جنرل نالیج General Knowledge

جنرل نالیج General Knowledge

20-30 سال کی عمر تک

ھماری ھڈیاں 30 سال کی عمر تک بڑھتی ھیں لھزا انکو 1000ملی گرام روزانہ کیلشیم چاھیؑے چونکہ کیلشیم بغیر وٹامن ڈی کے ھضم نھیں ھوتا لھزا دونوں چاھیؑے۔ عورتوں میں بارآوری 27 سال کی عمر سے ہی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے جبکہ اس میں 35 سال کے بعد تیزی آجاتی ہے۔

ایسی بیماریاں جو صرف ڈپریشن سے ہوتی ہیں جانیے

30-40 سال کی عمر تک

اس عمر میں جوڑوں کے درد کا خطرہ سب سے زیادہ ھوتا ھے لھزا اومیگا-3 کی بھت ضرورت ھوتی ھے جو کہ لوبریکنٹ کا کام کرتا ھے اس کمی کو پورا کرنے کے لیےؑ سورج مکھی کے بیج اور مچھلی وغیرہ کھایؑں۔ 35-45 سال کے دوران کیلشیم جسم میں قدرتی طور پر کم ھونا شروع ھوجاتا ھے آپ قدرتی خوراک میں کیلشیم بھری غزا لیں۔ عورتوں کے ماھواری ختم ھونے کے بعد تو اور زیادہ کمی ھو جاتی ھے۔

40-50 سال کی عمر تک

اس عرصہ میں میٹابولزم سست ھوجاتا ھے۔ توند نکل آتی ھے لھزا زیادہ سے زیادہ فایؑبر لیں جوکہ اناج دالوں پھل سبزیوں میں وافر ھوتا ھے۔ جبکہ نمک، چینی، گھی اور الکوحل سے اجتناب کریں۔

اس عرصہ میں شوگر ہونے کا خدشہ اس لیے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ 45 سال کے بعد جسم میں گلوکوز کو سٹور کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ 40 سال کے بعد نیفرون 1٪ سالانہ کے حساب سے مرنا شروع ھوجاتے ھیں۔ 40 سال کے بعد وٹامن بی 12 کا جسم میں انجذاب کم ھونا شروع ھوجاتا ھے۔ 50 سال کے بعد تو ضرور بی 12 کے سپلیمنٹ لیں۔ 40 سال کی عمر کے بعد کیلشیم بھی کم ھضم ھوتا ھے۔ خاص کر 50 سال کے بعد۔

40 سال کے بعد وٹامن ڈی بھی چاھیؑے کیونکہ اسکی کمی سے شوگر، دل کے امراض اور کینسر ھو سکتے ھیں۔ اس عمر میں بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ میگنیشیم کی کمی بھی ھوتی ھے۔ 40 سال کے بعد جسم قدرتی طور پر نایؑٹرک ایسڈ 50٪ کم بناتا ھے جوکہ ھارٹ اٹیک کا باعث ھے۔ ۔ جبکہ نایؑٹرک آکسایؑڈ گیس کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ بہت سے دیگر فوایؑد کے علاوہ libido کی بڑھاتی ہے۔ اس عمر میں شہد بھی پابندی سے لینا چاۓ کیونکہ اس میں بہت سارے قدرتی وٹامن اور معدنیات موجود ہوتے ہیں۔

اس عرصے میں چونکہ عورتوں میں حیض بندش والا عرصہ شروع ھوتا ھے لھزا بھت سارے ھارمون کے غیرمتوازن ھونے کی وجہ سے بھی بال گرتے ھیں۔

45 سال بعد چکنایؑ، نشاستہ اور مٹھاس کم کر دینی چاۓ اس عمر میں بھاگ دوڑ میں کمی آچکی ہوتی ہے اس لیے قوت اور حرارت پیدا کرنے والی غزاؤں کی انتی ضرورت نہیں رہتی۔

50-60 سال کی عمر تک

اس عمر میں ھڈیاں کمزور ھونا شروع ھو جاتی ھیں۔ لھزا 1200ملی گرام کیلشیم روزانہ لیں۔ 50 سال کے بعد قدرتی طور پر نایؑٹرک ایسڈ کم بنتا ھے جوکہ خون کی نالیوں کی تنگی، جنسی کمزوری کا باعث ھے۔

60-70 سال کی عمر تک

اس عرصہ میں معدہ کا ضروری تیزابی مادہ کم ھونا شروع ھوجاتا ھے جسکو وٹامن بی 12 پورا کرتا ھے۔ 60 سال کے بعد قدرتی طور پر صرف 15٪ نایؑٹرک ایسڈ بنتا ھے۔ اس عمر میں تازہ موسمی مزاج سے موافق پھل کھایں، کریم نکلا دودھ، دھی، سبزیاں کھایں روزانہ کھایں۔ روزانہ چہل قدمی کریں، پودے لگایں اور پالیں، لوگوں میں اپنے تجربے اور خوشیاں بانتیں۔ دالیں، برف، میٹھایؑاں، آیس کریم، چینی بالکل نہ کھایں۔

70-80 سال کی عمر تک

اس عمر میں تازہ موسمی مزاج سے موافق پھل کھایں، کریم نکلا دودھ، دھی، سبزیاں کھایں روزانہ کھایں۔ روزانہ چہل قدمی کریں، پودے لگایں اور پالیں، لوگوں میں اپنے تجربے اور خوشیاں بانتیں۔ دالیں، برف، میٹھایؑاں، آیس کریم، چینی بالکل نہ کھایں۔ گیس قبض والی چیزیں بالکل نہ کھایں اور تازہ خون بنانے والی اشیاء کھایں۔

بعض لوگوں کو بلوغت کے بعد بھی جنسی خواہش کا احساس نہیں ہوتا جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

نوٹ: عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ (DHEA dehydroepiandrosterone) کم ھوتا جاتا ھے۔ یہ ایک ھارمون ھے جوکہ اڈرینل گلینڈ پیدا کرتا ھے۔ 20 سال کی عمر میں اسکی پیدایؑش سب سے زیادہ ھوتی ھے پھر کم ھونا شروع ھو جاتی ھے۔ ویسے تو ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹروجن کی پیدایؑش عمر کے ساتھ ساتھ کم ھو جاتی ھے۔ اور DHEA ان دونوں ھارمونز کی پیدایؑش برقرار رکھتا ھے۔ اسکے علاوہ اسکے فوایؑد میں انٹی ایج، انٹی ڈپریشن، ھڈیوں کی مضبوطی، دل کی بعماری، سرویکل کینسر، بانجھ پن، جوڑوں کی درد، بھت زیادہ تھکاوٹ، الزایؑمر، شیزوفرینیا، خوراکی نالی کی سوزش شامل ھیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ پاپایؑن کم ھو جاتا ھے پپیتہ اسے ٹھیک کرتا ھے۔

پلاسٹک کے برتن معدہ اور آنت کے سرطان (کینسر) کا سبب بنتے ھیں۔ اسی وجہ سے جین کے صوبہ یانگ میں لوگوں نے مٹی کے برتن استعمال کرنا شروع کر دیۓ ھیں۔

ایلومینیم کے برتن اور اسکے تمام مرکبات انسان کے لیے مضر ھیں جو کی معدہ میں جا کر نقصان پھنچاۓ بغیر نھیں رھ سکتے۔ جس میں بھوک کم، بد ھضمی، قے، متلی، پیچش، خون بگڑنا  وغیرہ شامل ہیں۔

ان چھنے آٹے کی روٹی کولیسٹرول، قبض اور دل کے لیے اچھی ھے۔ اور سنتﷺ بھی ھے۔

بڑھاپے میں صحتمند کیسے رہا جاۓ؟

25 سال والا اصول: میرا ایک اصول ہے کہ 25 سال سے چھوٹی عمر ہو تو اپنی عمر سے بڑا لگو اور اگر عمر 25 سال سے زیادہ ہو تو اپنی عمر سے چھوٹا لگو۔ ہاد رکھیں کہ جوانی میں کی گیؑ پرہیزگاریاں بڑھاپے میں کام آتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑھاپا آنا تو ہے ہی تو کیوں نہ اسکو لیٹ کردیا جاۓ یا پھر یادگار بنا لیا جاۓ۔ بہت ساری تحقیقات سے واضح ہے کہ ترقی یافتہ اقوام میں عمریں لمبیں ہیں۔ اوسط عمر کے حوالے سے جاپان، ناروے، سویڈن وغیرہ کی مثال دی جاتی ہے جہاں اوسط عمر 90 سال کے قریب ہے۔ جبکہ پاکستان میں اوسط عمر محظ 67 سال ہے ایران میں اوسط عمر ہم سے بہتر ہے اور وہ 71 سال ہے۔

صحتمند انسان کی تعریف یہ ہے کہ اندرونی و بیرونی امراض سے محفوظ ہو، جسمانی نشونما ممر کے لحاظ سے درست ہو، اپنی عمر کے مطابق کام کاج کر سکتا ہو، قوتِ معدافعت ٹھیک ہو اور مشکل مقامات پر درست فیصلے کر سکتا ہو۔

کچھ رہنما اصول:

  • بچپن سے اچھی خوراک اور اچھی عادات اپنایؑ ہوں
  • صاف ستھرے ماحول میں پرورش پایؑ ہو
  • وزن BMI کے مطابق ہو
  • قوتِ مدافعت، قوتِ ہاضمہ اور قوتِ ارادی مضبوط ہو
  • اسودگی حاصل ہو (مطلب کمانے کی فکر نہ ہو)
  • کویؑ مہلک بیماری نہ ہو
  • گھریلو ناچاقی نہ ہو
  • دوست اچھے اور مختصر ہوں
  • اپنے لیے وقت نکال سکتا ہو
  • متوازن خوراک، ورزش یا واک کر سکتا ہو

سارا سال صرف پروٹین کھانے والوں کو جگر کا عارضہ ہو جاۓ گا اور صرف روٹی کھانے سے شوگر ہو جاۓ گی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کیا صرف ایک ہی قسم کی خوراک پر زندگی ممکن ہے؟ اس کا جواب بھی بڑا سیدھا ہے۔ گوشت میں نہ فائبر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وٹامن اور دوسرے مفید اجزا۔ پھلوں اور سبزیوں میں وٹامن ضرور ہوتے ہیں لیکن ان میں پروٹین بالکل نہیں ہوتی۔ لہزا دونوں طرح کی خوراک کھانی چاہۓ۔

ایک صحت مند شخص کو روزانہ 300-350 گرام سبزیاں روزانہ کھانی چاۓ جبکہ محظ 50 گرام تک کھایؑ جاتی ہیں۔

یاد ریکھیں کہ ایک انچ جلد پر 650 پسینے کے غدود، 20 خون کی شریانیں، 1000 سریانی سرے اور 60،000 میلانوسایؑٹس خلیات ہوتے ہیں۔

گرم درجہ چہارم: لہسن، پیاز، سنکھیا، گندنا، انگور کا جھاڑ، فرفیون۔

سرد درجہ چہارم: افیون، دھتورہ، تمباکو، اجوایؑن خراسانی، کافور، (یہ اشیاء اعضاء کو سست کر دیتی ہیں)۔

خشک درجہ چہارم: افیون، دھتورہ، انگور کا جھاڑ، فرفیون، سنکھیا، گندنا، رایؑ۔

تر درجہ دوم و سوم: نارنگی، سنگترہ، رس بھری، آلوچہ، دہی، ساگ چولایؑ، شقاقل مصری، گل نیلوفر، بہیدانہ، ساگ لونیہ، خربوزہ، تربوز، تخم بالنگو، خوبانی، اسپغول، پلول، کنجد سیاہ، توری کھیرا، آلو بخارا، انڈے کی سفیدی۔