colitis ulcerative, inflammatory bowel disease شامل ہیں۔ دوسری وجہ Histamine Intolerance بھی ہے اس میں جب ہستامن زیادہ بنتا ہے تو DO کسی وجہ سے اسکو ھضم نہیں کر پاتا جو کہ گردوں کے زریعے خارج کر دینا چایۓ۔ قدرتی طور پر DO زیادہ تر چھوٹی آنت میں پایا جاتا ہے۔

بعض معدافتی نطام کو متاثر کرنے والی ادویات مثلاً Humira, Enbrel, Plaquenil بھی diamine oxidase  کو کم کرتی ہیں۔ اور بعض اوقات ہستامن کو کم کرنے والی انگریزی ادویات سے بھی diamine oxidase کم بنتا ہے۔ diamine oxidase اصل میں پروٹین کی ایک قسم کا ایک انزایؑم ہے جو کہ زیتون کے تیل، مٹر کی جڑ، اسکے علاوہ وہ تمام مٹر دالوں کے بیج جو پھوٹ رہے ہوں  میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ DO کا بنیادی کام ہستامن کو توڑ کر ہسٹاڈین بنانا ہے۔ اسکے علاوہ مانع حمل ادویات جو اسٹروجن کو بڑھاتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہسٹامن کے بڑھنے کی وجہ سے 16 اقسام کی علامات ظہور پزیر ہوتی ہیں جن میں سے ایک ارٹی کیریا بھی ہے۔

ہر انسان کے معدہ میں بیکٹیریا ہوتے ہیں اور صحت مند انسان میں یہ معدے سے چھوٹی آنت پھر بڑی آنت میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کسی عصبی، عضلاتی یا انزایؑم کی کمی یا زیادتی سے کچھ بیکٹیریا خوراکی نالی میں رہ جایں تو DO کم بنتا ہے جسکا کام اضافی ہستامن کو بریک کرنا ہے۔ ایسا عموماً شوگر اور scleroderma  کے مریضوں میں ہوتا ہے کہ انکے gut muscles کمزور ہونے کی وجہ سے بیکٹیریا رہ جاتے ہیں۔ دیگر اسباب میں انٹی بایؑوٹکس، ایسڈ بلاکنگ اور سٹیرایؑڈ ادویات شامل ہیں۔ جبکہ الکوحل، زایؑد چینی بازاری نشاستہ سے بھی بیکٹیریا خوراکی نالی میں رہ جاتے ہیں۔ Organix Dysbiosis Test کروانے سے بھی چھوٹی آنت کے بیکٹیریا کی موجودگی کا اندازا لگایا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات خمیری روٹی یا خمیری نان کھانے سے بھی یہ بیکٹیریا رہ جاتے ہیں۔

امریکن اکیڈمی آف الرجی کی ایک 2015 کی تحقیق کے مطابق بعض افراد کو گرمی، ورم کش ادویات، تنگ لباس سے مرض میں شدت آ سکتی ہے لیزا اس سے اجتناب کرنے سے افاقہ ہو گا۔نیز تھوڑی دیر کے لیے سٹیرایؑڈ کھانے اور لگانے کے لیے دیۓ جا سکتے ہیں۔

پرہیز و غزا

سبب کے مطابق کریں۔ اسکے علاوہ ایلوویرا، انڈا، چاول، ناریل، ادرک، انگور، آم، ناشپاتی، سیب، زیادہ پانی، وٹامن سی، زیتون کا تیل سے فایؑدہ ہوتا ہے۔ صرف تازہ پھل، گوشت، دودھ اور سبزیاں کھاینں۔ یہ جیزیں نہ کھایں میٹھایؑاں، الکوحل، پالک، کھٹی اشیاء مثلاً اچار کھٹا دہی کھٹی لسی کھٹے پھل ٹماٹر، مگر وٹامن سی لیں جیسے آملہ امرود وغیرہ سے۔ اس کے علاوہ مصنوعی خوشبویات، ڈبہ بند فوڈ، زیادہ خوشبو والے گھٹیا صابن وغیرہ نہ استعمال کریں۔ ڈرایؑ فروٹ میں صرف بادام کھایں۔ یہ کم کھایں کیلا، چاکلیٹ، گاۓ کا دودھ۔ اگر چھوٹ آنت میں بیکٹیریا ہیں تو انکو ختم کرنے کے طریقے آزمایں اور ساتھ ساتھ دیسی علاج کریں۔ خمیر، ریفایؑنڈ نشاستے اور چینی بھی بیکٹیریا کو بڑھاتے ہیں۔ خون پتلا کرنے والی ادویات کے ساتھ ساتھ جو لوگ شریانوں کے پھیلاؤ کو بڑھاتے والی ادویات لیتے ہیں (بلڈپریشر، erectile dysfunction کی ادویات وغیرہ) انکو بھی احتیاط برتنی چایۓ۔

ہستامن زیادہ کرنے والی خوراک: بازاری پنیر، سرکہ، سرخ مرچ، دار چینی، خمیر شدہ سبزیاں، خمیر شدہ پنیر، ریڈ ویؑن، شیمپین، بیؑر سویا ساس، ڈبہ بند خوراک اور شیل مچھلی، چپس، کھٹے پھل، اواکاڈو، چھوارے، سٹرابری، راسبھری، خوبانی، چیری، آلوبخارہ، ٹماٹر، پالک، بینگن، حلوہ کدو، اچار، سرکہ میں ڈوبے زیتون، باسی پکا ہوا گوشت، دہی، کشمش، منقیٰ، کاجو، سالاد ڈریسنگ، مصنوعی خوراک والے رنگ، برگر، چاۓ، کافی، چاکلیٹ، آیس کریم، بسکٹ، میونیز۔

ہستامن کم کرنے والی خوراک: پیاز، بچھو بوٹی، انار، سیب، اومیگا 3 فیٹی ایسڈ (اخروٹ، کینولہ آیؑل، تخم بالنگو، سویابین، السی، لونگ، بکرے کا گوشت)، زیتون کا تیل، انڈے، اناج، صرف تازہ پھل، گوشت، مرغی، ادرک، لہسن۔

علاج

  1. سب سے پہلے سبب کو دور کریں۔ ایسے مریضوں میں معدے کا تیزاب زیادہ پایا گیا ہے لیزا ایک ٹوٹکا تو یہ ہے کہ تیزابیت کو کم کریں۔ اور وٹامن سی کی اضافی خوراکیں لیں (مگر کھٹی اشیاء نہیں) کیونکہ ایسے مریضوں میں وٹامن سی کی کمی ہو سکتی ہے۔

  2. انگریزی دوا انٹی ہستامن لینا مناسب نہیں کیونکہ یہ ایک سے زایؑد یا دوسری اقسام کے ارٹی کیریا کے علاج کے لیے ہے اور دوسرا ہستامن کو مکمل طور پر روکنا مناسب نہیں۔ البتہ عارضی طور پر Loratadine روزانہ ایک لی جا سکتی ہے اور ساتھ ہی دیسی علاج شروع کیا جا سکتا ہے۔

  3. سرد پانی سے غسل کریں، ٹھنڈی غزا استعمال کریں۔ مزید تفصیل کے لیے اسباب میں دیکھیں۔ پورا ہفتہ جو جو کھا رہے ہیں اسکی لسٹ بنایں اور ان میں سے جانچیں کہ کس سے الرجی ہو رہی ہے۔

  4. بعض دفعہ ٹیسٹ سے یہ تشخیص ہو بھی جاتی ہے کہ کونسا فیکٹر اسکا سبب ہے۔ اسکے لیے کویؑ بلڈ ٹیسٹ کروانا ہو گا جس میں کسی خاص قسم کی پروٹین، کیمیکل، تیزاب یا کسی بیرونی عنصر کی موجودگی ڈھونڈ کر اسکا علاج کیا جا سکتا ہے یا اس سے بچا جا سکتا ہے۔ ہستامن جب پیدا ہو جاۓ تو یا تو سٹور ہوتا ہے ہا پھر ہضم ہو جاتا ہے۔ اگر یہ عصبی نظام میں ہو تو histamine N-methyltransferase نامی انزایؑم سے بریک ہوتا ہے اور اگر یہ خوراکی نالی میں ہو تو diamine oxidase نامی انزایؑم سے بریک ہوتا ہے۔ لیزا بلڈ ٹیسٹ میں یہ دونوں انزایؑم کا لیول دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ مہیا نہ ہو تو ایسی خوراک کھایں (غزا و پرہیز دیکھیں) جن سے ہستامن کم یا نہ بنے۔

  5. انگریزی ادویات جو DO) diamine oxidase) کو پیدا کرتی ہیں 2 گولیاں ہر کھانے کے ساتھ لیں۔ یا پھر ڈیامن اوکسی ڈیز کے سپلیمنٹ لیں کیونکہ انکے لیے کسی ڈاکٹری نسخہ کی ضرورت نہیں ہوتی مگر یہ وقتی ہوتا ہے۔ اگر آپ ایلوپیتھی ادویات نہیں کھانا چاہتے تو زیتون کا تیل، ہروٹین, مٹر کی جڑ وغیرہ کھایں مگر اس سے کمی پوری نہیں ہوگی۔

  6. جو بھی طریقہ علاج منتخب کریں ساتھ کیلشیم اور وٹامن ڈی ضرور لیں۔ اسکے علاوہ چھوٹی آنت کے بیکٹیریا ختم کرنے والے طریقے آزمایں۔ Organix Dysbiosis Test کے زریعے چھوٹی آنت کے بیکٹیریا کی موجودگی کا پتہ لگایں۔ ہستامن کا ٹیسٹ کروا کر اسکا لیول چیک کریں۔ اگر زیادہ ہو تو اوپر دیا گیا علاج کریں۔ ڈاکٹر مانش سونی کے مطابق CBC, C-reactive Protein thyroid prifle and blood sugar یہ ٹیسٹ بھی کرواۓ جا سکتے ہیں۔  autonogous serum skin test – ASST بھی کروایا جا سکتا ہے. یورپین اکیڈمی آف الرجی اینڈ کلینکل امینولوگی 2013 کی گایؑڈ لایؑن کے مطابق پہلے سٹیپ میں سیکنڈ جنریشن  والی H1 انٹی ہستامن 2 ہفتہ تک دیں اور اگر پھر بھی افاقہ نہیں ہو رہا تو دوسرے سٹیپ میں یہی خوراک اگلے 1-4 ہفتے کے لیے 3-4 گنا تک بڑھا دیں۔ اگر پھر بھی افاقہ نہیں ہو رہا تو تیسرے سٹیپ میں اوپر والی ادویات کے ساتھ Cyclosporine یا montelukast یا omalizumab دیں۔

  7. پانچ چمچ گھی، 5 چمچ شکر، 5 عدد کالی مرچ۔ سب کو کوٹ کر کھالیں فورا افاقہ ہو گا۔ یا پھر ناریل کے تیل میں تھوڑا سا کافور مکس کر کے گہری مالش کریں۔ (سوامی رام دیو)

    1. 1 چمچ املہ کا سفوف روزانہ کسی وقت بھی لیں، 1 چمچ ہلدی 2 گلاس دودھ میں اتنا ابالیں کہ 1 گلاس رہ جاۓ تو اسکو رات کو پیؑں، سرسوں کا تیل تھوڑا سا نمک ڈال کر روزانہ گہر مالش رات کو کریں۔ (ڈاکٹر شالندرا شرما)۔
  8. ان تین طریقوں میں سے کویؑ بھی ایک کر لیں۔ بہتر ہے کہ تینوں باری باری آزمایں اور جو آپ کو بہتر لگے وہ 10 دن کے لیے آزما لیں۔ 1 چمچ ادرک کا رس میں 1 چمچ خالص شہد ملا کر چاٹیں روزانہ صبح شام۔ یا پھر کالی مرچ کو پیس کر دیسی گھی دونوں 1-1 چمچ کھایں روزنہ صبح شام۔ یا پھر آدھا چمچ اجوایؑن اور 1 چمچ گڑ کو ملا کر کھالیں صبح شام۔ تفصیل یہاں دیکھیں۔

  9. اس کے علاوہ طفیلیےؑ (parasites) مارنے کے لیے کدو کے بیج، خام لہسن، لونگ، ناریل کا تیل، تخم بالنگو، پیاز زیادہ سے زیادہ کھایں اور چینی، الکوحل، خمری شدہ خوراک (دہی، ڈبہ بند خوراک، نان، سرکہ) باسی سالن پانی وغیرہ سے اجتناب کریں۔ ساتھ پیٹ صاف کرنے کے لیے ہلکا اسہال لیں۔

  10. گل مدار تازہ 50 گرام۔ ناگ کیسر 30 گرام اور سہاگہ بریاں 20 گرام کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں تین ٹایؑم 1 گرام لیں۔

ٹیکنالوجی براۓ الرجی

نیما سینسر

ان لوگوں نے ایک ایسی الیکٹرونکس ڈوایؑس بنایؑ ہے جو کامیابی سے گلوٹن اور مونگ پھلی کی الرجی کو ٹیسٹ کر سکتی ہے۔ محقق لوگوں نے تین سال کی لگاتار محنتِ شاقہ کے بعد 2016 میں یہ ڈوایؑس بنایؑ ہے۔ اور اسکو ٹایؑم میگزین نے 2015 میں دنیا کی 25 بہترین ایجادات میں شامل کیا تھا۔ اس میں خوراک کا ایک ٹکڑا ڈالیں تو یہ آپکو 2 مینٹ میں بتا دے گا کہ اس میں گلوتن ہے کہ نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

ارٹی کیریا Urticaria

گلوٹن اور مونگ پھلی کے لیے سینسر

دیگر مفید ڈوایؑسز کے لیے نیچے کلک کریں۔

ارٹی کیریا Urticaria

الرجنز کو چیک کرنے کے لیے سینسر

ارٹی کیریا Urticaria

ارٹی کیریا Urticaria

Imutest kit for Allergy

ارٹی کیریا Urticaria

Allergy Check Autodiagnostic

ارٹی کیریا Urticaria

Allergen Prevention Device

ارٹی کیریا Urticaria

Allergy and Asthma Alert Device

ارٹی کیریا Urticaria

AIRASSURE PM2.5 INDOOR AIR QUALITY MONITOR

ارٹی کیریا Urticaria

Allergy Checker

ارٹی کیریا Urticaria

SnorStop_Allergy_Reliever

ارٹی کیریا Urticaria

Ally Allergy Reliever

Comments are Closed