کینسر Cancer اور اسکا علاج

کینسرCancer اور اسکا علاج

ہر سال 4 فروری کو کینسر کا عالمی دن اور 10 فروری بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال 70 لاکھ سے زائد ا فراد اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 1 لاکھ کے قریب ہے۔ کینسر اس لیے زیادہ مھلک ھے کہ اسکی علامات واجبی سی ھوتی ھیں۔ عموماؑ 10-20 سال میں بڑھتا رھتا ھے اور آخر میں پتا چلتا ھے جب علاج کا فایؑدہ نھیں رھتا۔ اگر ابتدا میں ھی پتا چل جاےؑ تو 87٪ علاج ممکن ھے۔ عموماؑ 50-60 سال کی عمر میں زیادہ ھوتا ھے۔ اگر ابتدا میں ھی پتا چل جاےؑ تو 87٪ علاج ممکن ھے۔ عموماؑ 50-60 سال کی عمر میں زیادہ ھوتا ھے۔ دنیا میں بھت سارے کینسر Cancer اور اسکا علاج مروجہ ھیں- صحت کی عالمی تنظیم کی ایک رپورٹ کے مطابق 2005 ء سے لیکر 2015ء کے آخر تک سات سے آٹھ کروڑ افراد کینسر کی وجہ مر گۓ۔

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

کینسر کی تعاریف: جب جسم کے خلیات کسی بے ترتیبی سے تقسیم ہونا شروع ہو جایں تو گلٹی یا ٹیومر بناتے ہیں جسے کینسر کہتے ہیں۔ تاہم ہر گلٹی کینسر کی نہیں ہوتی اسکا نمونہ (Biopsy) سے تشخیض ہو جاتی ہے۔ کینسر والی گلٹی کے خلیۓ جسم میں خون اور لمفاوی نظام کے زریعے پھیل کر دوسری جگہ گلٹی بناتے ہیں جسے ثانوی کینسر (metastasis) کہتے ہیں جبکہ دوسرے خلیات نہیں پھیلتے۔ یہ لمفاوی نظام ہی ہے جو ہمیں بیماریوں اور انفیکشن سے بچاتا ہے اسی لیے کینسر والے مریض کی قوتِ مدافعت کم ہوتی ہے۔

فلوریڈا یونیورسٹی امریکہ میں ہونی والی ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ سبزیاں، پھل، اجناس، پروٹین اور دودھ سے بنی مصنوعات کو کھانا عادت بنالینا کینسر کا خطرہ 65 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ ارگنایؑزیشن کے مطابق 2015 تک 880،000 کینسر کے مریض تھے

یاد رکھیۓ کہ کینسر کے علاج کے دوران کچھ ضمنی اثرات بھی ہوتے ہیں جن سے کبھیرانا نہیں چاۓ البتہ انکا پتہ ہونا چاۓ۔ ان میں سب سے عام بالوں کا گرنا، جی متلانا یا تھکاوٹ محسوس کرنا۔ عالج کے اختتام کے بعد زیادہ تر ضمنی اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔ ضمنی اثرات ہلکے اور کچھ عرصے کے لیے ہو سکتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات وہ آپ کو زیادہ متاثر کر سکتے ہیں۔

جنسی تعلیم کتنی ضروری ہے جاننے کے لیے یہاں کک کریں

فی الحال ھم 10 طرح کے کینسرز کو بیان کریں گیں۔

  1. بریسٹ کینسر Prostate Cancer (تفصیل دیکھیں)

  2. منہ کا کینسر Oral Cancer (تفصیل دیکھیں)

  3. پھیپھڑوں کا کینسر Lung Cancer (تفصیل دیکھیں)

  4. پراسٹیٹ کینسر Prostate Cancer (تفصیل دیکھیں)

  5. سرویکل کینسر Cervical Cancer (تفصیل دیکھیں)

  6. اوری کا کینسر Ovary Cancer (تفصیل ملاحظہ کریں)

  7. رحم کا کینسر Uterus Cancer (تفصیل دیکھیں)

  8. کولون ریکٹم کا کینسر Colon and Rectum Cancer (تفصیل دیکھیں)

  9. جگر کا کینسر Liver Cancer (تفصیل دیکھیں)

  10. جلد کا کینسر Skin Cancer (تفصیل دیکھیں)

ایسی بیماریاں جو صرف ڈپریشن سے ہوتی ہیں جانیے

کینسر Cancer اور اسکا علاج

مریض کے متعلق چند ضروری ہدایات

علامات

کسی خاض خلیات کا بہت تیزی سے بڑھنا۔ وزن بڑنا، قوتِ مدافعت میں کمی، بخار کا رہنا، قے اور فضلے میں خون، شدید بدہضمی، کھانسی، بخار، کینسر سے متاثرہ گوشت کی Biopsy سے تشخیص کی جاتی ہے۔

پھیپھڑوں کا کینسر Lung Cancer

خیروعافیت کی دعا

وجوہات

 ذخیرہ شدہ خوراک میں پائے جانے والے افلا ٹوکسن ، تابکاری اثرات، الیکٹرو میگنیٹک ویوز، وائرل انفیکشنز،فضائی ، آبی اور غذائی آلودگی ، فوڈ کیمیکلز مثلاً کھانے کے رنگ ، جینیاتی طور پر تبدیل کی جانے والی غذائیں ، سگریٹ و شراب نوشی، شیشہ کا نشہ ، زہریلا دھواں، زرعی ادویات، ہارمون تھراپی۔ کم پھل و سبزی خوری۔ ورزش یا واک نہ کرنا، شہری گندی ہوا، کمزوری و بڑھاپا، سورج کی الٹراوایؑلٹ شعاع (کُل دوپ کا 10٪ ہوتی ہیں), ویلڈنگ، مرکری لیمپ،  Aflatoxins (ایک خاص قسم کا فنگس جو مونگ پھلی، مکیؑ، کپاس اور جگر کا کینسر کر سکتا ہے)۔ اگر ہم وجوہات اور پریز کر لیں تو 50٪ تک بچاؤ اور اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے۔

غزا و پرہیز

طرزِ زندگی میں سادگی لایں، مرغن غذاؤں کے زیادہ استعمال سے بچنا، ورزش، ہر طرح کا نشہ خصوصاً پان ، چھالیہ ، تمباکو، برگر اور گٹکے وغیرہ سے بچنا، میٹھایاں، آیس کریم، پیزے اور خصوصاً جگر کے کینسر سے بچاؤ کے لیے ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے وغیرہ ہیں۔ خواتین کا خود تشخیصی عمل بھی بریسٹ کینسر کے مکمل علاج میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسکے علاوہ بند گوبی، پھول گوبی، کھمبی، گاجر، میٹھے آلو، چکوترا، انگور، ٹماٹر، چیری، سٹربری، پپیتہ، نارنجی، لیموں، السی، لہسن، سبز چاۓ، سویابین، (بشکریہ Thanks to TRT)

کینسر کے عالج کی مختلف قسمیں اور انکے ضمنی اثرات درج زیل ہیں۔

  • سرجری – اس کا مطلب ہے کہ آپریشن کے ذریعے ٹیومر یا کینسر کے خلیات کو نکالنا۔ (سرجری والی جگہ پر انفیکشن)۔
  • کیموتھراپی – یہ ادویات کا استعمال کر کے کینسر کے خلیات کو تباہ کرتی ہے۔ (خون کے سفید خلیات کی تعداد میں کمی۔ درجہ حرارت بڑھنا، اچانک انفیکشن (گرم ٹھنڈا لگنا، کپکپی، کھانسی، گلہ خراب، زیادہ پیشاب وغہرہ)۔
  • ریڈیوتھراپی – یہ کینسر کے عالج کے لیے طاقتور ایکس-ریز کا استعمال کرتی ہے۔ (سفید خلیات میں کمی، انفیکشن)۔
  • ہارمونی تھراپی – اس عالج سے آپ کے جسم میں ہارمونز میں تبدیلی آ جاتی ہے، جس سے کینسر مزید نہیں بڑھ سکتا۔
  • ہدفی تھراپی – یہ ادویات کی مدد سے خا طریقے سے کینسر خلیات کے بڑھنے کو نشانہ بناتی ہے۔
  • دیگر میں خون کی کمی، خون کا رسنا یا بہنا، ٹھکاوٹ، السر، منہ میں درد، بھوک میں کمی، زایؑقہ میں تبدیلی، قبض یا پیچش، خشک یا بے رنگ جلد، سورج کی روشنی سے حساسیت، کھجلی، ہارمون میں تبدیلی، نارمردی، جنسی خواہش مین کمی، موٹاپا، حیض میں تبدیلی، پسینہ کی زیادتی وغیرہ غرض قوتِ مدافعت کی کمی سے بہت سارے مسایؑل سے پالا پڑ سکتا ہے۔

سرطان کے بارے مفید معلومات

  • پیشہ کے اعتبار سے بھی کینسر ہو جاتا ہے مثلاً میٹل انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدورں میں پھیپھڑوں کا کینسر کے چانس ہوتے ہیں۔ جن کارخانوں میں سنکھیا، کرومیم، نکل ہو وہاں مثانے کا کینسر ہو سکتا ہے۔ کیمیکل انڈسٹری میں جگر کا کینسر کلورین کے مرکب کے استعمال سے ہوتا ہے۔ زراعت پیشہ کیڑے مار ادویات کے کیمیکلز سے دیگر کینسرز میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غریب ممالک میں ہیپاٹیٹس بی کی وجہ سے جگر کا کینسر ہو جاتا ہے۔ رنگ ساز کارخانوں میں کام کرنے والوں کو مثانے کا، ربڑ کے کارخانوں میں ناک اور سایؑ نس کا، دھاتوں کے کارخانوں میں پھیپھڑے کا کینسر اور جو مایؑں اپنا دودھ نہیں پلاتی انکو چھاتی کا ہو سکتا ہے۔ جن لوگوں نے گھڑیوں کے ڈایؑل پر ریڈیم کے نقس و نگار بناۓ تھے انکو سرطان لاحق ہوا تھا۔
  • ایشیا اور افریکہ میں پان اور چھالیہ چبانے سے منہ کا کینسر ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان اور ہندوستان کے شمالی علاقہ جات میں کویؑلہ جلا کر اپنے آپ کو گرم رکھا جاتا ہے لہزا انکو زیادہ خطرہ رہتا ہے۔
  • سرطان کے اسباب بارے بہت تحقیق ہو چکی ہے۔ اب تک چار وجوھات کے وجہ سے سرطان ہوتا ہے۔ وایؑرس، کیمیایؑ مادے، ریڈییشن، دیگر اسباب (موروثی 5٪)۔ مثلاً ناک اور گلے کا کینسر بھی ایک وایؑرس سے ہی ہوتا ہے۔ کیمیایؑ مادوں کے مثال ایسبستاس وغیرہ ہیں۔
  • دیگر وجوہات میں ایک سگریٹ سے 7 اقسام کے کینسرز (پھپھڑے، منہ، مثانہ، لبلبہ، گردے، بچہ دانی کا منہ اور خون) ہو سکتے ہیں اور تمباکونوشی کی وجہ سے خطرہ کیؑ گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ دیگر اسباب میں شراب نوشی، کیمیکلز، الٹراویلٹ شعاعیں، انگریزی ادویات، موروثی، فضایؑ و آبی آلودگی۔ جبکہ روسویل پارک میموریل انسٹیٹیوٹ کے ڈایؑرکٹر کے مطابق 50 سال سے کم عمر عورتوں میں 4-5 کو چھاتی کے ایکس رے کروانے سے سرطان ہو جاتا ہے جبکہ 50 سال کے بعد ایکسرے کرواۓ جانے چاےؑ۔ کہا جاتا ہے کہ عورتوں مین اگر جسم کہ ایک حصے میں سرطان ہو تو چھاتی کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اسکی بہت ساری وجوہات میں ھارمون میں بگاڑ، ھارمونل تھعراپی، سیلینیم کی کمی، چکنایؑ کی زیادتی اور مانع حمل ادویات شامل ہیں۔ سیلینیم کی کمی سے ایسٹروجن کی اصلاح نہیں ہوتی جسکے نتیجے میں چھاتی، رحم، بیضہ دانی میں سرطان کے خلیات بن سکتے ہیں۔ ایٹمی مراکز کے قریب رہنے والے بھی بلڈ کینسر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
  • سرطان سے بچنے کے لیے اوپر والی چاروں چیزوں سے بچیں اسکے علاوہ گوشت، سگریٹ، شراب، بیکری کی اشیاء، چینی، نمک، انگریزی ادویات سے گریز کریں جبکہ پھل، سبزیاں، ورزش کریں اور خوش رہیں دوسروں کو خوش رکھیں۔
  • کینسر کے لغوی معنی کیکڑے کے ہیں جیسے کیکڑا اپنے پنجوں کے بل پر آگے بڑھتا ہے اسی طرح کینسر بھی اپنے پنجے گاڑتا ہے۔ کینسر دراصل خلیات کی بے قابو تقسیم ہوتی ہے۔ ہر خلیہ مرتا ہے اور پھر نیا بنتا ہے سواۓ ہڈیوں اور اعصاب کے۔ جبکہ دل کے خلیات میں بھی خلیات کی تقسیم نہیں ہوتی لیزا دل کا کینسر نہیں ہوتا ہے۔ اب تک قل 200 اقسام کینسر کی دریافت ہو چکی ہیں۔ کینسر کی بھت ساری اقسام ھیں صرف ھڈیوں کے 6 مختلف طرح کے کینسرز ھیں۔
  •  پھیلاؤ کے لحاظ سے اسکی دو اقسام ہیں ایک وہ جو اپنی جگہ قایؑم رہتے ہیں انکو بینایؑن benign کہتے ہیں اور ان سے اموات کم ہوتی ہہں جبکہ دوسرے کو میلگنٹ malignant کہتے ہیں اور زیادہ مہلک ہے۔
  • کینسر کے خلیات اپنی خوراک انسانی جسم سے ہی حاصل کرتے ہیں جسکی وجہ سے بدن کمزور اور کینسر کے خلیات زیادہ یا طاقتور ہوتے جاتے ہیں۔ لہزا کینسر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ انکی نشونما کے راستے مسدود کر دیۓ جایں۔
  • کینسر اگر پھیل نہیں گیا یا ابتدایؑ سٹیج میں ہے تو علاج بآسانی ممکن ہے۔ مگر عوام جاہل ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے مریض کو متسند قابل معالج کے پاس لے جانے کی بجاۓ ادھر اُدھر لیے پھرتے ہیں۔ اس طرح قیمتی وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
  • کینسر کے علاج میں کویؑ ایک ڈاکٹر نہیں ہوتا مختلف معالج حضرات بیٹھ کر مریض کی ہسٹری لیتے ہیں مگر پاکستان میں ایک ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر پر یقین ہی نہیں کرتا ملنا تو دور کی بات ہے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم بیٹھ کر مشترکہ طور پر مریض کے علاج کی حکمت عملی طے کرتی ہے جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔
  • کیموتھراپی، ہارمونل تھراپی، سرجری، امیونوتھراپی کے بجاۓ ریڈیوتھراپی بہت سستی پڑتی ہیں۔
  • عام علامات یہ ہیں۔ جب کویؑ بہت پرانا زخم مندمل نہ ہو رھا ہو۔ خون رطوبت یاپانی کا بلاوجہ بہتے جانا۔ پاخانہ پیشاب میں تبدیلی، وزن کم یا زیادہ ہو جانا۔ گلٹی بن جانا، پیدایؑشی تل یا مسے کی ظاہری حالت میں تبدیلی، پرانی کھانسی، ایسی بیماری جو ڈاکٹروں سے ٹھیک نہ ہو رہی ہو۔
  • پروفیسر ڈاکٹر خالدہ عثمانی سیکڑی کینسر ریسرچ فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہر 100 میں سے 10 عورتوں کو اور تمام سرطانوں کا 25٪ چھاتی کا سرطان ہے۔
  • ماہرین کو ابھی تک یہی سمجھ نہیں آیؑ کہ سرطان کے خلیات کیوں تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اگر یہ سمجھ آجاۓ تو علاج آسان ہو جاۓ گا۔
  • سرطان ہونے کی صورت میں ایک عام خلیہ اپنا فعل ترک کر کے خطرناک خلیات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور یہ سایؑٹوپلازم کی تقسمی کے بغیر ہی نیوکلؑس کی تقسیم تیز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم کسی طرح یہ غیر فطری تقسیم روک دیں تو کینسر کبھی بھی نہیں بنے گا۔ مزید یہ کہ خلیات کا طرذ حیات بدلتا رہتا ہے۔ تصویر دیکھیں۔

عورتوں میں ہونے والے کینسر

  • جن خاندانوں میں سرطان کی ہسٹری ہے وہ اپنا معایؑنہ باقاعدگی سے اپنے معالج سے کروایں۔ اسکو سرینگ ٹیسٹ کہتے ہیں۔ ایک ٹیسٹ تو حکومت کو چایۓ کہ ہر شہری کا فری کرے وہ کولون کا کینسر کا ٹیسٹ ہے۔ دوسرا اہم ٹیسٹ میموگرافی بھی کروانا چاۓ۔ تیسرا ٹیسٹ سرویکس کا کروانا چایؑے۔ پھر خون کا ٹیسٹ ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ سفید خلیے بہت زیادہ تو نہیں ہیں یہ خطرے کی علامت ہے۔
  • اگرچہ کسی ریسرچ سے یہ بات ثابت تو نھیں ھویؑ کہ موٹاپا اور کینسر کا آپس میں کویؑ تعلق ھے مگر موٹے افراد میں 10٪ زیادہ اموات ھوتی ھیں۔
  • اگر وقت پر تشخیص کو جاۓ تو علاج سے افاقہ کے 100٪ امکان ہیں۔ بچوں کے 90٪ اور عورتوں کے چھاتی کے کینسر کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کینسر کا علاج آج بھی بہت مشکل ہے۔
  • بڑی آنت کے کینسر میں اسپرین مفید ثابت ھو رھی ھے اور 50٪ تک کمی ھو جاتی ھے۔ پراسٹیٹ کے کینسر میں بھی اسپرین مفید ھے اور ریسرچ جاری ھے۔
  •  بڑوں کی نسبت بچوں میں 25٪ خون (Leukemia) اور 30٪ برین کینسر ہوتا ہے جبکہ دیگر کینسرز میں گردوں، آنکھوں اور ہڈیوں کے کینسرز شامل ہوتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں کینسر سے متاثرہ 25٪ بچے پھر بھی وفات پا جاتے ہیں جبکہ ترقی پزیر ممالک میں 80٪ بچے مر جاتے ہیں۔
  • عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ پہلے سے تیار شدہ گوشت استعمال کرنے کے باعث کینسر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • پوری دنیا میں 2014 تک سرطان کا سالانہ خرچہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ 2020 تک 150 ارب ڈالر تک پہنچ جاۓ گا۔ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے لاکھوں روپے لگ جاتے ہیں۔
  • غزا کے حساب سے بات کی جاۓ تو ریشہ دار مادے میں موجود لگنن (lignin) سرطان کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ گندم اور سیب کے ریشے میں لگنن کی مقدار 25٪ ہوتی ہے۔ فاسٹ فوڈ میں ریشہ کم ہوتا ہے اور یہ اپنے زایقے اور نفاست کی وجہ سے منہ میں زیادہ دیر نہیں رکتے لہزا ان میں منہ کے تیزابی مادے شامل ہی نہیں ہوتا پاتے جس کے نتیجہ میں منہ اور حلق کے کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ فرانس میں قایؑم بین الاقوامی تحقیقی ادارہ براۓ کینسر کے ڈاکٹر پیٹر ڈویل کے مطابق کافی آنتوں کے کینسر کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجناس کا پھوک یا ریشہ سرطان سے اتنی حفاظت نہیں دیتا جتنی پھلوں اور سبزیوں کے پھوک سے ملتی ہے۔ برطانوی محقق کاروں کے مطابق سرطان سے بچنے کے لیے بہترین ہتھیار پھل، سبزی اور کافی ہے۔ البتہ پروفیسر جان منٹن نے 47 چھاتی کے کینسر والی خواتین کو تجربے کے طور پر غزا سے میتھایؑل ایگزین تھایؑن ختم کروادیا تو 65٪ کی کینسر کی گلٹیاں تحلیل ہو گیؑں۔ مگر بعض عورتوں میں اسے چھوڑ دینے سے بھی کویؑ فایؑدہ نہں ہوتا۔ میتھایؑل ایگزین تھایؑن چاۓ، کولا مشروبات اور چاکلیٹ میں ہوتا ہے۔ مچھلی بھی کینسر میں اچھی ہے۔
  • حیاتین (vitamins) کی بڑی خوراکوں کے بہتر اور حوصلہ افزاء نتایؑج آرہے ہیں۔
    • مثلاً وٹامن اے (retinoids) جلدی کینسر کی دو اقسام بیسل سیل اور سکوایؑمس سیل کے خلاف موؑثر ثابت ہو رہا ہے۔ تین الگ الگ تجربوں میں جن 56 مریضوں پر آزمایا گیا ان میں سے 23 کی رسولیان جزوی طور پر سکڑ گیؑں۔ میلانوما کے 20 مریضوں میں سے 3 کی رسولیاں سکڑ گیؑ۔
    • بلڈ کینسر کی ایک قسم myeloid leukaemia ہے جس میں ناپختہ خلیات خون میں شامل ہو کر زندگی خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور خون کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔ اس میں وٹامن اے اور ڈی کی تالیفی اقسام سے یہ خلیات پختہ ہو گۓ۔
    • اسی طرح myelodysplastic میں بھی retinoids کی ایک قسم کھلایؑ گیؑ جبکہ اسکی خشکی دور کرنے کے لیے وٹامن ای دی گیؑ۔ فایؑدے کی شرح 75٪ رہی۔
    • وٹامن بی کی ایک تالیفی قسم leucovorin کو دیگر ادویات کے ساتھ دینے سے فایؑدہ پہنچتا ہے۔
    • تمباکو نوشی کرنے والے اور چھالیہ کھانے والوں میں منہ اور زبان کے چھالے Leukoplakia بن جاتے ہیں انکو وٹامن اے 6 ماہ تک کھلانے سے 57٪ افاقہ ہوا۔ مزید 3 ماہ بیٹا کیروٹین کھلانے سے 87٪ افاقہ ہوا۔ یاد رہے کہ بیٹا کیروٹین وٹامن اے کا محفوظ ترین طریقہ ہے۔
    • چونکہ کینسر کے مریضوں کے جسم میں تیزابیت کا رجحان زیادہ ہوتا ہے تو ایسے مریض انگریزی ادویات کے ساتھ کیلشیم کا مرکب بھی استعمال کریں تو السر کے چانس ختم ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی کیلشیم کے مرکبات تیزابیت کو ختم کرتے ہیں۔ جبکہ چاۓ, کافی، پروٹین اور مانع حمل ادویات کا استعمال کیلشیم کے انجزاب میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ نیز پیشاب آور ادویات کا استعمال بھی کیلشیم کی کمی کرتا ہے۔ حکیم طارق محمود صاحب نے خود کینسر کے مریضوں کے بالوں کی تجزیہ کیا ہے اور دیکھا ھے کہ کیلشیم اور زنک کی کمی نوٹ کی ہے۔ زنک قوتِ مدافعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ تیزابیت کم کرتا ہے۔ اسکے علاوہ سیلیکون، وٹامن ای اور سیلینیم کینسر کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوۓ ہیں۔
  • ٹی وی اور دوسرے برقی الیکٹرانی آلات سے نکلنے والی ایکس رے بھی کینسر بنا سکتی ہیں۔
  • ڈاکٹر clarence کے مطابق اگر خلیہ مہں منفی 70 سے 90 ملی وولٹ تک کے فرق سے تقسیم کیا عمل رک جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق ایسے طریقے بھی بعلوم ہو گۓ ہیں جن کے زریعے خلیوں میں برقی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ جو کہ کینسر سے متاثرہ خلیات کی حیت کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ جبکہ دوسرے طریقہ میں نفوز پزیری permeability تبدیلی کرنا فایؑدہ مند رہے گا اور سرطان جیسے بےقابو خلیات کی افزایؑش کو بھی روکا جا سکے گا۔
  • خلایؑ فنیت سے سینے کے سرطان کو شناخت کرنے میں کامیابی ہویؑ ہے۔
  • ایسے بہت سارے واقعات ہیں کہ اطباء نے بہس سارے کینسرز کو ناکام بنا دیا۔ جبکہ انگریزی ڈاکٹر دیسی اطباء پر تنقید ہی کرتے رہتے ہیں جبکہ ہسپتالوں کا سروے کیا جاۓ تو پتا چلے گا کہ جس مریض نے ابھی نہہں مرنا ہوتا وہ بہت سارے ٹسٹ، بایؑوپسی، ریڈیشن، مہنگی ادویات سے ھی قوتِ معدفعت جواب دے جاتی ہے اور وہ جلدی مر جاتا ہے۔
  • ایلومینیم کے برتن میں کھانا پکانے سے معدے کا کنسر ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے ھاں سارے برتن ایلومینیم کے ہوتے ہیں۔
  • پروفیسر ڈاکٹر اختر حسین اعوان کے مطابق جسم اگر غیر طبعی رسولی بنا سکتا ہے تو عضوِ ریس میں افراط و تفریظ کر کے اسکی قوتِ مدافعت بھی بڑھایؑ جا سکتی ہے۔
  • حکیم دوست محمد صابر ملتانی کے مطابق مریض کا اعصابی، عضلاتی اور غدی علاج قانون مفرد اعضاء کے تحت علاج کرکے فایؑدہ دیا جاتا ہے۔
  • سویڈن کے سایؑنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ آلو کو بہت بلد درجہ حرارت پر جب پکایا، روسٹ یا تلا جاتا ہے تو Acrylamide بنتا ہے جو کہ کینسر کا باعث ہے۔ ابالنے اور سٹیم سے یہ کم بنتا ہے۔ یاد رہے اس سے قبل یہی سمجھا جاتا تھا کہ Acrylamide صرف پلاسٹک، رنگایؑ  والے کیمیکلز اور کاغز بنانے میں ہی استعمال ہوتا ہے۔
  • مضرِ صحت غزایؑ عادات اور معمولات، سٹور کرنے کے غیر محفوظ طریقے، کھانے پکانے کی بے ضابتگیاں، حفظ صحت کے اصولوں سے ناواقفیت، گرم مرطوب آب و ہوا میں جراثیم، پھپھوندی، ہر قسم کے زہریلے مواد کی تولید آگے چل کر جگر کا کینسر بناتے ہین۔ اور اسکی شرح ہندوستان سے بھی زیادہ ہے۔
  • کسی ملک میں لوٹ مار، افراتفری، شور و غوغا، عدم برداشت، عدم ہمت، معاشی ناعمواری، ناانصافی، ظلم، بدامنی، اعصابی و نفسیاتی پہلو کا آج ملک میں کینسر کے پھیلاؤ میں بھی ھاتھ ہے۔
  • تمباکو نوشی۔ ایک اندازے کے مطابق سگریٹ میں تقریباً 250 خطرناک کیمیکلز ہوتے ہیں اور ان میں سے بھی 69 کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ صرف سگریٹ سے 14 مختلف اقسام کے کینسر ہو سکتے ہیں۔ ان میں پھیپھڑوں، خوراکی نالی، منہ۔ گلے، مثانہ۔ سرویکل، گردے، معدہ، کولون، ریکٹم، خون، جگر اور لبلبہ کے کینسر شامل ہیں۔
  • پھل/سبزیاں: انجیر کینسر کی بعض اقسام کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ انجیر کا کثرت استعمال لمبی زندگی کے لیے بہت اچھا ہے۔ نیز سگریٹ چھوڑنے والوں کے لیے انجیر بہت مناسب ہے۔ خوبانی، بندگوبھی، پھول گوبھی اور چقندر کینسر سے لڑتی ہے۔ خربوزہ اور گاجر بھی کینسر میں اچھے ہیں۔ ساری بیریز Berries کھایں۔ اخروٹ کینسر میں لاجواب ہے۔ اسکے علاوہ سرخمرچ اور لہسن بھی قوت مدافعت میں اچھے ہیں۔ روزانہ انگور کھایں۔ سبز چاۓ بھی روزانہ پیؑں۔ شہد بھی قوت دینے میں لاثانی ہے۔ جو کا دلیہ کینسر میں اچھی غزا ہے۔ زیتون کا تیل دل اور کینسر کے لیے سب سے مشہور غزا ہے۔ بادام بھی کینسر میں تقویت دیتا ہے۔ ڈاکٹر بھی مانتے ہیں کہ ٹماٹر کینسر ہونے سے بچاتا ہے۔کینسر Cancer اور اسکا علاج

جگر کا کینسر 2012

سرطان کے چند کامیاب دیسی علاج

شاہ تاج شوگر ملز کے ڈاکٹر مجیداللہ کی ایک عزیز کو بلڈ کینسر ہو گیا ڈاکٹرز نے لاعلاج قرار دے کر گھر گھر بھیج دیا۔ مریضہ کے ماں باپ نے ڈاکٹروں سے چھپا کر سچی بوٹی کھلانی شروع کر دی۔ 1 ہفتہ بعد ڈاکٹرز نے چیک کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گۓ کہ خون کے سفید خلیات 2 لاکھ 24000 سے کم ہو کر صرف 8000 رہ گۓ تھے۔ اور مریضہ مکمل طور پر شفایاب ہو گیؑ۔

جولایؑ 1970 کا زکر ہے کہ ایک ٹرک ڈرایؑور کی پسلیوں میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی۔ روز بروز اسکا وزن کم، طبعت سست، رات کو تھنڈے پسینے آتے۔ ایکس رے سے پتہ چلا کہ اسکو پھیپھڑوں کا قاتل سرطان ہے جسکا علاج پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔ ڈاکٹری علاج شروع ہوا تو ٹھیک ایک ماہ بعد حالت اور بگڑ گیؑ۔ طبی معایؑنے سے پتہ چلا اسکا جگر اور تلی بھی بڑھے ہوۓ ہیں۔ ڈاکٹروں نے وٹامن سی آزمانے کا سوچا۔ 10 گرام انجیکشن سے اور 10 گرام منہ کے راستے دی جانے لگی۔ صرف 10 دن بعد مریض کی حالت سنبھلنے لگی، بھوک ٹھیک ہو گیؑ اور دیگر علامات غایؑب ہونے لگی۔ اب بھی مریض 12 گرام وٹامن سی روزانہ لیتا ہے اور ٹھیک ٹھاک ہے۔

ڈولفن کے ساتھ پیراکی کرنے والے ایک تیراک کو کینسر ہو گیا۔ اس نے اعتماد کی زبردست قوت، پھل، سبزیوں، ترکاریوں اور دیگر وٹامن سے اپنی قوتِ مدافعت 10 گنا زیادہ کر کے کینسر کو شکست دی۔

چند مفید ٹیکنالوجیز اور ایجادات

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Nokia future cancer detection device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Breast_Cancer_Detection_Device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Pan cancer clinical device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Cervical_Cancer_Screening_Device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Early detection device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Oral Cancer-Curing light exposed-Screening

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Cervical_Cancer_detection

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Cervical Cancer Screening

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Prostate-cancer-Rapid-Diagnostic-Test-device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Oral Cancer Detection Device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Oral Cancer Detection Device 2

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Lung Cancer Screening

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Lung Cancer Screening

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Ovary Cancer Detection

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Breast and Ovary Cancer risk detection

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Cancer Oesophagus risk detection device

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Gastrointestinal or Stomach Cancer detection

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Bladder Tumor Antigen

کینسر Cancer اور اسکا علاج

domino-sized cartridge for liver cancer

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Detecting_Pancreatic_Cancer

کینسر Cancer اور اسکا علاج

ONE DEVICE 100 TESTS

Colon_Cancer_Test

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Intestines-cancer-detecting-test-kit-FOB-test

کینسر Cancer اور اسکا علاج

pocket dermatoscope

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Dermalite for skin

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Home Test Colorectal Cancer Test

کینسر Cancer اور اسکا علاج

Cervical cancer diagnosis

کینسر Cancer اور اسکا علاج

cervical cancer screening prototype

ماخوز

  • حکیم طارق محمود چغتایؑ
  • UNESCO

Comments are Closed