جنسی مایوسی Sexual Frustration

جنسی مایوسی Sexual Frustration

جس معاشرے میں وقت پر شادی نہیں ہوتی وہاں جنسی مایوسی Sexual Frustration عام ہو جاتی ہے اس سے درجِ ذیل جنسی رویے جنم لیتے ہیں جن کو جنسی بے راہ روی  اور انگریزی میں Sexual Perversions کہتے ہیں۔ ان میں سے اکثر میں دخول نہیں ہوتا یعنی Non-penetrative Sex یا Dry Sex. اسکے علاوہ دیکھیں سماجی جہالت۔

1- اشیاء پرستی (Fetishism)

اس جنسی رویے میں فرد جنس مخالف کی بے جان اشیاء مثلاً انڈرویؑر، بریزیر، رومال، جوتے، کپڑے وغیرہ سے جنسی اشتعال اور تسکین حاصل کرتے ہیں۔ مردوں میں یہ رویہ  ذیادہ تر دیکھا جاتا ہے۔ جاپان میں بھی یہ لت ہے۔ بعض لوگ یہ اشیاء اپنے اعضاۓ تناسل پر رگڑ کر انزال اور آرگیزم حاصل کر لیتے ہیں۔

2۔ مس پرستی (Frotteurism)

اس جنسی رویے میں جنس مخالف کو چھونا شامل ہے۔ یہ عمل عموماً رش والی جگہوں مثلاً بس، فٹ پاتھ، تنگ بازار، اڈوں اور اسٹیشن پر دیکھا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے بازورں میں جانے سے منع کیا ہے۔

3- دید پرستی (Voyeurism)

بہت سے لوگ چھپ کر دوسروں کو ننگا دیکھ کر جنسی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ یہ کسی رسالے یا ٹی وی کو دیکھ کر بھی کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں کو کپڑے بدلتے نہاتے اور مباشرت کرتے دیکھ کر بھی آرگیزم حاصل کر لیتے ہیں۔ اسکے لیے دور بین اور کیمرے کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر بھی بعض خاوند اپنی بیوی دوسرے کے حوالے کر دیتے تھے۔ اور بعض عورتیں بھی ایسا کرتی تھی۔ جاپان میں اسکو پف پف کہتے ہیں۔

4- جنس مخالف کے کپڑے پہننا (Transvetism)

اس بے راہ روی میں فرد جنس مخالف کے کپڑے پہن کر جنسی سکون حاصل کرتا ہے۔ یہ ہم جنس پرستوں میں زیادہ عام ہے۔ بعض مرد حضرات عورتوں کی طرح میک اپ بھی کرتے ہیں۔ امریکہ میں ایک 65 سالہ فرد شام کو اپنی بیوی کے کپڑے پہنتا تھا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایسے مرد پر لعنت فرمائی جو عورت کی پوشاک پہنے اور ایسی عورت پر لعنت فرمائی جو مرد کا لباس پہنے۔ (ابوداؤد)

5- جانور پرستی (Bestiality)

دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو جانوروں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتے ہیں۔ اس میں مردانہ بے وفائی زیادہ غالب ہو سکتی ہے کیونکہ جن مغربی عورتوں نے پالتو کتے پالے ہیں وہ وفادار بھی ہوتے ہیں اور ان سے بھی جنسی تسکین حاصل کی جاتی ہے۔ ہمارے گاؤں میں گدی، گاۓ، بکری وغیرہ سے بھی یہی کام لیا جاتا ہے۔ حضوراکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس کسی کو تو پاؤ کہ وہ جانور سے مباشرت کر رہا ہو تو اسکو جان سے مار دو اور اس جانور کو بھی ہلاک کر دو۔ (ترمذی)

6- نمایؑش پرستی (Exhibitionism)

سویڈن اور ڈنمارک میں راقم نے خود دیکھا ہے کہ ایک خاص دن میں لوگ اپنے ننگے جسم پر نقش و نگار بنا کر بازورں میں گھومتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے جسم کو عریاں کر کے فخر محسوس کرتے ہیں اور لوگ انکی تصاویر بناتے ہیں۔

7- بڑی عمر کے لوگوں کو پسند کرنا (Gerontophilia)

کچھ لوگوں کے مختلف خواب ہوتے ہیں جنکو fantasy کہتے ہیں کوئی  بڑی عمر کے مرد یا عورتیں پسند کرتا ہے۔ اس صورت میں 30 سال کا نوجوان 40 یا 50 سال کی عورت سے شادی کر لیتا ہے۔ راقم ایسی ایک شادی ڈنمارک میں خود دیکھ چکا ہے۔ یہ تو ہمارے ہاں عام ہے کہ ایک 25 سال کی ماڈل نے 50 یا 60 سالہ بزنس مین سے شادی کر لی۔

8- بچہ پرستی

بعض لوگ چھوٹے بچوں جنکی عمر 13 سال تک ہوتی ہے ان سے جنسی تسکین حاصل کرتے ہیں لاہور کا جاوید اقبال اس کی مشہور مثال ہے۔ ہمارے ہاں نوکرانیاں مالکوں کے بچوں سے جنسی تسکین حاصل کرتی ہیں۔یا پھر بڑے مالک چھوٹی نوکرانوں سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ چھوتی عمر کے مجبور بچے جو دوکانوں اور ورکشاپوں پر مزوری کرتے ہیں انکی زندگی زیادہ اجیرن ہے۔

10- ایذا پرستی

گجرات کے ایک ماہر نفسیات کے پاس ایک خاوند آیا جسکی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔ جنسی لحاظ سے وہ نارمل تھا اور اسکی بیوی بہت خوبصورت تھی مگر وہ چاہتی تھی کہ مباشرت کے دوران اس پر جنسی تشدد کیا جاۓ مگر وہ نوجوان ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے اسکی بیوی مباشرت کے دوران جنسی تسکین حاصل نہ کر سکی۔

اس میں اگر ایذا خود کو دیں تو اسے ایزا طلبی (Masochism) کہتے ہیں اور اگر ایذا فریقِ ثانی کو دیا جاۓ تو اسے ایزا کوشی (Sadism) کہتے ہیں۔ اسی کی ایک قسم Erotic spanking ہے جس میں دوسرے فریق (زیادہ تر عورت) کے چوتڑوں پر چھڑی یا کوڑے سے مارا جاتا ہے۔

11- ہم جنس پرستی (Homosexuality)

یہ بھی بہت قبح اور عام جنسی رویہ ہے جس میں بعض مردوں اور عورتوں کو ہم جنس سے رغبت ملتی ہے۔ یہ  عادت  بچپن سے لگ جاتی ہے۔ لوگ لڑکی سے زنا کو گناہ سمجھتے ہیں جبکہ لڑکے کے ساتھ  جنسی فعل کو جایؑز سمجھتے ہیں یا کم از کم اسکو گناہ نہیں سمجھتے۔ امریکہ کے محقق Kinsey کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں 50٪ مرد پوری زندگی میں کبھی نہ کبھی اس عادت سے گزرے ہیں اور ابھی بھی 2٪ سے 10٪ ہم جنس پرست ہیں۔ جبکہ 28٪ عورتیں جنس پرست ہیں۔ اس سے بہت ساری لاعلاج بیماریاں امریکہ میں سب سے زیادہ ہیں۔ پروفیسر ارشد جاوید کے مطابق بڑے بڑے فاتح اور عظیم فلاسفر مثلاً سکندر، افلاطون، سقراط وغیرہ اس عادتِ بد کا شکار تھے۔

12- مشت زنی (Masturbation)

یہ بھی ایک جنسی رویہ ہے جو مردوں اور عورتوں میں پایا جاتا ہے۔ اگر عورت اپنے ہی جسم سے لزت حاصل کرے تو اسے انگریزی میں Autocunnilingus کہتے ہیں۔

14- دیگر جنسی رویے

  • اس جنسی رویے میں کسی دوسرے فریق غالباً عورت کو پیشاب کرتے دیکھنا یا سوچنا تسکین کا باعث بنتا ہے۔ اسکو انگریزی میں urophilia کہتے ہیں۔اس میں بعض اوقات مرد یا عورت دوسرے فریق کے اوپر پیشاب کرتا ہے۔ یاد رکھیں پیشاب اور پاخانہ منی سے زیادہ غلیظ ہے۔ یہ بھی نمائش پرستی کی ایک قسم ہے۔
  • ایک اور جنسی رویہ ہے جس میں عضو کے ساتھ دوسرے فریق (چاہے مرد ہو یا عورت) کے منہ پر مارنا شامل ہے۔ اسکو turkey  slap کہتے ہیں۔ اس سے جنسی تسکین، ندامت، تزلیل کرنا مقصد ہوتا ہے۔
  • ایک ڈچ ٹرم Swaffelen جس میں کسی فرد کے آلہ تناسل پر کوئی چیز یا اپنا ہی جسم مارنا تاکہ اسکو ایذا یا مذاق بنایا جاۓ۔
  • اگر فریقِ ثانی مرد کے خصیے کو منہ میں لے یا چوسے تو اسکو انگریزی میں Teabagging کہتے ہیں۔ یہ بھی اورل سیکس کی ایک قسم ہے۔
  • جلدی جلدی سے پکڑ کر سیکس کا فعل انجام دینا اسکو Quickie کہتے ہیں۔ اس میں چھیڑ خانی سے اجتناب کیا جاتا ہے۔
  • اگر کوئی عورت مصنوعی عضو سے مرد کے ساتھ مقعد میں جنسی فعل کرے تو اسے Pegging کہتے ہیں۔
  • اگر مرد انزال عورت کے جسم، چھاتی، گردن یا منہ کے اوپر کرتا ہے تو اسے Pearl Necklace کہتے ہیں۔
  • ایسا جنسی فعل جس میں دخول نہ ہو باقی سارا عمل کیا جاے اسکو Outercourse  کہتے ہیں کیونکہ دخول کو Intercourse کہتے ہیں۔
  • اگر مرد عضو کو چھاتیوں کے درمیان میں رگڑے تو اسے Mammary Intercourse کہتے ہیں۔
  • اشتہائی  مالش (Erotic Massage) میں جسم کے جنسی اعضاء کی مالش کی جاتی ہے تاکہ کچھ عضو کو تحریک دی جا سکے اگر کوئی مسؑلہ ہے تو پھر تو یہ ٹھیک ہے ورنہ ٹھیک نہیں۔
  • اگر فریقِ ثانی مرد کے قضیب کو پاؤں لگاۓ تو اس سے بھی دونوں فریقین کو ایک خاص جنسی تحریک و تسکین ملتی ہے۔
  • اگر مرد عورت یا دوسرے مرد کی رانوں میں عضو کو رگڑے تو دونوں فریقین کو تسکین ملتی ہے اور عورت دخول سے بچ جاتی ہے۔ اسکو انگریزی میں Intercrural  sex کہتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق پاکستان، چین، بھارت، بنگلہ دیش کی 25٪ عورتوں میں انزال orgasm نہیں ہوتا اسکی وجہ یہ ہے کہ انکو اس بارے پتہ ہی نہیں ہوتا۔
  • بغیر شادی کے جنسی فعل سرانجام دینا بھی ایک غلط رویہ ہے اسے Fornication کہتے ہیں۔
  • ایک اور جنسی رویے میں بہت ساری عورتیں ایک مرد کو یا پھر بہت سرے مرد ایک عورت کو جنسی تسکین دیتے ہیں۔ اسکو  Gang Bang کہتے ہیں۔
  • Hickey میں دوسرے فریق کی گردن پر چومتے ہوۓ کاٹتے ہیں۔ اسکو Love Bite بھی کہتے ہیں۔
  • جب بہت سارے مرد ایک موٹی عورت کے ساتھ جنسی تعلق قایؑم کریں تو اسے Hogging کہتے ہیں۔
  • اگر خاندان کے لوگ ہی آپس میں جنسی تعلق قایؑم کریں تو اسے Incest سیکس کہتے ہیں۔
  • جنسی تحریک سے عورت کے انزال میں مدد کرنے کو Kunyaza کہتے ہیں اور مشرقی افریقہ میں یہ دیکھا جا سکتا ہے۔
  • جب بہت سارے مرد مل کر ایک عورت کے اوپر انزال کریں تو اسے Bukkake کہتے ہیں۔
  • جب مرد دخول کے بعد انزال سے رکا رہے تو اسکو Coitus Reservatus کہتے ہیں۔
  • کسی چکناہت کے بغیر دخون کرنے کو Dry sex کہتے ہیں۔ اس سے عضو کی جلد کو نقصان پہنتا ہے۔
  • ایک اور جنسی رویہ یورپ اور امریکہ میں عام ہے جس میں کسی برقی جنسی آلے سے تسکین حاصل کی جاتی ہے۔ اسکو Erotic electrostimulation کہتے ہیں۔

بیوی سے مباشرت کے فائدے

(ہفت روزہ ٹایؑم جنوری 2004)

  • قوت میں کمی نہیں ہوتی
  • عمومی صحت
  • لمبی عمر
  • ھارٹ اٹیک میں کمی
  • درد کو برداشت کی قوت
  • قوتِ مدافعت میں اضافہ
  • ڈپریشن میں کمی
  • کیؑ کینسرز میں کمی
  • دورانِ خون میں باقاعدگی
  • پراسٹیٹ غدود میں کمی
  • جوڑوں کے درد میں کمی
  • حدیث: مباشرت صدقہ ہے

ماخوذ

  • رہنماۓ جوانی از پروفیسر ارشد جاوید
  • وکی پیڈیا wikipedia

Comments are Closed