جوڑوں کا درد Arthritis

پھیپھڑوں کا کینسر Lung Cancer

خیروعافیت کی دعا

سماجی جہالت کیا ہوتی ہے جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

جوڑوں کی زیادہ تر بیماریوں کا گہرا تعلق وزن، پریشانی اور غزا کے ساتھ ہے۔ جوڑوں کے درد کے علم کو انگریزی میں Rheumatology کہتے ہیں۔ اس میں اعصاب، تینڈم، لیگمنٹ اور بافتیں کے جملہ مسایؑل اور دردیں شامل ہیں۔ اسکی بہت ساری اقسام ہیں مگر بنیادی طور پر 2 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ھے۔ ایک وہ جو عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وقوع پزیر ہوتی ھے اور دوسری قسم میں زیادہ تر سوزش (Inflammation) سے متعلقہ ہوتے ہیں۔ بہرحال کافی سارے امراض کا علاج قوتِ مدافعت کو بڑھا کر کیا جاتا ہے۔ سب سے عام قسم گنٹھیا (Rheumatiod) اور دوسرا گنٹھیاوی ورم مفاصل (gout) ہیں۔ سب سے شدید اور خطرناک قسم عرق النساء (Sciatica) ہے جو کہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔

ایسی بیماریاں جو صرف ڈپریشن سے ہوتی ہیں جانیے

مفید معلومات

  • ہر 2 میں سے 1 عورت اور ہر 5 میں سے 1 مرد اپنی 50 سال تک کی عمر میں کوؑی نہ کویؑ ہڈی تڑوا بیٹھتے ہیں۔
  • ہماری ہڈیاں نیؑ بنتی رہتی ہیں اور ساتھ ہی پرانی ٹوٹتی رہتی ہیں۔ 60 سال کے بعد نیؑ بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔
  • ہمارے جسم میں 1 کلوگرام کیلشیم ہوتا ہے۔ جسکا 99٪ ہڈیوں میں موجود ہوتا ہے۔
  • افریقی لوگوں کی ہڈیاں ایشیایؑ لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔
  • چقندر ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ پھول گوبھی بھی ہڈیوں کے لیے اچھی ہے۔
  • جوڑوں کی کوؑی بیماری ہو اسکو Arthropathy کہتے ہیں۔
  • 2004 تک صرف امریکہ میں جوڑوں اور ہڈیوں (Musculoskeletal Disorders) کا خرچہ 120 ارب ڈالر تھا۔
  • 10 میں سے 9 افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی کمر درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔
  • وجع المفاصل یعنی جوڑوں کا درد عضلاتی اعصابی مرض ہے۔

 

1. خمدارگردن (Text Neck)

جوڑوں کا درد Arthritis - Text Neck خمدارگردن

آج کل ایک نیا مرض وجود میں آیا ھے جو حضرات موبایؑل فون کا کثرت استعمال کرتے ھیں انکی گردن خم کھانے کی وجہ Text Neck کے عارضے میں مبتلا ھو جاتی ھے اس میں گردن کے مھرے متاثر ھوجاتے ھیں۔ یاد رکھیں کہ گردن کے 7 مھرے ھوتے ھیں۔ گردن کے مھروں کے مسؑلہ کو Cervical Spondylosis کہتے ھیں۔

اسکا بھترین علاج یہ ھے کہ گردن کو ابھی سے سیدھی رکھیں بلکہ ڑیڑھ کی ھڈی کو بھی سیدھا رکھیں تو مسؑلہ اگر بڑھا ھوا نھیں ھے تو اس سے ھی حل ھو جاےؑ گا۔

طبیب کے متعلق چند ضروری ہدایات

مریض کے متعلق چند ضروری ہدایات

2. گنٹھیا- جوڑوں کا درد- وجع المفاصل (Arthralgia)

بدنِ انسانی میں کم و بیش 360 کے قریب جوڑ ھوتے ھیں۔ ان میں سے کسی ایک بڑے یا چھوٹے جوڑ میں مختلف وجوہات کی بنا پر درد ہو سکتا ھے۔ اس کو گنٹھیا کہتے ہیں۔ اگر چھوٹے جوڑوں میں درد ہو تو اسے نقرس کہتے ہیں۔ وجع المفاصل کی 200 سے زيادہ قسميں ہيں۔ دو اہم قسميں تحجّر المفاصل اور گهڻيا نما وجع المفاصل ہيں۔ ديگر قسموں ميں نقرس، آکلہ اورريڻر سنڈروم شامل ہيں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب قدرتی طور پر یورک ایسڈ خارج نہ ہو سکے تو گھنٹیا کا مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

تحجر المفاصل وجع المفاصل کی سب سے عمومی قسم ہے۔ اس ميں کارڻيليج (آپ کی ہڈيوں کے درميان ريشوں کو جوڑنے والی نسيج) ضائع ہونا شروع ہوتا ہے اس کے نتیجہ میں ہڈی کی آپس میں رگڑ سے درد ھوتا رہتا ہے۔ اس کا اثر عام طور پر ہاتهوں، ريڑه، گهڻنوں اور کولهوں پر ہوتا ہے۔

گڻهيا نما وجع المفاصل کو سوزش والا وجع المفاصل بهی کہا جاتا ہے۔ يہ زيادہ شديد ليکن، کم عمومی عارضہ ہے۔ جسم کا نظام مامونيت جوڑوں پر حملہ کرتا اور ان کو ضائع کرديتا ہے، ہڈی اور کارڻيليج کو ریزہ ريزہ کرکے رکھ ديتا ہے۔ اس سے درد اور سوجن ہوتی ہے، اور آپ کے لئے چلنا پهرنا دشوار ہوسکتا ہے۔

اسباب: اخلاط اربعہ میں سے کسی ایک کا غلبہ، خرابی خون، بہت زیادہ چربیلے کھانے، خون میں چربی-یورک ایسڈ-کولیسٹرول-سوڈیم-پوٹاشیم کی زیادتی، موٹاپا، دایؑمی قبض، تادیر بدہضمی، پیچش، ریح، بلغم، زیابیطس، جلد کا متورم ہونا، پڑھاپا، جوڑوں کی حرکت میں بے تہاشا اضافہ اور کسی چوٹ کی وجہ سے۔ ۔ جدید تحقیق کے مطابق میٹابولزم میں خرابی بھی ایک وجہ ھے جو کہ لاکھوں کی تعداد میں خون میں پیدا والے پیراسایؑٹس نیماٹوڈا (Microfilaria in blood) ھیں۔

علامات: جسم کے تمام جوڑ بالخصوص کہنی، ٹخنہ، انگوٹھا، کلایؑ وغیرہ میں ھلکہ یا حرکت سے درد، متاثرہ مقام پر ورم یا سوزش۔

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

پرہیزوغزا: ساری بادی و ٹھنڈی اشیاء سے پرہیز، فولاد، چاول، گوشت کم کر دیں۔ مچھلی، تیتر، بٹیر کا گوشت گرم مصالحہ ڈال کر استعمال کریں۔ منقیٰ، سیب، کلونجی، مونگ کی کچھڑی اور کھجور کھا سکتے ھیں۔ سبز چاۓ پیؑں۔ ہلدی، لونگ، 1200 گرام کیلشیم روزانہ، مچھلی کے تیل والے کیپسول، اومیگا 3 فیٹی ایسڈ اور وٹامن سی زیادہ کھایں۔ یورک ایسڈ سے گردے میں پتھری بھی بن سکتی ہے۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ جو جراثیم دانتوں کو خراب کرتے ہیں وہی جوڑوں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ لہزا اپنے دانتوں کی صفایؑ پر خاص توجہ دیں۔ جوڑوں کی کوؑی بھی بیماری ہو ریح و بادی کا علاج ضرور کریں۔

جوڑوں کا درد Arthritis

Red Light Therapy Muscle Reliever

مفید ٹوٹکے

  1. صبح کے وقت دار چینی کا قھوہ جوڑوں کے درد میں مفید ھے۔

  2. یورک ایسڈ کی زیادتی کی وجہ سے اگر جوڑوں میں درد ھو تو صبح نھار منہ سیب کا سرکہ 1 چمچ 1 گلاس پانی میں ڈال کر لیں۔

  3. 3-4 دن تک روزانہ میٹھا سوڈا خالی پیٹ لیں۔

  4. ھڈیوں کی سب بیماریوں سے بچنے کے لیے کولاجن (پروٹین)، کیلشیم اور وٹامن ڈی ضروری ھے۔ کیونکہ ھڈیوں کی بیماریوں کی وجوھات میں کیلشیم، وٹامن ڈی کی کمی، موروثی، دیگر بیماریوں کع وجوھات، حادثہ یا ھڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ شامل ھیں ۔

  5. صبح نہار منہ  1 چمچ سفوفِ ہلیلہ مرکب (پوست آملہ، پوست یلیلہ، پوست بلیلہ ہر ایک 25 گرام کو کوٹ کر سفوف بنا لیں)، صبح شام معجونِ سورنجاں 1 چاۓ چمچ، قرشی سورنجین کیپسول 2 عدد پانی کے ساتھ لیں۔ کھانے کے بعد جوارش جالینوس نصف چمچ، حبِ مقل خاص 2 عدد پانی کے ساتھ لیں۔ رات کو حیاتین 1 عدد پانی کے ساتھ لیں۔ ثقیل بادہ و مرغن اغزاء سے پرھیز۔ (بشکریہ قرشی)

  6. تخمِ ثبت 1 تولہ پانی میں جوش دے کر گرم گرم پلا کر قے کروایں۔ سورنجاں شریں، عنب الثعب خشک، بیخ بادیان، افتیمون، بسفایؑج نستفی ہر ایک 5 ماشہ۔ گلِ بنفشہ، چرایؑتہ، شاہترہ، بادیان ہر ایک 7 ماشہ۔ عناب 5 دانہ، منقیٰ 9 دانہ۔ رات پانی میں بھگو دیں۔ صبح کو مل چھان کر گلقند 4 تولہ یا ترنجبین 4 تولہ کے ساتھ پلا دیں۔ دسویں روز سناء مکی، گلِ سرخ ہر ایک 7 ماشہ کو بھگو دیں۔ (بشکریہ حازق)

  7. ماہرین کے مطابق ادرک کے علاوہ دارچینی اور ہلدی کا استعمال بھی جوڑوں کی تکلیف کو کم کرنےمیں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے ادرک پاؤڈر کے کیپسول صبح شام کھلایں کا ادرک کی 2 دفعہ چاۓ پیؑں۔

  8. روزانہ 2 گرام ہلدی پانی کے ساتھ لیں۔

  9. جوڑوں کے درد میں چونکہ اعصابی کمزوری واقع ہوتی ہے لہزا اسکے لیے سونٹھ 100 گرام، کالی مرچ 50 گرام، میٹھا سوڈا 50 گرام۔ کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ ہر کھانے کے 30 منٹ بعد 1 چمچ پانی کے ساتھ لیں۔

  10. اجوایؑن خراسانی، گل مدار(آک کے پھول)، سونٹھ، سورنجاں تلخ ہر ایک 25 گرام۔ 300 ملی لٹر تل کا تیل۔ چاروں چیزوں کا سفوف بنا کر تیل میں گرم کریں یہاں تک کہ سفوف جل جاۓ۔ ٹھنڈا کر کے محفوظ کر لیں۔ رات سوتے وقت متاثرہ جوڑوں پر مالش کریں اور ہوا لگنے سے بچایں۔ 7-10 دن میں آرام آجاۓ گا۔

  11. سناء مکی، لاجونتی، سونٹھ، کلونجی ہموزن پیس کر شہد کی مدد سے چنے برابر گولیاں بنالیں۔ 1 گولی صبح اور 1 گولی رات کو پانی کے ساتھ لیں۔

  12. لہسن کی 10 پوتھیاں گراینڈر سے پیس لیں اور پاؤ دود میں گرم کریں۔ اور شہد ڈال کر نیم گرم پیؑں۔ چند دنوں کے استعمال سے کافی افاقہ محسوس کریں گے۔

  13. 250 گرام گوند کتیرہ اور 250 گرام گوند کیکر لیں۔ اب اسکے ایک خوراک اس طرح بنایں۔ 30 گرام گوند کیکر اور 30 گرام گوند کتیرہ لے کر دیسی گھی میں براؤن کر لیں۔ تھنڈا ہونے پر پیس لیں۔ روزانہ صبح شام کھانے کے 1 گھنٹہ بعد 30 گرام یہ سفوف پانی کا دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔

  14. ادرک کا پانی جوڑوں کے درد، سوجن اور سوزش کے علاہ بہت سارے دوسرے امراض میں بھی مفید ہے۔ یہ انٹی اکسیڈنت ہونے کی وجہ سے جسم کی صفایؑ کرتا اور کولیسٹرول اور کینسر سے حفاظت دیتا ہے۔ ادرک کو پانی میں ابال لیں جب ٹھنڈا ہو جاۓ تو لیموں ڈال کر دن میں دو مرتبہ کھانے کے بعدد نوش کریں۔ جوڑوں کے درد کے ساتھ ساتھ فالتو چربی کو بھی زایؑل کرتا ہے۔

  15. مالش کا تیل: مہندی کے پتے 10 تولہ، تلوں کا تیل آدھا کلو، مہندی کے پتوں کو 2 کلو پانی میں جوش دیں جب پانی آدھا رہ جاۓ تو اس میں تلوں کا تیل ڈال کر اس قدر پکایں کہ صرف پانی رہ جاۓ۔ ٹھنڈا کر کے رکھ لیں۔ مالش کے لیے بہت مفید تیل ہے۔

  16. ادرک کی چاۓ روزانہ پیؑں۔ نیز برتن دھونا، خوشبودار مصالحہ سونگھنا، سبز چاۓ، ہلدی، وٹامن سی، لونگ، اومیگا 3، ننگے پاؤں چہل قدمی، گرم مصالحہ کا استعمال، کیلشیم، سن باتھ، مچھلی کے تیل کے کیپسول سے بھی فایؑدہ ہوتا ہے۔

    کینسر Cancer اور اسکا علاج

    ONE DEVICE 100 TESTS

  17. ہلدی بھی پین کلر کا کام کرتی ہے۔ روزانہ 2 گرام ہلدی کھا کر دیکھیں۔

  18. وٹامن سی کی مقدار بڑھایں۔ یہ کولیجن (collagen) جوکہ ہمارے جسم کی وہ پروٹین ہوتی ہے جو جلد اور جوڑوں کی بافتوں میں پایؑ جاتی ہے۔ اسکو بڑھاتا ہے۔ اور یہ جسم میں غیر ضروری مادوں کو ختم بھی کرتا ہے۔ جو لوگ وٹامن سی کی زیادہ مقدار لیتے ہیں ان میں جوڑوں کے درد میں شدت نہیں آتی۔ روزانہ اسکی مناسب مقدار استعمال کریں کیونکہ ہمارا جسم وٹامن سی کا ذخیرہ نہیں کر سکتا۔

  19. شلجم کو پتوں سمیت پکایں کیونکہ ان میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے اور یہ ہڈیوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے عام خوراک میں مشکل سے ضرورت پوری ہوتی ہے۔ دوسری چیزیں جن میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے وہ بند گوبی، اور گاجرہیں۔ جوڑوں کے درد میں اعصاب کمزور ہوتے ہیں لہزا مولی، موسمی آم بھی کھایں۔ وٹامن سی لینے کے لیے آملہ، لیموں، سٹرابری اور ٹماٹر کھایں۔ متاثرہ جوڑوں میں زیتون کے تیل کی مالش کریں اور کھانے میں ڈالیں۔ جوڑوں کے درد کیلئے بھنے ہوئے 2 آلو، ایک ٹماٹر اور تھوڑی سی ادرک روزانہ کھائیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ جوڑوں کا درد جلد ختم ہو جائے گا۔ کسی بھی پھل کو کھانے کے فوراً بعد پانی نہ پئیں۔

  20. جئی سکری بوٹی ایک تولہ‘ بدکڑی بوٹی ایک تولہ‘ تیزمل بوٹی ایک تولہ‘ واہ سوس بوٹی ایک تولہ۔ یہ سب بوٹیاں برابر ایک ایک تولہ لے کر سفوف بنالیں اور ایک پاؤ گائے کا خالص دودھ لے کر ایک مٹی کی ہنڈیا بمعہ ڈھکن چھوٹی ہو‘ یہ سب چیزیں اس ہنڈیا میں ڈالیں اور ڈھکن کسی چیز مٹی وغیرہ سے بند کردیں اور پھر تقریباً چار یا پانچ اُپلے لے کر ان کی آگ جلائیں اور اس آگ پر اس ہنڈیا کو رکھ دیں‘ ہنڈیا کے اردگرد بھی اُپلے رکھیں اور اوپر بھی تاکہ درمیان میں ہنڈیا ہو اوراردگرد آگ ہو۔ جب آگ ٹھنڈی ہوجائے تو ہنڈیا نکال لیں پھر جو دوا ڈھکن کے ساتھ لگی ہوئی ہو گی وہ مکھن کے ساتھ کھانی ہے اور جو نیچے ہوگی وہ سرسوں کے تیل میں ملا کر درد والی جگہ پر مالش کریں۔ (ایک سنیاسی کا ٹوٹکہ)

  21. اگر گھٹنے اور جوڑوں میں درد ہو تو یہ نسخہ استعمال کریں بہت سارے لوگ جو اپریشن کروانے جا رہے تھے ٹھیک ہو گۓ۔  گوند کتیرہ ایک ھٹانک’ گوند ببول (کیکر) ایک پاؤ’ گھی دیسی ایک چاول والا چمچ۔ ترکیب: گوند کو لکڑی کے چھلکوں اور مٹی وغیرہ سے اچھی طرح صاف کرلیں۔ گوند کی گولیوں پر باہر سے ہلکا ہلکا گھی لگائیں تاکہ گرم کرتے وقت یہ برتن سے نہ چپکیں (اس لیے ضروری نہیں کہ سارا چمچہ ہی استعمال ہو کم بھی استعمال ہوسکتا ہے یعنی ضرورت کے درجہ میں) پھر بہت ہی ہلکی آنچ پر گوند گرم کرکے براؤن کرلیں اور ٹھنڈا ہونے پر گرائنڈر میں باریک پیس لیں۔ خوراک صبح شام ایک چمچہ (چاول والا) گرم دودھ یا گرم پانی میں خوب اچھی طرح حل کرکے کھانے کے ایک گھنٹہ بعد لیں دن میں دو بار لیں۔ دو ہفتے کے استعمال سے کافی فرق محسوس ہو گا۔

  22. اعصاب مضبوط ہوں گے تو ہی وہ جوڑوں کو پکڑ کر رکھیں گے ورنہ کمر کے مہرے بھی ہل جاتے ہیں۔ یہ ادویات اعصاب کی طاقت بڑھاتی ہیں۔ میتھی، میدہ لکڑی، کچلہ، حب المنشم، جند بید ستر، اسارون، خرما، جاؤ شیر وغیرہ۔

  23. میدہ سک ایک لکڑی نما چیز ہے جو پنساری سے آسانی سے مل جائے گی۔ میدہ سک ان افراد کیلئے مفید ہے جن کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔ میدہ سک کی لکڑی کو پیس کر رکھ لیں اور پندرہ روز صبح وشام آدھی چمچ دودھ کے نیم گرم کپ کے ساتھ لیں۔ (عبقری)

  24. کلونجی پچاس گرام‘ چھلکا اسپغول پچاس گرام‘ شہد سوگرام‘ کلونجی پیس کر چھلکا اور پاؤڈر کلونجی شہد میں ملائیں۔ کسی ڈبے میں محفوظ رکھیں ایک چمچ ناشتے اور ہر کھانے کے بعد چاہیں تو نہار منہ بھی لے سکتے ہیں۔ فایدے: لاعلاج خوفناک بیماریاں جیسے جوڑوں کا درد، چبھن، دکھن، کڑھن، بے خوابی، ٹینشن، ڈیپریشن، دماغ اکثر ٹوٹا، جسم اکثر کھچا، ٹانگوں میں اینٹھن، کمر جسم، پٹھوں میں کھچاؤ، تناؤ، اعصابی کمزوری، دل کے والو، ازدواجی زندگی میں فایدہ ہوتا ہے۔ (عبقری)

  25. اس میں سب سے بہترین دوا عضلاتی غدی مقوی ہے۔ معجونِ فلاسفہ 6 ماشہ دن میں 4 بار کھلایں۔حب تنکار 1 گولی دن میں 4 بار دیں۔ (بایوکیمک اور نظریہ مفرد اعضاء)

  26. یہ عضلاتی اعصابی مرض ہے۔ اس میں میگنیشیا سلف 6x اور فیرم فاس 6x دونوں ملا کر گرم پانی سے دیں۔ (بایوکیمک اور نظریہ مفرد اعضاء)

  27. زیتون کا تیل، لونگ کا تیل، مال کنگنی کا تیل، ہر ایک ۲۵ گرام، تارپین کا تیل ۵ گرام، لہسن ۱۰ جوےَ، ادرک ۱ ٹکرا۔ سارے تیل مکس کر لیں اور اس میں ادرک اور لہسن کو جلا لیں۔ درد والی جگہ پر مالش کریں۔

 

3۔ عرق النساء- لنگڑی کا درد (Sciatica)

جسمِ انسانی کی سب سے بڑی عصب (Nerve Sciatica) میں مہروں یا ڈسک میں دباؤ کی وجہ سے دباؤ آجاتا ھے تو یہ شدید درد کوہلوں سے نکل کر پنڈلی کے پیچھے تک جاتی محسوس ہوتی ھے۔ اس میں چونکہ مریض لنگڑا کر چلتا ھے اس لیے اسکو لنگڑی کا درد بھی کہتے ہیں۔ ۔ یہ درد بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ کسی بھی دوایؑ سے آرام نہیں آتا۔ یہ دایں اور بایں دونوں ٹانگوں میں ہو سکتا ہے۔ اگر ادویات سے افاقہ نہ آۓ تو اپریشن لازمی ہو جاتا ہے۔ ڈسک اصل میں شاک ابزوربر ہوتی ہیں اور اور جو بھی دباؤ پڑتا ہے تو بدن کو سہارا دیا ہوتا ہے۔ اگر ڈسک سلپ (disc herniation) ہو جاۓ تو بھی عرقِ النساء کا مسؑلہ ہو جاتا ہے۔

علامات: یہ عصبی مرض بہت عام ہو گیا ہے اور زیادہ تر خواتین ہی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مریض ٹانگ کو ڈھیلا رکھنا چاہتا ہے۔ پاﺅں کو گھسیٹ کر چلتا ہے۔ متاثرہ ٹانگ میں اکثر بل (کڑل) پڑ جاتے ہیں اور نسیں کھنچ جاتی ہیں۔ مریض کرسی پر ٹانگ لٹکا کر بیٹھا ہو اور گھٹنے کو دبایا جائے تو مریض کو سخت درد محسوس ہوتا ہے۔ تکلیف کی وجہ سے ایسا انسان نیم پاگل بھی ہوجاتا ہے۔ ٹانگیں سن ہونا، سوؑی کی چبھن، ٹانگوں کے نچلے حصے بےجان ہونے کا احساس وغیرہ۔

جوڑوں کا درد Arthritis - عرق النساء

اسباب: ریڑھ کی ہڈی کے مہروں یا ڈسک میں دباؤ، موٹاپا، بیرونی چوٹ، ریح، شدید دمہ، یورک ایسڈ، متاثرہ جگہ پر ورمِ اعصاب، بڑھاپا، شدید سردی لگنا، گنٹھیا، نشہ آور ادویات کا کثرتِ استعمال۔ سگریٹ نوشی، شراب نوشی، غلط طریقہ سے کام کاج کرنا، عورتوں میں اونچی اہڑھی کے جوتے پہننا، بہرحال مہروں کی وجہ سے زیادہ تر یہ بیماری ہوتی ہے۔ ریڑھ کی ہڈی سے مختلف شاخیں نکلتی ہیں انکو Sciatica کہتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک شاخ کے دب جانے سے بہت شدید تکلیف ہوتی ہے۔ دوسرے پہلو سے دیکھیں تو جن پٹھوں (ligaments) نے مہروں کو قابوکیا ہوتا ہے اگر کسی وجہ سے وہ کمزور ہو جایں۔ تو بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے لہزا پٹھوں یا اعصاب کی مظبوطی بہت معنی رکھتی ہے۔ (دو ہڈیوں کو آپس میں جوڑنے والی بافتوں کو Ligament کہتے ہیں جبکہ پٹھے سے ہڈی کو جوڑنے والی بافتوں کو Tendon کہتے ہیں)

عرق النساء کا مرض عموماً قبض کے سبب زیادہ دیر تک پانی میں بھیگنے‘ نمدار جگہ پر بیٹھنے یا سونے‘ بہت زیادہ بوجھ (وزن) اٹھانے‘ شدید جھٹکا لگنے‘ ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہل جانے‘ اعصابی تناﺅ‘ پریشانی‘ مسلسل ایک ہی کروٹ لیٹنے‘ کئی گھنٹوں تک مسلسل بیٹھے رہنے‘ غلط قدموں سے چلنے اور ایکسیڈنٹ وغیرہ کے باعث ہو سکتا ہے کیونکہ ان تما م صورتوں میں شیاٹیکا نرو میں کھنچاﺅ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مرطوب مقامات پر رہنے والوں میں بھی یہ مرض عام ہے۔ (حکیم طارق محمود)

جوڑوں کا درد Arthritis - عرق النساء- لنگڑی کا درد (Sciatica)

علامات: بول و براز پر کنٹرول نہ ہونا، ایک کا دونوں تانگوں میں سنسناھت والا چبھتا ہوا شدید درد اور اسی درد کی وجہ سے بے ھوشی،تانگ میں کرنٹ سا لگنا، لنگڑا کر چلنا، متاثرہ ٹانگوں کا کمزور ہونا یا دونوں ٹانگوں کی لمبایؑ میں فرق آجانا  ٹانگ کمزور اور بےحس وغیرہ۔ اس میں کھڑا ہوتے وقت، اٹھتے وقت، چلتے وقت مطلب اپنی حالت تبدیل کرتے وقت شیٹک عصب پر دباؤ پڑنے سے درد ہوتا ہے۔

غزا و پرہیز: سویڈن کی ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں نے متواتر مچھلی، تازہ پھل، سبزیاں، گندم، زیتون کا تیل، نٹس، ادرک، لہسن پر مشتمل خوراک کو اپنی عادت بنایا انہیں جوڑوں کی سوجن کا کم سامنہ کرنا پڑا۔ ایک کورین تحقیق کے مطابق خوشبودار مصالحوں کو سونگھنا بھی اس بیماری کی شدت کو کم کرتا ہے۔ سبز چاۓ میں پولی فینول نامی انٹی اکسیڈنٹ سوجن میں اور جسمانی توڑ پھوڑ میں کمی لاتا ہے۔ خوراک میں کیلشیم، وٹامن ڈی، وٹامن سی والی غزاؤں کا زیادہ استعمال کریں۔ پانی زیادہ سے زیادہ پیؑں۔ اور خوراک میں لہسن، ادرک اور ہلدی کو زیادہ شامل کریں کیونکہ یہ چیزیں سوزش کو کم کرتی ہیں اور درد بھی اس سے کم ہوتا ہے۔ چہل قدمی کو اپنا معمول بنا لیں۔ اور پرہیز کریں۔

ایک دو دن آرام کرنے سے تکلیف کم ہوتی ہے مگر زیادہ آرام تکلیف میں اضافہ کر سکتا ہے۔ شروع میں برف کی سکاؑی کسی کپڑے میں رکھ کر 20 منٹ تک کریں۔ کمر کے نچلے حصے میں کنچھاؤ پیدا کرنے والی ورزش سے آپ بہتر محسوس کریں گے۔ چھٹکے سے اٹھنے یا مڑنے سے اجتناب کریں۔ لیٹ کر اٹھنا ہو تو کونہیوں کے بل اٹھیں۔ بیٹھنے کی حالت کو سیدھا رکھیں اسکے لیے ایسی نشت کا انتخاب کریں جو آپکی کمر کے نچلے حصے کے لیے آرام دہ ہو۔چھوٹا تکیہ یا تولیہ کمر کے پیچھے رکھ لیں۔ کوؑی بھاری چیز اٹھانی ہو تو بھی کمر سیدھی رکھیں۔ جم احتیاط کے ساتھ مناسب کریں۔

دیسی علاج

  1. صبح نہار منہ 1 چمچ سفوفِ ہلیلہ مرکب (پوست آملہ، پوست یلیلہ، پوست بلیلہ ہر ایک 25 گرام کو کوٹ کر سفوف بنا لیں)، صبح شام معجونِ سورنجاں 1 چاۓ چمچ، قرشی سورنجین کیپسول 2 عدد پانی کے ساتھ لیں۔ کھانے کے بعد جوارش جالینوس نصف چمچ، حبِ مقل خاص 2 عدد پانی کے ساتھ لیں۔ رات کو حیاتین 1 عدد پانی کے ساتھ لیں۔ ثقیل بادہ و مرغن اغزاء سے پرھیز۔ (بشکریہ قرشی)

  2. بعض ورزشیں ہیں جو مریض کو متواتر انجام دینی ہوتی ہیں۔ اسکے لیے نیچے تصویر دیکھیں۔

  3. تخمِ حرمل 10 گرام، سورنجاں شریں 10 گرام، دونوں کا سفوف بنا لیں اور مناسب مقدار میں گھیگوار کا گودا ڈال کر مکس کر لیں۔ جب گولیاں بننے کے قابل ہو جاۓ تو چنے برابر گولیاں بنا لیں۔ 1 گولی صبح 1 گولی شام نیم گرم پانی کے ساتھ کھانے کے بعد 14 دن تک لیں۔

  4. لہسن یا لونگ کے چند جوۓ زیتون کے تیل میں جلا لیں۔ اور مالش کا تیل بنا لیں۔ 2 مرتبہ دن میں مالش کریں۔

  5. ورزش نمبر 1: جس ٹانگ میں تکلیف ہو وہ ٹانگ کرسی پر بیٹھ کر دوسری ٹانگ کے اوپر رکھیں۔ پھر آپ نے گردن سے نہیں بلکہ پوری کمر سے اگے کو جھکنے کی کوشش کریں جتنا نیچے جا سکتے ہیں جایں اور دس سے پندرہ سیکنڈ کے لیے رکیں۔

  6. ورزش نمبر 2: مریض کو لیٹا لیں۔ اور جو پاؤں چھوٹا ہو گیا ہے اسکو دونوں ہاتھوں سے ایسے پکڑیں کہ ایک ہاتھ پاؤں کی ایڑھی پر اور دوسرا ہاتھ پاؤں کے پنجے کو پکڑے اور ایڑھی کو نیچے جبکہ پنجے کو اوپر دبایں تکہ شیٹیکا کا دباؤ کم ہو جاۓ۔

  7. ورزش نمبر 3: جس ٹانگ یا کولہے میں درد ہے تو الٹا لیٹ کر دوسری ٹانگ کو تھوڑی دیر اٹھا رکھیں۔ یہ کام 2-3 بار کرنے کے بعد اسی ٹانگ کو صرف ایک بار اوپر اٹھایں جس میں درد ہے پھر آخر میں دونوں ٹانگوں کو اٹھایں۔ اگر کسی کی مدد لیں تو کویؑ حرج نہیں ہے۔

  8. اس میں بھی کویؑ دو آراء نہیں ہیں کہ کچھ جراح ماہرِ ہڈی و پٹھہ ہوتے ہیں اور سیکڑوں لوگوں کو افاقہ ہوتا ہے۔ بعض کو تو اپریشن کروانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ ہڈی اور پٹھے کا علم سیکھنے سے بھی آجاتا ہے مگر اس میں بہت مہارت اور تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہزا اسے جراح سے رابطہ کرنے میں کویؑ مضایؑقہ نہیں ہے جن سے بہت سارے لوگ ٹھیک ہو گۓ ہوں۔ ایسے قابل لوگ ھمارے ہاں بھی مل جاتے ہیں۔ انڈیا میں اچاریہ رام گوپال ڈکشت ہے اسکو ہڈی اور پٹھے تھیک کرنے میں ملکہ حاصل ہے آپ ہوٹوب میں تلاش کر سکتے ہیں جبکہ اسکا Whatapp نمبر ۤ00919650611711 ہے۔

  9. عبقری کا کراماتی تیل استعمال کریں۔

  10. علاج اس مرض کا علاج نہایت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔اس مرض کیلئے بہترین نسخہ درج ذیل ہے۔ ہوالشافی اسگندھ‘بکھڑا‘ سنڈھ‘ مٹھا سوڈا‘ سرنجان شیریں‘ ان تمام ادویات کا کو ہم وزن کوٹ پیس لیں۔ استعمال اور ایک چمچ ٹیبل اسپون صبح دوپہر شام ہمراہ تازہ پانی استعمال کریں۔ تین ہفتے مستقل استعمال سے اس مرض کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔ انشاءاللہ پرہیز اور احتیاط عرق النساءکے درد میں جس قدر دوا کی ضرورت ہوتی ہے‘ اسی قدر پرہیز اور احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً٭ مریض کو ٹھنڈک سے ہر ممکن بچاﺅ کی کوشش کرنی چاہیے۔ مرطوب‘ تنگ و تاریک جگہوں پر رہنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مریض کو بیٹھنے اور سونے کے دوران اپنی پوزیشن بدلتے رہنا چاہیے۔٭ مریض کو پانی میں رہنے سے احتیاط برتنی چاہیے۔ مریض کو قبض سے بچنا چاہیے کیوں کہ اس سے شاٹیکا عصب میں کھنچاﺅ پڑ سکتا ہے۔٭مریض کو چاہیے کہ وہ غسل‘ صبح گیارہ بجے کے بعد اور دوپہر‘ تین بجے سے قبل کر لیا کرے اور اس کے بعد ہوا لگنے سے بچنا چاہیے۔ مریض کو وزن نہیں اٹھانا چاہیے اور نہ ہی بہت زیادہ مشقت والا کام کرنا چاہیے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ فرش پر یا کسی سخت جگہ پر ہلکا گدا بچھا کر سوئے۔ بہت زیادہ ذہنی دباﺅ اور ذہنی پریشانی سے اپنے آپ کو بچائے۔ (حکیم طارق محمود چغتایؑ)

  11. ۔شیاٹیکا( عرق النساء) کا طب نبوی ﷺ سے علاج سنن ابن ماجہ کی اس حدیث سے ملتا ہے جو محمد بن سیرینؓ نے حضرت انس بن مالکؓ سے بیان کی تھی۔آپؓ فرماتے ہیں ’’ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ عرق النساء کا علاج جنگلی بکرے کی ران میں ہے۔ران کو مہرا کیا جائے ،پھر اس کی یخنی تین حصہ کردی جائے ۔اس کے بعد تین دن تک یخنی کا استعمال نہار منہ کیا جائے‘ روزانہ نہار منہ ہونا چاہیے‘‘۔

  12. کایؑروپریکٹک تھیراپی میں ماہرین ریڑھ کے ہڈی کو اپنی اصلی جگہ بٹھاتے ہیں۔

 

4۔ گاؤٹ (gout)

عام طور پر اور اکثر ہوجانے والا مرض ہے۔ زیادہ تر وجہ یورک ایسڈ کی زیادتی ہوتی ہے اسکی وجہ سے گردے اس اضافی یورک ایسڈ کو خارج کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ جسکی وجہ سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ جوڑ میں سوزش ہو کر درد ہوتا ھے۔ سوزش کا آغاز عموماً پاؤں کے انگوٹھے، ایڑھی اور کلایؑ شامل ہیں۔ تقریباً 50٪ مریضوں میں پاؤں کے انگوٹھے میں درد شروع ہوتا ہے۔ پرانے زمانے میں یہ شاھوں کا مرض یا امیروں کا مرض کہلاتا تھا۔ جوڑوں کی زیادہ تر بیماریوں کا گہرا تعلق وزن، پریشانی اور غزا کے ساتھ ہے۔

اسباب: گوشت خوری، وٹامن سی، سمندری خوراک، چینی, پالک، دال چنا، پروٹین بڑھانے والی خوراک، موٹاپا وغیرہ۔ اسکے علاوہ ایسے افراد جن میں یوریکیس (uricase) انزایؑم کی ناقص کارکردگی ہو ان میں بھی ہو جاتا ہے۔ یہ انزایؑم یورک ایسڈ کو توڑ کر قابلِ ہضم بناتا ہے۔

غزاوپرہیز: اسباب کے مطابق پرہیز کریں۔ پانی زیادہ پیؑں۔ وزن کم کریں۔ چاۓ، کافی، چینی کا استعمال کم کریں۔ مناسب واک کریں جبکہ جم میں شدید ورزش سے سوزش بڑھ سکتی ہے۔

دیسی علاج

  • سوڈیم بایؑ کاربونیٹ جسے میٹھا سوڈا بھی کہتے ہیں 1 چمچ پانی کے گلاس میں روزانہ نہار منہ 1 ھفتہ استعمال کریں۔

  • سیب کا سرکہ ا چمچ 1 گلاس پانی میں ڈال کر روزانہ نہار منہ 1 ھفتہ استعمال کریں۔

  • کلونجی 200 گرام، تخمِ میتھرا 200 گرام، کالی مرچ 100 گرام اور کالا نمک 100 گرام۔ کوٹ چھان کر رکھ لیں۔ آدھا چمچ پانی کے ساتھ دن ہر کھانے کے بعد۔

جوڑوں کا درد Arthritis

جوڑوں کا درد Arthritis

5– اوسٹیوارتھرایٹس (Osteoarthritis)

یہ مرض اوسٹیوپورس سے قطعی مختلف ہے۔ اس مرض میں عموماً گھٹنے، کولہے، کمر کی ہڈی، پاؤں اور انگلیوں میں سوزش ہو کر درد ہوتا ہے۔ بلڈ ٹیسٹ، جسمانی مشاہدہ، ایکسرے سے تشخیص ہو جاتی ہے۔ اس بیماری کی ایک بڑی وجہ وزن کی زیادتی ہے۔ کیونکہ مسلسل دباؤ کی وجہ سے یہ بیماری اور زیادہ شدید ہو جاتی ہے۔ لہزا وزن کی کمی سے کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ ہڈیوں کی سب سے عام بیماری ہے۔

غزا و پرہیز: میٹھی اشیاء جیسے کہ میٹھایؑ، حلوا، آیؑس کریم، بیکری والی اشیاء، بہت زیادہ نمکین، میدہ، تلی خوراک، اومیگا 6، شراب و تمباکو نوشی، مکؑی کا تیل، سرد و بازی اشیاء دودھ اور کیلے سے پرھیز کریں۔ زیادہ ورزش یا جوڑوں پر دباؤ سے بچیں۔ پہلے سوزش کا علاج کریں۔

علاج

  1. علاج میں سب سے پہلے سوزش ھی دور کی جاۓ۔ اور ساتھ ساتھ متعلقہ ورزش کی جاۓ۔ یوگا بھی فایؑدہ مند ہے۔ خوراک میں لونگ کا استعمال زیادہ کریں۔ اس میں سوجن پر قابو پانے والے مادے یوجینول موجود ہوتے ہیں۔ ہی ایسے پروٹین کو خارج ہونے سے روکتا ہے جو سوجن کو بڑھاتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ انٹی اکسیڈنٹ بھی ہے۔ یہ ہڈیوں کے کمزور ہونے کا عمل سست کر دیتے ہیں۔ اسکا آدھا چمچ روزانہ جوڑوں کے درد میں کمی لاتا ہے۔

  2. اومیگا-3 فیٹی ایسڈ جوڑوں کو راحت پہنچانے کے لیے بہترین خیال کیۓ جاتے ہیں۔ اومیگا-3 اخروٹ، کینولا آیل، تخمِ بالنگا وغیرہ میں عام پایا جاتا ہے۔

  3. اس میں ہڈیاں بھربھری ہو جاتی ہیں اسک بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ جسم میں کیلشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ 50 سال کی عمر کے بعد تمام افراد کو روزانہ 1200 ملی گرام کیلشیم لینی چاۓ۔

  4. مناسب مقدار میں وٹامن ڈی لیں۔ اسکے لیے دودھ اور اس سے بنی اشیاء کھایں۔

  5. مچھلی کے تیل سے بنے کیپسول کھایں۔ یہ درد پیدا کرنے والے انزایؑم کی مقدار کو کم کرتا ہے۔

6- ہڈیوں کا بھربھرا ہونا Osteoporosis

جب ہڈیوں کے اندر والا مادہ (خون اور ہڈیوں کا گودا) پتلا ہو جاتا ہے تو ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ سن یاس کے بعد یہ مرض زیادہ عام ہو جاتا ہے۔ تاہم کوؑی مرد، عورت اور بچہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

وجوھات: کوؑی بھی ہڈی  نیؑ بنتی رہتی ہے اور پرانی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر خارج ہوتی رہتی ہے۔ اس مرض میں یا تو تعمیری خلیۓ کمزور ہو جاتے ہیں یا پھر تخریبی خلیۓ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ سن یاس میں اسٹروجن بند ہونے سے ہڈیوں کی کثافت میں تیزی سے کمی ہوتی ہے۔

غزا و پرھیز: ہڈیوں کی مقدار یعنی بون بنک کو پڑھاپے میں بھی برقرار رکھیں۔ 700ملی گرام سے 1000ملی گرام کیلشیم روزانہ لیں۔ 1 کلوگرام دودھ میں 1000 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے۔ جبکہ ایک ماچس جتنے پنیر میں 350 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے۔ ایک پلیٹ پھلوں والی دہی میں 210 ملی گرام، درمیانہ سایؑز پیاز میں 62 ملی گرام, جبکہ سادہ نان میں حیرت انگیز طور پر 230 ملی گرام تک کیلشیم ہوتا ہے۔ ایک چمچ تِل میں 80 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ تمباکو نوشی، شراب نوشی ترک کر دیں۔

وٹامن ڈی کیلشیم کو جزب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس بہترین زریعہ دھوپ ہے۔ روزانہ 600 یونٹ تک اسکی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ ایک انڈے میں 41 یونٹ, 1 گلاس دودھ میں 326 یونٹ ہوتا ہے۔ اسکا مطلب روزانہ 2 گلاس دودھ ضرور پیؑیں۔

ٹوٹی ہویؑ ہڈی 6 ہفتے سے 8 ہفتے میں مندمل ہو جاتی ہے۔ مگر درد اور دیگر مسایؑل کافی عرصے تک رہ سکتے ہیں۔

Rheumatoid Arthritis

یہ بھی بہت عام بیماری ہے اور لاکھوں افراد اس سے متاثرہ مل جاتے ہیں۔ یہ بیماری دیگر جوڑوں کی بیماریوں کی طرح پٹھوں اور جوڑوں کو متاثر کرتی ہے اور بڑی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ الرجی کی طرح کا مرض ہے۔ یہ آٹوامیون ہوتی ہے جس میں مریض کا نظامِ مدافعت غلطی سے خود اپنے صحتمند خلیوں کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ اس بیماری کا شافعی علاج تو ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے مگر مناسب علاج، احتیاط اور پرھیز سے کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسباب: موروثی (جنیٹک).

پرہیز و غزا: گوشت کو کم سے کم کھایں اور سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ریسرچ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ روزے کی حالت میں اسکی علامات میں کافی افاقہ ہو جاتا ہے۔

علاج

کلونجی پچاس گرام‘ چھلکا اسپغول پچاس گرام‘ شہد سوگرام‘ کلونجی پیس کر چھلکا اور پاؤڈر کلونجی شہد میں ملائیں۔ کسی ڈبے میں محفوظ رکھیں ایک چمچ ناشتے اور ہر کھانے کے بعد چاہیں تو نہار منہ بھی لے سکتے ہیں۔ (عبقری)

 

8۔ ریشہ دار عضلاتی درد (Fibromyalgia)

یہ دراصل جوڑوں کی نہیں بلکہ پٹھوں کی بیماری ہے۔ جو کہ پوری دنیا میں پایؑ جاتی ہے اور بدن کے مختلف 9 جوڑوں پر اثرات دیکھاتی ہے جیسا کہ تصویر سے واضح ہے۔ عورتوں میں یہ بیماری زیادہ عام ہے۔ اسکے اثرات لمبے عرصے تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں اسکے 60 لاکھ کے قریب مریض پاۓ جاتے ہیں۔ یہ بھی عضلاتی ڈھانچی (musculoskeletal) مرض ہے۔

علامات: ٹھکاوٹ، نیند میں خلل، کمزور یاداشت، ٹانگوں میں بے چینی، جوڑوں میں اکڑاؤ، ٹانگوں اور بازؤں میں کمزوری، پیشاب و پاخانہ پر کنٹرول نہ ہونا، مسلسل گردن کندھے پاؤں اور تمام جسم کے پٹھوں میں درد کا احساس وغیرہ

 

اسباب: اصل وجہ اس بیماری کی تاحال معلوم نہیں ہویؑ۔ پھر اسکا کویؑ خاص ٹیسٹ بھی ابھی تک نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پریشانی، تفکرات اور کچھ انفیکشن سے بھی اس بیماری کو تقویت ملتی ہے۔ ہی بھی ایک اندازہ ہی ہے کہ کچھ عوامل کی وجہ سے یہ مرض یا تو ہو سکتا ہے یہ پھر اسکا تعلق اس بیماری سے بنتا ہے۔ تھایؑرایڈ، ضروری خوراکی عناصر، چھوٹی آنت کے خاص جراثیم اور کچھ دوسرے عوامل اس بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں۔ اعصابی کمزوری کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔

علاج

  • اسکا علاج کافی مشکل اور صبرآزما کام ہے۔ اسباب کے مطابق علاج کیا جاسکتا ہے۔ اپنے نیند پوری کریں، مناسب واک یا ورزش کریں اور خوراک کے ساتھ ساتھ اپنے لایؑف سٹایؑل کو تبدیل کریں۔

  • کچھ انگریزی ادویات پین کلرز دی جاتی ہیں۔ اور بعض اوقات ان ادویات کے ساتھ انٹی ڈپریسنٹ بھی دی جاتی ہیں۔

  • عمومی طور پر رمضان میں روزے رکھ کر کافی حد تک ان علامات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ پھر بھی جنکو جوڑوں کا درد ہو تو انکو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کر لینا چاۓ کیونکہ وہ یا تو سٹیرایڈ ادوایات لے رہے ہوتے ہیں یا پھر پین کلرز لے رہے ہوتے ہیں۔ جوکہ معدہ کو خراب کرتی ہیں اور تیزابیت پڑھاتی ہیں۔

ہمارے معاشرے کی سماجی جہالت پر غور کریں

 

9- ایڑھی کا درد

ایڑھی میں ایک چھوٹی سی ہڈی ابھر آتی ہے جسکی وجہ سے سوزش ہو کر درد شروع ہوتا ہے۔ دراصل ہمارے پاؤں میں چھوٹی چھوٹی ہڈیاں اور جوڑ ہوتے ہیں جو کہ کافی مضبوطی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے مختلف اطراف میں حرکت ممکن ہوتی ہے۔ اس مرض کا شکار زیادہ تر موٹے، جنکی پنڈلی کے پٹھے سخت یا چھوٹے ہو جایں ان میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔

جوڑوں کا درد Arthritis

وجوھات: ہیل سپر Heel Spur کی وجہ سے سوزش ہونا، پنڈلی والے پٹھوں میں سوزش و لمبایؑ میں کمی، ایڑھی اور تلے کے درمیانی جگہ Plantar Fascia کی لمبایؑ میں کمی یا کسی وجہ سے سوزش ہونا۔ بہت زیادہ چلنا یا کھیلنا۔ بعض اوقات کسی نامعلوم وجہ سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ بہت لمبے عرصے کے لیے ایڑھی پر دباؤ رہنا۔ عیر متوازن چلنا، سخت محنت کرنا، اونچی ایڑھی والی جوتی کا استعمال، سخت سطح پر جوگنگ کرنا، غیر ہموار جوتے کا استعمال، آرام نہ کرنا، اور بوڑھے لوگ بھی اسکا شکار ہوتے ہیں۔

علاج

سبب کے مطابق طریقہ استعمال کریں۔ پاؤں کو آرام دیں۔ درست جوتا استعمال کریں۔ سخت کوشی سے پرہیز کریں۔  کچھ خاص ورزشیں کریں تفصیل کے لیے یوٹیوب دیکھیں۔

 

10- ٹینڈن کی سوزش Tendinitis

جیسے کی پہلے بتایا جا چکا ہے کہ دو ہڈیوں کو آپس میں جوڑنے والی بافتوں کو Ligament کہتے ہیں جبکہ پٹھے سے ہڈی کو جوڑنے والی بافتوں کو Tendon کہتے ہیں.

علامات: کسی بھی عمر میں کسی کو بھی ہو سکتا ہے مگر نوجوانوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ جوڑوں سے زرا پہلے ٹینڈن والے مقام پر سوزش کی وجہ سے درد ہوتا ہے۔ سوجن بھی ہوتی ہے۔ حرکت کرتے وقت کچھاؤ اور سختی محسوس ہوتی ہے۔ متاثرہ جگہ گرم اور سرخ ہو جاتی ہے۔ یہ مرض کندھے، کونہی، کولہے، گھٹنے اور انگلیوں میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے۔

وجوھات: بعض اوقات اٹھنے بیٹھنے یا لیٹنے کی پوزیشن میں خرابی سے ٹنڈن میں سوزش ہو سکتی ہے۔ کسی ورش یا کھیل کے دوران بھی یہ مرض ہو سکتا ہے۔ کسی ہڈی کے چھوٹا یا بڑا ہونے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ دیگر امراض مثلاً گاؤٹ، جوڑوں کے امراض وغیرہ سے بھی ہو جاتا ہے۔ ٹینڈن وقت کے ساتھ ساتھ کمزور، کم لچکدار اور نازک بھی ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات کیلشیم کی مقدار متاثرہ جگہ بڑھ جانے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

غزا و پرھیز: علاج میں درد کش ادویات دی جانی چاہۓ۔ آرام کیا جاۓ اور خاص ورزشیں کی جایں۔ عموماً متاثرہ عضو کو اٹھا کر اوپر رکھتے ہیں۔ بعض اوقات برف کی ٹکوریں کرتے ہیں۔ دبانے سے بھی سکون ملتا ہے۔ ورزش یا کھلاڑی پہلے اپنے جسم کو گرم کیا کریں اور بہت زیادہ شدید کسرت نہ کریں۔

علاج

سبب کے مطابق کریں۔ Laser کی مدد سے علاج کیا جاتا ہے۔

 

11- کمر درد Back Pain

صرف امریکہ میں سالانہ 50 ارب ڈالر کمر درد میں خرچ ہوتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کے تین حصے ہوتے ہیں جیسا کہ تصویر سے واضح ہے۔ اس میں زیادہ تر لمبر میں تکلیف ہوا کرتی ہے کیونکہ جسم کا زیادہ تر وزن لمبر ہی اٹھاتا ہے۔ ہم اسی حصے کے درد کا زکر کریں گے۔ اسی طرح درد کی بھی چار مدارج ہیں ہلکی، زیادہ، چبھنے والی اور بہت شدید۔ اپاھج ہونے والی وجوھات میں کمر درد سب سے عام ہے۔ مگر کمر درد مستقل بیماری نہیں ہے اور 95٪ امریکی کبھی نہ کبھی اسکا شکار ہوتے ہیں۔ اسکو ریڑھ کی ڈسک کے سلپ ہونے سے یا ریڑھ کی ہڈی میں دباؤ یا خلا سے کوؑی نسبت نہیں ہے۔ ھاں یہ اور بات ہے کہ ڈسک کی وجہ سے کمر درد ہوتی ہے۔

وجوھات: یہ درد پٹھوں، جوڑوں، ہڈیوں اور اعصاب کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دیگر اعضاء (گردے، پتہ، لبلبہ، بنیادی شریان) کے امراض کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ کسی چوٹ، انفیکشن، ہڈیوں کی بھربھراہٹ، حمل، میٹاسٹیٹک کینسر، موٹاپا، کاہلی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔

جوڑوں کا درد Arthritis

علاج: گرم پانی کی ٹکور کریں۔ مالش سے بھی کافی افاقہ ہوتا ہے۔

 

12- ہڈیوں کی موت Osteonecrosis

جب کسی وجہ سے خون کی سپلاؑی کسی ہڈی میں بند ہو جاتی ہے تو اس ہڈی کے ٹشوز مر جاتے ہیں۔ اسکی بظاہر کوؑی علامت نہیں ہوتی۔ آہستہ آہستہ تقریباً وہی علامات ظاہر ہوتی ہیں جو جوڑوں کے درد میں ہوتی ہیں۔ زیادہ تر ران کے جوڑ میں یہ ہوتا ہے۔ اس مرض کی وجوھات میں ہڈی ٹوٹنا، ہڈی کے اپنی جگہ سے پھسلنا dislocation، الکحل، سٹیرایؑڈ ادویات، تیز شعاعوں radiations میں رہنا، کینسر کی ادویات chemotherapy، ایڈز، سیکل سیل بیماری شامل ہیں۔

ایکس رے، ایم آر آیؑ سے شناخت ہو جاتی ہے۔

اسکا علاج سرجری ہے۔

 

چند مفید ٹیکنالوجیز جو آپکو فایؑدہ دے سکتی ہیں

جوڑوں کا درد Arthritis

Revitive Circulation Booster

جوڑوں کا درد Arthritis

Acupressure Mat Sciatica Fibromyalgia Relief

جوڑوں کا درد Arthritis

Conductive socks pain treatment

جوڑوں کا درد Arthritis

iReliev TENS – Muscle Stimulator for Arthritis Pain Strength

جوڑوں کا درد Arthritis

AccuMed – Muscle Stimulator for Arthritis Pain Strength

جوڑوں کا درد Arthritis

Red Light Therapy Muscle Reliever

جوڑوں کا درد Arthritis

AccuRelief Ultimate Foot Circulation with remote

جوڑوں کا درد Arthritis

AnkleAid Foot Fasciitis Healing

جوڑوں کا درد Arthritis

3 Days With a Posture Correction

 

 


ماخوذ

  • National Osteoporosis Society UK
  • Health Line
  • حکیم طارق محمود چغتایؑ
  • ڈان نیوز پاکستان
  • UNESCO
  • وکی پیڈیا wikipedia
  • WebMD

 

Comments are Closed