جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections

جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections کی لگ بھگ 60 اقسام ہیں۔ ان میں ایک ہی وایؑرس اور بیکٹیریا بہت سارے انفیکشنز پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور اور بدنام بیکٹیریا chlamydia ہے اور اسکے بعد HPV آتا ہے جو کہ خطرناک ہے اور کینسر کا باعث بھی بنتاہے۔ chlamydia کی وجہ سے پوری دنیا میں 4٪ مرد اور 3٪ عورتیں متاثر ہوتے ہیں جبکہ اس سے ہونے والی انفیکشنز کی تفصیل درجِ زیل ہیں۔

1- Chlamydia Infections

یہ مرض منہ اور مقعد کے سیکس اور مباشرت کے زریعے پھیلتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ حاملہ سے ہونے والے بچے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ متاثرہ شخص میں شروع میں علامات نہیں ہوتی۔ جب حملہ ہوۓ چند ہفتے ہو چکے ہوتے ہیں پھر علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ صرف 2015 میں پوری دنیا میں chlamydia سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 61،00000 تھی۔ یہ بعض اوقات آتشک اور سوزاک بننے کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس سے ہونے والی بیماریاں درج ذیل ہیں

  • اندام نہانی سے بدبودار رطوبت
  • پیشاب اور مباشرت کے دوران تکلیف
  • نچلے پیٹ میں درد
  • خصیوں میں درد اور سوجن
  • انکھوں کی انفیکشن اور جوڑوں کا درد

جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections

تشخیص

تشخیص کے لیے پیشاب کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے یا پھر کاٹن سے اندام نہانی، سرویکس یا مردانہ پیشاب کی نالی کے خلیات لیے جاتے ہیں۔ اگر گلے یا مقعد میں انفیکشن ہو تو اس جگہ کا کاٹن سویب لیا جاتا ہے۔ جو ایک دفعہ متاثر ہو جایں تو انکے دیگر ٹیسٹ بھی کیۓ جاتے ہیں مثلاً آتشک، سوزاک اور ایڈز وغیرہ۔ بہرحال ٹیسٹ سے اسکی تشخیص ممکن ہے۔

پرییز و غزا

کنڈوم، جنسی تعلقات میں احتیاط، اپنے شادی شدہ جوڑے تک محدود  رہیں۔ جو لوگ بچپن سے ہی سیکس میں پڑ جاتے ہیں انکو ہر سال اپنا معاؑینہ کروانا چاۓ۔ ہم جنس پرستوں کو بھی معایؑنہ کروانا چاۓ۔ اگر تادیر علاج صیح نہ ہو تو بچہ دانی نکالنی پڑ سکتی ہے۔ مزید عورت یا مرد بانجھ ہو سکتے ہیں۔ اسکے بڑھنے سے ایڈز بھی ہو سکتی ہے۔

علاج

  • انگریزی علاج میں انٹی بایؑیوٹکس دی جاتی ہیں جیسے کہ  azithromycin یا doxycycline اور بچوں و حاملہ کو Erythromycin or یا azithromycin دی جاتی ہے۔

  • chlamydia کا بیکٹیریا چونکہ پروٹین، فولاد خاص وٹامن پر زندہ رہتا ہے لہذا اگر یہ چیزیں اسے تادیر نہ ملیں تو 2-3 سال کے عرصے میں یہ خود ہی مر جاتا ہے۔

جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections

2- HPV) Human Papillomavirus)

بعض ماہرین کے نزدیک یہ وایؑرس سب سے زیادہ عام ہے جو جنسی انفیکشنز پھیلاتے ہیں اور زیادہ تر جنسی تعلق سے پھیلتا ہے۔ صرف امریکہ میں ٹین ایج کے لڑکے اور لڑکیاں کی HPV سے متاثر ہونے کی شرح 74٪ ہے۔ زیادہ تر HPV بغیر علامات کا اظہار کۓ خودبخود ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں میں یہ رہ جاۓ ان میں موقے، مسوں یا پھر جنسی اعضاء منہ گلے کے کینسر کے خلیات تک بنا دیتا ہے۔ اس لۓ بعض اوقات زیادہ خطرناک ہے۔ سرویکل کینسر کے 80٪ سے زایؑد مریض HPV کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ لاعلاج مرض ہے جس میں رحم اور بچہ دانی سمیت پورا جنسی نظام نکالنا پڑ جاتا ہے۔ HPV کی کل 170 اقسام میں سے 40 کے قریب جنسی طور پر ترانسفر ہوتی ہیں۔ HPV سے ہونے والی بیماریوں میں جنسی اعضاء کے کینسرز، یرقان بی اور سی، ایڈز، آتشک، سوزاک وغیرہ جیسے موزی امراض شامل ہیں۔

وجوھات

  • اجنبی سے جنسی تعلقات
  • قوتِ مدافعت کی کمی
  • تمباکو نوشی
  • حاملہ سے بچے کو

تشخیص: HPV صرف انسانوں میں پھیلتا ہے۔ ایک متاثرہ فرد میں بیک وقت ایک قسم سے زایؑد ہو سکتی ہیں۔

پرہیز و بچاؤ: بچنے کے لیے 9-13 سال کے بچوں کو HPV کی ویکسین لگوانی چاۓ۔ بچ جانے والے افراد کا تناسب 50٪ ہے۔ جبکہ HPV بیکٹیریا 85٪ غریب ممالک میں پھیلتا ہے۔

علاج

  • خوش قسمتی سے اسکی ویکسین موجود ہے۔ لہذا جو لوگ خطرے میں ہیں انکو یہ ویکسین لگوانی چاہۓ۔

  • اگر ابتدائی سٹیج پر سرویکل کینسر پکڑا جاۓ تو بہت ٹھنڈی مایع نایٹروجن گیس سے علاج کیا جاتا ہے۔

  • امینوتھیراپی سے علاج کیا جاتا ہے مگر مکمل شفا کے لیے اسکو بھی 2 سال لگ جاتے ہیں۔

جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections

HPV کے مسے

3- آتشک و سوزاک

اس میں کوئی  شک نہیں کے اوپر والے وایؑرس اور بیکٹیریا بگڑ کر آتشک اور سوزاک بھی بن جاتے ہیں۔ بہرحال سوزاک کا شافی علاج ہے۔ جبکہ آتشک تھوڑا وقت لیتا ہے۔ یہ دونوں مرض بھی جنسی تعلق سے ہی پھیلتے ہیں مزید تفصیل کے لیے دیکھیں سوزاک و آتشک کی تفصیل۔

جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections

4- ہرپس Herpes

چوٹھے نمبر پر سب سے موزی اور متعدی جنسی انفیکشن کا نام ہرپس ہے۔ یہ ہرپس نامی وایؑرس سے پھیلتی ہے۔ اسکی بھی شروع میں علامات بہت عام یا کم ہوتی ہیں جو کہ بعد میں جلدی السر میں تبدیل ہو کر روگ لگا دیتی ہیں۔ تھوڑے ہی دنوں میں چھوٹے چھوٹے چھالے بن جاتے ہیں جو کہ پھٹ کر السر کا روپ دھار لیتے ہیں۔ 2015 تک پوری دنیا میں پرپس کے 8 کروڑ 50 لاکھ کے قریب مریض موجود تھے۔

علامات: جیسا کہ اوپر بیان کیا چھوٹے چھوٹے پانی والے چھالے بن کر پھٹ جاتے ہیں اور تکلیف دہ السر بنا دیتے ہیں۔ نزلہ یا فلو کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اسکی دو اقسام ہیں جبکہ ترقی پزیر ممالک میں پرپس-2 نامی وایؑرس زیادہ عام ہے۔ جبکہ پرپس-1 جنسی تعلقات سے زیادہ تر پھیلتا ہے۔ حاملہ سے بچے کو بھی ہو سکتا ہے۔ دیکھنے میں اسکی علامات سوزاک اور شنکرایؑڈ سے ملتی جلتی ہیں۔ متاثر ہونے کے ٹھیک 1 ماہ بعد اسکے اثار نظر آجاتے ہیں۔

وجوھات: اس میں کوئی  شک نہیں کہ یہ بھی جنسی تعلق سے پھیلنے والا متعدی انفیکشن ہے۔ امریکہ میں ہر سال 7 لاکھ 76000 نئے  مریض ہرپس کے ہوتے ہیں۔

تشخیص: PCR اور بلڈ ٹیسٹ سے تشخیص کی جاتی ہے۔ مردوں کے مقابلے مین عورتیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔

پرہیز: سارے جنسی انفیکشنز کا پرہیز ایک سا ہی ہے کہ اپنے جیون ساتھ کے علاوہ جنسی تعلقات میں خاص احتیاط کریں۔ کنڈوم کا استعمال کریں اور جنکو زیادہ خطرہ محسوس ہو وہ اپنا معایؑنہ کروا لیں۔ اسکی کوئی  ویکسین ابھی تک دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ اگر پرہیز اور ٹھیک سے علاج نہ ہو تو ایڈز بنا سکتا ہے۔

علاج

کچھ انگریزی ادویات جیسے کہ Acyclovir، Valacyclovir، Famciclovir استعمال ہوتی ہیں ان ادویات سے بھی علامات کی شدت کم ہوتی ہیں۔

جنسی انفیکشنز Sexually Transmitted Infections

سکیبیز کا طفیلیا Scabies

5- سکیبیز Scabies

اگرچہ یہ جنسی انفیکشن دیگر اسباب کے وجہ سے بھی پھیلتی ہے۔ یہ بیماری ایک طفیلیا جسکا نام  Sarcoptes scabiei ہے کہ وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ طفیلیا جسم سے باہر 2 سے 3 دن میں مر جاتا ہے۔ بچوں میں ہونے والے سب سے عام تین جلدی امراض میں یہ بھی شامل ہے۔

علامات: شدید خارش اور سوجن، جسم کے ہر حصے میں خارش، ایک لایؑن میں 4 سے 5 دھبے پڑتے ہیں کیونکہ یہ طفیلیے سیدھے چلتے ہیں۔ جسامت میں ایک انچ کا 20واں حصہ یعنی 5۔0 ملی میٹر ہوتی ہے۔ جبکہ انسانی جلد کے مسام 0،05 ملی میٹر کے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انکے بچے مساموں میں گھس جایؑں۔ بہرحال یہ انسانی جسم میں سوراخ کر کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ مادہ جلد کے گڑہوں میں انڈے دیتی ہے جن سے 3 سے 10 دن کے اندر لاروے نکل آتے ہیں جو کہ 1 ماہ بعد بالغ ہو کر مزید انڈے دیتے ہیں۔ یہ کسی بھی عمر میں کسی بھی مرد و عورت یا بچوں کو ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ پالتو جانوروں کتوں اور بلیوں میں بھی ہو جاتی ہے۔

وجوھات: ایک طفیلیا کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ گنجان آباد اور گندے علاقے میں زیادہ عام ہے۔

پیرہز اور غزا: متاثرہ لباس، اشیاء، خوراک اور بستر سے بھی پرہیز کریں۔ نبی اکرم ﷺ کی حدیث کے مطابق متعدی یا وبائی  امراض والے مریض سے دور رہیں۔ اسکی ویکسین موجود نہیں ہے۔

علاج: انگریزی میں کھانے اور لگانے والی بہت سی ادویات ملتی ہیں۔ Moxidectin سے علاج کیا جاتا ہے۔


ماخوذ

  • وکی پیڈیا Wikipedia

Comments are Closed