Ask Question اپنا مسؑلہ بیان کریں


tabib@shafidawakhana.org

 

سوال: کیا عورتوں میں بھی انزال اور احتلام ہوتا ہے؟

جواب: جی ھاں مگر یہ نمایاں نہیں ہوتا۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری دیکھے لیکن اسے احتلام یاد نہ آئے، آپ نے فرمایا: وہ غسل کرےاور اس شخص کے بارے میں (پوچھا گیا) جسے یہ یاد ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے لیکن وہ تری نہ پائے تو آپ نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورت پر بھی جو ایسا دیکھے غسل ہے؟ آپ نے فرمایا: عورتیں بھی (شرعی احکام میں) مردوں ہی کی طرح ہیں۔

عورتوں میں بھی پراسٹیٹ گلینڈ نہیں ہوتا بلکہ اندرونی دیوروں میں باریک نالیوں سے اخراج ہوتا رہتا ہے جو کہ انزال کا باعث بنتا ہے۔ بہت کم عورتوں میں انزال جسم سے باہر نکلتا ہے۔ سادہ لوح عورتیں اسکو پیشاب سمجھ لیتی ہیں۔ عورتوں کے احتلام کا بھی وہی علاج ہے جو کہ مردوں کا ہے۔ لہزا عورتوں کے سیلانِ رحم اور دیگر بیماریاں دیکھیں۔

سوال: میرے ذکر میں تناؤ بہت جلد ہوتا ہے مگر سختی تادیر قایؑم نہیں رہتی۔ اسکی وجہ اور علاج بتایں۔

جواب: سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ کہیں نفسیاتی وجوھات تو نہیں ہیں۔ اسکے لیے دیکھیں نفسیاتی نامردی۔ دراصل جنسی خواہشات دماغ کے تابع ہوتی ہیں اور دماغ پر کسی چیز کے اثرات ہوں تو وہ نفسیاتی وجہ بن جاتی ہے۔ جبکہ نفسیاتی وجوھات میں اوپر دیئے گئے اثرات نوٹ کیے جاتے ہیں اور یہی وجوھات عارضی نامردی کی وجوہات ہوتی ہیں۔

سوال: حکیم صاحب مجے ایام میں درد اور اکڑاؤ محسوس ہوتا ہے؟

جواب: اگر بہت شدت کا درد ہو تو اسکو انگریزی میں dysmenorrhea کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں 5٪ سے 15٪ تک عورتیں اس میں مبتلا ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق ٹین ایج کی 67٪ لڑکیاں مبتلا ہوتی ہیں۔ اسکی درجِ زیل وجوھات ہو سکتی ہیں۔ کثرتِ حیض، رحم کی سوزش، رحم کا ٹل جانا، ذہنی دباؤ وغیرہ۔ جب حیض آنے والا ہوتا ہے تو 2 دن پہلے ہی پیڑوں میں درد، ران اور کمر میں درد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ آپ درجِ زیل لنک پر کلک کریں۔

سوال: چہرے پر بالوں کی کثرت ہو تو اسکی وجہ لکھ دیں۔

جواب: اسکی تین اقسام ہیں۔ ایک تو باقاعدہ بیماری ہے جسے Hypertrichosis کہتے ہیں اور اسکا ھارمون سے کویؑ تعلق نہیں۔ جبکہ دوسری قسم میں ھارمون کی وجہ سے بال زیادہ ہو جاتے ہیں اسے hirsutism کہتے ہیں، تیسری قسم میں پیدایشی طور پر کسی تل کے طور پر اس جگہ بال اُگ آتے ہیں۔ اسے Birthmarks یا پنجابی میں لہسن بھی کہتے ہیں۔ فی الحال یہاں اسکی وجوھات درج زیل ہیں:

  • PCOS
  • بہضہ دانی میں رسولی
  • وضع حمل
  • دورانِ حمل سٹیرایؑڈ کا استعمال
  • گنج پن کی ادویات جیسے کہ Minoxidil
  • مردانہ ھارمون انڈروجن کی زیادتی
  • انسولین کی زیادتی

سوال: عورتوں کے بیضہ دانی میں پانی والی تھیلیاں PCOS بن جاتی ہیں انکی وجوھات اور علاج تحریر کریں۔

جواب: علامات میں ایام کی بے قاعدگی، ایام کا خون زیادہ آنا، چہرے اور جسم پر بالوں کا اُگنا، موٹاپا، ایکنی، مردوں میں گنج پن، گردن چھاتیوں اور اعضاۓ تناسل والی جگہوں کا سیاہ ہو جانا شامل ہیں۔ جب تک اسکا علاج نہ ہو تو حمل قرار نہیں پاتا۔ علاج کے طور پر Tinostol کا ایک پیکٹ روزانہ پیؑں،

سوال: جب میں جنس /جنسی ملاپ کے بارے میں سوچتا ہُوں تو میرے عضو تناسل سے چند قطرے خارج ہوجاتے ہیں ۔کیا یہ کوئی مرض ہے؟

جواب:  یہ قطرے مذی  ہیں انکا کویؑ حرج نہیں ہے۔ یہ قطرے انزال سے پہلے یا درمیان میں آتےہیں۔ اِس رطوبت کا مقصد پیشاب کی نالی کو چکنا کرنا ہے تاکہ مادہ تولید یعنی سپرم بغیر تیزابیت کے خارج ہو جاۓ کونکہ پیشاب تیزابی ہوتا ہے اور سپرم کے قیمتی قطرے تو مر جایں گے۔ لہزا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ عمل بالکل فطری عمل ہوتا ہے۔ مذی مرد کی طاقت ہے جو ہر مرتبہ شہوت کے بعد آتے ہیں۔ اسکو بھی کچھ ورزیشوں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے مگر آپ کو اسکی ضرورت نہیں ہے۔ کچھ سفوفِ مغلظ لیے جا سکتے ہیں۔

سوال: کیا مقعد کے راستے جنسی ملاپ محفوظ ہوتا ہے؟

جواب: مقعد اس مقصد کے لیے نہیں بنی۔ مباشرت سے جنسی انفیکشن ہونے کا خطرہ ہوتا ہے مزید fistula اور بواسیر ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ لہزا اجتناب کریں۔ اسلام میں منع ہے۔ عورت کو تکلیف ہوتی ہے۔ مرد کے عضو کی رگیں خراب ہوتی ہیں۔

اسی طرح منہ کے راستے جنسی تحریک دینے سے بھی جنسی انفیکشن ہونے کا خطرہ ہے۔ جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections کی لگ بھگ 60 اقسام ہیں۔ ان میں ایک ہی وایؑرس اور بیکٹیریا بہت سارے انفیکشنز پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور اور بدنام بیکٹیریا chlamydia ہے اور اسکے بعد HPV آتا ہے جو کہ خطرناک ہے اور کینسر کا باعث بھی بنتاہے۔ chlamydia کی وجہ سے پوری دنیا میں 4٪ مرد اور 3٪ عورتیں متاثر ہوتے ہیں۔

chlamydia مرض منہ اور مقعد کے سیکس اور مباشرت کے زریعے پھیلتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ حاملہ سے ہونے والے بچے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ متاثرہ شخص میں شروع میں علامات نہیں ہوتی۔ جب حملہ ہوۓ چند ہفتے ہو چکے ہوتے ہیں پھر علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ صرف 2015 میں پوری دنیا میں chlamydia سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 61،00000 تھی۔ یہ بعض اوقات آتشک اور سوزاک بننے کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس سے ہونے والی بیماریاں درج ذیل ہیں

  • اندام نہانی سے بدبودار رطوبت
  • پیشاب اور مباشرت کے دوران تکلیف
  • نچلے پیٹ میں درد
  • خصیوں میں درد اور سوجن
  • انکھوں کی انفیکشن اور جوڑوں کا درد

 بعض ماہرین کے نزدیک HPV وایؑرس سب سے زیادہ عام ہے جو جنسی انفیکشنز پھیلاتے ہیں اور زیادہ تر جنسی تعلق سے پھیلتا ہے۔ صرف امریکہ میں ٹین ایج کے لڑکے اور لڑکیاں کی HPV سے متاثر ہونے کی شرح 74٪ ہے۔ زیادہ تر HPV بغیر علامات کا اظہار کۓ خودبخود تھیک بھی ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں میں یہ رہ جاۓ ان میں موقوں، مسوں یا پھر جنسی اعضاء منہ گلے کے کینسر کے خلیات تک بنا دیتا ہے۔ اس لۓ بعض اوقات زیادہ خطرناک ہے۔ سرویکل کینسر کے 80٪ سے زایؑد مریض HPV کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ لاعلاج مرض ہے جس میں رحم اور بچہ دانی سمیت پورا جنسی نظام نکالنا پڑ جاتا ہے۔ HPV کی کل 170 اقسام میں سے 40 کے قریب جنسی طور پر ترانسفر ہوتی ہیں۔ HPV سے ہونے وای بیماریوں میں جنسی اعضاء کے کینسرز، یرقان بی اور سی، ایڈز، آتشک، سوزاک وغیرہ جیسے موزی امراض شامل ہیں۔

وجوھات

  • اجنبی سے جنسی تعلقات
  • قوتِ مدافعت کی کمی
  • تمباکو نوشی
  • حاملہ سے بچے کو

سوال: عورتوں میں بارآوری کا حساب کس طرح لگایا جاتا ہے؟

جواب: بارآوری سے مراد وہ وقت یا دورانیہ ہے جس میں عورت کو حمل ٹھہر سکتا ہے۔ بہت سارے شادی شدہ جوڑے بارآوری کا صیح حساب نہ ہونے کے وجہ سے اولاد جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔ اس طرح انکے کیؑ کیؑ سال گزر جاتے ہیں۔ اگر کسی خاتون کو ماہواری اپنے وقت پر آتی ہو تو بیضہ خارج ہونے کا وقت عموماً 14ویں دن ہوتا ہے۔ نشانی کے طور پر عورت کا جسم گرم اور قدرتی طور پر جنسی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس دوران مباشرت زیادہ کی جاۓ اور باقی ایام کم کی جاۓ تو کیؑ عورتوں کو حمل قرار پا جاتا ہے۔

سوال: حکیم صاحب مجھے ماہواری بے قاعدگی سے آتی ہے اسکی وجوھات اور علاج بتایں۔

جواب: اسکی وجوھات درج زیل ہیں:

علاج: صبح خالی پیٹ 1چمچ کوڑا جڑ کا سفوف لگار روزانہ کھایں۔ اس سے پانی والی تھیلیاں بھی ٹھیک ہو جایں گی۔ اور آیام بھی اپنی طبعی حالت میں آ جایں گے۔

سوال: مجھے کس طرح معلوم ہوسکتا ہے کہ میرا کنوارہ پن ختم ہوگیا ہے؟

جواب: عام طور پر ،کنوارہ پن کو پردہ بکارت کے سالم ہونے سے منسلک کیا جاتا ہے۔پردہ بکارت ایک باریک جِھلّی ہوتی ہے جو فُرج کی دیواروں کے درمیان تنی ہوئی ہوتی ہے اور اِس کے بیچ میں ایک چھوٹاسوراخ ہوتا ہے۔جنسی ملاپ کے نتیجے میں اِس پردہ بکارت کے پھٹ جانے کو ،عام طور پر کنوارہ پن ختم ہوجانا کہا جاتا ہے۔اور اِس کے پھٹ جانے سے جنسی ملاپ کے بعد کچھ خون آتا ہے۔ یہ بات جاننا بھی اہم ہے کہ چند عورتوں میں ،پردہ بکارت کی جِھلّی اِس قدر لچک دار ہوتی ہے اور اِس کا سوراخ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اِس میں سے عضو تناسل آسانی سے فُرج میں داخل ہوجاتا ہے اور ایسی صورت میں پردہ بکارت پھٹتا نہیں ہے۔ مزید دیکھیں سماجی جہالت اور جنسی تعلیم کی ضرورت۔

شادی شدہ خواتن یا ایسی خواتین جو بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والے کھلے پن سے پریشان نہ ہوں یا خاوند کے تانوں سے بچنے کے لیے لازماً علاج کروائیں خواتین میسج کر سکتی ہیں 03006955006 آپ کا علاج رازداری کے ساتھ ہوگا۔

سوال: حکیم صاحب لیکوریا کیا ہے اور اس سے بانجھ پن کا باعث ہو سکتا ہے؟

جواب: لیکوریا سے بانجھ پن نہیں ہوتا اور اس مرض میں اندام نہانی سے سفید یا پانی جیسی رطوبت نکلتی ہے۔ یہ عورتوں میں سب سے عام پایا جانے والا مرض ہے۔ اسے سیلانِ رحم اور ہندی میں سوم روگ بھی کہتے ہیں۔ اس مرض میں سفید یا پیلا پانی شرمگاہ سے آتا ہے۔ عام حالت میں تھوڑی رطوبت کا نکلنا کیؑ بیکٹریا سے بچاتا بھی ہے مگر زیادہ مقدار میں خارج ہونا مسؑلہ ہے۔ مردوں کے جریان کی طرح کا مسؑلہ ہوتا ہے۔ یہ عموماً تین وجوہات سے ہوتا ہے یہی تین اقسام بھی ہیں۔ تھوڑی مقدار میں رطوبت نکلنا کویؑ مسؑلہ ہی نہیں ہے اسکے لیے نیچے علامات پڑھیں۔

  • انفیکشن

  • سخت ورزش

  • ایک طفیلیہ trichomonads کی وجہ سے۔

اسباب

غزا و پرہیز

اسباب کے مطابق کریں۔ گرم اور تحریک دیینے والی غزایں جسا کہ گرم مصالحہ، سرخ مرچ، چاۓ کافی کا کثرت استمال، عشقیہ ناول، سب چیزوں سے اجتناب کریں۔ کھانے میں کیلا، تازہ پھل، مونگ، کرین بیری، دہی، زیرہ بھون کر کھایں۔ قبض نہ ہونے دیں۔ اس سے بچنے کے لے رات کو تھوڑے سا دودھ میں 2 چمچ روغنِ بادام ڈال کر پیؑیں۔ واک اور ورزش ہفتہ میں 4 دن کریں۔

علاج

  1. پہلے مقامی طور پر صاف کریں۔ چنانچہ پھٹکری سوختہ 2 ماشہ، کتھ سفید 4 ماشہ، پانی ڈیڑھ چھٹانک میں نیم گرم میں ملا کر فیملی سرنج کے ساتھ دھو لیا کریں۔ اسکے بعد گل دھاوا، موچرس، ثمر مولسری ہر ایک 6 ماشہ میں 2 تولہ چینی ڈال کر کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں اور 6 ماشہ یعنی 6 گرام صبح کو تازہ پانی کے ساتھ لیں۔ (حاذق)

  2. سنگِ جراحت 2 تولہ، مایؑں خورد، چنیاگوند اور لودھ پٹھانی 6-6 ماشہ، مصری 2 تولہ کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ 6 ماشہ صبح کو ہمراہ دودھ۔ (حاذق)

  3. کشتہ فولاد، طباشیر، کوڑی سوختہ، دانہ الایؑچی سبز، کشتہ صدف مرواریدی۔ ہر ایک 6 ماشہ کو آپس میں پیس کر سفوف بنا لیں۔ 4 رتی یعنی چاول کی مقدار صبح اور 4 رتی شام مکھن یا بالایؑ کے ساتھ 6 دن کھایں۔

  4. بھنے چنے، مصری، چندیا گوند، چھوٹی الایؑچی سب چیزیں حسبِ ضرورت سفوف بنا کر بوتل میں رکھ لیں۔ صبح شام 1-1 چمچ کھایں۔ مرض شدید ہو تو دو چمچ کھایں۔

  5. دو گلاس پانی میں 2 چمچ میتھی دانہ ڈال کر آدھے گھنٹہ ابال کر پی لیں۔

  6. تلسی کے پتوں کا رس اور شہد ہموزن ملا کیر پیؑں۔

  7. دس گرام سونٹھ 1 گلاس پانی میں اتنا پکایں کہ چوٹھایؑ رہ جاۓ۔ چھان کر 3 ہفتے استعمال کریں۔

  8. گل پستہ، مایؑں، نسپال ہر ایک 20 گرام کشتہ بیضہ مرغ 10 گرام سب کو کوٹ چھان لیں۔ 1 گرام صبح شام دیں۔

سوال: حکیم صاحب میں ایک شادی شدہ عورت ہوں اور گزشتہ کئی ماہ سے حاملہ ہونے کی کوشش کر رہی ہُوں تاہم ابھی تک کامیابی حاصل نہیں ہُوئی۔کیا مجھے علاج کی ضرورت ہے؟

جواب: اسکے لیے نیچے جواب دیا گیا ہے وہ دیکھیں۔ بانجھ پن/ہلکے درجے کا بانجھ پن (حاملہ ہونے کی صلاحیت نہ ہونا) کے  لیے میاں اور بیوی دونوں کا لیباریٹری تفصیلی چیک ہونا چاۓ۔ فرض کیجئے کہ آپ کیلئے تمام چیک اَپ کئے جاچکے ہیں اور یہ نارمل ہیں توایسی صورت میں ،حمل قائم کرنے کے ایسے طریقوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے ،براہِ کرم 03006955006 پررابطہ کیجئے ۔

سوال: کیا چھاتیوں کی جسامت میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

جواب: جی ھاں چھاتیوں کی جسامت میں اضافہ ہو سکتا ہے مگر اس میں وقت اور محنت لگتی ہے۔ اسکا آسان حل یہ بھی ہے کہ اگر پیٹ بڑھا ہوا ہے تو اسے کم کریں چھاتیاں خودبخود نمایاں ہو جایں گی۔ اگر وجہ جسمانی لاغری ہے تو چربیلے کھانے سے بڑھوتری ممکن ہے۔ درحقیقت چھاتیوں کی بناوٹ میں ،چربی، دودھ پیدا کرنے والے غدود ،دودھ کی نالیاں ہوتی ہیں اور چھاتیوں میں کسی قِسم کے عضلات نہیں ہوتے۔ اسکے علاوہ خاض ورزشیں کی جا سکتی ہیں جیسا کہ نیچے تصویر دی گیؑ ہے۔ جبکہ دیگر وجوھات اور علاج کے لیے دیکھیں۔ مغرب میں چھوٹے پستان خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ عموماً زیادہ چھوتے ہونے سے دودھ کم ہو سکتا ہے۔ اسکے اسباب میں اعضاۓ تولیدی میں نقص، کمزوری، لاغری، خلطی سدے، خشک مزاج اور فسادِ خون شامل ہیں۔ اگر رگوں میں سدہ ہو تو بادیان، تخم کثوث، دونوں 5-5 ماشہ پوٹلی میں باندھ کر برنجاسف 3 ماشہ، دار چینی 3 ماشہ سب کو رات کو پانی میں بھگو دیں۔ صبح کو گرم کر کے خمیرہ بنفشہ 4 تولہ کے ساتھ دیں۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں چھاتیوں کی جسامت بڑھایں۔

Ask Question اپنا مسؑلہ بیان کریں

 

سوال: میں کافی خود لذّتی کرتا ہُوں، کیا میں بچہ پیدا نہیں کرسکتا ؟

جواب: اسکو مشت زنی یا جلق بھی کہتے ہیں غیر شادی شدہ یا طلاق یافتہ بالغوں میں یہ عادت عام پایؑ جاتی ہے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ اسلام میں اس کے بارے قطعاً کویؑ سخت بیان نہیں ہے جبکہ جدید میڈیکل سایؑنس کے مطابق جلق سے کویؑ بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ ھاں یہ ہو سکتا ہے کہ مشت زنی سے عضو کی جڑ چھوٹی رہ جانے سے ایستادگی یا سختی میں کمی آتی ہے جو کہ عورت کو تسکین نہیں دے پاتی۔ جبکہ عورتوں میں اس عادت سے گندے ناخن یا گندی چیزوں سے اندرونی جنسی امراض لاحق ہو سکتے ہیں جکہ انکا علاج ہی نہیں ہوسکتا۔ جلق کے نقصانات اسکا علاج کے بارے میں دیکھیں۔

خود لذّتی ایک عام روّیہ ہے  مگر 25 سال کی عمر سے قبل کثرتِ جلق کا بہت نقصان ہے عضو کی جڑ پتلی اور نشونما کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو تقریبأٔ ہر مرد اور عورت اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اختیار کرتے ہیں۔ تاہم یہ عمل اُس صورت میں مسئلہ بن سکتا ہے جب اس کی وجہ سے اپنے ساتھی/بیوی کے ساتھ کی جانے والی جنسی سرگرمیاں کم ہو جایں اور شادی شدہ حضرات خود لذتی  کیو جہ سے سرعت انزال کا شکار ہو جایں۔ یہ عمل  روزمرّہ کی زندگی اور سرگرمیوں میں خلل کا سبب بننے لگتا ہے۔ اسکا زیادہ نفسیاتی اثر ہی ہوتا ہے۔

کثرتِ جلق سے وہ خلیات مسلسل تحریک پاتے ہیں جو دِماغ میں ایسے کیمیائی اجزاء اور ہارمونز کو پیدا کرتے ہیں جو جنسی ردِّعمل کے دورانئے کے لئے ذمّہ دار ہوتے ہیں۔اِ س طرح اِن خلیات کا نہ صِرف اپنا عمل تیز ہوجاتا ہے بلکہ اِن کی تعداد میں بھی اِضافہ ہوجاتا ہے ،لہٰذا جب ایسا فرد خود لذّتی کا عمل کرتا ہے تو اُس کے جسم میں ایسے کیمیائی اجزاء معمول سے زیادہ بنتے ہیں اور اِن کے اثرات بھی معمول سے زیادہ ہوتے ہیں۔

یہ کیمیائی اجزاء ہمارے جسم میں موجود ایک قِسم کے اعصابی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ اعصابی نظام parasympathetic nervous system کہلاتا ہے۔ یہ اعصابی نظام عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے کا ذمّہ دار ہوتا ہے۔ اِن ہارمونز کی کثرت سے ہونے والی افزائش سے بھی متاثرہوتا ہے جس کے نتیجے میں مَردوں میں عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

سوال: حکیم صاحب میں غیر شادی شدہ ہوں جبکہ مجھے اس ماہ ماہواری نہیں آیؑ ہے۔

جواب: غیر شادی شدہ لڑکیوں میں آیام میں بے قاعدگی ہو جاتی ہے اور یہ ھارمون کے بیلنس خراب ہونے سے ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ دیگر بیماریوں، بہت کمزوری، خون کی کمی، ذہنی دباؤ کی وجہ سے یہ مسؑلہ ہو سکتا ہے۔ لہزا پریشان ہونے کی ابھی ضرورت نہیں ہے اگر اکثر ایسا ہوتا ہے یا متواتر 2 ماہ ایسا ہوتا ہے تو کسی لیڈی ڈاکڑ سے مشورہ کریں کیونکہ شباب دواخانہ میں عورتوں کا علاج زیادہ تر نہیں کیا جاتا اسکی تفصیل و علاج کے لیے عورتوں کی بیماریاں دیکھیں۔

سوال: حکیم صاحب میری شادی کو 10 سال ہو گۓ ہیں مگر اولاد جیسی نعمت سے محروم ہوں۔ براۓ کرم کویؑ اچھا سا مشورہ دیں۔

جواب: یہ مسؑلہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اسکی بہت ساری وجوھات ہو سکتی ہیں۔ آپ اپنی سیمن ٹسٹ کی رپورٹ لے کر شباب دواخانہ پر تشریف لایں۔ بہتر ہے کہ پہلے 03006955006 پر کال کرکے ٹایؑم لیں۔ ہمارے بہت سارے مریضوں کو اللہ نے اولاد جیسی نعمت سے نوازا ہے۔ صرف یہ یاد رکھیں کہ درجِ زیل عورتوں کے اولاد نہیں ہو سکتی باقی سب کا علاج ممکن ہے۔ مردوں میں جن کے سپرم پیدایؑشی طور پر موجود ہی نہ ہوں یا مردہ ہوں تو انکا علاج بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر بھی بچہ پیدا کرنے کے اور حمل ٹھہرنے کے بہت سارے طریقے ہیں

کن عورتوں کے بچہ پیدا نہیں ہو سکتا؟

  1. جن عورتوں کے ماہواری نہیں آتی۔
  2. سن یاس کے بعد۔
  3. جن عورتوں کی Flopian Tubes بند ہوں
  4. جنکا بیضہ کمزور یا چھوٹا یا نہ بنے
  5. بیضہ دانی میں سست (cyst) کا ہونا
  6. رحم کا کینسر
  7. رحم کا فایؑبرایؑڈ (fibroid)
  8. ھارمون میں عدم توازن
  9. ایام میں عدم توازن
  10. فولاد کی کمی
  11. تھایؑرایؑڈ
  12. رحم کی اندرونی دیوار کا موٹا ہونا (Endometriosis)
  13. جنسی اعضاء کی ٹی بی یا انفیکشن
  14. پانی ملی چکناہٹ کا استعمال
  15. مناسب ٖغزا کی کمی
  16. پریشانی، تھکاوٹ، نیند کی کمی
  17. تمباکو نوشی، شراب نوشی
  18. ادویات کے برے اثرات
  19. موٹاپا
  20. آلودگی
  21. کیموتھراپی
  22. پیدایؑشی یا جینیاتی نقص

سوال: حکیم قبلہ صاحب جنسی خواہش کم یا زیادہ ہو سکتی ہے کیا؟

جواب: جی بالکل، عورتوں میں بیضہ ریزی (Ovulation) کے وقت جنسی خواہش قدرتی طور پر بڑھ جاتی ہے اور یہ عرصہ ایک ایام کے ختم ہونے سے دوسرے ایام کے ختم ہونے کا درمیانی وقت ہوتا ہے۔ اس دوران حمل ٹھہرنے کے چانسز 100٪ ہوتے ہیں۔ جبکہ مرد میں جنسی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور ہر وقت ہوتی ہے۔ جن میں جنسی رغبت نہیں ہے یا کم ہے انکے لیے نسفیاتی نامردی دیکھیں۔

ایک بات اور یاد رکھیں کہ بیضہ صرف 1 دن رہتا ہے پھر خارج ہو جاتا ہے۔ لہزا اگر ایام ختم ہونے کے 14 دن کے آس پاس اگر نطفہ مل جاۓ تو حمل ٹھہر جاتا ہے ورنہ نکل جاتا ہے۔ اسے اٹھرا (Recurrent miscarriage) کہتے ہیں۔ پوری دنیا میں 1٪ جوڑے کو یہ مسؑلہ ہو جاتا ہے۔ اسکی کم سے کم 18 وجوھات ہوتی ہیں۔

سوال: کیا عورت بغیر مباشرت بھی بچہ لے سکتی ہے؟

جواب: جی ھاں یہ خاص صورتوں میں ھی ممکن ہے۔ وہ یہ ہیں:

1- جب عورت بہت کمزور ہو کہ حمل کی تکالیف نہ اٹھا سکتی ہو۔

2- جب رحم کے اندر سوزش یا کینسر ہو۔ (یہ بیماری آگے بچہ کو منتقل ہو سکتی ہے)

3- جب سرویکل کیسنر ہو۔ (یہ بیماری آگے بچہ کو منتقل ہو سکتی ہے)

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بغیر مباشرت کیسے بچہ ہو گا۔ اسکو انگریزی میں Invitro fertilisation کہتے ہیں۔ بعض اوقات کسی بیماری دوسری وجہ کہ سپرم اور بیضہ کا رحم سے باہر ملاپ کروایا جاتا ہے۔ 5 دن بیرونی ماحول میں رکھا جاتا ہے پھر اسکے بعد ماہ یا کسی دوسرے عورت کی رحم میں جنین منتقل کر دیا جاتا ہے۔

سوال: حکیم صاحب میرا ذکر چھوٹا ہے کہا میں بچہ پیدا کر سکتا ہوں۔

جواب: جی ھاں بچہ پیدا کرنے کے لیے ذکر کا سخت ہونا اور تناؤ ضروری ہے۔ کم سے کم سایؑز 3 انچ تک ہو تو کویؑ حرج نہیں ہے۔ جبکہ اس سے چھوٹا ہو تو اسکا کامیاب علاج بزریعہ سرجری ہی ممکن ہے۔ تاہم اگر ایک دفعہ دواخانہ پر حاضر ہو کر مشورہ کریں تو اللہ کامیابی دے سکتا ہے۔

سوال: کیا دورانِ حمل مباشرت کی جا سکتی ہے۔

جواب: جی ھاں اسکا کویؑ نقصان نہیں ہے۔ البتہ جن خواتین کو کویؑ بیماری ہو اور معالج نے احتیاط کرنے کا بولا ہو یا جنکا پہلا بچہ ہو اور ایک مس کیریج ہو چکا ہو انکو احتیاط کرنی چاۓ۔

سوال: حکیم صاحب عورت بچہ کب تک پیدا کر سکتی ہے اور کن وجوھات کی وجہ سے بچہ نہیں ہوتا۔

جواب: عورت جب تک سن یاس (55 سال تک) کی عمر سے پہلے پہے بچہ پپدا کر سکتی ہے کیونکہ اسکے بعد ایامِ ماہواری رک جاتے ہیں۔

کن عورتوں کے بچہ پیدا نہیں ہو سکتا؟

  1. جن عورتوں کے ماہواری نہیں آتی۔

  2. سن یاس کے بعد۔

  3. جن عورتوں کی Flopian Tubes بند ہوں

  4. جنکا بیضہ کمزور یا چھوٹا یا نہ بنے

  5. بیضہ دانی میں سست (cyst) کا ہونا

  6. رحم کا کینسر

  7. رحم کا فایؑبرایؑڈ (fibroid)

  8. ھارمون میں عدم توازن

  9. ایام میں عدم توازن

  10. فولاد کی کمی

  11. تھایؑرایؑڈ

  12. رحم کی اندرونی دیوار کا موٹا ہونا (Endometriosis)

  13. جنسی اعضاء کی ٹی بی یا انفیکشن

  14. پانی ملی چکناہٹ کا استعمال

  15. مناسب ٖغزا کی کمی

  16. پریشانی، تھکاوٹ، نیند کی کمی

  17. تمباکو نوشی، شراب نوشی

  18. ادویات کے برے اثرات

  19. موٹاپا

  20. آلودگی

  21. کیموتھراپی

  22. پیدایؑشی یا جینیاتی نقص

سوال: حکیم صاحب جریان، احتلام اور قطرے وغیرہ سے انسان کمزور ہو جاتا ہے کیا؟ اور یہ بیماریاں کیوں ہوتی ہیں۔

جواب: پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ جریان، احتلام اور قطرے وغیرہ کویؑ بیماری ہی نہیں ہیں اور نہ ہی انکا علاج کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ جن کو بہت زیادہ مسؑلہ ہو تہو وہ ہمارے دواخانہ پر وزٹ کر کے مشورہ مفت حاصل کریں۔

اسی طرح لیکورہا بھی کویؑ بیماری نہیں ہے۔ نیم حکیم لوگ اپنی جہالت کی بناء پر اسکے بہت سارے نقصانات کی زکر کرتے ہیں مثلاً اس میں کمر درد، کمزوری، سستی، کاہلی، ھاضمہ خراب، ھاتھ پاؤں ٹھنڈے وغیرہ۔

پروفیسر ارشد جاوید کی کتاب “رہنماۓ نوجوانی” کے بقول نیم حکیم اسے بہت ہی خطرناک بیماری خیال کرتے ہیں اور نوجوان انکے چکر میں پڑ کر علاج پر ہزارورں خرچ کرڈالتے ہیں۔ جبکہ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کویؑ بیماری ہی نہہں ہے بلکہ یہ urethral glands گلینڈ سے نکلی والی رطوبت (میوکس) ہے جو عموماً اس وقت نکلتا ہے جب فرد پیشاب یا پاخانہ کے لیے زور لگاتا ہے۔ بعض نوجوان پیشان کے بعد قطرے گرنے کی شکایت کرتے ہیں یہ سپرم نہیں ہوتی بلکہ پراسٹیٹ یا urethral غدود کی رطوبت ہوتی ہے اور سپرم کے گزرنے سے قبل پیشاب کی تیزابی نالی کو تیزابی نہیں رہنے دیتی ورنہ تو نطفے مر جایں۔ اسکے علاوہ اگر پیشاب کرنے کے بعد عضو اور مقعد والی جگہ کہ تھوڑا دبا لیا جاۓ تو زایؑد قطرے نکل جاتے ہیں اور طہارت بھی ہو جاتی ہے۔

یہ کیفیت چند ماہ میں خود بخود ختم ہوجاتی ہے لیکن اگر یہ کیفیت جاری رہتی ہے تو آپ کو کسی اچھے یورولوجسٹ سے مشورہ کرنا چاہئے۔ مستقل قبض ہونے کی وجہ سے حاجت کے دوران زور لگانے کی وجہ سے بھی قطرے خارج ہوسکتے ہیں۔

البتہ اگر جریان کے ساتھ کمزوری، آنکھوں کے آگے اندھیرا، ضعفِ باہ واقع ہو جاۓ تو دیسی یا آیورودیک ادویات سے صحت بحال کرنی چاۓ۔

سوال: حکیم صاحب میرا مسؑلہ یہ ھے کہ مجھے ھفتے میں کم سے کم 3-4 دفعہ احتلام ھو جاتا ھے براےؑ مھربانی یہ بتادیں مجھے کیا کرنا چاھیے؟

جواب: محترم گزارش ھے کہ ایک صحت مند انسان کو ھفتے میں 1-2 دفعہ احتلام ھو بھی جاےؑ تو کویؑ حرج نھیں ھے۔ کیونکہ یہ انسانی جسم کا تقاضا ھے کہ مادہ تولید بنتا اور خارج ھوتا رھتا ھے۔ کسی میں کم اور کسی میں زیادہ۔ ایک انسان ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 3-6 دفعہ اخراج کر سکتا ھے مگر یہ نقصان دہ ھے۔ اگر 2 دفعہ سے زیادہ بار احتلام ھوتا ھے اور ساتھ کمزوری، سستی، کاھلی، سر درد، کمر درد، آنکھوں کے آگے اندھیرا، کپکپی، سردی کا احساس، خوداعتمادی کی کمی وغیرہ جیسے مساٰیؑل کا سامنہ کرنا پڑ سکتا ھے۔

اگر پرھیز اوراحتیاط کے باوجود آرام محسوس نھیں ھو رھا تو ابھی مفت مشورہ کریں 03006955006 یا پھر یھاں فارم مکمل کریں۔ hakim@shababdawakhana.com

آخر شادی کب کرنی چایۓ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

سوال: حکیم صاحب مقویات باہ کون کون سی ھیں؟

جواب: شلجم، پیاز، مولی، بادام، پستہ، چلغوزہ، سونٹھ، دارچینی،گھی، گاجر، چقندر، انڈہ، گوشت تیترومرغ، قندق، چرونچی، ثعلب مصری، شقاقل مصری، خولنجاں، گوگھیرو، بوزیداں، موصلی سفیدوسیاہ، سنبھل، کنجد، ھالون، عاقرقرحا، چھڑیلا، تخم پیازوگاجر- وغیرہ

ایسی بیماریاں جو صرف ڈپریشن سے ہوتی ہیں جانیے

سوال: حکیم صاحب مغلظ باہ کون کون سی ھیں؟

جواب: گوشت، ترکاریاں، موصلی سفیدوسیاہ، تال مکھانا، گٹھلی جامن، سنگھاڑا، بوپھلی، کمرکس، کنول گٹہ، گیاہ چینی وغیرہ

سوال: حکیم صاحب مولد باہ کون کون سی ھیں؟

جواب: کچی پیاز، بادام، پستہ، ناریل، میدہ، چنا، شلجم، دودھ، شکر، گوشت بطخ و مرغ، تخم قرطم، سورنجاں شریں، بھمن، مکھانا، سونٹھ خشک، زعفران، ستاور، شقاقل، ھالون، السی، بوزیدان

سوال: حکیم صاحب ضعف باہ کون کون سی ھیں؟

جواب: دھنیا، لیموں، املی، مکو، تخم نیلوفر، عناب، نمک، ٹھنڈا پانی، آلوبخارہ۔ مزید ضعفِ باہ کے متعلق تفصیل دیکھیں۔

سوال: پاکستان میں عمومی طور پر صحت کی کیا صورت حال ھے؟

جواب: دنیا میں 77٪ رقم حکومت خرچ کرتی ھے جبکہ 23٪ شھری خرچتا ھے۔ پاکستان میں الٹ صورت حال ھے۔ پھر عوام کو نہ تو شعور ھے اور نہ انکو اپنے حق کا پتا ھی ھے۔ سیاستدان بیوقوف بنا کر کام چلاتے ھیں۔ اسکا اندازا اس بات سے ھی لگا لیں کہ پاکستان اپنے GDP  کا 2۔4٪ صحت پر خرچ کرتا ھے جبکہ ترقی ھافتہ ممالک 8٪ تک خرچ کرتے ھیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ھر چوتھا انسان شوگر کا مریض ھے اور ھر ساتواں دل کا مریض ھے۔ اوسط عمر مردوں میں 66 سال اور عورتوں میں 68 سال ھے۔ 2015 کے مطابق سویڈن میں اوسط عمر مردوں میں 81 سال اور عورتوں میں 84 سال ھے۔ یہ اوسط عمر امریکہ سے بھی زیادہ ھے۔ پاکستان میں پیدا ھونے والے 15 سال کی عمر تک پھنچنے سے پھلے مرنے کا تناسب 15٪ جبکہ سویڈن میں 1٪ ھے۔ جبکہ 70 سال سے قبل مرنے کا تناسب بل ترتیب 68٪ (پاکستان) اور 26٪ (سویڈن)ھے۔ دنیا بھر میں 10000 مریضوں کے لیے 40 ڈاکڑ ھیں۔ جبکہ پاکستان میں صرف 9 ڈاکڑ ھیں۔ نرسوں کے حوالے سے 10000 مریضوں پر 5 نرسیں ھیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں 50 ھیں۔

سوال: میری عمر 27 سال ھے کویؑ 2-3 ماہ ھوۓ میری داڑھی کے بال 2 مقامات سے اڑ گؑے ھیں۔ اور وھاں 2 گول دایؑرے بن گۓ ھیں۔ جو اب بھڑ کر 3 ھو گۓ ھیں۔ سر میں بھی ایسا ھی ایک دایؑرہ بن رھا ھے۔ صورت حال یوں ھی رھی تو خدشہ ھے کہ فارغ البال ھی نہ ھو جاؤں۔ اس مرض کے بارے میں بتایؑں۔

جواب: یہ مرض بال خورہ کھلاتا ھے۔ آپ لھسن 2 پوٹھی لے کر ایک چٹکی سرمہ کر مرھم کی طرح لگایں اگر سوزش کرے تو دو ایک روز کا ناغہ کریں اور مکھن لگایا کریں۔ غزا میں سبز ترکاریاں اور تازہ پھل استعمال کریں۔

WHO data

سوال: حکیم صاحب یہ ایوروید کیا ھے؟

جواب: ایوروید دنیا کے قدیم ترین طریقہ علاج میں سے ھے جو کہ ہندوستان میں ھزاروں سال سے رایؑج ھے اور اب تو مغربی دنیا میں اپنا مقام بنا چکا ھے۔ اس طریقہ علاج میں جسم، روح اور دماغ میں توازن قاؑم کیا جاتا ھے۔ اور جب یہ ھی توازن خراب ھوتا ھے تو انسان بیمار ھوتا ھے۔ ایوروید کا یہ عقیدہ ھے کہ ھر انسان پانچ بنیادی چیزوں سے مل کر بنا ھے جیسے ھوا پانی مٹی آگ اور خلا۔ اور انکا توازن ھی جسم کو تندرست رکھتا ھے۔ ان عناصر اور توانایؑ کا توازن دوشا کھلاتا ھے۔

سوال: حکیم قبلہ صاحب میں شوگر کا مریض ہوں کیا میں روزے رکھ سکتا ہوں؟

جواب: جی ہاں آپ بالکل روزے رکھ سکتے ہیں۔ مگر جو انسولین لیتے ہیں انکو پہلے اپنے معالج سے مشورہ کر لینا چاۓ۔ کیونکہ مختلف لوگوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ Hypoglycemia میں مریض کی شوگر بھوک کی وجہ سے کم ہو سکتی ہے جبکہ Hyperglycemia میں شوگر روزہ کھولنے کے بعد زیادہ ہو جاتی ہے۔ دونوں حالتوں سے بچنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ روزے کی حالت میں بھی شوگر چیک کی جا سکتی ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ روزے کی حالت میں شوگر کم ہی ہوتی ہے زیادہ نہیں ہوتی۔ اگر آپکی شوگر 70ملی گرام سے کم ہے تو روزہ توڑ دینا ہی بہتر ہے۔

پھر اپنے معالج سے مشورہ کر کے ادویات لینے کے اوقات کا تعین کر لیں۔ سحری میں آپکو روٹی کے ساتھ پروٹین ضرور لینی چاۓ اور تھوڑا گھی کا استعمال بھی کریں تاکہ پورے دن میں خوراک آہستہ آہستہ ہضم ہو۔ افطاری میں بہت زیادہ نہ کھایں تاکہ آپکی شوگر ایک دم زیادہ نہ ہو جاۓ اور پانی کی کمی نہ ہو جاۓ۔ پانی والے مشروبات زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ کیفین والے مشروب سے اجتناب کریں۔ پانی کی کمی سے شریانوں میں خون جم کر اٹیک کا باعث ہو سکتا ہے۔ اور زیابیطیس والے مریضوں میں پیاس تو پہلے ہی زیادہ لگ رہی ہوتی ہے اور بار بار پیشاب سے پانی کی کمی اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ اگر آپکی ایسی علامات نہیں ہیں تو آپ روزہ رکھ سکتے ہیں۔

اگر روزے کے حالت میں لرزاں طاری ہو، بے ہوشی والی کیفیت ہو یا پسینہ آۓ تو اپکی شوگر کم ہونے کی علامات ہیں۔ فوراً اپنی شوگر چیک کریں۔ دوسری طرف اگر شدید پیاس لگے، شدید تھکاوٹ محسوس ہو اور بار بار پیشاب آۓ تو آپکی شوگر زیادہ ہے۔ دونوں صورتوں میں اپنی شوگر چیک کریں۔

سحری میں چاول، روٹی، دال اور پروٹین کا استعمال کریں۔ افطاری میں تھوڑا میٹھا لیں۔ چینی کے جگہ مصنوعی شوگر کا استعمال کریں۔ پھلوں سبزیوں دالوں اور دہی کا استعمال زیادہ کریں۔ تلی ہویؑ چیزیں پکوڑے سموسے نہ کھایں۔ سحری اور افطاری کے بعد مناسب ورزش یا واک ضرور کریں۔

 سوال: عضو تناسل کی معمول کی بناوٹ کیسی ہوتی ہے؟

جواب: مختلف افراد میں ،نارمل عضو تناسل کی جسامت اور بناوٹ مختلف ہوتی ہے ۔ بہت سی صورتوں میں جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے عضو تناسل کی بناوٹ میں خم پایا جاتا ہے ۔اور عضو تناسل کا یہ خم کوئی غیر نارمل بات نہیں۔اِس کی وجہ سے منی کے جرثوموں کو فُرج کے اندر پہنچانے میں مدد حاصل ہوتی ہے ۔عضو تناسل کا یہ خم صِرف اُس صورت میں مسئلہ کا سبب بنتا ہے ہے جب اِس کی وجہ سے جنسی ملاپ میں خلل واقع ہو۔ مزید تفصیل دیکھیں آلہ تناسل کے بارے صیح معلومات۔

 عضو تناسل کا شدید خم ،جب اِس میں تناؤ نہ ہونے کی صورت میں بھی کوئی سخت چیز محسوس ہوتی ہو تو اس حالت کو Peyronie’s Disease کہا جاتا ہے ۔یہ حالت موروثی بھی ہو سکتی ہے اور چوٹ یا صدمے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے ۔یہ چوٹ یا صدمہ پُر تشدد جنسی ملاپ یا کسی زخم کا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔ایسی صورت میں عضو تناسل کے اندر مذکورہ سختی (سخت سی چیز) fibrosis کی وجہ سے ہوتی ہے،اور اِس سے عضو تناسل کے عضلات کی لچک متاثر ہوتی ہے اور تناؤ کی حالت میں عضو تناسل میں خم پیدا ہوتا ہے ۔نتیجے کے طور پر عضو تناسل کا تناؤ اور جنسی ملاپ دونوں تکلیف دہ عمل بن جاتے ہیںاور متعلقہ فرد کو اِس کا علاج کروانا پڑتا ہے ۔ مزید دیکھیں عضوِ تناسل کے نقایؑص

عضو تناسل کی لمبائی بڑھانے کے لئے  پمپ اورموٹائی کے لیے طلاء کریم  کیپسول دستیاب ہیں۔ مگر  یاد رہے بازاری دوا بلکل قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہے۔

 مزید مشورہ کے لیے03006955006پر رابطہ کریں

 سوال: مجھے جنسی ملاپ سے پہلے انزال ہوجاتا ہے،خاص طور پر جنسی ملاپ سے پہلے کی سرگرمی کے دوران ۔میں اپنے انزال کو کس طرح مؤخر کر سکتا ہُوں؟

 جواب: سُرعت انزال اور ذکاوت حس کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ سرعتِ انزال میں معمولی جنسی تحریک کے نتیجے میں، دخول سے پہلے، دخول کے ساتھ ہی یا دخول سے تھوڑی دیر بعد ، مستقل طور پر یا باربار انزال ہو جایا کرے۔ کسی مَرد کو جلد انزال ہو جائے اور اِس سے چند منٹ بعد اُس کے عضو تناسل میں دُوبارہ تناؤ پیدا ہو جانے کی صورت میں اُسے زیادہ بہتر کنٹرول محسوس ہو گا۔

 بڑی عمر کے مَردوں کے لئے یہ طریقہ زیادہ مؤثر نہیں ہے کیوں کہ بڑی عمر کے مَردوں کو پہلی بار انزال کے بعد ،عضو تناسل میں دُوبارہ تناؤ حاصل کرنے میں دُشواری پیش آسکتی ہے ۔لہٰذا بڑی عمر کے مَردوں کو یہ طریقہ استعمال نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ اِس طرح اُن کے اعتماد میں کمی آسکتی ہے اور ثانوی نا مَردی پیدا ہو سکتی اِس مسئلے کے حل کے لئے بازار میں بہت سی ادویات دستیاب ہیں لیکن اِن ادویات کو کسی ماہر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ روّیوں اور ادویات کے لحاظ سے علاج کیا جاتا ہے۔اِس سلسلے میں ھم نے پانچ طریقے  وضع کئے گۓ ہیں۔

سوال: حکیم صاحب آج کل زیابیطیس یعنی شوگر عام ہو چکی ہے اسکی وجوھات اور  بچنے کے طریقے بھی بتایں۔

جواب: فی زمانہ شوگر کی درج زیل وجوھات ہیں۔

1- کھانے پینے میں بے اعتدالی اور کھانے کے بعد بیٹھے رہنا۔

2- تفکرات و پریشانی

3- خاندانی یا موروثی وجہ

4- لبلبہ کے مقام پر کوئی چوٹ

5- کیسی دوا کے مضر اثرات

6- لبلبہ کے بیٹاخلیات پر جسم کے خودکاری نظام کا الٹا اثر

یہ بات سراسر غلط ہے کہ زیابیطیس کی بیماری چینی کھانے سے ہوتی ہے۔ مگر یہاں ایک بات سمجھنے کی یہ ہے کہ چینی میں وٹامن سی نہیں ہوتی جبکہ گڑ یا شکر میں ہوتی ہے جوکہ شوگر نہیں ہونے دیتی۔ لہزا درج زیل اشیا سے شوگر سے بچے رہ سکتے ہیں۔

1- کھانے کے بعد کبھی بھی نہ لیٹیں۔ واک، ورزش، یوگا، کام کاج کو اپنی عادت بنایں۔ زیادہ دیر کمپیوٹر پر گیمیں کھینلنے کی بجائے باہر میدان میں جا کر کھیلیں۔

2- کھانے میں قدرتی اور گھر کی اشیاء کھایں۔ بازاری کھانے کبھی بھی نہ کھایں۔ اگر آپکی فیملی میں شوگر ہے تو باقاعدہ ٹیسٹ کروائں اور دن میں 5 دفعہ چھوٹے چھوٹے کھانے لیں تاکہ لبلبہ کو بڑی مقدار میں انسولین نہ بنانی پڑے۔

3- انگریزی بلکہ کوئی بھی دیسی دوا خود کبھی بھی استعمال نہ کریں۔ اگر مجبوری ہو توکم سے کم کھایں۔

4- وٹامن سی، ڈی، فائبر، berries، والی خوراک زیادہ استعمال کریں۔ جبکہ سفید چینی،گندم، چاول کم کھایں۔ باقی ہر طرح کا پھل کھایں۔