شوگر Diabetes اور اسکا علاج

شوگر Diabetes اور اسکا علاج

ڈایابیٹیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 70 لاکھ کے قریب شوگر کے مریض ہیں جن میں 16 لاکھ بچے ہیں جبکہ حاملہ مریضوں کا تناسب سب سے زیادہ پاکستان میں ہے۔ اس طرح پاکستان کا نمبر پوری دنیا میں پھیلاؤ کے اعتبار سے ساتواں بنتا ہے۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے وی سی کے مطابق 2025 تک کل شوگر کے مریض 1 کروڑ 15 لاکھ کے قریب ہو جایں گے۔ اس طرح یہ چوتھے نمبر پر آ جاۓ گا۔ شوگر کی موزی بیماری آگے بہت ساری بیماریوں کو جنم دیتی ہے جن میں آنکھ، گردے، دل اور پاؤں کی پچیدگیاں شامل ہیں اور انکی وجہ سے جلدی مرجاتے ہیں۔ شوگر Diabetes اور اسکا علاج پیش کرنے سے قبل ہم اسکی وجوھات اور علامات پر بحث کریں گے۔ شوگر کو تین طرح کنٹرول کیا جاتا ہے صحت مند خوراک، جسمانی کام اور ادویات۔ اگر آپ بلڈ شوگر کو کنٹرول رکھتے ہیں تو شوگر اپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ شوگر میں زیادہ تر خوراک کا پرہیز ہی بتایا جاتا ہے اور اپنا لایؑف سٹایؑل بدلا جاتا ہے۔ ادویات کے ضرورت کم پڑتی ہے۔

شوگر Diabetes اور اسکا علاج

Touch Diabetes Testing Kit Price $21

ایسی بیماریاں جو صرف ڈپریشن سے ہوتی ہیں جانیے

اس وقت سعودی عریبیہ میں کل آبادی کا 18٪ شوگر کے مریض ہیں  اس طرح کل ابادی 3 کروڑ 35 لاکھ میں تقریباً 60 لاکھ شوگر کے مریض بنتے ہیں۔ مجموعی طور پر خلیجی ممالک میں شوگر کی مرض کافی زیادہ ہے۔ ترکی 12 ٪ کے حساب سے یورپ کا سب سے زیادہ شوگر کی ابادی والا ملک ہے۔ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں شوگر کا مرض دیکھا گیا ہے۔ پاکستان اور بنگادیش میں کل ابادی کا 8٪ شوگر کے مرض میں مبتلا ہے مگر یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ WHO کے مطابق ہم کو اپنی خوراک کا 10٪ سے زیادہ چینی سے نہیں لینا چاۓ  جبکہ شوگر کی بیماری کم اور متواسط آمدنی والے ممالک میں زیادہ ہے۔ 1980 کو شوگر کی شرح 4٪ سالانہ سے بڑھ کر 8٪ سالانہ پر آگیؑ ہے۔ ابھی بھی ہندوستان ہم سے ڈبل ییلتھ پرسالانہ فی کس خرچ کرتا ہے۔ پوری دنیا کی آبادی کا 7٪ شوگر سے متعلقہ امراض کا شکار نظر آتا ہے۔ شوگر بڑھنے کو انگریزی میں Hyperglycemia کہتے ہیں۔

طبیب کے متعلق چند ضروری ہدایات

مریض کے متعلق چند ضروری ہدایات

شوگر Diabetes اور اسکا علاج - خوراکی چارٹ

اسباب: لبلبہ کی خرابی، دورِ حاضر کی چکاچوند زندگی، پریشانی کیونکہ اسکی وجہ سے دماغ پر پریشر پڑتا ہے نتیجاتاً لبلبہ کے کام میں بگاڑ آجاتا ہے، اعصابی کمزوری،  دماغی تھکاوٹ، کسی خاض غزایؑ جزو کی کمی یا زیادتی، ورمِ لبلبہ، لبلبہ کی رسولیاں، سرطانی اثرات، دقی اثرات، فالج کے اثرات، وٹامن سی کی کمی، انگریزی ادویات، موروثی، کام کی زیادتی اور نیند کی کمی۔

علامات: بار بار پیشاب کی حاجت، پیاس اور بھوک کی شدت۔ اگر تادیر علاج نہ کروایا جاۓ تو دل، گردے، آنکھوں اور پاؤں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اسکے علاوہ شوگر کے مریضوں کو ٹی بی کے جراثیم قبول کرنے کی کافی استعداد ہوتی ہے لہزا ہر 6 ماہ بعد دانت، ٹی بی، بلڈ، آنکھیں ٹیسٹ کروایں۔ حاملہ کا بلڈ پریشر زیادہ ہو سکتا ہے اگر ایسا ہو تو وقتِ مقررہ سے 1 ماہ قبل وضع حمل کروا دینا چاۓ۔ دیگر شوگر کے اثرات میں گردن کے افعال کا بگاڑ، اندھاپن، فالج، اعصابی کمزوری، دورانِ خون کے امراض، غنودگی، زخم کا جلد مندمل نہ ہونا۔

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

غزا و پرہیز: وزن کم کریں۔ مناسب واک یا یوگا روزانہ کریں۔ خوراک کے چارٹ پر سختی سے عمل کریں اور یہ پرہیزی کھانا تھوڑی ہے یہ تو ہمارا اصل کھانا ہے۔ کوشش کریں جالی پر سیک کر، ابال کر، بھاپ میں کھانا پکایں۔ بغیر چکنائی کے دودھ لیں۔ نشاستہ دار غزا ضرور کھایں اس سے آپ کو توانایؑ، وٹامن بی، معدنی اجزاء اور ریشے ملتے ہیں جو کہ آپکے معدہ کو صاف رکھ کر شوگر کو قابو میں رکھتے ہیں۔ مگر روٹی چاول کم سے کم کر کے اسکی جگہ سلاد اور سالن کھایں اور زیادہ مقدار میں فایؑبرز سے بدہضمی ہوتی ہے اور ڈکار آتے ہیں۔ نیز گندم ہعنی آٹا اس لیے بھی کم کھایں کیونکہ آج کل جو آتا ہم کھاتے ہیں اس میں جنیاتی تبدیلیاں کی گیؑ ہیں۔ کچی سبزیاں کھایں اگر معدہ کمزور ہے تو ابال کر یا مناسب پکی ہوئؑ کھایں۔ شراب و سگریٹ نوشی، تناؤ چھوڑ دیں۔ اپنا بلڈ پریشر کنٹرول کریں۔ سرخ گوشت، عضویاتی گوشت، تلی خوراک، mayonnaise، مصنوعی مکھن، چکنایؑ سے بھری خوراک، بیکری کی مصنوعات اور سوڈے والی شوگر سے بھری بوتلوں سے مکمل اجتناب کریں۔ پورے دن میں 6-8 دفعہ چھوٹی خوراکیں کھایں۔ ریشے دار خوراک لیں مگر اتنی زیادہ نہیں کہ ھاضمہ آہستہ کر دے۔ Multivitamins  لے سکتے ہیں۔ قسم 2 کو پیدا ہونے سے کافی حد تک روکا جا سکتا ہے اس کے لیے صحت مند غزا، وزن کم،  ترکِ سگریٹ، تفکرات سے اجتناب اور مناسب ورزش یا واک کی عادت ابھی سے ڈالیں۔ نیز ابھی سے چینی کا استعمال کم کر دیں۔ روزانہ 90 منٹ سے زایؑد ورزش شوگر کے خطرے کو 28٪ کم کر دیتی ہے۔ اسکے علاوہ ان چھنے آٹے کی روٹی لیں، پانی پہلے اور درمیان میں ہی پیؑں۔ زیتون کے تیل میں کھانا پکایں اور اسکی اپنی زندگی کا معمول بنا لیں۔ اس کے عللاوہ ناشپاتی، ٹماٹر، پالک،کم انڈے، دارچینی، سبز چاۓ، کریلہ، بھینڈی، اسٹرابری، بلیک بیری، چیری، خوبانی، ناشپاتی، ایلوویرا جوس،  جامن، پپیتہ، لیموں پودینہ کا پانی، آلو بخارا، کیوی، پیاز، آم کے پتے اور پانی زیادہ پیؑں۔ اکثر اوقات کالے چنوں کے شوربے کو کپ میں ڈال کر پیا کریں۔

پوری دنیا کی اوسطً 2۔8٪ ابادی کو شوگر ہے اور تاریخی طور پر سب سے پہلے ہندوستانی معالجوں نے 1500 قبل از مسیح شوگر کا مرض دریافت کیا تھا۔ اسی طرح قسم 1 اور 2 میں فرق بھی پیلی دفعہ برصغیر کے معالجوں ششروتا اور چاراکا نے 400 سے 500 قبل از مسیح دریافت کیا تھا۔

شوگر Diabetes اور اسکا علاج

بشکریہ ـ(ویکی پیڈیا)

گھریلو ٹوٹکے

ہمارے ملک میں جنسی تعلیم کتنی ضروری ہے جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

نوٹ: ایک بات زہن میں رکھ لیں کہ کویؑ مرض بھی لاعلاج نہیں ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں ہے کہ ہر بیماری کا علاج ہے۔ عجیب بات ہے کہ جدید میڈیکل سایؑنس مرض کا علاج کرنا تو درکنار کیؑ بیماریوں کی وجوہات بھی تلاش نہیں کر سکی۔ اگر معالج حضرات علامات کی بجاۓ اسباب کا علاج کریں تو شوگر کا بھی شافی علاج ہو سکتا ہے۔ قانونِ فطرت کا تقاضا ہے کہ جو چیز باعثِ مرض ہے وہی باعثِ شفا بھی ہے۔ جیسے بہت سے دوسرے امراض کی وجوہات میں اعصابی کمزوری کا بڑا دخل ہے اسی طرح شوگر کے علاج کے پہلے اصول میں اعصابی نظام کی تقویت و اصلاح ضروری ہے۔ ایک بات اور نوٹ کر لیں چونکہ شوگر کی بیماری غزایؑ بے احتیاطی سے ہوتی ہے لیزا زیادہ تر مریض غزایؑ چارٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ یہ بات زہن میں رکھ لیں کہ جو دوا لے رہے ہیں وہ چھوڑنی نہیں ہیں۔ اگر شوگر کنٹرول ہوتی جاۓ تو دوائی کم کر سکتے ہیں۔

پھیپھڑوں کا کینسر Lung Cancer

خیروعافیت کی دعا

  1. دن کا آغاز اگر دارچینی کے قہوہ سے کریں تو آپکا جسم انسولین کو بھتر ردعمل دیتا ہے اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے۔

  2. شوگر کے ساتھ بلڈپریشر بھی ہوجاتا ہے۔ لہزا اسکے لیے صبح شام لہسن کی دو پھلیاں روٹی کے اندر رکھ کر چبانا بلڈپریشر کے لیے بہترین چیز ہے۔

  3. گڑمار بوٹی، کریلے خشک، اندرجوتلخ، ہریڑ کابلی، گھٹلی جامن، افسنطین، کوڑتمہ- سبکو ہموزن کوٹ چھان لیں۔ صبح شام 1 چمچ نہارمنہ پانی کے ساتھ 2 ہفتہ۔

  4. اطباء کہتے ہیں شوگر کے مرض میں فالسہ کا شربت بہت مفید ہے۔ فالسہ کا شربت گھر پر بھی بنا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ دل کی گبھراھٹ، اختلاج قلب، معدہ کی کمزوری، پیاس کی شدت، پیشاب و سینے کی جلن میں بھی مفید ہے۔

  5. مناسب مقدار میں تربوز کا استعمال کریں یہ بلڈ پریشر کے لیے مفید ہے۔ ہمیشہ اعتدال کے ساتھ استعمال کریں۔

  6. پنیرڈوڈا جو ہاف سفید رنگ اور بیر کی طرح گول ہوتا ہے رات پانی میں 10 دانے بھگو دیں صبح نہار منہ پی لیں۔ شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔

  7. دار چینی لیں اور توے پر بریاں کریں، ٹھنڈی ہونے پر اسے باریک سفوف کی طرح بنا لیں اور بوتل میں محفوظ کر لیں‘ صبح نہار منہ ¼چمچ (چائے کا) لیکر تازہ پانی سے کھائیں اور آدھے گھنٹے بعد ناشتہ کریں۔

  8.  دو عدد بھنڈیاں لے کر اچھی طرح دھو لیں اور دونوں طرف سے کنارے تھوڑے تھوڑے کاٹ لیں اور لمبائی کے رخ اس میں چیرا لگائیں اور ایک گلاس پانی میں بھگو کر ڈھانپ کر رکھ دیں۔ فریج میں نہ رکھیں‘ صبح بھنڈیاں نکال کر پھینک دیںمگرپانی ہلائیں نہیں‘ یہ پانی نہار منہ پی لیں(پانی لیس دار ہوگا) ‘ آدھے گھنٹے کے بعد ناشتہ کریں۔یہ دونوں بظاہر معمولی نظر آنے والے ٹوٹکے بہت مجرب ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے پہلے شوگر چیک کروائیں ایک ہفتہ استعمال کرنے کے بعد دوبارہ شوگر چیک کروائیں تو حیرت انگیز طور پر شوگر بالکل نارمل ہو گی۔ آپ حیران ہو جائیں گے ‘ آزمائش شرط ہے مگر اس دوران کوئی شوگر کی دوائی استعمال نہ کریں۔ (عبقری میگزین دسمبر2009ءصفحہ26)

  9. کلونجی،گوند کیکر، تخم سرس‘ اندرائن ہم وزن پیس کر فل سائز کیپسول بھرلیں۔ طریقہ استعمال: ایک کیپسول دن میں تین بار اس کے علاوہ اور کئی مریضوں کو استعمال کروایا نہایت مجرب ہے۔

  10. : نیم کے پتے آدھا کلو‘ گندم آدھا کلو دونوں اشیاء عصر کے وقت پانی میں بھگو دیں اگلے دن پانی کوآگ پر رکھ کر 2 ابالے دیں۔پتے اور پانی نکال کر پھینک دیں‘ گندم کو خشک کرلیں اور آٹا بنالیں۔ اس آٹے میں بادام کی گری آدھا کلو باریک پیس کر آٹے میں ملا دیں۔ پھر آدھا کلو دیسی گھی بھی شامل کریں۔ ایک پاؤ دیسی شکر ملائیں اور آگ پر رکھ کر بھونیں جب پنجیری شکل بن جائے بس تیار ہے۔ عصر کی نماز کے بعد اپنی طبیعت کے مطابق 4 یاپانچ چمچ نیم گرم دودھ سے استعمال کریں۔ (عبقری میگزین مارچ2011ءصفحہ 39)

  11. آملہ، کریلہ، جامن کے بیج ھموزن پیس کر سفوف بنا لیں۔ چاۓ کی چمچ دن میں 2 بار۔

  12. غزایؑ چارٹ پر سختی سے عمل کریں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ انکی نعمتیں چھن گیؑ ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ہم لوگ روٹی چاول کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔

  13. بعض مریض جو اعصابی طور پر توانا ہوتے ہیں اگر انکو غزایؑ چارٹ پر سختی سے عمل کے ساتھ ساتھ مناسب وزن، سبب کا تدارک اور آہستہ آہستہ ادویات کو چھوڑا جاۓ تو وہ مکمل طور پر تندرست ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں کو ابھی انسولین شروع نہیں کروایؑ گیؑ انکا شافی علاج ممکن ہے۔

  14. معدہ کے خاض یوگا ورزش سے نہ صرف معدہ مضبوط ہوتا ہے بلکہ گیس، قبض اور شوگر کی ادویات کم ہو جاتی ہیں۔ اسکے علاوہ ھاتھ کی ہتھیلی میں بھی خاص ایکوپریشر پوایؑنٹ کو دبانے سے لبلبہ مضبوط ہوتا ہے۔ نیز شوگر والوں کے کندھے بھی درد کرتے ہیں انکے لیے بھی یوگا ورزش ہے۔

  15. سونٹھ، خشک جامن، خشک کریلہ اور کُرما بوٹی سب کو ہموزن لے کر پیس لیں۔ صبح شام کھانے سے قبل سادہ پانی سے استعمال کریں۔

    شوگر Diabetes اور اسکا علاج

    Digital BP Monitor

  16. آملہ، میتھی دانہ، نیم ہر ایک ہموزن خشک کر کے پاؤڈر بنا لیں۔ 1 چمچ کھانے کے بعد پانی کے ساتھ لیں۔

  17. 1 کریلہ کو ایک گلاس پانی میں بلنڈ کر کے چھان کر روزانہ پیؑں۔

  18. ٹخمِ سرس، اندرایؑن، گوند کتیرا۔ سب کو ہموزن لے کر پیس لیں۔ اس سے پعض لوگوں کو پاخانہ زرہ پتلا ہوتا ہے۔ مگر اسکی پروا نہ کریں۔ 5 ملی گرام کے 2 کیپسول صبح شام کھالی پیٹ لیں۔ اگر زیادہ ہی پتلا پاخانہ ہو جاۓ تو 1 کیپسول لیں۔

  19.  پہلے مرحلہ میں بڑھی ہویؑ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کریں۔ آبنوس 3 گرام، کشتہ ابرک نصف گرام، حرمل 5 گرام، افستین 4 گرام، اقاقیہ 1 گرام، نمک باجرہ 1 گرام، برگد کا دودھ حسبِ ضرورت۔ سواۓ کشتہ و دودھ کے سب دواؤں کو کوٹ پیس کر سفوف بنا لیں۔ پھر دونوں چیزیں ملا لیں تاکہ چنے برابر گولیاں بن جایں۔ 3 ٹایؑم 1-1 گولی پانی کے ساتھ لیں۔ دوسرے مرحلہ میں شوگر مکمل رفع کرنے کے لیے یہ نسخہ استعمال کریں۔ نمک بدھارا 3 گرام، نمک برہم ڈنڈی 2 گرام، برہمی بوٹی 5 گرام، پنیر مایہ بکرا 1 گرام، تج 5 گرام، تخم حیات 1 گرام، جاوتری 2 گرام، حرمل 5 گرام، جند بید ستر 1 گرام، زعفران نصف گرام، گوند کیکر 1 گرام۔ تمام ادویات کو نہایت باریک پیس چھان کر قدرے پانی ملا کر چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 3 ٹایؑم 1-1 گولی ہمراہ پانی یا  کریم نکلے دودھ کے ساتھ دیں۔ جب شوگر مکمل کنٹرول ہو جاۓ تو تیسرے مرحلہ میں یہ طاقت کے لیے نسخہ استعمال کریں۔ میتھی، درمنہ ترکی، مرزبخوش ہر ایک 5 گرام، زعفران نصف گرام، جرجیر 1 گرام، گل بھنگرا سیاہ 1 گرام۔ تما دوایں پیس کر 2 پہر کھرل کریں۔ پھر شہد خالص کے مدد سے چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 2-2 گولی صبح دوپہر شام دودھ کے لیں۔ (بشکریہ ڈاکٹر شہزادہ ایم اے بٹ)

ایوروید علاج

  1. (1) جامن کی گٹھلی، تخم جنگلی کریلہ، گڑمار بوٹی، تیغال شکر، کشتہ قلعی۔ پہلی چاروں چیزوں کا سفوف بنا لیں۔ بعد میں کشتہ قلعی شامل کر لیں۔ 3 ماشہ ہمراہ عرق درج زیل دیں۔ عرق زیابیطیس: کیکر کے چھلکے، جامن کے چھلکے، گوندی کے چھلکے، برگد-نیم-فالسہ-شہتوت کے چھلکے ہر ایک 2 کلو لے کر ایک بڑے گھڑے میں 41 دن کے لیے بھگو دیں۔ پھر حسب دستور عرق کشید کریں۔ انتہایؑ مجرب ہے۔ (2) گری جامن و آم۔ نمولی نیم و بکایؑن، دانہ الایؑچی، مازو۔ ان سب چیزوں کو ہموزن پیس کر سفوف بنا لیں۔ ڈیڑھ سے 2 ماشہ صبح شام دیں۔ (جڑی بوٹی لقمانی)

شوگر کا روحانی علاج

حدیثِ نبویؐ سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام سلام کرنے بازار جایا کرتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی نظر آنے والی چیزیں مکمل فایؑدہ دے سکتی ہیں۔ ایک ایسا شخس جس کو خدا کی ذات پر کامل یقین ہو کمایؑ حلال کی ہو، گناہِ کبیرہ سے بچا ہو اور فرایضِ خدا و بندہ پورے کرتا ہو اسکو فضول ٹینشن اول تو ہوتی نہیں ہے اور اگر کچھ معاملات میں طبعیت بوجھل ہو بھی جاۓ تو ورحانی اعمال سے اس پر قابو پا لیتا ہے۔ چند ایک روحانی اعمال لکھ دیتا ہوں۔

    • کسی بھی کھانے، پینے یا کام کرنے سے پہلے پڑھ لیں۔ یہ عمل ایسی ایسی روگی بیماریوں سے قدرتی طور پر نجات دلا دیتا ہے جن کو ٹھیک کرتے کرتے ڈاکٹر عاجز آجاتے ہیں۔

    • کہا جاتا ہے دانتوں کو جو کیڑے خراب کرتے ہیں تقریباً وہی کیڑے معدہ کو بھی خراب کرتے ہیں۔ لہزا خدا کے نام سے ہر کام شروع کریں۔

    • سورۃ بنی اسرایؑل پارہ نمبر 15 آیت نمبر 80۔ سات دفعہ صبح اور سات دفعہ شام پڑھیں۔

    • سرسوں کا تیل پر 11 بار سورۃ الناس پڑھیں اور سونے سے قبل اپنے ناخنوں کے اندر لگایں۔ نیز21 میتھرے لیں ہر پر 21 مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھیں اور انکو پھانکیں روزانہ ایک میتھرا کم کرتا جاۓ۔ اس طرح 21 دن میں انشااللہ شوگر ختم ہو جاۓ گی۔ اگر فرق کم پڑے تو دوبارہ شروع کر لیں اسکا نقصان نہیں ہے۔

    • روزانہ غسل کی عادت ڈالیں اگر نہ کر سکیں تو وضو کر کے نماز پڑھیں کیونکہ کیؑ چھوٹے چھوٹے جراثیم گردوغبار اور ماحول سے جسم پر مسلط ہو کر پھوڑے پھنسی اور معمولی خراش کا باعث بن جاتے ہیں۔

    • دردجِ زیل دعا حضرت علی سئ منسوب ہے اس دعا کو نماز اشراق پڑھ کر 11 مرتبہ بڑھیں۔ اول آخر 11-11 مرتبہ درودِشفا پڑھیں۔ اس دعا سے جسم سے ہر قسم کا مرض فوراً رفع ہو جاتا ہے۔ (بشکریہ عبقری)

شوگر Diabetes اور اسکا علاج شوگر Diabetes اور اسکا علاج

احتیاطی تدابیر

  1. میاں بیوی اپنے جنسی تعلقات کا دورانیہ بڑھا لیں۔

  2. شوگر کی وجہ سے ہونے والی دیگر پیچیدگیوں کا مطالعہ کریں۔

  3. غزایؑ چارٹ پر سختی سے عمل کریں اور ایسی غزا کھایں جو قدرتی طور پر انسولین بناۓ۔

  4. باقاعدہ معالج سے اپنے آنکھوں، دانتوں، جلد، کولیسٹرول، بلڈ شوگر وغیرہ کے ٹیسٹ کرواتے رہیں اور اسکی ہسٹری رکھیں۔

  5. مناسب واک، ورزش یا یوگا کریں۔ خوش رہیں۔ نیند زیادہ کریں۔ ایکو پریشر پوایؑنٹ دبایں۔

  6. جو انگریزی ادویات لے رہے وہ دیسی علاج شروع کریں اور جب شوگر کم ہونا شروع ہو تو رفتہ رفتہ ادویات کم کریں۔

  7. خوش حالی، ترقی، آسودگی جو ہیں یہ خوش خوراکی اور بے اعتدالی اور آرام پرستی لاتی ہیں ان سے بچیں۔

  8. ہارٹ اٹیک کبھی کبھی خاموشی سے ہوتا ہے لہزا جب کبھی ایسے علامات پایؑ جایں تو فوراً ہسپتال جانے کی کوشش کریں۔

  9. شدید کھانسی، دمہ، سردرد، تھکاوٹ اور زہنی تناؤ سے اجتناب کریں۔

  10. میٹھی ٹافی ہمیشہ اپنے پاس رکھیں تاکہ شوگر اچانک کم ہونے کے صورت میں کھایؑ جا سکے۔

  11. اپنا وزن قد کے مطابق کریں۔ روزانہ غسل کریں اور جسم کو صاف رکھیں۔

  12. خون میں شوگر کو کنٹرول میں رکھنا ایک آرٹ ہے جس نے سیکھ لیا انشااللہ وہ اس مرض سے نجات پالے گا۔

شوگر میں کون سے وٹامن اور معدنیات ضروری ہیں؟

  • وٹامن A: یہ ضرور لیں کیونکہ شوگر سے متاثرہ افراد کے نظر کی بینایؑ میں اسکا بہت مثبت کردار ہے۔ اسکے علاوہ جسمانی و ہڈیوں کے خلیات کی نشونما، خلوی دیوار کی تعمیر و مرمت کرتا ہے۔

  • وٹامن B: شوگر کے مریضوں میں اعصابی و عضلاتی کمزور ہوتی ہے لہزا وٹامن بی کمپلکس ضرور لیں۔ اسکے علاوہ یہ وٹامن دورانِ خون اور نظامِ ہضم میں بھی معاون ہے۔ اس میں B2 مختلف امراض کے خلاف قوتِ مدافعت دیتا ہے۔ B7 جس کو Biotin بھی کہتے ہیں انسولین کے ساتھ اور اسکے بغیر گلوکوکایؑنیز نامی خامرہ کے ساتھ عمل کر کے شکر کو قابلِ ہضم بناتا ہے۔B3  جس کو Niacin بھی کہتے ہیں کولیسٹرول کم کرنے کے لیے معاون ہے۔ B6 کا بھی بہت مثبت کردار ہے شوگر کی وجہ سے ہونے والے عصبی نظام میں شکست و ریخت کو ختم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شوگر سے متعلقہ دوسری پیچیدگیوں کی کم کرتا ہے۔ B12 کاربوہایؑڈریٹس کے چربی میں منتقل ہونے کے عمل میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ Carnitine نامی کیمیایؑ مادہ خون میں زایؑد چربی کو ختم ہا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے  اور گوشت، دودھ، مرغی، مچھلی میں پایا جاتا ہے۔ کرومیم نامی کیمیایؑ مادہ بھی تقریباً یہی کام گلوکوز کے ساتھ کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میگانیز کی کمی کی وجہ سے بھی شوگر ہو جاتی ہے اور شوگر کے مریضوں میں اسکی کمی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ یہ گلوکوز کو ہضم کرنے میں معاون کردار ادا کرتا ہے۔ میگنیشیم کی کمی بھی ہو جاتی ہے جسکی وجہ سے آنکھوں کے امراض diabetic retinopathy جنم لیتے ہیں۔ اسکے علاوہ اسکی کمی سے انسولین بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور قسم 2 کا باعث بھی بنتی ہے۔

  • وٹامن C: اسکے بغیر چینی ہضم نہیں ہوتی۔ مطلب قدرتی شکر میں وٹامن سی ہوتا ہے جو شکر کو قابلِ ہضم بناتا ہے۔ مگر سفید چینی میں یہ بالکل نہیں ہوتا تو لبلبہ کو انسولین کے زریعے اسکو قابلِ ہضم بنانا پڑتا ہے۔

  • وٹامن D: یہ بھی انسولین سے متعلق ہونے والی بے ضابطگیوں کو کم کرتا ہے۔

  • وٹامن E: یہ وٹامن انسولین کے جملہ افعال کی مدد کرتا ہے جسم نے زہریلے مادے نکالتا ہے اسکی زیادہ مقدار قسم 2 کو ہونے سے بچاتی ہے اور مرض واقع ہونے کے بعد والی پیچیدگیوں کو کم کرتی ہے۔

  • زنک: بعض لوگوں مین زنک کی کمی سے بھی شوگر ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے خاص طور پر قسم 1۔

  • پوٹاشیم انسولین کی اثرپزیری کو بڑھاتا ہے۔

  • انجیر شوگر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔

انسولین کیسے کام کرتی ہے؟

اس عرصہ میں شوگر ہونے کا خدشہ اس لیے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ 45 سال کے بعد جسم میں گلوکوز کو سٹور کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ دراصل انسولین لبلبہ کا ہارمون ہے جو خون میں شکر کو قابلِ ہضم بنا کر توانایؑ دیتی اور جسم میں زخیرہ کرتی ہے۔ انسولین دیگر ہارمونز کے ساتھ مل کر شکر کی کمی بیشی کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔ خوراک میں تین اجزاء ہوتے ہیں نشاستہ و شکر، پروٹین اور چکنایؑاں۔ آپ خود سوچیں کہ ان میں سے ایک بنیادی جزو اگر غایؑب ہو جاۓ تو جسم میں کتنی پیچیدگیاں نمودار ہوتی ہیں۔ انسولین ایک سٹوریج ایجنٹ بھی ہے کیونکہ یہ زایؑد گلوکوز چربی میں تبدیل کر کے سٹور کرتی ہے تاکہ بوقتِ ضرورت کام میں لایؑ جا سکے۔  اسکے برعکس جب ہم روزے سے یا بھوکے ہوتے ہیں تو لبلبہ (کے بیٹا خلیات) انسولین کے بجاۓ گلوکاگون نامی ہارمون بنا کر اسی زایؑد چربی glycogen  اور امایؑنوایسڈ protein سے گلوکوز بناتا ہے تاکہ جسم میں توازن بنا رہے۔ صحتمند حالت میں لبلبہ اسی طرح روٹین کے ساتھ شوگر کے لیول کی نگرانی جاری رکھتا ہے۔ شوگر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اڈرینل گلانڈ بھی آہستہ آہستہ اپنا کام روک دیتا ہے اس کے نتیجے کے طور پر اعصابی نظام nervous sysem)) بھی کمزور ہو جاۓ گا۔ گلاکوجن ہارمون الفا خلیات بناتے ہیں۔ جبکہ انسولین بیٹا خلیات بناتے ہیں۔ یہ دونہ ہارمون لبلبہ کے جزیرہ نما خلیات (islands of Langerhans) میں ہوتے ہیں۔

جیسے عصبی تحریک سے معدہ کے رطوبات پیدا ہوتی ہیں بالکل اسی طرح عصبی تحریک سے لبلبہ کی رطوبات پیدا ہوتی ہیں۔ رطوباتِ لبلبہ تمام ہضمی رطوبت سے زیادہ نظامِ ہضم کو فعال رکھنے میں اپنا قوی کردار ادا کرتی ہے۔

چینی اور شہد کا زیابیطیس سے تعلق

کہتے ہیں کہ آپ گنے کا رس چاۓ جتنا مرضی پی لیں شوگر نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ گنے و چقندر وغیرہ میں گلوکوز کے ساتھ ساتھ وٹامن سی بھی ہوتی ہے جو اور بہت سارے مفید افعال انجام دینے کے علاوہ ہاضمہ کا کام انجام دیتی ہے۔ اس کے نتیجے کے طور پر زیابیطیس نہیں ہوتی جبکہ سفید چینی میں وٹامن سی نہیں ہوتی جو کہ زیابیطیس کا باعث بنتی ہے۔ ایورید کا ماننا ہے کے شوگر کھانے سے شوگر نہیں ہوتی البتہ شوگر ہو جانے کے بعد شوگر نہیں کھانی چاۓ۔ سفید چینی بہت جلد خون میں شامل ہو جاتی ہے اب ایک شخس جو 5 بار چاۓ میں چینی ڈال کر پی رہا ہے اس کو ہضم کرنے کے لیے لبلبہ کو بار بار عمل کرنا پرتا ہے۔ چینی کے مقابلے میں شہد میں بہت سارے وٹامن اور معدنیات ہوتے ہیں۔ وٹامن سی کی موجودگی میں شہد قابلِ ہضم ہو جاتا ہے جبکہ چینی کو خون میں شامل ہونے کے لیے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔

شوگر Diabetes اور اسکا علاج

Touch Thermometer

شوگر اور جگر

شوگر کا مرض صرف لبلبہ کے نقص کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا اس میں دیگرامراض کے سانوی اثر کی وجہ سے بھی ہو جایا کرتا ہے جیسے کہ اعصابی نظام میں بگاڑ،ضعفِ جگروگردہ۔ اسکے علاوہ جگر، دماغ اور لبلبہ کی تکون کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ چونکہ لبلبہ گلوکاگون نامی کامرہ بنا کر گلایکوجن نامی چربی کو اس وقت استعمال کرتا ہے جب شوگر لیول کم ہو جاۓ۔ گلایکوجن جو ہے وہ جگر میں سٹور ہوتا ہے لہزا جگر بھی بنیادی کام کرتا ہے۔ اس لیے افعال جگر میں کہیں بدنظمی پیدا ہوجاۓ تب بھی پیشاب میں شوگر آنے لگتی ہے۔ پھر شوگر کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ تقریباً 2٪ لوگوں آنکھوں سے ہمیشہ کے لیے اندھے ہو جاتے ییں۔ 35-40٪ لوگوں کے گردے فیل ہو جاتے ہیں۔ تقریباً 80٪ لوگوں کو آنکھوں کی کویؑ نہ کویؑ بیماری ہو جاتی ہے۔ نیز شوگر کی وجہ سے نیروپیتھی، جنسی و جسمانی کمزوری اور گینگریین کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔

شوگر اور بلڈ پریشر

اس میں چونکہ چربی تہ در تہ شریانوں میں جمنا شروع ہو جاتی ہے تو نالیاں تنگ ہونے سے قدرتی طور پر خون پر بالکل اسی طرح پریشر بنتا ہے جیسا پانی کے پایؑپ کے آگے انگلی رکھنے پر بنتا ہے۔ لہزا بلڈ پریشر بلند ہو جاتا ہے۔ اسکا علاج یہ ہے کہ چکنایؑ بالکل بند کر کے کھانا زیتون کے تیل میں پکایں اور روز مناسب واک کریں جتنی آپکا جسم برداشت کر سکے۔ واک سے شریانوں میں پھسی رکاوٹ چاۓ کویؑ بھی ہو دور ہو جاۓ گی۔ جو لوگ واک نہیں کر سکتے وہ ہوگا کر لیں۔ اس کے عللاوہ شریانوں میں رطوبات، صفراء، بلغم، کاربن وغیرہ بھی جمع ہو سکتی ہے۔

شوگر مزید کن مسایؑل کو جنم دیتی ہے؟

شوگر کے مریض کو بہت ساری پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ شوگر خون میں گردش کرتی رہتی ہے اور خلیات تک نہیں پہنچتی لہزا خلیات شکر سے محروم رہنے کی وجہ سے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب جسم میں توانایؑ کے حصول کے لیے شکر کی بجاےؑ چربی جلنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے مریض کا جسم گلتا رہتا ہے گیس بد ہضمی، پیٹ درد اور کوما کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ شوگر کا مریض آہستہ آہستہ بوڑھا لگنے لگتا ہے۔ جلد ڈھلک جاتی ہے۔ نظر کمزور ہو جاتی ہے۔ سانس میں دقت، چکر انے، ٹخنے کی سوزش، سینے کا درد، اعضاء کا سن ہونا، ٹانگوں میں سوزش جیسی علامات ظہور پزیر ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ کویؑ بھی اپریشن اس وقت ہو سکتا ہے جب شوگر نارمل ہو۔

شوگر کی زیادتی سے کوما میں چلا جاتا ہے اور کمی سے اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ قوتِ فیصلہ کمزور، سستی تھکاوٹ، جسمانی دردیں، پاؤں میں حس مفقود ہو جاتی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ شوگر اپنے اندر بےشمار پیچیدگیاں سموۓ ہوۓ ہے مگر غزایؑ چارٹ پر سختی ہے عمل درآمد، مناسب روزانہ واک، خوش رہنا، وقت پر شوگر چیک کرتے رہنے سے اسی مرض سے چھٹکارا پانا بھی ممکن ہے۔

آنکھ کے اندر بہت چھوٹے چھوٹے ابھار پیدا ہو جاتے ہیں۔ جو کہ خون کی نالیوں میں پریشر کی وجہ سے اور عضلاتی ضعف کی وجہ سے بنتے ہیں۔ اگر مسلسل جریانِ خون رہے تو نظر میں بہت زیادہ بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور اسکے بعد عصبی ریشوں میں بھی بگاڑ آجاتا ہے۔ جسکی وجہ سے بصری پردہ اپنا فعل درست طور پر انجام نہیں دے پاتا۔ موتیا بند شوگر کے مریضوں کو بہت جلد لاحق ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے آنکھ کے پردے اچانکی دھندلا جاتے ہیں۔ شوگر سے متاثرہ والدین کے کے ہونے والے بچے بھی آنکھوں کی بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں اور ویسے بھی حاملہ کی کبھی کبھی سادہ شوگر(لیکٹوز جو کہ ماں کے دودھ میں ہوتا ہے) ہو جایا کرتی ہے جو حمل کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے۔

شوگر کی مریضہ کے نومولود بچے کی بعداز ولادت 48 گھنٹوں کے اندر اندر ایک پیچیدہ تنفسی مرض لاحق ہو سکتا ہے جسے غشاۓ زجاجیہ Hyaline Membrane کہتے ہیں۔ اگر 50 گھنٹے سی زایؑد بخیروآفیت گزر جایں تو کویؑ پیچیدگی نہیں ہوتی۔

مختصر طور پر شوگر ان بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔ خون کی شریانوں کا تنگ ہونا، دل کی بیماری یا اٹیک، ہایؑ بلڈ پریشر، دماغی سٹروک، کولیسٹرول، گردے فیل ہونا، بینایؑ کا کمزور ہونا اور اندھاپن، ہاتھ پاؤں میں سنسناہت اور بے حسی، پاؤں کی انگلیوں کو کاٹنا، زخموں کا جلد نہ بھرنا، عضوِ تناسل کی عدم استادگی وغیرہ۔

شوگر کی دو اقسام مشہور ہیں

اس مرض میں یا تو لببلہ انسولین صیح طرح نہیں بنا پاتا یا پھر انسولین خلیات میں صیح طرح جزب نہیں ہوتی۔ اسکی تین اقسام ہیں۔ قسم 1 میں لبلبہ یا تو انسولین بنا نہیں پاتا یا پھر کم مقدار میں بناتا ہے اسکی وجہ تاحال نامعلوم ہے اسکا علاج انسولین کے انجکشن ہیں۔ ۔ قسم 2 میں خلیات میں انسولین جزب نہیں ہو پاتی پھر بعد میں اسی وجہ سے انسولین کم بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ہے اور پوری دنیا کے 90٪ لوگوں میں یہی قسم عام ہے۔ اسکی وجہ موٹاپا اور ورزش کی کمی ہے اور اسکا علاج ادویات اور انسولین کے انجیکشن دونوں سے کیا جاتا ہے۔ قسم 3 صرف حاملہ عورت کو ہوتی ہے۔ نوٹ: شکر چربی میں تبدیل ہونے کے لیے انسولین کی محتاج ہوتی ہے اور چربی سے شکر بنانے کے لیے بھی انسولین کی محتاج ہوتی ہے۔ لہزا فربہ افراد میں شوگر کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔

اسکے علاوہ ایک قسم اور ہے جس کو انگریزی میں Maturity onset diabetes of the Young (MODY) کہتے ہیں۔ یہ موروثی طور پر کسی جینز میں تغیر ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسکی آگے 13 اقسام ہیں اور عموماً مریض انسولین کی اضافی مقدار لیے بغیر اس پر قابو پا لیتے ہیں۔ دیگر اقسام میں سٹیرایؑڈ سے ہونے والی شوگر، systic fibrosis diabetes, congenital diabetes وغیرہ شامل ہیں۔

ایک قبل شوگر یعنی Prediabetes یا borderline diabetes بھی ہوتی ہے جس میں شوگر کی مقدار خون میں نارمل سے زیادہ آتی ہے مگر اتنی نہیں ہوتی کے اسکو شوگر کہیں۔ اس کے علاوہ جسم کے خلیات اتنے ڈھیٹ ہو جاتے ہیں جو انسولین کو جذب ہی نہیں کر پاتے۔ آنے والے سالوں میں اگر بد احتیاطی جاری رکھی جاۓ تو یہ قسم 2 بن جاتی ہے۔

شوگر سادہ

شوگر کی ایک قسم Diabetes insipidus بھی ہے جس میں شوگر پیشاب میں خارج نہیں ہوتی مگر روزانہ 10-20 لٹر پیشاب آتا ہے اور پیاس بڑھ جاتی ہے۔ جس کی نتیجے کے طور پر پانی کی کمی یا دورے پڑ سکتے ییں۔ اسکا علاج بھی زیادہ پانی پینے سے کیا جاتا ہے۔ اسکی وجہ ایک ہارمون ویسوپریسن Vasopressin کی کمی ہے جو کہ دماغی پیچوٹری گلینڈ، ھایؑپو تھیلمس یا جینیاتی تبدیلی یا کسی خرابی کی وجہ سے کم بنتا ہے۔ اسکی چار اقسام ہیں۔ پہلی قسم تو اوپر والی ہی ہے جس میں ویسوپریسن کی کمی ہو جاتی ہے۔ دوسری قسم NDI ہے جس میں گردے ویسوپریسن سے تعاون نہیں کرتے۔ تیسری قسم Dipsogenic DI ہے جو کہ دماغی بگاڑ کی وجہ سے پیاس کے غلط سگنلز ملتے ہیں۔ چوتھی قسم gestational  DI ہے جو درورانِ حمل ہو جاتی ہے۔ ہہرحال تمام اقسام خال خال ہی ہوتی ہیں۔  سادہ شوگر زیادہ تر ان مردوں میں پایؑ جاتی ہے جن کو ٹی بی ہو اسکے دیگر اسباب میں دماغی کمزوری، رنج و فکر، سر پر چوٹ، سردی لگنا، ہسٹریا، غزا کی کمی اور آتشک شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دماغ کے چوتھے بطن میں اپک پوایؑنٹ پایا جاتا ہے جو اگر دب جاۓ تو کثرتِ پیشاب کی علامات عود کر آتی ہیں۔ بعض مفکرینِ طب کہتے ہیں کہ سادہ شوگر گردہ کے عروقِ دمویہ کے مرکزِ تحریک کے مفلوج ہو جانے سے ہوتی ہے۔ بعض محقق کہتے ہیں جب گردہ اندرونی طور پر فعلیاتی عمل بوجہ ضعفِ توازن کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا خصوصاً پیشاب بنانے کا عمل۔ اسکی علامات میں پیشاب قلیل وقفوں سے شوگر کے بغیر آتا ہے، پیاس کی شدت، کمزور صحت، کمر درد، قبض، ان بچوں کو بھی ہو جاتا ہے جن کو ماں نے دودھ پلانا بند کر دیا ہو اور وہ لاغر اور سست ہو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار مریض مکمل طورپر صحت یاب بھی ہو جاتا ہے۔

ایک شوگر نخامیہ بھی ہوتی ہے جو غدہ نخامہ ((Pituitary gland میں سوزش یا رسولی کی وجہ سے ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں کلاہ گردہ کی رطوبت زایؑد مقدار میں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی بناء پر خون میں شکر کا لیول بڑھ جاتا ہے جبکہ پیشاب میں شوگر ظاہر نہیں ہوتی۔ شوگر شرکی میں دماغی رسولی، دماغی صدمہ یا چوٹ کی صورت میں دماغ کے ایک خاص حصہ میں تحریک پیدا ہونے کی صورت میں پیشاب میں شکر آنے لگتی ہے۔ شوگر جگری ایسی ادویات جن میں پارہ، سنکھیا، سرمہ، فاسفورس اور نایؑٹریٹ وغیرہ پاۓ جاتے ہیں۔ جو جگر کو نقصان پہنچاتی ہیں کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔ شوگر درقی وہ ہوتی ہے جس میں غدہ درقیہ (Thyroid Gland) کی رطوبت زیادہ پیدا ہو کر ایڈرینالین کی زاید پیداوار کی وجہ سے خون میں شکر آنے لگتی ہے۔ شوگر غدہ فوق الکلیہ (Adrenal Gland) کی زایؑد رطوبت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ بعض انگریزی ادویات کی وجہ سے بھی شوگر ہو جاتی ہے جس کو شوگر میڈیسنل کہتے ہیں۔ شوگر کلوی میں گردے کسی وجہ سے شکر کو علیحدہ نہیں کر پاتے۔ اس کے علاوہ کچھ دھاتیں جیسے کہ لوہے کے مرکبات اگر جسم میں زایؑد مقدار میں داخل ہو جایں تو بدن میں جمع ہو جاتے ہیں بدن میں لبلبہ بھی اکو سٹور کر لیتا ہے جسکی وجہ سے جزایؑر لبلبہ متاثر ہوتے ہیں جو رفتہ رفتہ شوگر کا عارضہ لاحق کر سکتے ہیں۔

بہر حال شوگر کی عام قسم 1 میں چونکہ شوگر انسولین نہ ہونے یا کم ہونے کی وجہ سے ہضم نہیں ہوتی اور خون میں گردش کرتی رہتی ہے جبکہ خلیات میں شوگر نہیں پہنچ پاتی۔ یہی بیماری کی علامت ہے۔ عام حالت میں انسانی خون میں شوگر کا تناسب 41٪ ہوتا ہے اگر یہ تناسب 417 ٪ سے بڑھ جاۓ تو گردے اضافی شوگر خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 15 لاکھ سے 50 لاکھ اموات شوگر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اور پوری دنیا میں صرف 2014 تک 612 ارب ڈالر شوگر پر خرچ کیے گۓ تھے۔

کینسر Cancer اور اسکا علاج

ONE DEVICE 100 TESTS

Comments are Closed