جلق Masturbation

جلق Masturbation مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں اور جانوروں میں بھی پائی  جانی والی عادت کا نام ہے جس میں کوئی  فرد اپنے ہی جنسی اعضاء سے لذت حاصل کرتا ہے۔ حکیم حضرات اسکو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جبکہ یہ کوئی  موزی مرض نہیں ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق جلق سے کوئی  جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نقصان یا کمزوری نہیں ہوتی بلکہ ہر طرح سے صحت مند عادت ہے۔ یہ دنیا جہاں میں پائی  جانی والی عام جنسی عادت ہے۔ اس عادت میں دوسرا فریق ہو نہ ہو انسانی دخول نہیں ہوتا۔ Auto-eroticism میں خودبخود انتشار اور استادگی ہوتی ہے وہ بھی جلق کے زمرے میں آتا ہے۔ اسکو مشت زنی بھی کہتے ہیں۔

18ویں صدی تک برطانیہ میں اس عادت کو برا سمجھا جاتا تھا اور اسکو روکنے کے لیے مختلف طریقے آزماۓ جاتے تھے۔ اب تو ماڈرن ورلڈ اسکو برا بالکل نہیں سمجھتی بلکہ برطانیہ اور آسٹریلیا میں 28 میؑ قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ابتداء میں شرمندگی ہو سکتی ہے۔

اس میں بہت ساری عادات آجاتی ہیں مثلاً

  • فون پر جنسی گفتگو (Phone Sex)
  • جنسی کھلونا (Sex Toy)
  • جنسی فلمیں (Adult Movies)
  • جنسی باتیں (فحش گوئی)
  • خودپسندی (Self Pleasure)
  • احتلام بھی جلق میں آتا ہے اگرچہ بندہ حواس میں نہیں ہوتا
  • جنسی خیالات (Fantasies)

مشت زنی کے بد اثرات (حکماء کی راۓ)

  • کثرتِ جلق سے عضو کی رگیں کمزور ہونے کی وجہ سے صیح استادگی حاصل نہیں ہوتی۔ جلق کے افراد کسی دوسرے فریق یا بیوی کے عادی نہیں ہوتے لہذا اپنی بیوی کی تسکین نہیں کر سکتے۔ (از حکیم سیف اللہ سیکھو)
  • مشت زنی کے انسانی دل و دماغ اور جسم پر کویؑ منفی اثرات نہیں پڑتے۔ اسے سماجی اور مزہبی برائی  خیال کیا جاتا ہے۔ (Encyclopedia of Men Health)
  • یہ ایک غیر فطری فعل ہے جس کی کثرت سے عضو کی رگوں اور پٹھوں میں خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جالق اسکو غلط فعل سمجھتا ہے۔ (حکیم مرزا صفدر بیگ)
  • گمراہ کرنے والے مطلب پرست حکیم اسے خطرناک مرض سمجھتے ہیں لیکن ماہرین کے نزدیک یہ ایک عام سا فعل ہے۔ اس سے نہ تو جنسی قوت ماند پڑتی ہے اور نہ کوئی اور عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ جب جنسی خواہش ہو تو اسے قدرتی طریقہ ہی تسلیم کیا جانا چاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سنِ بلوغت کے آغاز کے وقت ہی لڑکے اور لڑکی کو مناسب تعلیم دی جاۓ تاکہ وہ خود لذتی جیسی عادات میں نہ پڑیں۔ (جنسی مشورے)
  • خیالی محبوب کو دماغ میں بٹھا کر کثرتِ جلق سے سپرم بکثرت نکل آتے ہیں اور عضاۓ ریؑسہ جلدی کمزور ہو جاتے ہیں۔ (قانون بقاۓ جوانی)
  • ہاتھ کی رگڑ سے عضو تناسل کے رگ و پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں اور کثرت یا تادیر اس فعل سے عضو اور سپرم کمزور پڑ جاتے ہیں۔ (حکیم محمد عبداللہ)
  • اگر اسکو فعلِ بد کہنا ہی ہے تو پھر انسانوں، جانوروں کے ساتھ ساتھ 3 ماہ کے بچے کو بھی مجلوقوں کی صف میں کھڑا کر دیا جاۓ کہ ماہ بچے کو بہلانے کے واسطے بعض اوقات عضو کو سہلاتی ہے۔ (گنجینہ قوتِ باہ)
  • جلق کی عادت پڑ جاۓ تو نہیں جاتی۔ یہ بہت نقصان دہ عادت ہے۔ کثرتِ جلق سے بدہضمی، عضاۓ ریؑسہ کی کمزوری، قبض، شرمیلاپن ہو جاتا ہے۔ (حکیم شمس الدین)
  • جلق کا مریض عطائی  ڈاکٹروں اور حکیموں کے چکر میں پھنس کر اپنی صحت اور جیب دونوں برباد کر لیتا ہے۔ (ہومیو ڈاکٹر علی اصغر چودھری)

غزا و پرہیز

گرم، خشک، بادی، متحرک اشیاء سے پرہیز کروایں۔

علاج

پہلے جلق کے عادت چھڑوایں۔ علامات اور سبب کے حساب سے عمل کریں۔ عضو کی رگوں کے لیے طلاء قیروطی اور عضاۓ ریؑسہ کی تقویت کا سامان کیا جاۓ۔ معدہ اور جگر کی اصلاح کے لیے حسبِ مزاج جوارش جالینوس، جوارش کمونی میں سے کوئی  ایک اور ساتھ میں دوالمسک معتدل دیں۔


ماخوز

  • وکی پیڈیا
  • جنسی امراض اور انکا علاج

Comments are Closed