عضلاتی کمزوری Muscle Weakness

ہم جو بھی خوراک کھاتے ہیں وہ ھضم ہو کر مختلف روپ دھارتی ہے۔ گلوکوز کو لبلبہ اپنی رطوبت انسولین کی مدد سے گلاؑی کوجن glycogen میں تبدیل کر دیتا ہے جو کہ جگر اور پٹھوں میں سٹور ہوتی ہے۔ پھر جب بھوک یا روزہ رکھا جاتا ہے تو یہی glycogen دوبارہ شکر میں تبدیل ہو کر جسم کی ضرورت پوری کرتی ہے۔ یہ کام بھی لبلبہ (الفا خلیے) کرتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے دوبارہ شکر نہ بنے تو گلائی کوجن پٹھوں کے خلیوں میں جمع ہو کرعضلات کے فنکشن یا فعل میں خرابی یا نقص پیدا کر دیتا ہے۔ یہیں سے پٹھوں کا درد شروع ہوتا ہے۔ اسے pompe disease کہتے ہیں جس میں اعصاب بھی کمزور ہوتے ہیں۔ عضلاتی کمزوری Muscle Weakness میں دیگر بہت ساری بیماریاں ہیں جنکا زکر آگے چل کر کریں گے۔

مفید معلومات

  1. ایک صحت مند انسان کے خون میں 4 گرام سے زیادہ شکر نہیں ہوتی۔
  2. ایک 70 کلو گرام وزن والے فرد کے جگر میں 100گرام سے 120گرام تک glycogen سٹور ہوتی ہے۔ جبکہ پٹھوں میں 400گرام تک سٹور ہوتی ہے۔
  3. اگر کسی وجہ سے جگر میں موجود glycogen غیر مناسب انداز میں جزب یا خارج ہونا شروع ہو جاۓ تو زیابیطیس کا عارضہ ہو جاتا ہے۔
  4. کھلاڑیوں یا بہت زیادہ ورزش سے glycogen سارے کا سارے خرچ ہو جاتا ہے۔

 

1- مرض عضلہ Myopathy

جب کسی پٹھے کے ریشے میں کویؑ مسؑلہ ہو جاۓ اور وہ ٹھیک سے کام نہ کر سکے تو اسے مرض عضلہ کہتے ہیں۔ اس سے عضلاتی کمزور جنم لیتی ہے۔ اسکی وجہ سے دیگر امراض بھی علامات کے طور پر ہو سکتی ہیں جن میں مسلز اکڑن cramp، مسلز سختی Stiffness اور مسلزاینٹھن spasm شامل ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ماخوذ

  • وکی پیڈیا

Comments are Closed