عورتوں میں ہونے والے کینسر

کینسر لاعلاج نہیں ہے۔ ان میں سے کئچھ کینسر صرف مردوں کو ہوتے ہیں جبکہ کچھ مردوں اور عورتوں دونوں کو بھی ہو سکتے ہییں۔ جبکہ کچھ صرف عورتوں میں ہوتے ہیں۔ حکیم ظارق محمود کے مطابق جب کویؑ گلٹی دس لاکھ خلیوں پر مشتمل ہوتی ہے تو اسکا وزن 1 گرام کا ہزارواں حصہ ہعنی 1 ملی گرام ہوتا ہے اور یہ چھوٹے موٹے سکین سے نظر بھی نہیں آتی۔ اب یہی گلٹی صرف 10 بار تقسیم ہو جاۓ تو 1 ارب کینسر کے خلیات پر مشتمل ہو جاتی ہے اور اسکا وزن 1 گرام ہو جاتا ہے۔ اب یہ کیمرے کی آنکھ سے نظر بھی آتی ہے اور محسوس بھی کی جا سکتی ہے۔

عورتوں میں ہونے والے کینسر

courtesy of e-Science Central

سرطان کے بارے مفید معلومات

  • پیشہ کے اعتبار سے بھی کینسر ہو جاتا ہے مثلاً میٹل انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدورں میں پھیپھڑوں کا کینسر کے چانس ہوتے ہیں۔ جن کارخانوں میں سنکھیا، کرومیم، نکل ہو وہاں مثانے کا کینسر ہو سکتا ہے۔ کیمیکل انڈسٹری میں جگر کا کینسر کلورین کے مرکب کے استعمال سے ہوتا ہے۔ زراعت پیشہ کیڑے مار ادویات کے کیمیکلز سے دیگر کینسرز میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غریب ممالک میں ہیپاٹیٹس بی کی وجہ سے جگر کا کینسر ہو جاتا ہے۔ رنگ ساز کارخانوں میں کام کرنے والوں کو مثانے کا، ربڑ کے کارخانوں میں ناک اور سایؑ نس کا، دھاتوں کے کارخانوں میں پھیپھڑے کا کینسر اور جو مایؑں اپنا دودھ نہیں پلاتی انکو چھاتی کا ہو سکتا ہے۔
  • ایشیا اور افریکہ میں پان اور چھالیہ چبانے سے منہ کا کینسر ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان اور ہندوستان کے شمالی علاقہ جات میں کویؑلہ جلا کر اپنے آپ کو گرم رکھا جاتا ہے لہزا انکو زیادہ خطرہ رہتا ہے۔
  • سرطان کے اسباب بارے بہت تحقیق ہو چکی ہے۔ اب تک چار وجوھات کے وجہ سے سرطان ہوتا ہے۔ وایؑرس، کیمیایؑ مادے، ریڈییشن، دیگر اسباب (موروثی 5٪)۔ مثلاً ناک اور گلے کا کینسر بھی ایک وایؑرس سے ہی ہوتا ہے۔ کیمیایؑ مادوں کے مثال ایسبستاس وغیرہ ہیں۔
  • دیگر وجوہات میں ایک سگریٹ سے 7 اقسام کے کینسرز (پھپھڑے، منہ، مثانہ، لبلبہ، گردے، بچہ دانی کا منہ اور خون) ہو سکتے ہیں اور تمباکونوشی کی وجہ سے خطرہ کیؑ گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ دیگر اسباب میں شراب نوشی، کیمیکلز، الٹراویلٹ شعاعیں، انگریزی ادویات، موروثی، فضایؑ و آبی آلودگی،
  • سرطان سے بچنے کے لیے اوپر والی چاروں چیزوں سے بچیں اسکے علاوہ گوشت، سگریٹ، شراب، بیکری کی اشیاء، چینی، نمک، انگریزی ادویات سے گریز کریں جبکہ پھل، سبزیاں، ورزش کریں اور خوش رہیں دوسروں کو خوش رکھیں۔
  • کینسر کے لغوی معنی کیکڑے کے ہیں جیسے کیکڑا اپنے پنجوں کے بل پر آگے بڑھتا ہے اسی طرح کینسر بھی اپنے پنجے گاڑتا ہے۔ کینسر دراصل خلیات کی بے قابو تقسیم ہوتی ہے۔ ہر خلیہ مرتا ہے اور پھر نیا بنتا ہے سواۓ ہڈیوں اور اعصاب کے۔ جبکہ دل کے خلیات میں بھی خلیات کی تقسیم نہیں ہوتی لیزا دل کا کینسر نہیں ہوتا ہے۔ اب تک قل 200 اقسام کینسر کی دریافت ہو چکی ہیں۔ کینسر کی بھت ساری اقسام ھیں صرف ھڈیوں کے 6 مختلف طرح کے کینسرز ھیں۔
  •  پھیلاؤ کے لحاظ سے اسکی دو اقسام ہیں ایک وہ جو اپنی جگہ قایؑم رہتے ہیں انکو بینایؑن benign کہتے ہیں اور ان سے اموات کم ہوتی ہہں جبکہ دوسرے کو میلگنٹ malignant کہتے ہیں اور زیادہ مہلک ہے۔
  • کینسر کے خلیات اپنی خوراک انسانی جسم سے ہی حاصل کرتے ہیں جسکی وجہ سے بدن کمزور اور کینسر کے خلیات زیادہ یا طاقتور ہوتے جاتے ہیں۔ لہزا کینسر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ انکی نشونما کے راستے مسدود کر دیۓ جایں۔
  • کینسر اگر پھیل نہیں گیا یا ابتدایؑ سٹیج میں ہے تو علاج بآسانی ممکن ہے۔ مگر عوام جاہل ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے مریض کو متسند قابل معالج کے پاس لے جانے کی بجاۓ ادھر اُدھر لیے پھرتے ہیں۔ اس طرح قیمتی وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
  • کینسر کے علاج میں کویؑ ایک ڈاکٹر نہیں ہوتا مختلف معالج حضرات بیٹھ کر مریض کی ہسٹری لیتے ہیں مگر پاکستان میں ایک ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر پر یقین ہی نہیں کرتا ملنا تو دور کی بات ہے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم بیٹھ کر مشترکہ طور پر مریض کے علاج کی حکمت عملی طے کرتی ہے جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔
  • کیموتھراپی، ہارمونل تھراپی، سرجری، امیونوتھراپی کے بجاۓ ریڈیوتھراپی بہت سستی پڑتی ہیں۔
  • عام علامات یہ ہیں۔ جب کویؑ بہت پرانا زخم مندمل نہ ہو رھا ہو۔ خون رطوبت یاپانی کا بلاوجہ بہتے جانا۔ پاخانہ پیشاب میں تبدیلی، وزن کم یا زیادہ ہو جانا۔ گلٹی بن جانا، پیدایؑشی تل یا مسے کی ظاہری حالت میں تبدیلی، پرانی کھانسی، ایسی بیماری جو ڈاکٹروں سے ٹھیک نہ ہو رہی ہو۔
  • پروفیسر ڈاکٹر خالدہ عثمانی سیکڑی کینسر ریسرچ فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہر 100 میں سے 10 عورتوں کو اور تمام سرطانوں کا 25٪ چھاتی کا سرطان ہے۔
  • ماہرین کو ابھی تک یہی سمجھ نہیں آیؑ کہ سرطان کے خلیات کیوں تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اگر یہ سمجھ آجاۓ تو علاج آسان ہو جاۓ گا۔
  • سرطان ہونے کی صورت میں ایک عام خلیہ اپنا فعل ترک کر کے خطرناک خلیات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اور یہ سایؑٹوپلازم کی تقسمی کے بغیر ہی نیوکلؑس کی تقسیم تیز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم کسی طرح یہ غیر فطری تقسیم روک دیں تو کینسر کبھی بھی نہیں بنے گا۔ مزید یہ کہ خلیات کا طرذ حیات بدلتا رہتا ہے۔ تصویر دیکھیں۔

 

عورتوں میں ہونے والے کینسر

  • جن خاندانوں میں سرطان کی ہسٹری ہے وہ اپنا معایؑنہ باقاعدگی سے اپنے معالج سے کروایں۔ اسکو سرینگ ٹیسٹ کہتے ہیں۔ ایک ٹیسٹ تو حکومت کو چایۓ کہ ہر شہری کا فری کرے وہ کولون کا کینسر کا ٹیسٹ ہے۔ دوسرا اہم ٹیسٹ میموگرافی بھی کروانا چاۓ۔ تیسرا ٹیسٹ سرویکس کا کروانا چایؑے۔ پھر خون کا ٹیسٹ ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ سفید خلیے بہت زیادہ تو نہیں ہیں یہ خطرے کی علامت ہے۔
  • اگرچہ کسی ریسرچ سے یہ بات ثابت تو نھیں ھویؑ کہ موٹاپا اور کینسر کا آپس میں کویؑ تعلق ھے مگر موٹے افراد میں 10٪ زیادہ اموات ھوتی ھیں۔
  • اگر وقت پر تشخیص کو جاۓ تو علاج سے افاقہ کے 100٪ امکان ہیں۔ بچوں کے 90٪ اور عورتوں کے چھاتی کے کینسر کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کینسر کا علاج آج بھی بہت مشکل ہے۔
  • بڑی آنت کے کینسر میں اسپرین مفید ثابت ھو رھی ھے اور 50٪ تک کمی ھو جاتی ھے۔ پراسٹیٹ کے کینسر میں بھی اسپرین مفید ھے اور ریسرچ جاری ھے۔
  •  بڑوں کی نسبت بچوں میں 25٪ خون (Leukemia) اور 30٪ برین کینسر ہوتا ہے جبکہ دیگر کینسرز میں گردوں، آنکھوں اور ہڈیوں کے کینسرز شامل ہوتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں کینسر سے متاثرہ 25٪ بچے پھر بھی وفات پا جاتے ہیں جبکہ ترقی پزیر ممالک میں 80٪ بچے مر جاتے ہیں۔
  • عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ پہلے سے تیار شدہ گوشت استعمال کرنے کے باعث کینسر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • پوری دنیا میں 2014 تک سرطان کا سالانہ خرچہ 100 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ 2020 تک 150 ارب ڈالر تک پہنچ جاۓ گا۔ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے لاکھوں روپے لگ جاتے ہیں۔

 

مردانہ و زنانہ جنسی مسایؑل کی تفصیل دیکھیں۔

 

 

 

 


انتسابات

  • حکیم طارق محمود چغتایؑ


Comments are Closed