مردانہ جنسی اعضاء کے نقایؑص Male genital disorders

وکی پیڈیا کے مطابق مردانہ جنسی اعضاء کے نقایؑص Male genital disorders کے 22 کے قریب نقایؑص ہیں ان میں سے چند کا احوال پیش کرتے ہیں۔

  • انڈروجن ھارمون کی کمی

  • انزال رک جانا

  • اخراجی نالی میں رکاوٹ Ejaculatory duct obstruction

  • حشفہ کا جھکا ہونا Frenulum breve

  • عضو کے بغیر پیدا ہونا Agenesis

  • عضو کا چھوٹا بڑا ہونا

1- انڈروجن ھارمون کی کمی

اس ھارمون کی کمی سے شہوت بھی کم ہو سکتی ہے۔ جس سے جنسی خواہش اور نارمردی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی کمی سے مزید خصیۓ، قصیب اور پراسٹیٹ گلینڈ چھوٹے رہ سکتے ہیں۔ مردانہ نقش و نگار کم ہو کر زنانہ علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔ دیگر علامات میں تھکاوٹ، گبھراہٹ، سردرد، ہڈیوں کا بھربھرا ہونا، بے خوابی، شریانیں تنگ ہو سکتی ہیں۔ اس ھارمون کے بگاڑ سے جلد پر سرخ دھبے، پھنسیاں، چھہرے پر بالوں کا زیادہ ہونا، بغلوں کی سوجن، گنج پن، بیضہ دانی میں رسولیاں، پراسٹیٹ کینسر اور قبل از وقت بلوغت بھی ہو سکتے ہیں۔

اسباب: دیگر جنسی ھارمون میں بگاڑ، دماغ کے ہایپوتھیلامس اور پچوٹری گلینڈ کی کمزوری۔ تشخیص کے طور پر جنکا ٹیسٹوسٹیرون کا ٹیسٹ خالی پیٹ لیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جاۓ کہ یہ کم تو نہیں ہے۔

علاج کے طور پر ھارمون کی دوا چھوڑ دیں یا تبدیل کریں۔ ایسی غزا کھایں جن سے انڈروجن کی کمی دور ہو سکے۔ معالج کے مشورے کے بغیر انگریزی ادویات نہ لیں۔

 

2- اخراجی نالی میں رکاوٹ

خصیوں اور قضیب کے درمیانی نالی میں رکاوٹ آنے سے انزالی مسایؑل جنم لے لیتے ہیں۔ علامت کے طور پر بہت کم مزی خارج ہوتی ہے اور اس میں سپرم نہیں ہوتے جبکہ ایک صحت مند مرد کی سیمن میں 5-10٪ سپرم ہونے چاۓ۔ اسکے علاوہ کولہوں میں درد ہوتا ہے۔ اسباب میں کہا جاتا ہے کہ کویؑ پتھری آ جانے سے ایسا ہوتا ہے۔ بعض اوقات پراسٹیٹ کے اپریشن Transurethral resection سے بھی ایسا ہو جاتا ہے۔

علاج کے طور پر سرجری کی جاتی ہے یا پھر خاص طرح کی نالی ڈال کر غبارے سے نالی کو کھولا جاتا ہے۔

مردانہ جنسی اعضاء کے نقایؑص Male genital disorders

3- حشفہ کا جھکا ہونا

اس مین حشفہ کے نیچھے کی جلد اسکو نیچے کی طرف جھکا رکھتی ہے جیسا کہ تصویر سے واضع ہے۔ اس سے کویؑ خاض نقص پیدا نہیں ہوتا۔ یہ والی جلد زبان کی نیچے والی جلد سے ملتی جلتی ہے۔ ایک آسان سے سرجری سے کامیابی سے علاج ممکن ہے۔

 

4- خصیوں کی سوزش

اس نقص میں خصیۓ سوض کر موٹے ہو جاتے ہیں اس میں بعض اوقات عضو میں بھی کچھاؤ اور سوجن آجاتی ہے۔ علامت کے طور پر سیمن اور پیشاب میں درد کے ساتھ خون آتا ہے۔ وجوھات میں جنسی امراض اور انفیکشن خاص کر کلامیڈیا و سوزاک شامل ہیں۔ اسکو انگریزی میں Orchitis کہتے ہیں۔ یہ مرض جانوروں میں بھی ہوتا ہے۔ انٹی بایؑوٹک ادویات سے علاج ممکن ہے۔

ایک دوسرا مرض Hemoscrotum ہے جس میں خصیوں کی تھیلی scrotum میں خون جمع ہونے سے پھول جاتے ہیں۔ درد ہوتا ہے۔ یہ مرض ہیموفیلیا کے مریضوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔ سرجری سے علاج کیا جاتا ہے۔

 

مردانہ جنسی اعضاء کے نقایؑص Male genital disorders

5- عضو کا غبارے جیسا ہونا

اس نقص میں عضو کو بیرونی جلدی اسکو غبارے جیسی ساخت دے دیتی ہے۔ دیکھنے میں تھوڑا عجیب لگتا ہے مگر یہ بھی کویؑ باقاعدہ مرض نہیں ہے۔ ایک چھوٹی سی سرجری سے تھیک کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات چھوٹے بچوں میں عضو اندر ہی رہ جانے سے لڑکی لگتا ہے جبکہ بلوغت میں انتشار کی وجہ سے درد ہوتی ہے تو ڈاکٹر معایؑنہ کر کے عضو کو کامیابی سے باہر نکال دیتے ہیں۔

 

عضو کا چھوٹا بڑا ہونا

ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ عضو کو کسی دوا یا ورزش سے بڑا نہیں کیا جا سکتا ہے سواۓ سرجری کے۔ مگر سرجری کے نقصانات زیادہ ہیں۔ اسکو انگریزی میں Phalloplasty کہتے ہیں جس میں عضو کی ساخت میں کچھ تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ پوری دنیا میں اوسطاً لمبایؑ 5 انچ سے تھوڑی زیادہ ہے۔ میڈیکل کی اصطلاح میں 3 انچ سے چھوٹا عضو Micro-penis کہلاتا ہے اور پوری دنیا میں اسکے مردوں کی تعداد محظ 1٪ سے بھی کم ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس سے بڑا عضو والا فرد نہ ہی نامرد سمجھا جانا چاۓ اور نہ ہی یہ سمجھنا کہ وہ بچہ پیدا نہیں کر سکتا۔

 

 

 

 


 

ماخوذ

  • وکی پیڈیا

Comments are Closed