ذَکر کے بارے صیح معلومات Penis Facts

ذَکر کے بارے صیح معلومات Penis Facts

ذَکر کے بارے صیح معلومات

عامر طور خیال کیا جاتا ہے کہ عضو کی لمبائی عورتوں کو پسند ہے اور یہ مردانگی ہے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ پوری دنیا میں اوسط لمبائی  5 انچ سے تھوڑی ہی زیادہ ہے۔ جبکہ 3 انچ والا عضو بھی اولاد پیدا کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق ڈھائی  انچ سے پست قضیب کو ہم بیماری کہہ سکتے ہیں اور اسکا علاج بھی ہے۔ اسکو ٹیکنکی لحاظ سے  Micro-penis  کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں علم کی کمی کی وجہ سے کچھ غلط باتیں عام ہیں جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کہ لمبے مرد اور لمبی ناک والے کا عضو بھی لمبائی میں زیادہ ہو گا۔ امریکہ کے ایک سروے کے مطابق سب سے لمبے عضو والے کا قد اوسط سے کم تھا۔ جبکہ امریکہ میں 50٪ لوگوں کا ذکر 5 انچ سے چھوٹا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے ذَکر کے بارے صیح معلومات Penis Facts پڑھتے رہیں۔

ماہرین کے نزدیک جو فرج (vagina) میں ڈاخل ہو جاۓ وہ نارمل ہے۔ اگر سپرم کو چمچ کے زریعے بھی فرج میں داخل کر دیا جاۓ تو بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ مرد یہ سمجھتے ہیں کہ عورتیں لمبے ذکر کو پسند کرتی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورتیں اس بارے کم ہی سوچتی ہیں۔ بہت کم عورتیں لمبے زکر کو پسند کرتی ہیں۔ ایک ریسرچر (Hite) کی  رپورٹ کے مطابق اکثر عورتیں چھوٹے زکر کو پسند کرتی ہیں کیونکہ لمبا ذکر رحم کے منہ (سرویکس) پر تکلیف دیتا ہے۔ Hite مزید کہتا ہے کہ بہت سخت عضو اور زوردار چھٹکے عورتوں کو پسند نہیں ہوتے۔ جبکہ عمر بڑھنے سے تناؤ میں کمی آ جاتی ہے۔

بیوی کی تسلی کے لیے لمبائی نہیں بلکہ سختی زیادہ ضروری ہے۔ اکثر لمبا ذکر جھک جاتا ہے جبکہ چھوٹا ذکر تناؤ میں اچھا ہوتا ہے۔ سختی قایؑم کرنے کی بہت ساری دیسی اشیاء موجود ہیں جبکہ لمبا کرنے کے لیے صرف سرجری کی جاتی ہے۔ اسکی تفصیل دیکھیں۔

دیکھۓ عضو تناسل کی بیماریاں

دیکھۓ عضو تناسل کے نقایؑص

یاد رکھیں رحم کے منہ (سرویکس) کی لمبائی اوسطاً 6 انچ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایسے بھی بہت سارے واقعات ہیں کہ لمبے ذکر والے شوہر کی بیوی چھوڑ کر چلی جاتی ہیں کہ انکو تکلیف ہوتی ہے۔ اسکے علاج کے لیے ایسا طریقہ مباشرت اختیار کیا جا سکتا ہے کہ دخول زیادہ گہرا نہ ہو۔

کم علمی اور غربت

ہمارے معاشرے میں غربت سے زیادہ جہالت ہے۔ پروفیسر ارشد جاوید کے پاس ایک 6 فٹ کا نوجوان آیا اسکا ذکر ڈھائی انچ سے چھوٹا تھا اسکی محض وجہ یہ تھی کہ والدین نے ڈاکٹر کے پاس جانے کی زحمت ہی نہیں کی جسکی وجہ سے 7 سال کے بعد اسکا ذکر اپریشن سے باہر نکالنا پڑا جبکہ اسکو ہارمون کی ضرورت بھی تھی جو اسکو نہیں دیے گۓ۔ یاد رکھیں بچپن میں ہی کسی ماہر بول و ہارمون سے علاج کروالینا چاۓ۔

70٪ عورتیں دخول سے مطمین نہیں ہوتی

جب تک بظر clitoris کو نہ چھیڑا جاۓ 70٪ عورتوں کا انزال ہی نہں ہوتا۔ عورت انزال کے معاملے میں مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ مرد گرم مزاج ہونے کی وجہ سے جلد اخراج کرتا ہے جو نظر آتا ہے جبکہ عورت کا انزال نظر نہیں آتا۔

جڑ سے پتلا یا ٹیڑھا ہونا

پروفیشر ارشد جاوید کے مطابق ایک 24 سالہ نوجوان مجید انکے کلینک آیا اور شکایت کی کہ اسکا قضیب پتلا اور جھکا ہوا ہے۔ ذکر کا جڑ سے پتلا ہونا اور ٹیڑھا ہونا کوئی  مرض ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جب ایک صحت مند انسان کو تناؤ حاصل ہوتا ہے تو حشفہ آگے سے موٹا ہو جاتا ہے جبکہ جڑ سے پتلا لگتا ہے۔ اور اگر سایؑڈ کو جھکا ہوا ہے تو اور زیادہ لطف والی بات ہے کہ اندام نہانی کو رگڑ کر تحریک زیادہ دے گا۔ البتہ ایستادگی کم ہے تو غذا و ادویات و طلاجات سے شافی علاج ممکن ہے۔ جبکہ اسلام میں زیر ناف بالوں کو موندنے کا حکم ہے۔ 84٪ لوگوں کا ذکر بایؑں جانب جھکا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی اگلیوں کو دیکھیں وہ بھی پینسل کی طرح سیدھی نہیں ہوتی۔ تاہم اگر 45 درجے سے زیادہ ٹیڑھا ہے تو یہ بیماری peyronie’s disease کہلاتی ہے جسکی وجہ مشت زنی نہیں جبکہ جدید سایؑنس ابھی بھی اسکی وجہ معلوم نہیں کر سکی۔ xiaflex نامی انجیکشن ذکر میں لگا کر علاج کیا جاتا ہے۔ نہ ہی ابھری رگیں مردانہ کمزوری کی علامت ہیں بلکہ یہ اگلے فریق کو لطف دیتی ہیں۔

گرمی خصیوں کے لیے نقصان دہ

یاد رکھیں کہ گرمی خصیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ سپرم کی تشکیل خصیوں میں ہوتی ہے۔ جسم کے ہر عضو کا اپنا درجہ حرارت ہوتا ہے اسی طرح خصیوں کا درجہ حرارت تھوڑا کم ہوتا ہے۔ اسی لیے بیکری مزدور اور ٹرک ڈرایؑور کے نطفے کم ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جنکے نطفے کم ہوتے ہیں انکے ھاں بیٹیوں کی پیدایش زیادہ ہوتی ہے۔ کمپوٹر پر زیادہ کام کرنے والوں کے ہاں بھی بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں جبکہ سایؑنس اسکو نہیں مانتی۔ بہرحال اپنے خصیوں کو بدن کے درجہ حرارت سے ٹھنڈا رکھیں۔ اسکا سب سے اچھا طریقہ استنجا کرنا ہے۔

اسکے علاوہ جن بچوں کے خصیۓ پیٹ کے اندر ہی رہ جایؑں تو انکا 3 سال کے اندر اندر اپریشن کروا لینا چاۓ ورنہ بچہ پیدا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک خصیۓ سے بھی بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔

سپرم کا پتلا گاڑھا ہونا

عضو کی جسامت کے بعد نوجوان سب سے زیادہ سپرم کے پتلا ہونے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں۔ نیم حکیم اسکو بھی مرض بنا کر ڈراتے اور پیسے بٹورتے ہیں۔ خصیۓ دو کام کرتے ہیں ایک ٹیسٹوسٹران ہارمون بناتے ہیں جو مردانہ صلاحیتیں پیدا کرتا ہے۔ دوسرا کام سپرم بنانا  ہے جو نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ ایک دفعہ کے اخراج میں 3۔5 ملی لیٹر سیمن خارج ہوتا ہے جس میں 40 کروڑ سے 1ارب سے زایؑد سپرم خارج ہوتے ہیں۔ اسکے برعکس عورتیں پوری زندگی میں 300 سے 400 بیضے خارج کرتی ہیں۔ لہذا سپرم کا پتلا یا موٹا ہونا کچھ ضروری نہیں ہے اور نہ اس سے سرور میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے۔ البتہ اگر اخراج رحم کے منہ کے پاس ہو تو بیٹا ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ بیٹے والے کروموسوم زیادہ حرکت پزیر ہوتے ہیں مگر تادیر بیٹی والے رہتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں سیمن پیشاب اور پاخانے کی طرح ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ اس میں پروٹین اور شوگر ہوتی ہے جو کہ سپرم کی خوراک ہوتی ہے۔ یہ بھی جہالت ہے کہ 100 قطرے گھی کے 1 قطرہ خون کا اور 100 قطرے خون کے ایک قطرہ منی کا۔ اگر کسی نے خون کی بوتل عطیہ دی ہو تو وہ عام روٹی سے بھی خون کی کمی پوری کر لیتا ہے۔ لہذا یہ محض خام خیالی اور جہلاء والا قول ہے۔ اگر یہ سچ ہوتا تو ایک بار کے انزال سے 500 ملی لیڑ خون نکل جاتا جو کہ ایک بوتل خون کے برابر ہے۔ قرآن نے اسے غلیظ کہا ہے۔ جتنی تھوک بنانے میں طاقت صرف ہوتی ہے اتنی ہی منی بنانے میں لگتی ہے۔ (از پروفیسر ارشد جاوید)

سپرم کم سے کم 5 منٹ اور زیادہ سے زیادہ 3 دن میں بیضہ کو بارآور کر سکتے ہیں۔ کیونکہ 3 دن سے زیادہ فلوپین ٹیوبس میں رہ نہیں سکتے۔ حمل قرار پانے کے لیۓ بیضہ کو بھی بیضہ دانی سے نکل کر ٹیوب میں آنا پڑتا ہے اور اس عمل میں بھی زیادہ سے زیادہ 7 دن تک لگ سکتے ہیں مگر عموماً جلد بیضہ آ کر ٹیوب میں چپک جاتا ہے۔


ماخوذ

  • رہنماۓ جوانی از پروفیسر ارشد جاوید
  • وکی پیڈیا wikipedia
  • livescience
  • cleveland clinic

Comments are Closed