آنت کا کینسر Colon Cancer

عالمی تنظیم کی ایک رپوٹ کے مطابق 2005 سے 2015 تک کینسر نے آٹھ کروڑ چالیس لاکھ افراد کی جان لی ہے۔ پوردی دنیا میں سالانہ 70 لاکھ اور پاکستان میں 1 لاکھ افراد کینسر کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے بعد سب سے زیادہ اموات بڑی آنت کے کینسر (Colorectal Cancer) سے ہوتی ہیں لہزا اس سے بچاؤ اور علاج کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دراصل آنت میں زخم یا پھوڑا ہوجانے کی علامات ظاہر نہیں ہوتی ان پھوڑوں کو ڈندی دار رسولی بھی کہا جاتا ہے۔ اگر انکا بروقت علاج نہ کیا جاۓ تو یہ آنتڑیوں کے کینسر میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ آنت کا کینسر Colon Cancer عموماً 60 سال کے بعد اور موٹے افراد میں پایا جاتا ہے۔ خوش قستی کے ساتھ مثانے کے کینسر کی طرح یہ بھی قابلِ علاج ہے۔

ضروری معلومات

  • 55 سال سے اوپر والے حضرات بڑی آنت کے کینسر سے بچاؤ کے لیے سکوپ سرینگ ضرور کروایں۔ برانے تین طریقے ابھی بھی رایؑج ہیں جیسے کہ سرجری، کیموتھراپی (ادویات) اور ریڈیوتھراپی۔
  • چھوٹی گلٹی نالی ڈال کر ہی نکال دی جاتی ہے۔ جب گلٹی بڑی ہو تو سرجری کے زریعے نکال دی جاتی ہے یا پھر بڑی آنت کا کچھ حصہ نکال کر باقی حصہ کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے (اسے کولیکٹومی کہتے ہیں) اور ڈاکٹر کئچھ لمف نوڈ کو بھی نکالے گا کیونکہ کینسر اکثر سب سے پہلے اس جگہ پھیلتا ہے۔
  • اگر آنت کے سروں کو دوبارہ جوڑا نہ جا سکے، تو آنت کے کچھ حصے کو باہر پیٹ (شکم) پر لایا جا سکتا ہے۔ اس کھلی جگہ کو اسٹوما کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب ساری بڑی آنت یا اسکا کچھ حصہ نکال دیا جاۓ۔ اگر ساری نکالتے ہیں تو اسٹوما کی مستقل ضرورت پڑتی ہے۔
  • key hole سرجری میں سرجن 4 یا 5 چھوٹے کٹ لگاتا ہے۔ وہ کینسر کو نکالنے کے لیے کٹ کے ذریعے سرجری کے آلات ڈالتے ہیں۔ لوگ اکثر کھلی سرجری کی نسبت کی ہول سرجری سے جلد بحال ہو جاتے ہیں۔
  • چھوٹی آنت اور مقعد کے کینسر کی شرح کم ہے۔
  • بعض اوقات دوسرے کینسروں کی طرح اس کینسر کے خلیے بھی خون اور لمفاوی نظام کے ذریعے جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل جاتے ہیں۔ اسے ثانوی کینسر کہا جاتا ہے۔
  • بعض اوقات کولون کینسر آنت کا راستہ روک دیتا ہے اور پاخانے کو گزرنے سے روک دیتا ہے۔ یہ پیٹ میں درد اور قے کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر آنت کو کھلا رکھنے کے لیے ایک پتلی ٹیوب (اسٹینٹ) ڈال سکتا ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو وہ آنت کے بند ہوئے حصے کو ایک آپریشن کے ذریعے نکال سکتے ہیں۔
  • دیگر کینسر کی طرح اس میں بھی علاج کے لیے طریقہ کار وہی ہیں۔ سرجری، کیموتھراپی، ریڈیوٹھراپی وغیرہ۔ مگر انکے ضمنی اثرات میں تھکاوٹ، جلد کی خشکی دانے، بال گرنا، انفیکشن، متلی، منہ دکھنا، پیچش وغیرہ۔
  • بڑی آنت کے دیگر امراض میں colitis ہعنی آنت کی سوزش، polyps, proctitis شامل ہیں۔
  • سائنسی جریدے ’’ سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چوہوں پر کیے گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عمومی طور پر دانتوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والے ٹوتھ پیسٹ میں شامل ایک جز ’ٹرکلوسان‘ بڑی آنت کے زخم، سوزش حتیٰ کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
  • غدود والے پولپس polyps کینسر کی شکل اختیار کر سکتے ہیں. polyps عموماً بے ضرر ہوتے ہيں ليکن کچھ آہستہ آہستہ کينسر ميں تبديل ہو سکتے ہيں ۔ پولپ کو کينسر ميں بدلنے ميں دس سال سے زياده کا عرصہ لگتا ہے۔
  • سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہاضمے کے نظام میں آنتوں میں پائے جانے والے بعض بیکٹریا سے کینسر کے علاج میں مدد مل سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکسس میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن لوگوں کی آنت میں جتنے مختلف قسم کے آنت والے بیکٹیریا ہوں گے وہ ان سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں۔
  • رسولیوں یا ٹیومرز سے لڑنے کے مدافعتی نظام کی قوت میں اضافہ کرنے والے طریقہ علاج امّیفنوتھریپیز سے کافی مدد ملتی ہے۔
  • اسکاٹ لینڈ میں 50 اور 74 سال کی عمر کے ہر مرد اور عورت کو، ہر دو سال بعد ہوم سکرینگ کروایؑ جاتی ہے تاکہ پاخانہ میں پوشیدہ خون کا پتا لگایا جا سکے۔
  • ترکی کے سایؑنس دانوں نے کیمیائی  تجربے کے دوران بڑی آنت کے سرطان  کے علاج میں موثر دوا دریافت کی گئی ہے جو ابھی تجرباتی مراحل میں ہے۔
  • Acrylamide کیمیکل کی وجہ سے کینسر ہوتا ہے اور یہ مادہ ابلے نشاستوں جیسے آلو، اناج، چپس میں ہوتا ہے۔ دراصل Acrylamide آگے glycidamide میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ ڈی این اے کو تبدیل کر کے کینسر بنا سکتا ہے۔
  • تمباکو نوشی کے دوران بھی Acrylamide بنتا ہے جو کہ خوراک کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ خطرناک ہے۔
  • جب کویؑ گلٹی دس لاکھ خلیوں پر مشتمل ہوتی ہے تو اسکا وزن 1 گرام کا ہزارواں حصہ ہعنی 1 ملی گرام ہوتا ہے اور یہ چھوٹے موٹے سکین سے نظر بھی نہیں آتی۔ اب یہی گلٹی صرف 10 بار تقسیم ہو جاۓ تو 1 ارب کینسر کے خلیات پر مشتمل ہو جاتی ہے اور اسکا وزن 1 گرام ہو جاتا ہے۔ اب یہ کیمرے کی آنکھ سے نظر بھی آتی ہے اور محسوس بھی کی جا سکتی ہے۔ (بشکریہ حکیم ظارق محمود)

آنت کا کینسر Colon Cancer

علامات

شروعات ميں ہو سکتا ہے کہ بڑی آنت کے کينسر کی بظاہر کوئی عالمت نہ ہو۔ پاخانے کے ساتھ خون يا زياده مقدار ميں چپچپا ميوکس، پاخانہ کرنے کے معمول ميں بدالؤ (اسہال يا قبض)، اکثر پتلا پاخانہ، پاخانہ کرنے کے بعد بھی پاخانہ آنے کا مسلسل احساس، آنت میں کویؑ تبدیلی، پیٹ کی کویؑ گلٹی، پيٹ کی تکليف (مسلسل درد يا پھولنا)، پیٹ میں اپھارا یا سوجن، ٹھکاوٹ، وزن میں کمی۔

تشخیص

NHS-UK کے مطابق باول سکوپ سرینگ ایک نیا بلا تکلیف والا معائنہ ہے جو آنت کے کینسر سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے یہ معائنہ آنت میں موجود چھوٹے پھوڑوں، جنھیں ڈنڈی دار رسولی کہا جاتا ہے، کو تلاش کرتا ہے اور انھیں ختم کرتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ 

سال ميں ايک يا دو بار پاخانے ميں ممکنہ خون کی تشخيص کروائيں اسکے علاوہ  (Fecal Occult Blood Test (FOBT سے گھر خود پاخانے میں خون کی موجودگی کا ٹیسٹ کریں۔

غزا و پرہیز

موسمی پھل، سبزیاں، ریشہ دار غزا، خشک آلوبخارہ، اخروٹ کھایں، واک یا ورزش کریں، وزن کم کریں، سرخ مرچ, بڑا گوشت یا پراسس شدہ گوشت اور مصالحہ کم کھایں۔ سگریٹ نوشی اور شراب نوشی نہ کریں۔ چھوٹے 4-5 دفعہ کھایں۔ بعض غزا یا پریشانی پاخانہ کو پتلا کر سکتی ہیں ان سے دور رہیں، ڈبہ بند غزا نہ کھایں۔ زیادہ کولیسٹرول والی غذا جیسے مکھن، گھی، بالائی والی کریم، پنیر, فیریک سائیٹریٹ اور فیریک ای ڈی ٹی اے آیؑرن سپلیمنٹ، باہر کی بنی ہویؑ اشیاء بھی کم کھایں۔ آلو والے چپس نہ کھایں۔ ایک تو خدا کی زات پر مکمل ایمان اور یقین رکھیں دوسرا غزا کا زیادہ حصہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل ہونا چاۓ ان میں بھی سبزیاں بغیر پکاۓ کھانی چایؑیے۔ اسکے ساتھ بغیر چھنے آٹے کی روٹی، کچھ اضافی وٹامن کھانے چایؑیے۔

دیسی علاج

  1. ایک چینی جڑی بوٹی آرٹیسونیٹ آنتوں کے کینسر میں بہت معاون ہے۔
  2. خاص یوگا ورزشیں ہیں جن سے پھیپھڑے کافی حد تک تندرست کۓ جا سکتے ہیں۔ تفصل دیکھۓ, سانس کی ورزشیں دیکھیں
  3. 10 گرام وٹامن سی صبح اور 10 گرام شام کو دیں اگر مریض کی حالت زیادہ خراب ہے جگر تلی بڑھے ہوۓ ہیں تو 10 گرام منہ کے زریعے اور 10 گرام انجیکشن کے زریعے دیں۔ کؑی لوگوں مین اسکا کافی افاقہ ہو چکا ہے۔ افاقے کے بعد بھی روزانہ 10 گرام کھاتے رہنا پڑتا ہے۔
  4. کتھ گلابی، سہل کھڑی، کشتہ کوزی زرد ہر ایک 10 گرام کو باریک پیس لیں اور درجِ زیل پانی کے ساتھ 1-1 گرام یہ سفوف صبح شام لیں۔ حب آلاس، انجبار، بیل گری، تمام دواؤں کو کوٹ کر نصف لٹر پانی میں بھگو دیں۔ صبح چھان کر اسی پانی سے سفوف کھایں۔ ( اخبارِ جہاں)

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

 

 

 

 

 

 

 

 

انتسابات

  • NHS-UK نیشنل ہیلتھ سروس یوکے
  • Macmillan Cancer Support میکملن کینسر سپورٹ
  • محکمہ صحت ہانگ کانگ اگست 2017
  • روزنامہ پاکستان

Comments are Closed