جگر کا کینسر Liver Cancer

جگر کا کینسر Liver Cancer

Acute-liver-failure

مفید معلومات

  • سب سے زیادہ پھیپھڑوں کے کینسر کی اموات ہوتی ہیں پھر اسکے بعد جگر یا پھر آنتوں کا کینسر سے اموات ہوتی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق Johns Hopkins School of Medicine نے حال ہی میں سایؑنس دانوں نے CancerSEEK خون کے ٹیسٹ کے زریعے کینسر کی 8 اقسام (پھیپھڑے، چھاتی، بڑی آنت، اوری، خوراکی نالی، جگر، لبلبہ اور معدہ) کی تشخیص میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دراصل کینسر یا سرطانی رسولیوں سے بہت قلیل مقدار میں تقلیب شدہ ڈی این اے اور پروٹینز خارج ہوتی ہیں جو خون میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اسکو درست شناخت کرنا واقعی اچھا کارنامہ ہے۔ سرطان کی جس قدر جلد تشخیص ہو جائے، اس کے موثر علاج کے اتنے ہی زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ جگر کا کینسر Liver Cancer زیادہ تر جنوبی پنجاب میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
  • جگر کا کینسر پاکستان میں ہیپا ٹائٹس B اور C کے مریضوں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ ہانگ کانگ کی 10٪ آبادی بی سے متاثرہ ہے۔ یہ پھیپھڑے اور آنت کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز کینسر ہے۔ جگر کے کینسر کا علاج قدرے مشکل ہوتا ہے کیونکہ پتا ہی اس وقت چلتا ہے جب درمیانے یا آخری مرحلہ میں کینسر پہنچ جاتا ہے۔
  • ہمارے جسم میں جگر کا بنیادی کردار ہے۔ یہ گلوکوز کو بناتا اور ذخیرہ کرتا ہے اسکے علاوہ کولیسٹرول، پروٹین اور جربی کو ہضم کرنے کے لیے بایؑل بناتا ہے۔ لیزا ہم کو بیرونی طور پر کولیسٹرول کی چندا ضرورت نہیں ہوتی۔
  • امریکہ اور جاپان کے سالہاسال کی تحقیق کے ثابت ہو چکا ہے کہ تازہ، زرد اور سبز رنگ کی سبزیاں کھانے والوں میں کینسر کا رجحان بہت کم ہوتا ہے۔
  • جگر کے خلۓ بہت سست رفتار سے تقسیم ہوتے ہیں لہزا اس کینسر کا پتا دہر سے چلتا ہے۔ جبکہ خون کے خلۓ بہت جلدی سے مرتے اور پیدا ہوتے ہیں لہزا خون کا سرطان تیزی سے پھیلتا ہے۔
  • جب کویؑ گلٹی دس لاکھ خلیوں پر مشتمل ہوتی ہے تو اسکا وزن 1 گرام کا ہزارواں حصہ ہعنی 1 ملی گرام ہوتا ہے اور یہ چھوٹے موٹے سکین سے نظر بھی نہیں آتی۔ اب یہی گلٹی صرف 10 بار تقسیم ہو جاۓ تو 1 ارب کینسر کے خلیات پر مشتمل ہو جاتی ہے اور اسکا وزن 1 گرام ہو جاتا ہے۔ اب یہ کیمرے کی آنکھ سے نظر بھی آتی ہے اور محسوس بھی کی جا سکتی ہے۔ اسی لیے سرطان کے علاج میں سب سے زیادہ اہمیت مرض کی مدت کو حاصل ہے۔ (بشکریہ حکیم ظارق محمود)

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

وجوہات

یرقان بی، سی، ایفلاٹوکسن، جگر کا سکڑنا، شراب نوشی و تمباکو نوشی کی کثرت، ہیپاٹائٹس بی و سی سے متاثرہ خون و استرا، دانتوں کی صفایؑ والے آلات، ناک اور کان چھدوانے والے آلات، جگر کی دیگر یا پریانی بیماریاں اور بڑھاپا۔ ایک اندازے کے مطابق جگر کے سرطان میں 58 فیصد حصہ ہیپاٹائٹس بی اور 25.3 فیصد حصہ ہیپاٹائٹس سی کا ہے۔ مونگ پھلی، اناج اور مکیؑ گل سڑ کر ایفلاتوکسن نامی زہر پیدا کر سکتی ہیں۔

    • Acrylamide کیمیکل کی وجہ سے کینسر ہوتا ہے اور یہ مادہ ابلے نشاستوں جیسے آلو، اناج، چپس میں ہوتا ہے۔ دراصل Acrylamide آگے glycidamide میں تبدیل ہو جاتا ہے جو کہ ڈی این اے کو تبدیل کر کے کینسر بنا سکتا ہے۔
  • تمباکو نوشی کے دوران بھی Acrylamide بنتا ہے جو کہ خوراک کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ خطرناک ہے۔
  • مضرِ صحت غزایؑ عادات اور معمولات، سٹور کرنے کے غیر محفوظ طریقے، کھانے پکانے کی بے ضابتگیاں، حفظ صحت کے اصولوں سے ناواقفیت، گرم مرطوب آب و ہوا میں جراثیم، پھپھوندی، ہر قسم کے زہریلے مواد کی تولید آگے چل کر جگر کا کینسر بناتے ہین۔ اور اسکی شرح ہندوستان سے بھی زیادہ ہے۔
کینسر Cancer اور اسکا علاج

جگر کا کینسر 2012

علامات

بھوک اور وزن میں کمی، پیٹ کے دایں اوپری حصہ میں درد، پیٹ پھول جانا اور گیس بننا، متلی، قے، ٹھکاوٹ، سستی، آنکھوں اور جلد میں پیلاہٹ، گاڑھا چاۓ جیسا پیشاب، بخار وغیرہ۔ جب کینسر کے ٹشوز اپنا کام کرتے ہیں تو جگر تاکسن (زہریلے مادے) خارج کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اب قوت معدافعت بہت کم ہو جاتی ہے۔ جگر فعل ہو سکتا ہے اور موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ عام ہے کہ ٹیومر کے ٖخلیات پھیپھڑوں اور ہڈیوں میں پھیل جاتے ہیں۔

 

غزا و پریز

سب سے پہلے یرقان بی اور سی کی ویکسین لگوایں۔ کھانے پینے میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔ گلی سڑی آلودہ خوراک نہ کھایں۔ صاف پانی استعمال کریں اور کبھی بھی باہر سے نل کا پانی نہ پیؑیں۔ آلو والے چپس نہ کھایں۔ آرام زیادہ کریں۔ پھل سبزیاں زیادہ کھایں۔ گھر میں کو ئی فرد ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہے تو گھر کے باقی افراد اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ ہیپاٹائٹس بی کی وکسین پہلے لگتی ہے اور کافی بچاتی ہے مگر بعد میں علاج نہیں ہے۔ جبکہ ہیپاٹائٹس سی کی کویؑ ویکسین نہیں ہے مگر علاج موجود ہے۔ لیزا ہر سال باقاعدگی سے اپنا معایؑنہ کروایں۔ جنسی تعلقات محفوظ طریقہ سے انجام دیں۔ وجوہات کے مطابق پرہیز کریں چکنایؑ کم کھایں۔ وزن کم رکھیں اور صحت کی حالت میں جگر کو تندرست رکھنے والی خوراک کھایں۔ مناسب واک اور ورزش شروع کریں۔ کم چکنایؑ والی پروٹین، ملٹی وٹامن اور پودوں سے حاصل شدہ تیلوں کی حوصلہ افزایؑ کریں۔

اسکے علاوہ ہلدی، زیرہ، لہسن، اونٹ کٹارا (Milk Thistle)، جنسنگ، ککروندا (Dandelion), سبز چاۓ، سبز پتوں والی سبزیاں، اوکیڈو، سیب، گرایؑپ فروٹ، گاجر، چقندر، پھول گوبی، بند گوبھی، زیتون کا تیل، لیموں، وغیرہ زیادہ کھایں۔  ایک تو خدا کی زات پر مکمل ایمان اور یقین رکھیں دوسرا غزا کا زیادہ حصہ پھل اور سبزیوں پر مشتمل ہونا چاۓ ان میں بھی سبزیاں بغیر پکاۓ کھانی چایؑیے۔ اسکے ساتھ بغیر چھنے آٹے کی روٹی، کچھ اضافی وٹامن کھانے چایؑیے۔

تشخیص

خون کے ٹیسٹ میں alpha-fetoprotein کی مقدار دیکھی جاتی ہے اگر یہ زیادہ ہو تو معالج دیگر ٹیسٹ کروا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ اوپری علامات اور اسباب کو دیکھیں۔ جب شک ہو تو معالج سے مشورہ کریں۔ وہسے علامات شروع میں واضع نہیں ہوتی کیونکہ جگر خود ہی اپنی مرمت کرتا رہتا ہے۔ اسکے علاوہ پیٹ کا الٹراساونڈ، سی ٹی سکین، انجیوگرام، MRI, Biopsy سے تشخیص کی جاتی ہے۔ (نوٹ: صرف ایکسرے اور سی ٹی سکین کی شعاعیں خطرناک ہوتی ہیں)۔

جگر کا کینسر Liver Cancer

Major-Risk-Factors-for-Liver-Diseases

انگریزی علاج

  1. سرجری کے زریعے۔ جب درست تشخیص ہو جاۓ تو معالج یہ فیصلہ کرتا ہے کہ سرجری کب کی جاۓ۔ اگر ابتدایؑ مرحلے میں ہے تو یہ طریقہ مناسب ہے۔
  2. کینسر کو خون و خوراک پہنچانے والی وریدوں کو ادویات سے مسدود کر دیا جاتا ہے۔ یہ اس وقت تک کامیاب ہے جب تک تیومر کسی ایک حصہ میں ہی ہو۔ اس طریقہ کو TACE کہا جاتا ہے۔
  3. انتہایؑ ارتکاز شدہ الکوحل (95٪) متاثرہ ٹیومر میں براہ راست انجیکشن کے زریعے داخل کی جاتی ہے تاکہ کینسر کے خلیات خشک ہو کر مر جایں۔ یہ طریقہ ان مریضوں کے لیے موزوں ہے جنکا ٹیومر 3سنٹی میٹر سے کم ہے اور تعداد 3 سے کم ہے۔
  4. درجہ حرارت 60 سینٹی گریڈ تک ریڈیو شعاعوں ٹیومر پر ماری جاتی ہیں۔ الٹراسونوگرافی کے زریعے ساتھ ساتھ نگرانی کی جاتی ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جنکا کینسر پہلی اور دوسری سٹیج تک ہے۔
  5. جگر کی پیوندکاری: طریقہ کار 2 اور 3 اگر کارگر ثابت نہیں ہو رہے اور ٹیومر کی جسامن 5 سنٹی میٹر سے کم ہے اور جگر صیح کام نہیں کر رہا تو جگر کی پیوندکاری کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ علاج اس صورت کارگر ہو گا کہ کینسر کے خلیات جسم کے دوسرے حصوں میں سرایت نہیں کر گۓ ہیں۔ ورنہ نیا جگر بھی متاثر ہو جاۓ گا۔
  6. اندرونی شعاع ریزی: ایک نالی (catheter) ڈال کر مختصر فاصلے تک کی تابکار شعاعیں ڈالی جاتی ہیں۔ اسکو SIRT کہا جاتا ہے۔ اس سے لبلبہ، معدہ اور پھیپھڑوں کی سوزش کا خطرہ ہوتا ہے۔
  7. SABR کا طریقہ: اس میں کم تابکار شعاعیں بیرونی ٹیومر پر ماری جاتی ہیں۔ جو مریض SABR کی طاقت ور شعاعیں برداشت نہیں کر سکتے انکے لیے موزوں ہے۔
  8. نہ ہٹاۓ جانے والے ٹیومر میں کیموتھراپ کی خاص ادویات، ہارمونل مرکبات، انٹرفیرون (Interferons ایک خاص قسم کی پروٹین ہوتی ہے جو اس وقت بنتی ہے جب کویؑ وایؑرس، بیکٹیرہا، طفیلیۓ یا ٹیومر سے پیتھوجن بنتے ہیں انکا مقابلہ کرتی ہے) والی ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ مگر انکے ضمنی اثرات بلد فشار خون، معدہ کی تکلیف، تھکاوٹ وغیرہ شامل ہیں۔

 

ایوروید علاج

  1. کمزور جگر کا علاج کریں۔ اگر فیٹی جگر ہے تو اسکا بھی علاج کریں۔ قبض نہ رہے۔ جگر کی مضبوطی کے لیے بھومی آملہ کا کارا پی لیں۔ اسکے علاوہ Wheatgrass کا سفوف، گھیگھوار کا جوس اچھا ہوتا ہے۔ تفصیل دیکھیں
  2. خاص یوگا ورزشیں ہیں جن سے پھیپھڑے کافی حد تک تندرست کۓ جا سکتے ہیں۔ تفصل دیکھۓ, سانس کی ورزشیں دیکھیں
  3. 10 گرام وٹامن سی صبح اور 10 گرام شام کو دیں اگر مریض کی حالت زیادہ خراب ہے جگر تلی بڑھے ہوۓ ہیں تو 10 گرام منہ کے زریعے اور 10 گرام انجیکشن کے زریعے دیں۔ کؑی لوگوں مین اسکا کافی افاقہ ہو چکا ہے۔ افاقے کے بعد بھی روزانہ 10 گرام کھاتے رہنا پڑتا ہے۔
  4. گاجر میں موجود موثر ترین جزو کیروٹین جگر میں پہنچ کر وٹامن اے بناتا ہے اور سرطان کی بعض اقسام کا صفایا کر دیتا ہے۔ وہسے بھی ہماری فضا جتنی الودہ ہو چکی ہے ہم کو چاۓ کہ وٹامن اے اور سی زیادہ کھایں۔ گولیوں کے بجاۓ تازہ غزا سے کمی پوری کریں کیونکہ گولیوں کے کثرت جگر، دماغ اور اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔
  5. Cryosurgery: چین نے ایک ایسا طریقہ علاج دریافت کیا ہے جس میں مایؑع نایؑٹروجن متاثرہ خلیات پر لگا کر انکو بہت سرد کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مر جایں۔ تفصیل دیکھیں۔

 

 

 

 

 

 

 


انتباسات

بی بی سی BBC

 

Comments are Closed