معدہ Stomach

 معدہ Stomach

امراض معدہ Stomach میں اسپرین کا استعمال نہ کریں۔ مرچیں کم کر کے زیتون کے تیل میں کھانا پکایؑں۔ اچار، چنے، چٹنی، ساگ، دال، چنے کم کھایؑں۔ رات کو دودھ نہ پیؑں۔ بند گوبھی، سبز پتوں والی سبزیاں، کدو زیادہ کھاییؑں۔ مہینہ میں 3 روزے رکھیں۔ ادرک کا قہوہ 1 ہفتہ پیؑں۔ “الّلھ نے ایسی کوؑی بیماری نھیں اتاری جسکا علاج اتارا نہ گیا ہو” (بخاری و مسلم)

محبت صرف شوہر سے کی جانی چایۓ۔

علامات: کٹھی ڈکاریں، سینہ میں جلن، گیس، تیزابیت، ھاتھ پاؤں میں جلن، دل بیٹھتا محسوس ہونا۔ پیٹ پھولا رھنا، بھوک میں کمی، قبض، پسلیوں کے نیچے کچھاؤ، بےسکونی، بادی و دیر ہضم و سرد اشیاء کا بےدریغ استعمال، کھانے کے بعد سونا، زیادہ کھانا وغیرہ

طبیب کے متعلق چند ضروری ہدایات

مریض کے متعلق چند ضروری ہدایات

پرہیزوغزا

ابلے چاول اور کچھڑی مونگ کی دال چھلکوں والی دیں۔ تلی، کٹھی، چاےؑ، کافی، بھنڈی، کریلے نہ کھایؑں۔ بلڈ پریشر زیادہ نہ ھو تو کھانے میں اجوایؑن اور سیاہ نمک دیں۔ مڑ، گوبھی، آلو، اروی، کچالو، دال ماش کم کھایں۔ السر والےچھوٹے چھوٹے کھانے لیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں اور انکا سوپ اور کدو بیج کھایؑں۔ دودھ صرف موافق ہو تو لیں یا صرف گاےؑ کا دودھ پیںؑ۔ قبض کے لیے اسپغول لیں۔ مناسب ادرک کی چاےؑ پیںؑ۔ نوٹ کریں کہ السر میں دودھ کا استعمال الٹا تیزابیت بڑھاتا ہے۔ اچار، چٹنی، اسپرین نا لیں۔ ساگ، سفید چنے کم کھایؑں۔ مرچیں کم کرکے زیتون کا تیل سالن کے اوپر ڈال کر کھایںؑ۔ مہینہ میں 3 روزے رکھیں۔ کھانے کے بعد لیٹنے کی بجاۓ کوئی کام کریں۔ روزانہ 5 امرود نمک لگا کر کھایں۔ ۔ مناسب فایؑبریا قابل ھضم فایؑبر کھایں۔ وٹامن کے کھایں۔ لھسن کھایں یہ ایچ پلوری کو مارتا ہے۔ سونے والے بیڈ کے تکیہ والی سایؑڈ پر اینٹیں رکھیں۔ اگر طبیعت موافق ہو تو دہی، فولاد، جامن، فلفل سفید، فلفل سیاہ، اناردانہ، زیرہ، گلاب، لونگ کھایں۔

ان چیزوں سے پرھیز کریں۔ دن میں دیر تک سونا، رات جاگنا، سگریٹ نوشی، ابلے چاول اور کچھڑی مونگ کی دال چھلکوں والی دیں۔ تلی، کٹھی، چاےؑ، کافی، بھنڈی، کریلے، خوراکی الرجی والی اشیاء، اروی،  شراب، چینی، صدمہ، خوف، جھگڑافساد، تھوڑا تھوڑا کھاتے رھنا، سست روی، کھانے کے بعد پانی، قبض، ایچ پلوری بیکٹیریا، دافع سوزش ادویات، ترش اشیاء۔ اگر مناسب لگے اور جنکا کام زیادہ سخت نہیں ہے وہ دو وقت کھایں اور درمیان میں 6 سے 8 گھنٹے کا وقفہ کریں۔

مقویاتِ معدہ: جو ادویات معدہ کا طاقت دیتی ہیں وہ غزا کی نالی اور آنتوں کو بھی طاقت دیتی ہیں۔ جیسے پوست ترنج، خبث الحدید، پیارانگہ، انیسوں، جوزبوا، تج، کندر، قسط شیریں، بنسلوچن، ہلیلہ، تیزپات، الایؑچی چھڑیلہ، اگر، عود غرقی، سنگدانہ مرغ، نرکچور، ناگر موتھ، آنولہ، زرنباد، چرایؑتہ وغیرہ۔

ابھی یہ مضمون پڑھیں صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

معدہ Stomach کے لیے عام دیسی ٹوٹکے

    1. ریاح اور گیس کے لیے دیسی اجوایؑن 60 گرام میں مرحبا روغن کلونجی 10 قطرے ملا کر لیموں کے رس میں ڈبو دیں۔ بعد ازاں دھوپ میں رکھ کر خشک کریں اور اس میں 10 گرام کالا نمک پیس ڈالیں۔ مقدار خوراک: 1-2 گرام صبح شام۔

    2. اجواین 2 چمچ، چھوٹی ھرڑ 2 عدد، ھینگ آدھی چٹکی، سوندھا نمک ذایقے کے مطابق لے کر سب کو پیس لیں۔ کھانے کے بعد 1 چمچ گرم پانی کے ساتھ لیں۔

    3. جوارش کمونی یا جوارش جالینوس 5-6 گرام (1 چاےؑ والی چمچ) 2 بار کھانے کے بعد لیں۔

    4. معدہ کی خراش کے لیے ھلدی اور ملٹھی کا پوڈرھموزن مکس کر کے صبح شام 2 گرام ھمراہ شہد لیں۔

    5. منہ کی ناگوار بو ختم کرنے کے لیے نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غراغرے کیجیۓ- یا نیم کے 12 پتے 1 گلاس پانی میں ابال لیں۔ اور غراغرے کریں۔ یا اجوایؑن، سونف، گڑ اور چھوٹی الایؑچی خوب چبا کر نگل لیں۔

    6. پندرہ روپے کی پھکی بنایؑں دس روپے کی اجوایؑن اور پانچ روپے کا کالا نمک کوٹ چھان کر مکس کر لیں۔ پھکی تیار ہے۔ ہاضمہ اور پیٹ میں ہوا بھر گیؑ ہو تو استعمال کریں۔

    7. پسی ہویؑ خالص ھلدی 1 گرام اور نمک 1 گرام گرم پانی سے استعمال کریں۔

    8. گوند کتیرا آنتوں میں جا کر پھول جاتا ہے۔ جو کھانے کی آنت کو متحرک کرتا ہے اور پاخانہ آسانی سے نکل جاتا ہے۔ پیچش میں مفید ہے۔ زخموں اور جلد کے السر میں بھی مفید ہے۔ پیچش روکنے کے لیے دہی میں ملا کر کھلایا جاتا ہے۔ شدید قبض والے نہ استعمال کریں۔

    9. تبخیر معدہ کے لیے: صبح شام گیسٹوفل لیکویؑڈ 1 چمچ کھانے والا، ہمراہ جوارش شاہی آدھا چمچ چئے والا پانی کے ساتھ، جوارش کمونی ہر کھانے کے بعد۔ رات کو حب تنکار 2 گولیاں پانی کے ساتھ۔

    10. معدہ کا کلونجی کا بہت گھرا تعلق ہے یہ سینہ کی سوزش، تیزابی کیفیت میں اضافہ، متلی، قے اور پیٹ درد میں روغن کلونجی کا کمال اپنی جگہ مسلّم ہے۔

    11. 1تولہ سفید زیرہ، 1تولہ پودینہ، 1تولہ ادرک اور 3 تولہ گل قاصدی کی چاےؑ بنا کر پیںؑ۔

    12. معدہ اگر سرد رہنے کی وجہ سے گیس پیدا کر رہا ہے تو جوارش اور اطریفل کھلایں۔ اس مقصد کے لیے سنبل ھندی یا سنبل لطیف اپنی مثال آپ ہے۔

    13. تبخیر معدہ اور پیچش کیلئے: ھوالشافی: اناردانہ‘ چھلکا اسپغول‘ ہڑیڑ‘ طباشیر‘ سونف تمام چیزیں ہم وزن لے کر سفوف بنا کر صبح خالی پیٹ شربت انجبار کے ساتھ لیں۔

    14. پندرہ روپے کی پھکی بنایؑں دس روپے کی اجوایؑن اور پانچ روپے کا کالا نمک کوٹ چھان کر مکس کر لیں۔ پھکی تیار ہے۔ ہاضمہ اور پیٹ میں ہوا بھر گیؑ ہو تو استعمال کریں۔

    15. پسی ہوئی خالص ہلدی 1 گرام اور نمک 1 گرام گرم پانی سے استعمال کریں۔

    16. گوند کتیرا آنتوں میں جا کر پھول جاتا ہے۔ جو کھانے کی آنت کو متحرک کرتا ہے اور پاخانہ آسانی سے نکل جاتا ہے۔ پیچش میں مفید ہے۔ زخموں اور جلد کے السر میں بھی مفید ہے۔ پیچش روکنے کے لیے دہی میں ملا کر کھلایا جاتا ہے۔ شدید قبض والے نہ استعمال کریں۔

    17. سونف، تخم کنوب، انسیوان، تخم کاسنی، تخم مکو ہر ایک چار ماشہ کومناسب پانی ڈال کر تین بار جوش دیں تاکہ عرق نکل سکے۔ چمچ ہلاتے رہیں۔ چھان لیں۔ آدھ پاؤ شہد ڈال کر چولہے پر دھیمی آنچ پر رکھ دیں۔ چمچ ہلاتے رہیں۔ جب پانی سوکھ جاۓ اور شہد ہی باقی رھ جاۓ تو جار میں محفوظ کر لیں۔ حالت مرض میں 1 تولہ دن میں دو مرتبہ لیں جبکہ عام حالت میں چار ماشہ ایک دفعہ لیں۔ جملہ امراض کی اصلاح ہوتی ہے۔ بے حد طاقتور اثرات کی حامل ہے۔

    18. زعفران 3 رتی،شہد 6 تولہ، مصطگی رومی 9 ماشہ۔ مصطگی کو باریک کر کے شھد اور زعفران ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں۔ عام دنوں میں 2 ماشہ صبح شام لیں معدہ کے جملہ امراض میں مفید ہے۔ معدہ طاقتور ہو جاۓ گا اور ہر قسم کی غزا کو بآسانی ہضم کر سکے گا۔

    19. شہد آدھا کلو، انگوری سرکہ 3 چھٹانک، زعفران 1 رتی۔ شھد اور سرکہ نرم آنچ پر پکایں چمچ ہلاتے رہیں۔ جب قوام پک کر گاڑھا ہو جاۓ تو اتار کر زعفران شامل کریں۔ تمام جملہ امراض میں مفید ہے۔ عام دنوں میں بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔ عام دنوں میں نصف تولہ ایک کپ پانی میں شربت بنا کر پییں۔ ایام مرض میں 1 تولہ کر دیں۔

    20. برگ پودینہ، دارچینی، زنجبیل، فلفل سیاہ، قرنفل، الایؑچی دانہ، ہر ایک 6 ماشہ، بسباسہ 3 ماشہ، حب انار 8 تولہ، شھد 4 تولہ۔ شہد اور حب انار کے علاوہ سبکو کوٹ چھان لیں پھر شہد ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں۔ پھر حب انار ڈال کر معجون بنا لیں۔ دردِ معدہ، ریح بلغمی و بادی میں 1 تولہ روزانہ استعمال کریں۔

    21. تقویت معدہ کے لیے۔ ایک گلاس سیب کا جوس، سیاہ مرچ ، زیرہ، نمک چٹکی بھر، 10 قطرے کلونجی کا تیل ملا کر پیؑں۔

    22. بھوک کی کمی: کلونجی، ریوند خطائی ہموزن لے کر سفوف بنا لیں۔ آدھی چمچ چاۓ والی صبح شام۔ یا پھر 4 تولہ کلونجی کو سرکہ میں رات ڈبودیں۔ اگلے دن خشک کر کے سفوف بنا لیں۔ 10 قطرے کلونجی کا تیل اور آدھ پاؤ شھد ملا کر رکھ لیں۔ صبح شام 6-6 ماشہ۔ اس کے علاوہ شریں بیر تھوڑے سے کھانے سے بھوک خوب لگتی ھے۔ خشک بیر قبض کرتے ھیں۔ نیز سیب کے جوس میں کالی مرچ، زیرہ، نمک ڈال کر پیؑں۔

    23. فمِ معدہ کی درد: پودینہ خشک، کلونجی، پوست سنگدانہ مرغ، فلفل دراز ہر ایک 50 گرام، سونٹھ 30 گرام۔ ست پودینہ سوا گرام۔ ساری ادویات پیس کر ست ڈال لیں۔ ہر کھانے کے بعد 2-2 گرام۔ معدہ کو طاقت بھی دیتا ہے۔

    24. گھر کی امرت دھارا: کافور، اجوایؑن، پودینے کا عرق، یوکلپٹس آیؑل ہر ایک 10 گرام۔ سب کو ایک شیشی میں ڈال کر دھوپ میں 1 گھنٹہ رکھیں۔ 2 بوند صبح شام کھانے کے بعد۔

    25. معدہ کا شربت: آم کا رس 1 کلو، آدھا کلو چینی لے کر اس میں ست لیموں 30 گرام ڈال کر آدھا کلو پانی لے کر دھیمی آنچ پر چڑھا دیں۔ ایک جوش آ جاۓ تو میل اتار کر ٹھنڈا کرکے چھان لیں۔ اب اس میں آم کا رس ڈال لیں۔ آم کا ایسنس بھی تھوڑا سا ڈال لیں۔ بوتل میں ڈال کر فریج میں رکھیں۔ شربت تیار ہے۔ حسبِ ضرورت استعمال کریں۔ معدہ کو طاقت دیتا ہے۔

    26. آم کا سکواؑش: شریں آم کا رس 1 کلو، چینی 1 کلو، ست لیموں 10 گرام، پوٹاشیم میٹا بایؑ سلفایؑٹ 2 گرام، تھوڑا سا آم کا ایسنس۔ ایک لیٹر پانی میں خوب اچھی طرح مکس کر لیں۔ چھان کر بوتل میں بھر لیں۔ معدہ کی گرمی اور دھوپ کی تمازت سے بچاتا ہے۔

    27. متلی محسوس ہو رہی ہو تو امرود سونگھیں۔ نیز پیٹ کے کیڑے مارنے کے لیے کھایں۔ بعض لوگوں کے لیے قبض کا علاج ہے۔ آنتوں کی صفائی کےلیے بھی موزوں ہے۔

    28. میھٹے انار کا رس 2 چھٹانک، ترش انار کا رس 2 چھٹانک، سیب کا رس 1 پاؤ، لیموں کا رس 1 پاؤ، سبز پودینہ کا رس 1 پاؤ، مصری 2 کلو۔ مکس کر کے شربت تیار کر لیں۔ معدہ و جگر کو تقویت دیتا ھے ایام ہیضہ میں مفید ہے۔

    29. کشمش 10 دانے، چھوٹی الایؑچی 1 ماشہ، مرچ سیاہ 2 تولہ، گوند کیکر 3 ماشہ، مغز پستہ بادام چلغوزہ ہر ایک 6 ماشہ، سرکہ انگوری 1 پاؤ لیں۔ سب کو مکس کر لیں یہ چٹنی ہر کھانے کے بعد استعمال کریں۔

    30. سیاہ شھتوت کا سفوف 3-6 گرام پانی کے ساتھ لیں۔ معدہ کو طاقت دیتا ہے۔ جبکہ تازہ کھانے سے دست، مروڑ، ڈکار کاعلاج ہوتاہے۔

    31. پیٹ میں گرانی ہو تو ایک پیالی سونف کا قہوہ لیں یا ایک چمچ ادرک کا پانی لیں۔

    32. متلی و قے کے لیے سبز پودینہ 5 گرام، چھوٹی الائچی 2 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کر استعمال کریں نوٹ: معدہ کے مختلف بیماریوں اور انکے علاج کے لیے نیچے دیکیں۔

    33. بارش کا پانی لےکر 70 مرتبہ سورۂ فاتحہ ، 70مرتبہ آیت الکرسی  اور70،70مرتبہ چاروں قل پڑھ کردم کریں دنیا کے ایسے مریض جو لاعلاج ہو چکے ہیں۔ اسے دم کرکے پلائیں اللہ کے فضل سے مریض ایسے ٹھیک ہوتا ہے جسکا گمان نہیںہوتا ۔اگر بارش کا پانی مزید نہ ملے تو سادہ پانی ملا کر بڑھا تے رہیں ۔چند دن یا زیادہ عرصہ مریض کو استعمال کروائیں۔ (عبقری)

یہ ادویات معدہ Stomach کے ساتھ کیا کرتی ہیں؟ (Stomach Effective Herbal Drugs)

1- مقویات معدہ (Gastrictonics)

یہ دوایؑں غزا کے ہضم میں معاون ہوتی ہیں یہ رطوبات کے ترشیح کو بڑھاتی ہیں انکو ادویا ہاضم بھی کہتے ہیں۔ انکی تین اقسام ہیں۔ 1) ادویہ عطریہ: خوشبودار ادویہ ترشحات معدی میں اضافہ کر کے تقویت معدہ کا کام کرتی ہیں مثلاؑ سونف، دارچینی، الایؑچی، سونٹھ وغیرہ- 2)ادویہ مریہ:  تلخ ادویہ، تلخی کی وجہ سے معدہ کی دیواروں کے غدود کی ترشی بڑھ جاتی ہے۔ جیسے چراؑیتہ وغیرہ- 3) ادویہ حریفہ: یہ بھی ترشحات میں اضافہ کرتی ہیں۔ جیسے کالی مرچ، رائی وغیرہ-

2- مقلل رطوبات (Antisecretory)

یہ ادویات معدہ کی رطوبات اور ترشی کو کم کرتی ہیں مثلاؑ نوشادر، سھاگہ وغیرہ-

3- محرکات معدہ (Gastric Stimulants)

یہ ادویات معدہ کی حرکت کو بڑھاتی ہیں جیسے کچلہ, پانی، چاۓ وغیرہ-

4- مانع حرکت معدہ (Gastric Depressants)

یہ ادویات معدہ کی حرکات کو کم کرتی ہیں جیسے لفاح، دھتورہ، اجوایؑن خراسانی وغیرہ ان میں ایڑوپین ہوتا ہے۔

5- دافع حموضت (Antacid)

معدہ کی تیزابیت کو کم کرتی ہیں جیسے خوردنی سوڈا, تازہ میٹھے پھل، چیونگ گم،  وغیرہ-

6- حامض (Acidic)

بعض دوایؑں معدہ کی تیزابیت کو بڑھا کر جلن کا سبب بنتی ہیں مثلاؑ کالی و سرخ مرچ وغیرہ-

7- دافع تعفن (Antiseptic)

ایسی دوایؑں معدہ کے تعفن کو دور کرتی ہیں جیسے ست جوایؑن، کافور وغیرہ-

8- کاسر ریاح (Carminative)

ایسی دوایؑں جو غلیظ ریاح کو اپنی مناسب حرارت سے رقیق بنا کر حرکت دے کر خارج کرتی ھیں مثلاؑ ایسنسون، اجوایؑن، یوکلپٹس (سفیدہ) کا تیل, سونف، الایؑچی، خشک دھنیا، ادرک، پودینہ, زیرہ، تلسی، دارچینی، ھڑیڑ، ملیٹھی، اجمود وغیرہ-

9- مقیات (Emetics)

ایسی ادویات سے قے آتی ھے اور بعض اوقات زھرخورانی کی وجہ سے ضروری ہو جاتی ہیں جیسے گرم پانی، نمک طعام، رایؑ وغیرہ-

10- مانعات مقیات (Anti Emetics)

انکے استعمال سے قے میں کمی آتی ہے جیسے بہدانہ، عناب، افیون، لفاح وغیرہ-

معدہ کے بارے مفید معلومات

  1. معدہ Stomach کی گنجایؑش قریباً ایک لیٹر ہوتی ہے۔ عمومی طور پر لمبائی دس انچ اور چوڑائی پانچ انچ ہوتی ہے۔

  2. ایک مخصوس جھلی معدہ کو دل اور پھیپھڑوں سے جدا کرتی ہے۔

  3. پیٹ میں بہت ہوا بھرنے کی صورت میں دل پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

  4. معدہ کے اس حصہ میں ہی زخم ہونے کے زیادہ چانسزہوتے ہیں جہاں خون کی شریانیں کم ہوتی ہیں۔

  5. معدہ کے لمفایؑ غدود پرسرطان بہت جلد حملہ کر سکتے ہیں۔

  6. پیدایؑش کے وقت معدہ کی شکل تقریباً سیدہی ہوتی ہے۔

  7. معدہ ایک عضلاتی جھلی ہے اسکا کام عارضی گودام مھیا کرنے کے علاوہ غزا کو ترشی دے کر سیال (کیلولس) بنانا بھی ہے۔

  8. ھمارے معدہ میں پیپسن، بلغم، گیسٹرک لایؑیز، نامی انزایؑم اور ھایڈروکلورک ایسڈ، میوسن، گیسٹرن نامی ھارمون خارج ہوتے ہیں۔

  9. معدہ کی بلغم غزا کو گلنے ملنے میں مدد دیتی ہے اسکے علاوہ معدہ میں کوئی زہریلا مادہ یا کیمایؑ مرکب پہنچ جاۓ تو بلغم بھاری مقدارمیں خارج ہونے لگتا ہے یہ ایک قدرتی عطیہ ہے جو کہ حفاظت کا کام بھی کرتا ہے۔ قے آتی ہے اور زھریلا مادہ خارج ہوجاتاہے۔ اسکے علاوہ اگرھایڈروکلورک ایسڈ زیادہ بڑھ جاۓ تو تیزابیت سے بچانے کے لیے بلغم ہی کام آتا ہے۔

  10. ھمارے جسم میں 70٪ پانی، 20٪ پروٹین، 14٪ چکنایؑ، 5٪ نمکیات اور 1٪ کاربوھایڈریٹس ہوتے ہیں۔

  11. پیپسن نامی خمیر معدہ کے بالائی یا پیندے میں تشکیل پاتا ہے۔ اور پروٹین کو جزب کرتا ہے۔ کچھ زودہضم غزا معدہ میں ھی ھاضمہ کے قابل ہوتی ہے۔

  12. کچھ زودھضم غزا معدہ میں ہی ھاضمہ کے قابل ہوتی ہیں۔ ان غزاؤں میں الکحل، چینی یا چہد وغیرہ شامل ہیں۔

  13. قے سے معدہ میں موجود اشیاء باہر نکلتی ہیں چھوٹی آنت سے نہیں۔

  14. ٹالین خامرہ جو ہے وہ کاربوھایؑڈریٹس کو شکر میں تبدیل کرتے ہیں۔

  15. لایؑپیز نامی خامرہ چکنائی کو قابل ہضم بناتا ہے۔

  16. ھایڈروکلورک ایسڈ کیلوس کو ترشی، نمکین اور تیزابی بناتا ہے اور پیپسن اس ترشی کے بغیر عمل ہی نہیں کرسکتا۔

  17. جب کبھی کسی جگہ سوزش ہوتی ہے تو متاثر ہونے والے خلیات میں تیزابی مادوں کی مقدار پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اور جیسے جیسے سوزش بڑھتی ہے ویسے ویسے وھاں کی پی ایچ تیزابی کی طرف بڑھتی ہے۔

  18. جسم میں تیزابیت بننے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ہمارا خون کچھ تیزاب خود بناتا ہے جیسا کہ لیکٹک ایسڈ وغیرہ۔ بعض اوقات زیادہ محنت سے بھی لیکٹک ایسڈ بنتا ہے اور جب انسان خوراک کم کھاتاہے تو اضافی تیزاب بننے لگتے ہیں۔

  19. بہت سی بیماریاں بھی جسم میں تیزابیت بڑھا دیتی ہیں۔ جیسا کہ شوگر، جگر کے امراض، گردوں کا کام نہ کرنا وغیرہ۔

  20. جدید تحقیق کے بعد یہ بات واضع ہو کر سامنے آئی ہے کہ بظاہر خون اور پیشاب کی پی ایچ نارمل ہوتی ہے مگر کونیکٹینگ ٹشوز میں تیزابی مادہ موجود ہوتا ہے جسکا عام آلات سے پتہ نہیں چلتا اسی وجہ سے بیماری اور زخم سر اٹھا لیتے ہیں۔

  21. گیس کیوں بنتی ہے؟ بڑی آنت میں گیس بننے کی وجہ ایک مثال سے واضع کی جا سکتی ہے۔ دودھ کی شوگر جسکو لیکٹوز کہتے ہیں اس پر لیکٹیز نامی کامرہ یا انزایؑم اسکو قابل ھضم حصوں یعنی گلیٹوز اور گلوکوز میں تقسیم ہو جاتی ہے اگر چھوٹی آنت میں یہ خامرہ نہ ہو تو یہ ہی خامرہ بڑی آنت میں ہونے کی وجہ سے وہاں لیکٹوز کو ھضم کرتا ہے تو تبخیر کا باعث بنتا ہے۔ اور بیکٹیریا اسکو گھلاتے ہیں اور گیس بناتے ہیں۔ بعض اوقات ریشہ دار اور نشاستہ دار غزاؤں میں بیکٹیریا کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور گیس بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ نیز یہ چیزیں گیس کرتی ہیں تیلی ہوئی غزا، دیر ھضم، چاۓ، کافی، شراب، قبض کشا ادویات، ضعف جگر وغیرہ۔ اگر دالیں، لوبیا، مٹر وغیرہ کو تھوڑی دیر پانی میں بھگو کر زرا ابال کر پانی پھینک دیں پھر تازہ پانی میں پکایں تو گیس کم بنتی ہے۔

  22. بدبودار سانس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب خون جگر میں داخل ہوتا ہے تو ایک بدبودار مادہ خون میں داخل ہو جاتا ہے۔ جو پھیپھڑوں میں پہنچ کر بدبودار سانس کا باعث بنتا ہے۔

  23. اگر بڑھے ہوۓ پیٹ والی عورت کو نفخ ہو تو یہ موٹاپا بادی کا ہے۔

  24. اگر بکثرت ڈکاریں آیؑں اور بجاۓ طبعیت ٹھیک ہونے کے اور خراب ہو جاۓ تو یہ معدہ میں رطوبات کی دلالت کرتی ہے۔

  25. اگر پتی نہ جا رہی ہو تو معدہ ٹھیک کر لیں پتی خود بخود چلی جاۓ گی۔

  26. اگر خالی پیٹ درد ہو اور کچھ کھا لینے سے درد ٹھیک ہو جاۓ۔ ھضم ہونے کے بعد پھر درد ہونے لگے۔ یہ معدہ کی گرمی کی علامت ہے۔

معدہ کی بیماریاں

  1. درد شکم

اسباب و پرھیز: قبض، گیس، بھت ثقیل اشیاء کھانا۔ ان اشیاء سے پرھیز کریں مٹر، گوبھی، دال ماش، پراٹھا، میٹھایؑ، بعد غزا چاۓ، ثقیل، بادی، تیز گرم و سرد، تمباکو نوشی۔  یہ اگر معدہ کی سوزش سے وہ تو اسکا علاج کریں۔

  1. اگر معدہ کے منہ میں شدید درد اٹھے تو ایک گلاس پانی میں 6 گرام نمک پلایں تاکہ قے آۓ۔ سیاہ مرچ، نوشادر، ھرمچی ھر ایک 12 گرام، تخم دتھورہ 4 گرام۔ سب کو کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ 250 ملی گرام صبح شام دیں۔

  2. کافور، ست پودینہ، ست جوایؑن ھر ایک 12 گرام، تیزاب کاربالک 4 گرام، سب کو ایک شیشی میں ڈال کر دھوپ میں رکھ دیں حل ھو جاۓ گا۔ چینی پر 3-4 قطرے ڈال کر گرم پانی کے ساتھ دیں۔

  3. پیٹ میں شدید درد ہو، تو بڑی الائچی، دارچینی، سونف، پودینہ کا قہوہ بنا کر پئیں۔

  4. دل کی تیزدھڑکن اور پیٹ میں گیس بننے سے روکنے کی خاطر سونف اور خشک دھنیا ایک ایک چھٹانک صاف کر کے پیس لیں۔ اس آمیزے میں ڈیڑھ چھٹانک شکر ملائیں۔ صبح شام ایک ایک چمچ لیں۔

  5. بدہضمی اور الٹیاں روکنے کے لیے 30گرام پیاز، پودینہ کے چند پتے اور سات عدد کالی مرچ اچھی طرح ملا کرکھائیے۔

  6. 26۔ ہچکی روکنے کے لیے دیسی گھی میں سوجی کا حلوہ بنا کر کھائیے۔ یا منہ میں برف کی ڈلی رکھیں یا آہستہ آہستہ گنڈیریاں چوسیں۔

  7. پیٹ میں شدید درد ہو، تو بڑی الائچی، دارچینی، سونف، پودینہ کا قہوہ بنا کر پئیں۔

  8. روغن کلونجی 10 قطرے، نمک چٹکی بھر، نیم گرم پانی آدھا گلاس میں لیں۔ فوری فایؑدہ ھو گا۔

کینسر Cancer اور اسکا علاج

ONE DEVICE 100 TESTS

  1. تیزابیت Acidity

 وجوھات: اگر معدہ میں HCl زیادہ بنتا ھے تو تیزابیت پیدا ھوتی ھے۔ ھاضمہ کے لیےؑ مناسب تیزاب (pH = 1-2) ھونا چاھیےؑ ورنہ خوراک معدہ میں تبخیر (Fermentation) کرے گی اور خوراکی کی نالی سے تیزاب بن کر اوپر آکر جلن کری گی۔ بعض اوقات منہ اور گلے تک آےؑ گا اور گلہ خراب کر رھے گا۔ بعض اوقات پیشاب میں تیزابیت بڑھ جانے سے عضو میں جلن محسوس ہوتی ہیے جسکی بنیادی وجہ گوشت خوری، کثرت مصالحہ جات، پانی کا کم استعمال ہے۔

معدہ Stomach

  1. روزانہ نیازبو کے 3-4 پتے پانی میں ابال کر شھد ڈال کر پی لیں۔ نیز ھر کھانے کے بعد سونف کھایؑں یا پودینہ کھایؑں۔

  2. دارچینی کا قھوہ روزانہ 2 دفعہ لیں۔

  3. روزانہ اگر طبعیت موافق ھو تو دھی کی لسی پیؑں یا پھر تربوز کھایؑں۔

  4. اگر یورک ایسڈ کا مسؑلہ نہ ھو تو ھر کھانے کے بعد گڑ کھایؑں۔ اس میں میگنیسیم ھوتاھے-

  5. زیرہ تیزابیت کا بھت اچھا علاج ھے لھزا بھنا ھوا یا پھر قھوہ پی لیں-

  6. لگاتار 1 ھفتہ کے لیےؑ ادرک کا قھوہ پیؑں۔

  7. جنکو دودھ ھضم نھیں ھوتا وہ ٹھنڈا دودھ تھوڑا تھوڑا کر کے پی لیں۔

  8. سیب کا سرکہ 1 چمچ صبح شام 1 گلاس پانی میں ڈال کر پی لیں 1 ھفتہ تک ۔

  9. ناریل کا دودھ pH کو تیزابی سے اساسی بناتا ھے-

  10. 2 عمدہ کیلے روزانہ کھایؑں اور 30 منٹ تک چیونگ گم کھایؑں-

  11. لیموں اور پودینہ کی سمودی بنا کر پیؑں-

  12. آدھا چمچ سوڈیم کاربونیٹ (NaCO3) 1 کپ پانی میں روزانہ 2 دفعہ 1 ھفتہ تک پی کر دیکھیں-

  13. سوتے وقت اور صبح اٹھتے وقت نیم گرم پانی پینے کی عادت ڈالیں۔ کھانے کے بعد نہ پیؑں اور سوتے وقت سروسینہ اونچا کریں-

  14. حاملہ خوتین میں تیزابیت، قبض اور گنٹھیا کو کم کرنے کے لیے انجیر سے بہتر خوراک نہیں ہے۔ اس میں پروٹیلیس پروٹین ہوتی ہے جو ھاضمہ میں مدد دیتی ہے۔ انجیر دافع ریاح اور آنتوں کی گیس خارج کرتی ہے۔

  15. گوشت تیزابیت بڑھانے میں سرفھرست ھے۔ جبکہ پروٹین ھی لینی ھے تو سویابین اور دودھ کی پروٹین لو جوکہ گوشت کے مقابلے میں کم تیزابیت کرتے ھیں۔ اطباء کے نزدیک ھفتہ میں ایک بار گوشت کا استعمال کافی ھے۔ جبکہ محظ دالیں، چینی اور روٹی پر انحصار کرنے والے بھی تیزابیت کا شکار ھو سکتے ھیں۔

  16. جو لوگ چاول زیادہ کھاتے ھیں انکی تیزابیت دور کرنے کے لیے گوشت کے ساتھ آلو کا استعمال ضرور کریں کیونکہ یہ اساسی طبیعت رکھتا ھے۔

  17. تقریباً تمام سبزیاں اساسی رجحان رکھتی ھیں۔ لھزا انکا استعمال کسی نہ کسی طرح ضرور کریں۔

  18. عام طور پر لیموں اور سٹرس فروٹ کے بارے میں یہ تاثر غلط ھے کہ یہ تیزابی اثر رکھتے ھیں۔ کیونکہ انکی باقیات ھضم ھونے کے بعد اساسی بن جاتی ھے جیسے کہ سوڈیم کاربونیٹ۔

  19. زیادہ تر نمکیات جیسے کہ سوڈیم، پوٹاشیم، کیلشیم، آیؑرن وغیرہ اساسی خصوصیت رکھتے ھیں۔ جبکہ گوشت اساسی رجحان رکھنے کے باوجود ھضم ھونے کے بعد تیزابی رجحان رکھتا ھے۔

  20. زیادہ اساسیت والی غزایؑں – مکیؑ، پالک، شلغم، زیتون، تل۔

  21. بعض تیزابیت ختم کرنے والی انگریزی ادویات قبض، متلی کرتی ھیں۔

  22. پیٹ کے جملہ امراض روکنے کے لیے اسپغول کا چھلکا بلاناغہ استعمال کریں۔

  23. اپنے بیڈ یا چارپایؑ کے سرھانے والی جگہ اونچی کریں۔ یہ عمل ھر شخص کو کرنا چاۓ۔

  24. ملٹھی، سونف، ھلدی ھر ایک 100 گرام۔ کلونجی 50 گرام۔ باریک پیس لیں۔ ھر کھانے کے بعد 3 گرام۔

  25. کھانے سے 1 گھنٹہ قبل 2 آڑو کھا لیں۔

  26. یورک ایسڈ بڑھ جانے سے تیزابیت بڑھ جاتی ھے صبح شام لیموں ایک گلاس پانی میں ڈال کر پی لیں۔

  27. ایک گلاس تھنڈا دودھ (جن کو دودھ ھضم ھوتا ھو) یا ناریل کا پانی یا تین وقت 2-2 کیلے کھایں۔ کھیرے اور تربوز کا استعمال اکثر کریں۔

  28. زنک قوتِ مدافعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ تیزابیت کم کرتا ہے۔

3. اسھال Diarrhea

اسباب: جراثیم والی غزا، ھیضہ، یرقان، مصالحہ، سدہ، زخمِ معدہ

  1. اسپغول کا چھلکا 1-3 گرام ایک تولہ شربت انجبار کے ساتھ دن میں 3-4 بار۔

  2. ناگر موتھ، بیلگری، اندرجو، لودھ پٹھانی، موچرس، گل دھوا سب ھموزن پیس کر ملا لیں۔ بڑوں کے لیے 2-3 گرام اور بچوں کی عمر کے مطابق دن میں 3 بار دیں۔ عرق سونف بھی دیں۔

  3. امرود کی جڑ کی چھال یا پتوں کو پانی میں ڈال کر جوش دے کر پلایں۔

  4. ھلکے پیچش ھوں تو 5 چھوھارے پانی میں بھگو کر صبح کھالیں اور 1 چمچ دار چینی کا سفوف لیں۔

4. ھیضہ Cholera

ھیضہ ایک جرثومہ سے پھیلنے والا مرض ھے جو کہ متعدی اور وبایؑ ھوتا ھے اور اسکی وجہ سے ھی اسھال ھوتا ھے۔ بازاروں میں جھاں گندگی ھو وھاں کے کھانے کھا کر ھیضہ کا جرثومہ اپنا کام کرتا ھے۔ سرد علاقوں کی بجاۓ گرم علاقوں اور خاص کر برسات کے دنوں میں زیادہ ھوتا ھے۔

علامات: قے اور اسھال بھت آتے ھیں۔ اسکے چار درجے ھوتے ھیں۔ پھلے درجہ میں پیٹ میں ھلکا درد سے پاخانہ خارج ھوکر پتلے دست آنے لگتے ھیں۔ ساتھ ھی قے بغیر درد کے آتی ھے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ھے کہ مروڑ نھیں اٹھتا۔ زبان سفید اور خشک ھو جاتی ھے۔ دوسرے درجہ میں معدہ کو دبانے سے درد، بھوک ختم، پیاس زیادہ، سردرد،بے چینی، گبھراھٹ ھوتی ھے۔ تیسرے درجے میں شدید کمزوری، بدن سرد مگر مقعد گرم، سرد پسینہ، چھرہ مرجھایا ھوا، پانی کی کمی سے دوران خون گاڑھا اور سست، کمزور نبض، سانس میں دشواری، گردے کمزور، پیشاب رک جاتا، آواز مدھم، دست بند ھوجاتے ھیں۔ اور بعض اوقات مریض فوت ھوجاتا ھے۔ چوتھے درجے میں علامات میں بھتری آجاتی ھے، نبض تیز، بدن گرم، پیاس کی شدت میں کمی، بخار، پیٹ درد ختم، آھستہ آھستہ مریض روبصحت ھونا شروع ھو جاتا ھے۔

احتیاط و غزا: ھیضہ کے دنوں میں پانی ابال کر پیؑں۔ ماحول کو صاف رکھیں۔ کچی اور باسی اشیاء نہ کھایں۔ ھضہ کی ویکسین لگوایں۔ ثقیل غزاؤں جیسے آلو، بھنڈی، کریلے، بڑا گوشت، اروی، مٹر، چنے، لوبیا، دال ماش وغیرہ سے پرھیز کریں۔ اپنے منہ پر نقاب کر لیں چھوٹے بچوں کو کو پاس نہ آنے دیں۔ پودینہ اور سرکہ استعمال کروایں۔ نیند آجاۓ تو سونے دیں۔ کافور کی ڈلی بار بار سنگھایں۔

  1. آبِ جو عرقِ لیموں میں سرد کر کے دیں۔ ساگودانہ، کچھڑی، شوربہ، ابلے چاول، یخنی، ڈبل روٹی، دلیہ تھوڑا ٹھوڑا کر کے دیں۔

  2. پیاس کے لیے عرق گلاب 10 تولہ میں سکنجبین چار تولہ برف ڈال کر تھوڑا ٹھوڑا دیں۔

  3. سبز پودینہ آدھا تولہ، زرشک شریں ڈیڑھ تولہ، املی ایک چھٹانک تین پاؤ میں دو جوش دے کر چھان لیں اور گلوکوز ملا کر گھونٹ گھونٹ پلایں۔

  4. دست اور قے روکنے کے لیے سونف اور پودینہ کا قہوہ بنا کر پیجیے۔

  5. قے روکنے کے لیے چھوٹی الائچی یا املی استعمال کریں۔

  6. امرود کی جڑ کی چھال یا پتوں کو پانی میں ڈال جوش دے کر پلایں۔

  7. قے روکنے کے لیے ادرک اور شھد کا استعمال کریں۔

  8. سبز پودینہ 5 گرام، اناردانہ 5 گرام، چھوٹی الایؑچی 2 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچینی یا نمک ڈال کر استعمال کریں۔

  9. ست پودینہ، ست اجوایؑن، کافور دیسی ہر ایک 10 گرام کو ملا کر رکھ لیں ہیضہ کی شکایت میں 5-5 قطرے پانی میں ملا کر دن میں تین بار پی لینا چاۓ۔

  10. رایؑ 10 گرام، سرخ مرچ 10 گرام کو کوٹ کر مکس کر لیں۔ اس میں پیاز کا پانی ڈال کر گوندھ لیں۔ اور مٹر کے برابر گولیاں بنا لیں۔ ہر 10 منٹ بعد ایک ایک گولی عرقِ پودینہ کے ساتھ دیں۔ عرقِ پودینہ نہ ہو تو پودینہ کہ 20-25 پتیاں پانی میں ابال کر اس پانی سے لیں۔

  11. حاملہ کی متلی اور قے روکنے کے لیے آلوبخارا خشک 5 عدد، سونف 5 گرام عرقِ گاؤزبان میں بھگو دیں صبح مل کر چھان لیں۔ 1 کپ سکنجبین کے ساتھ دیں۔

5. قولنج

قولنج میں نفح اور گیس کی علامات پایؑ جاتی ھیں۔ قبض کی وجہ پیٹ پھول جاتا ھے اور ناف کے گرد وقفے سے شدید درد ھوتا ھے۔ جب ریح خارج ھو جاۓ تو قدرے بھتر محسوس ھوتا ھے۔ یہ مرض انتڑیوں میں درد کی وجہ سے ھوتا ھے۔  انتڑی یا نال کی دیواریں اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ یہ سخت چیز آگے کو کھسک جائے۔ اس وجہ سے وہ سختی سے سکڑتی ہیں اور ان کے اس سکڑ جانے سے درد پیدا ہوتا ہے۔

  1. کیسٹر آیؑل دے کر قبض دور کریں۔ ھینگ، دیسی جواین، سونٹھ، نوشادر، میٹھا سوڈا، نمک سیاہ ھموزن کوٹ چھان کر 1 گرام ھر 3 گھنٹے بعد دیں۔

  2. گل بنفشہ، 24 گرام، تربد سفید 12 گرام، رب السوس 11 گرام، سقمونیا مشوی 10 گرام، مصطگی 5 گرام، کتیرا سفید 3 گرام۔ کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ نصف سے 1 گرام بوقتِ ضرورت یا رات سوتے وقت لیں۔

  3. خفیف سامسہل اس کا عام علاج ہے۔

6. قبض Constipation

قبض کی بھت ساری وجوھات ھیں۔ جو اشیاء آنتوں میں خشکی کرتی ھیں جیسے چاۓ، کافی، کولا مشروب، منشیات، انگریزی ادویات، ثقیل و تلی اشیاء، بدھضمی، سستی، کاھلی، ورزش و سیر سے اجتناب، بیٹھنے والی نوکریاں وغیرہ۔

پرھیز و غزا: ھر کسی کو ایک چیز سے فرق نھیں پڑتا۔ مستقل نجات کے لیے لایؑف سٹایؑل بدیں۔ کلونجی کھانوں میں ڈالیں۔

  1. 20 گرام گلقند گرم دودھ آدھا گلاس کے ساتھ رات کو لیں۔ اگردو دن میں فرق نہ پڑے تو تیسرے دن 30 گرام کر دیں۔

  2. دایؑمی قبض والے کو صبح کو دلیہ میں دودھ ڈال کر لیں۔

  3. نیز مزید تفصیل کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔ قبض اور اسکا علاج۔

7. معدہ کا السر Peptic Ulcer

اسکی تین قسمیں ھیں۔ خوراک کی نالی کا السر، معدہ کا السر اور ڈوڈینم کا السر۔ معدہ کے السر کی بھت ساری وجوھات ھیں۔ جب معدہ کے عام امراض بگڑ جایں تو السر کا باعث بنتے ھیں۔ سویؑ کے نکے سے سکے کے سایؑز جتنا ھو سکتا ھے اور ایک سے زایؑد ھو سکتے ھیں۔ معدہ جلدی خراب نھیں ھوتا اور اگر ھو جاۓ تو جلدی ٹھیک نھیں ھوتا۔  ابھی تک انگریزی ادویات میں جھاں بھت ساری بیماریوں کا علاج دریافت نھیں ھوا تو السر کا بھی نھیں ھوا۔ پھلے ماہ میں علاج سے 70٪ زخم مندمل ھوجاتاھے۔ دوسرے ماہ کے آخر تک 90٪ تک زخم مندمل ھو جاتا ھے۔ بھرحال کم سے کم چار ماہ تک علاج اور پرھیز جاری رکھیں۔ ڈوڈینم السر کینسر کا باعث نھیں بنتے جبکہ معدہ کے السر میں کینسر زیادہ بنتے ھیں۔

علامات: پیٹ درد شدید کے ساتھ قے آتی ھے۔ قے میں خون بھی آسکتا ھے۔ کھانے کے فوراً بعد اکثر قے ھو جاتی ھے۔ پانی بھی اندر نہیں ٹھہرتا اور کچھ خون بھی قے کے ساتھ آجاتا ہے۔ بالایؑ حصہ میں سخت درد ھوتا ھے. عام طور پر کھانے ساے ایک گھنٹہ پھلے یا نصف گھنٹہ بعد درد محسوس ھوتا ھے۔ چھرہ کا رنگ بدل جاتا ھے وزن ھلکا ھوجاتا ھے۔ درد کی شکایت ھفتوں رھنے کے بعد غایب ھو جاتی ھے۔ اگر ایک لقمہ کھانے سے ھی درد ہونے لگے تو شدید مرض کی علامت ہے۔ اگر کچھ کھا لینے سے درد کم ہو جاۓ تو یہ صفراوی درد ہے۔

وجوھات: کسی بھت تیز شے کا کثرت استعمال،قلت خون، تھکن، موروثی، شراب نوشی، سگریٹ نوشی, ، اسپرین اور ضدِ سوزش ادویات کی کثرت، پریشانی، مصالحہ جات، انگریزی ادویات، کسی لیب ٹیسٹ یعنی انڈوسکوپی کی وجہ سے۔ دماغی کام اور سستی کاھلی, ویسے صیح طور پر وجہ ابھی تک معلوم نھیں ھو سکی۔ مختلف اشخاص میں زھنی تناؤ, غصہ یا پریشانی کی وجہ سے معدہ کی دیواریںکی وجہ سے ھایؑڈروکلورک ایسڈ زیادہ بنتا ھے۔ اب زھنی تناؤ کی صورت میں خوراک کی غیرموجودگی میں یہ ترشی مادہ السر کا باعث بنتا ھے۔ اب کتنی مقدار میں یہ مادہ بنتا ھے ابھی تک نامعلوم ھے۔ بار بار کھانے سے بھی یہ ترشی مادہ بنتا ھے۔ ایک تحقیق نے ثابت کر دیا ھے کہ نرم غزا کھانے والے جلد السر میں مبتلا ھو سکتے ھیں۔

 غزا و پرھیز: صاف ستھری غزا اور مناسب وٹامن استعمال کریں۔ پانی کی کثرت کریں۔ زھنی تناؤ ختم کریں۔ زود ھضم کھانا چھوٹا اور دن میں چار بار دیں۔

  1. سب سے پھلے تو مریض کو سکون بخش ماحول دیں اگرپرسکون ماحول نہ ملے تو نیند آور گولیاں دے کر کچھ سکون پھنچایں۔ نیز معدہ کی تیزابیت کو کسی الکلی والی خوراک سے دور کریں۔ اگر السر کی شدت زیادہ ھو تو نس کےزریعے دوا دیں۔ مطلب ھر طریقہ سے تیزابیت کی مقدار اور اس میں کمی بیشی کی چھان بین ضروری ھے۔

  2. جب کسی بھی طبی معانؑہ سے ناسور کا پتا لگ جاۓ تواسکے سایؑز کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر گردے، شوگر اور دل کا کویؑ عارضہ ھو تو دوا اور علاج میں انکو بھی مدنظر رکھیں۔

  3. اگر ادویات سے علاج نہ ھو سکے تو عمل جراحی سے متاثرہ حصہ قطع کر دیا جاتا ھے۔ ورنہ یہ سرطان کا باعث بنتا ھے۔اپریشن کے بعد کویؑ قے، متلی، سر درد نھیں ھوتا تھوڑی بے چینی ھوتی ھے۔ عام طور پر کامیاب اپریشن کے بعد مریض بڑی چین کی نیند سوتا ھے۔ کیونکہ ناسور والا حصہ قطع ھونے سے درد باقی نھیں رھتا۔

  4. اگر ناسور میں پیچیدگی بڑھ جاۓ تو تین صورتیں ھوتی ھیں۔ یا تو زخم پھٹ جاۓ، یا تو خون جاری ھو کر قلت خون ھو جاۓ یا پھر ناسور زھر آلود ھو کر کینسر بن جاۓ اور کاٹنا مجبوری بن جاۓ۔

  5. اگر ناسور کی جسامت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رھے اور تیزابیت کی کثرت ھو مریض فکروں میں گھرا رھے۔ تو ناسور معدہ میں چھید کر دیتے ھیں۔ ایسی صورت میں طبی علاج بے سود ھے۔ اسکا واحد علاج عمل جراحی ھے۔ چھید سے ترشی مادہ پیٹ میں جا کر شدید درد کا باعث بنتا ھے۔ بار بار پسینہ آتا ھے بدن سرد، چھرے پر پریشانی اور نبض تیز 110 تک پھنچ جاتی ھے عام طور پر 77 تک ھونی چاۓ۔ ایسے مریض کو فوری ھسپتال پھنچایں۔ عمل جراحی کے زریعے زخم کو سی دیا جاتا ھے مریض فوری آرام محسوس کرتا ھے۔ نس کے زریعے خوراک دی جاتی ھے۔

  6. ناسور اگر معدہ کی شریان میں جگہ بنالے تو وقفے وقفے سے جریانِ خون ھوتا ھے۔ مٹیالے یا خاکی رنگ کی قے آتی ھے جسکو خون کی قے کھتے ھیں۔ گفتگو کرنے سے روکیں تاکہ خون کم ھو۔ فوری ھسپتال لے جایں۔

  7. معدہ کے زخم سے زیادہ آنت کے زخم برصغیر میں ھیں۔ زھنی تناؤ سے بچیں، مناسب ورزش کریں یا واک کریں۔ سایؑکل چلایں۔ ایسے پیشے کا انتخاب کریں جوکہ اپکے لیے تناؤ کا باعث نہ ھو۔ اپنی شخصیت کو بلند کریں۔ رواداری کا مظاھرہ کریں۔ وہ لڑکیاں جو خود کو دبلا پتلا رکھنے کے لیے غیرضروری طریقہ ھاۓ استعمال کرتی ھیں السر کا شکار ھوجاتی ھیں۔ اسی طرح بھت فربہ اشخاص میں بھی اسر ھو سکتا ھے۔شھد 2 تولہ، عرق مکو 10 تولہ، عرق کاسنی 10 تولہ، سب کو یک جان کر لیں اور تین خوراکیں بنایں۔ اور ایک دن میں پی جایں۔ ھفتہ دس دن میں نمایاں فرق محسوس ھو گا۔

  8. شھد 2 تولہ، عرق مکو 10 تولہ، عرق کاسنی 10 تولہ، سب کو یک جان کر لیں اور تین خوراکیں بنایں۔ اور ایک دن میں پی جایں۔ ھفتہ دس دن میں نمایاں فرق محسوس ھو گا۔

  9. کلونجی 25 گرام، رال سفید، چھلکا اسپغول، ملٹھی، ھلدی ھر ایک 50 گرام، باریک کھرل کر لیں۔ 3 گرام دن میں تین دفعہ روزانہ۔

  10. صفراء کے لیے: انار 10 تولہ رس میں 2 تولہ چینی ملا کر استعمال کریں۔

  11. خورک کی نالی میں زخم ھو جاۓ تو ایک پاؤ فالسہ کا رس میں 3 پاؤ مصری ڈال کر دھیمی آنچ پر پکایں۔ قوام کو ٹھنڈا کر کے ھر کھانے کے بعد 2 چمچ چٹایں۔

  12. السر اور آنت کی سوزش کے لیے گرما مفید ھے۔

  13. ھلدی اور ملٹھی کا سفوف ھموزن میں شھد ڈال کر رکھ لیں۔ صبح شام 2 گرام لیں۔

  14. معدہ میں جلن: تلسی، لھسن، ادرک، زیتون کا تیل، دانہ میتھی، ھلدی، پودینہ ھموزن لے کر چٹنی بنا لیں۔ روٹی کے ساتھ کھایں۔ دھی ڈال کر بھی کھا سکتے ھیں۔ سالن کم کھایں۔

  15. لوبان اور بنفشہ کے پھول ھموزن لے کر سفوف بنا لیں 2 ماشہ رات سوتے وقت اور صبح ناشتہ سے قبل دودھ کے ساتھ لیں۔

8. تبخیرِ معدہ (گیس)

مختلف وجوھات کی بنا پر معدہ میں ھوا بھر جاتی ھے۔ معدہ میں تبخیر کا بننا عمومی بات ھے مگر زیادہ بن کر پریشر بنا دے اور دوسرے مسایؑل کھڑے ھوجایں تو تبخیرِ معدہ کھلاتی ھے۔ مختلف وجوھات کی بنا پر معدہ میں ھوا بھر جانے کو تبخیرِ معدہ کھتے ھیں۔ ھم میں سے اکثر لوگ گیس اور بدھضمی کو ایک ھی چیز سمجھتے ھیں۔ معدہ کا بالایؑ حصہ چونکہ دل کے قریب ھوتا ھے تو گیس سے بھرنے پر بعض اوقات لوگ اسکو دل کی بیماری سمجھ لیتے ھیں۔  تبخیرِ معدہ سے دردِشکم ھو سکتا ھے۔

وجوھات: بدھضمی، جلدی جلدی گرم کھانا، ثقیل غزاؤں کا کثرت استعمال، کھانے کے دوران کوؑی کام کرنا، منشیات، سگریٹ نوشی، ضعفِ جگرومعدہ، ثقیل غزا وغیرہ۔

علامات: پیٹ ٹھوکنے سے ڈھول کی آواز آنا، ڈکار کی کثرت، کٹھے ڈکار، سینہ کی جلن، گیس، جلدی جلدی کھانا، سردرد، تشنجی درد، بھاری بوجھ، متلی و ابکایؑ، درد پیٹھ اور گردوں تک جاۓ وغیرہ۔ زور سے ڈکاریں آنا پرانی بدھضمی کو ظاہر کرتی ہیں۔

غزاوپرھیز: قصداً ڈکار نہ لیں۔ قبض نہ ھونے دیں۔ تازہ پھل، لھسن مولی پیاز کم کھایں۔ اپنی طبعی رجحان کے مطابق کھایں۔ کھانا خوب چبا کر وقت پر کھایں۔ کھبی کبھار سوڈابایؑ کاربونیٹ لیں۔ انگریزی ادویات کم سے کم لیں۔ چیونگم اور میٹھاؤں سے اجتناب کریں۔ بھوک رکھ کر کھایں۔ کھانے کے فوراً بعد نہ لیٹیں۔ کھانے کے بعد چھل قدمی کریں۔ کیفین ملے مشروب جیسے چاۓ کافی سے اجتناب کریں۔ جن لوگوں کو ترش پھل اور ٹماٹر گیس کرتا ھے وہ نہ لیں۔ جھاگدار کھانے، بیکری کی مصنوعات نہ کھایں۔ دودھ گیس کرتا ھو تو تھوڑی مقدار میں دھی نمک ڈال کر لیں۔ پیٹ پر تنگ لباس نہ پھنیں۔ زھنی تناؤ سے بچیں۔ روٹی کم کر کے ابلے چاول سفید زیرہ ڈال کربنایں اور مناسب سلاد کے ساتھ کھایں۔ دالوں کا استعمال کم سے کم کریں۔ معدہ کی قوتِ ھاضمہ بڑھانے کے لیے پپیتہ روز تھوڑا ٹھوڑا کر کے کھایں زیادہ سے پیچش لگ جاتے ھیں۔ ۔ نیم گرم پانی کی عادت ڈالیں اور برف والا پانی گرمیوں میں بھی استعمال نہ کریں۔ جو لوگ محنت مشقت نہیں کرتے وہ نشاتہ دار غزا کا استعمال کم کریں۔

  1. پیٹ میں ہر وقت گیس رہتی ہو، تو میتھی کے بیج کھائیں۔ گردے اور مثانے کی پتھری نکالنے کے لیے روزانہ نہار منہ پانچ عدد انجیر کھائیں یا پتھر چٹ پودے کے پتے چبائیں۔

  2. کیلشیم کاربونیٹ کی ادویات خاص طور پر خواتین کے لیے موزوں ھوتی ھیں۔ نیز یہ دافع تیزابیت، ھڈیوں کی مضبوطی اور گردوں کے فیل ھونے کے خلاف معاون ھے۔

  3. جب سوڈابایؑ کاربونیٹ لینے جایں تو یہ دیکھ لیں کہ اس میں کونسا عنصر ھے۔ کیلشیم اور المونیم قبض پیدا کرتے ھیں۔ سوڈیم اور میگنیشیم جلاب آور ھے۔ یہ معلومات سامنے رکھ کر ھر شخص مناسب ادویات کا انتخاب کرے۔ مثلاً المونیم اور میگنیشیم سے بنے مرکبات دستوں یا قبض کا باعث نھیں بنتے۔ یہ ٹوٹکہ ایک ھفتہ تک کریں اگر علامات برقرار رھیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

  4. پودینہ، سونف یا اجوایؑن کا قھوہ پیؑں۔ پپیتہ کھایں۔

  5. مصطگی رومی 1 تولہ، دارچینی 1 تولہ، عرق گلاب 10 تولہ، چھد آدھ پاؤ۔ مصطگی اور دارچینی کو کوٹ لیں۔ پھر عرق گلاب میں ڈال کر شھد بھی ڈال دیں۔ نصف گھنٹہ اچھی طرح مکس کریں۔ 1 تولہ نیم گرم پانی کے ساتھ کھانے کے بعد ھی کھایں۔ عام حالت میں بھی معدہ کو طاقت دیتی ھے۔ عام حالت میں نصف تولہ سے زیادہ نہ لیں۔

  6. سونٹھ 1 تولہ، سیاہ دانہ 1 تولہ، سفید زیرہ 1 تولہ الایؑچی 1 تولہ، شھد 10 تولہ، سب اشیاء کو کوٹ چھان کر شھد میں مکس کرکے معجون بنالیں۔ اپھارہ، گیس، بدھضمی، کٹھے ڈکار، پیٹ درد میں مفید ھے۔ عام دنوں میں استعمال نہ کریں۔ 4 ماشہ صبح شام استعمال کریں۔

  7. ھموزن کلونجی، بادیان، اصل السوس، کشنیز خشک، کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ 3 گرام دن میں تین دفعہ تھوڑے سے پانی کے ساتھ دیں۔

  8. ھر قسم کے درد شکم، سدے کھولنے اور تبخیر کے لیے۔ ھموزن حب الرشاد، کلونجی، زنجبیل، ھلیلہ سیاہ، ھلیلہ زرد، ھلیلہ قابلی، فلفل، مصبر، سقوطریری۔ شھد میں گوندھ لیں۔ صبح نھار منہ اور رات سوتے وقت 4 ماشہ کھایں۔

  9. کلونجی 30 گرام، اجوایؑن دیسی 30 گرام، پودینہ خشک 50 گرام، زنجبیل 50 گرام۔ سب ادویا کو کوٹ چھان لیں۔ ھر کھانے کے بعد 3 گرام پانی کے ساتھ۔ ریح کا بھت اچھا علاج ھے۔

  10. اجوایؑن، کلونجی، سھاگہ بریاں، سفید زیرہ، فلفل سیاہ، سیاہ نمک، ھر ایک ھموزن پیس لیں۔ آدھی چمچ دن میں تین دفعہ ھمراہ جوارش انارین اور جوارش شاھی۔ بلڈپریشر واے نمک کے بغیر تیار کریں۔

  11. آب ادرک 1 تولہ، کلونجی 6 قطرے، تھوڑا سا نمک ملا کر استعمال کروایں۔

  12. اجوایؑن دیسی 60 گرام، نمک سیاہ 10 گرام، کلونجی کا تیل 12 قطرے۔ اجویؑن کو ایک پاؤ لیموں کے رس میں بھگو کر دھوپ میں خشک کریں۔ باق ادویاء شامل کر کے صبح شام چوتھایؑ چاۓ والی چمچ۔ مجرب ھے کاسر ریاح ھے۔

  13. انار کے جوس میں نمک اور کالی مرچ ڈال کر پیؑں۔ انار کو صرف دوپھر کے وقت کھایں۔

  14. 7 دانے بادام کے ساتھ 3 دانے انجیر کے روز کھایں۔ پیٹ کے جملہ امراض و اپھارہ کے لیے مفید ھے۔

  15. سفوف تبخیرِمعدہ: دیسی اجوایؑن، سفوف ملیٹھی، پودینہ، سونف، زیرہ سفید، نوشادر، نمک سانبھر، زھرہ مھرہ خطایؑ، دانہ الایؑچی، اسپغول، ھرایک 5 تولہ کوٹ چھان لیں۔ اسپغول ویسے ھی ڈال لیں۔ مقدار خوراک: 2-3 ماشہ دن میں 3 بار۔ تیزابیت اور بلڈ پریشر والے مریض بلاخطر استعمال کر سکتے ھیں۔ نیز السر قے میں بھی مفید ھے۔

  16. شاھی چورن: نوشادر 2 تولہ، الایؑچی دانہ 2 تولہ، نمک سیاہ 1 تولہ، فلفل سیاہ 1 تولہ سبکو پیس لیں 1-2 ماشہ بعد از کھانا۔

  17. ھاضمہ دار چاۓ: سفید زیرہ، پودینہ، ادرک ھر ایک 1 تولہ، 3 تولہ گل، قاصدی، سب کو ایک قھوہ کی طرح بنا کر پیؑں۔ چاھیں تو چینی ڈال لیں۔ ادرک کا استعمال چاۓ کی صورت میں 1 ھفتہ سے زیادہ نہ کریں۔

  18. دارچینی 100 گرام، میٹھا سوڈا 100 گرام، ادرک پانی 100 گرام میں خشک ھونے دیں۔ 2 گرام صبح شام کھانے کے بعد۔

  19. ھاضمہ کا جوس: 50 گرام ادرک کو 2 گلاس پانی کے ساتھ بلنڈ کریں اورتھوڑا ٹھنڈا کرکے چینی ڈال کر ایک گلاس صبح اور ایک گلاس شام کو پیؑں۔

  20. سرکہ اور شھد 1-1 چمچ پانی میں ڈال کر پی لیں۔ پیٹ کی سب بیماریوں کے لیے مفید ھے نیز یورک ایسڈ اور مثانہ کی پتھری کے لیے بھی مفید ھے۔

  21. جوارش جالینوس: سنبل اطیب، دانہ الایؑچی، دارچینی، خولنجاں، سعد کوفی، زنجیل (ناگرموتھ)، فلفل دراز (سونٹھ)، فلفل سیاہ، قسط شریں، عود بلسان، اسارون، تخم مودر، چرایؑتہ شریں، زعفران۔ ھر ایک 2 تولہ۔ مصطگی 5 تولہ، مصری آدھ سیر، شھد آدھ سیر۔ ادویات کو کوٹ چھان کر اور مصری شھد کا قوام بنا کر ادویات ملا کر رکھ لیں۔ 7-9ماشہ صبح یا کھانے کے بعد تنھا یا عرق سونف 12 تولہ کے ساتھ۔ بےشمار فایؑدوں کے علاوہ ریاح، گیس میں بھی مفید ھے۔

  22. سبز پودینہ 5 گرام، اناردانہ 5 گرام، چھوٹی الایؑچی 2 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچینی یا نمک ڈال کر استعمال کریں۔

  23. حکیم طارق محمود اور پاکستان ٹرایؑبونل کے مطابق ھاتھ سے کھانے سے قوتِ ھاضمہ مضبوط ہوتا ہے۔ کیونکہ انگلیوں کے پوروں سے کھاتے ہوۓ خاص انزایؑم نکلتے ہیں جو کہ کھانے کے بعد چاٹنے سے ھاضمہ بڑھاتے ہیں۔

چند مفید ٹیکنالوجیز

معدہ Stomach

Stomach_Ulcer_Home_Test_Kit

معدہ Stomach

48-Hour Esophageal pH Test for Acid

معدہ Stomach

Tissue_and_H_Pilori_test

معدہ Stomach

Stomach Robot

معدہ Stomach

PillCam COLON Capsule Endoscopy

معدہ Stomach

H.PYLORI TEST-KIBION

معدہ Stomach

SIBO and Gastroenterology Test Kit

معدہ Stomach

X-Ray Pill for Colon Cancer C Scan

معدہ Stomach

Easysure_Glucose, Uric Acid,Cholesterol Monitor

معدہ Stomach

Roche pH Acidity Tester

معدہ Stomach

Cholera Diagnosis

معدہ Stomach

Adenovirus_Stool_Tester

معدہ Stomach

H_Pilory_Test_kit

معدہ Stomach

Alere Determine HIV


ماخوذ

  • حکیم طارق محمود چغتاؑی
  • Tribune Pakistan
  • رموز تشخیص از حکیم محمد صدیق اختر

Comments are Closed