پراسٹیٹ کینسر Prostate Cancer

پراسٹیٹ چونکہ مردوں میں ہوتا ہے لہزا پراسٹیٹ کینسر صرف مردوں میں پایا جاتا ہے اور پھیپھٹروں کے بعد سب سے زیادہ اموات اسکی وجہ سے ہوتی ہیں۔ البتہ زیادہ تر متاثر ہونے والے افراد کا علاج ہو جاتا ہے مگر متاثر ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تمام مردوں میں ایک چھوٹا سا غدود پایا جاتا ہے جسے پراسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ مثانےسے عضو تناسل تک پیشاب کو لے جانے والی ٹیوب (یوریتھرا) کے پہلے حصے کے گرد موجود ہوتا ہے۔ پراسٹیٹ ایک اخروٹ کے سائز کا ہوتا ہے اور عمر کے ساتھ بڑا ہو جاتا ہے. بہرحال پراسٹیٹ کینسر Prostate Cancer مردوں میں پایا جانے والا سب سے عام کینسر ہے مگر اسکا علاج کافی حد تک ہو جاتا ہے۔

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

پراسٹیٹ کینسر Prostate Cancer

 

مفید معلومات

  • پراسٹیٹ ایک ہلکا سفید ہلکا اساسی محلول پیدا کرتا ہے جو مزی (semen) کے ساتھ مل جاتا ہے تاکہ اندام انہانی کی تیزابی نوعیت کو اساسی کرے۔ نتیجاتاً منی زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ نیز عورت کی اندام نہانی سے بچہ دانی تک حرکت کر سکنے کے لیے یہی محلول دیگر مایؑعات کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
  • پراسٹیٹ کینسر کی تشخیص عام طور پر ابتدائی مرحلوں میں کر لی جاتی ہے جبکہ وجہ ابھی تک نا معلوم ہے۔
  • سیاہ فام افریقیوں, کریبیئن مردوں کو زیادہ خطرہ جبکہ ایشیایؑ مردوں کو کم خطرہ ہوتا ہے۔
  • پراسٹیٹ ایک پروٹین پیدا کرتا ہے جسے پراسٹیٹ سپیسیفک انٹیجن – PSA کہتے ہیں کینسر کی حالت میں اسکی اضافی مقدار خارج ہوتی ہے۔ مگر یہ حتمی کینسر کی علامت نہیں ہے کیونکہ یہ پیشاب کی نالی لگانے سے بھی ہو سکتی ہے جو کہ اپریشن کے بعد لگاتے ہیں۔
  • بعض اوقات عمر کے ساتھ ساتھ پراسٹیٹ گلینڈ بڑھ جاتے ہیں جبکہ کینسر میں بھی پراسٹیٹ بڑھ جاتا ہے دونوں میں فرق بیاپسی سے واضح ہوتا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ ہے کہ کینسر میں پراسٹٰیٹ ایک خاص رخ میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
  • پراسٹیٹ کے دیگر افعال میں جنسی نظام ، ایستادگی اور عملِ اخراج میں مدد دینا ہے۔ بعض مردوں میں ممسک اثر بھی بڑھاتا ہے۔
  • پراسٹیٹ کو ٹیسٹوسٹیرون ہارمون DHT کے زریعے کنٹرول کرتا ہے۔
  • American Cancer Society کے مطابق ہر سال امریکہ میں 1،64،690 کیسز نوٹ ہوتے ہیں جن میں سے 29430 مرجاتے ہیں۔ 7 مردوں میں سے ایک مرد اپنی پوری زندگی میں پراسٹیٹ کینسر کا شکار ہو جاتا ہے۔
  • ابھی تک سایؑنس دان جنیاتی طور پر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پراسٹیٹ کا کینسر کیوں ہوتا ہے۔ جبکہ یہ بھی ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ کونسی چیز کھانی چایؑے اور کون سی نہیں۔ بہر حال کہا جاتا ہے کہ جس غزا میں lycopene اور isoflavone زیادہ ہو وہ غزا کینسر کر روک تھام کے لیے اچھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی اندازہ ہی ہے کہ وٹامن ڈی سے یہ کینسر کم ہوتا ہے۔ بازاری گولیوں کی صورت ملٹی وٹامن کی خوراک لینے سے (خاص طور پر اومیگا-3) پراسٹیٹ کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
  • جوں جوں آپ کی عمر بڑھتی ہے پراسٹیٹ بڑا ہوتا جاتا ہے۔ اسے پراسٹیٹ کا بڑا ہو جانا کہتے ہیں۔ یہ کینسر نہیں ہے۔ یہ اُس نالی پر دباؤ ڈال سکتا ہے جس سے آپ پیشاب کرتے ہیں۔ جبکہ پراسٹاٹایؑٹس (prostatitis) میں پراسٹیٹ میں کویؑ سوزش ہو جاتی ہے جس سے درد ہوتا ہے۔ اسکا علاج ہے۔
  • ترقی پزیر ممالک میں معدہ کے کینسر میں 45٪ کمی ہویؑ ہے جبکہ پھیپھڑے کے سرطان میں اضافہ ہوا ہے۔ پھیپھڑے کے مریضوں میں 90٪ اسی سال مر جاتے ہیں۔
  • میٹل انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدورں میں پھیپھڑوں کا کینسر کے چانس ہوتے ہیں۔ جن کارخانوں میں سنکھیا، کرومیم، نکل ہو وہاں مثانے کا کینسر ہو سکتا ہے۔ کیمیکل انڈسٹری میں جگر کا کینسر کلورین کے مرکب کے استعمال سے ہوتا ہے۔ زراعت پیشہ کیڑے مار ادویات کے کیمیکلز سے دیگر کینسرز میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غریب ممالک میں ہیپاٹیٹس بی کی وجہ سے جگر کا کینسر ہو جاتا ہے۔
  • ایشیا اور افریکہ میں پان اور چھالیہ چبانے سے منہ کا کینسر ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان اور ہندوستان کے شمالی علاقہ جات میں کویؑلہ جلا کر اپنے آپ کو گرم رکھا جاتا ہے لہزا انکو زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

 

وجوہات

عمر، موروثی، جینیاتی، کاہل زندگی، چکنایؑ، پھل و سبزیوں کی کمی، اگر یہ ہونا ہے تو اسکو ہونے سے کویؑ روک نہیں سکتا سواۓ آللھ کی زات۔ پھر بھی حفظِ ماتقدم ہر قسم کے رنگ و روغن، مصنوعی خوشیات اور زایؑقے، مصنوعی چینی، bleaching powder, detergents, x-rays, ultra violet rays, گھروں اور فصلوں کے کیڑے مارنے والے کیمیکلز مثلاً ڈی ڈی ٹی، کارخانوں اور فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ، نکاسِ آب والے پانی کا نہروں میں گرنا، غیر ضروری انگریزی ادویات اور انٹی بایوٹک، ہارمون جو مرغیوں اور مویشیوں کو موٹا کرتے ہیں، زنگ دور کرنے والی اشیاء، کولڈ سٹوروں یا گوداموں والی اشیاۓ خوردنی، چیزوں کو خراب ہونے سے بچانے یا محفوظ کرنے والے کیمیکلز،  Asbestos، صنعتی و فضایؑ آلودگی، ارسینک، ریڈون گیس، بیکری کی مصنوعات، کولا مشروبات، آلودہ اشیاء، پیرافین وغیرہ سے بچیں۔ الغرض مصنوعی زندگی سے جتنا ہو سکے دور رہیں اور گھر سے بایر کے بنی ہویؑ چیزیں اپنے اوپر حرام کر لیں۔ یاد رکھیں کہ کویؑ بہت پرانا ذخم آہستہ آہستہ کینسر میں بدل سکتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں پلاسٹک کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے یہ بھی کینسر کا باعث بنتا سکتا ہے۔ اگر مونگ پھلی اور اناج زیادہ عرصہ کے لیے پڑے رہیں تو انکو پھپھوندی لگ جاتی ہے جس میں ایفلاٹاکسن بن جاتا ہے جو جگر کا سرطان کرتا ہے۔ ہایؑڈروجن اور کاربن کے بعض مرکبات کینسر کے باعث بنتے ہیں یہ کیمیکلز پیٹرول، مٹی کے تیل اور ڈیزل وغیرہ میں پاۓ جاتے ہیں۔

گلٹی کیسے بنتی ہے؟ صحت مند خلیات اپنے اوپر حملہ کرنے والے خلیات کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے نتیجے میں وہاں ڈھیلہ یا گلٹی سی بن جاتی ہے۔ بعض اوقات عام خلیات کسی سبب کی وجہ سے اپنی قدرتی نشونما اور قدرتی عمل سے عاری ہو کر بےقابو ہوجاتے ہیں اور خودسر ہو کر اپنے ساتھ والے خلیات کو خراب کرنا شروع کر دیتے ہیں اور کینسر شروع ہو جاتا ہے۔

علامات

پیشاب میں دشوری یا زور لگانا، پیشاب زیادہ آنے کا احساس بوجہ دباؤ مثانہ، پیشاب کے دوران درد، پیشاب میں خون آنا، تھکاوٹ، کمزوری، بھوک میں کمی وغیرہ۔

تشخیص

  • ڈیجیٹل ریکٹل ایگزامینیشن (ڈی آر ای)
  • خون کے پی ایس اے ٹیسٹ
  • ٹرانس ریکٹل الٹرا سأونڈ اسکین
  • بیاپسی
  • ایم آر آیؑ

غزا و پرہیز

بار بار استعمال کیا جانے والا تیل یا گھی، سیال پیرافین، سمارٹ کرنے والی غزاییؑں، حیاتین ای کی کمی، آیؑرن کے زیادہ استعمال سے، اسپرین، فیونوباربیٹون، کارٹیسون سے بچیں۔ اسکے علاوہ جملہ ہاۓ اجسامِ بدنی کو تندرست رکھیں۔ خدا کی زات پر قامل یقین رکھنے سے قوتِ معدافیعت بڑھتی ہے۔ Properdine اور میگنیشیم کا استعمال کریں۔ مصنوعی کھاد سے فصلوں میں میگنیشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔

علاج

  • پہلی سٹیج میں ریڈیو تھراپی اور ہارمونل تھراپی سے کامل لیا جاتا ہے۔ دوسری اور تیسری سٹیج میں سرجری، کیموتھراپی اور مسکن ریڈیوتھراپی کی جاتی ہے۔
  • یہ بات باۓ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ حیاتین 2 (رایؑبوفلاوین) کینسر کو روکتی ہے تو کوشش کریں کہ پھلوں سبزیوں سے حاصل ہوں۔ اسکے علاوہ خمیر، دہی، کلیجی، گردے، گندم، سویابین، مونگ پھلی، تازہ دودھ۔ جبکہ کچھ مقدار میں کھجور، بادام، انڈے اور پالک میں بھی پایؑ جاتی ہے۔ اسکی روزانہ مقدار 2ملی گرام ہے۔ نیچے چارٹ دیا گیا ہے۔ نوٹ کریں کہ کثرتِ چکنایؑ، شراب نوشی، حمل، سرجری، دودھ پلانے، جل جانے، سبزیوں کو ابلنے، انٹی بایوٹک، میٹھا سوڈا ڈالنے، معدہ کی تیزابیت کو دور کرنے والی ادویات سے یہ ضایؑع ہو جاتی ہے۔

پراسٹیٹ کینسر Prostate Cancer

  • اگر کسی کو کینسر ہو گیا ہے تو 10 گرام وٹامن سی صبح و شام کھایں۔ اور بچنے کے لیے بھی یہ وٹامن لیتے رہیں۔
  • وٹامن اے سے بھرپور خوراک لیں مثلاً گاجر، مچھلی کا تیل، پالک، خشک خوبانی، انڈا، پنیر، مکھن، بندگوبھی، دودھ وغیرہ۔

 

 

 

 

 

 


انتسابات

  • میکمیلن کینسر سپورٹ Macmillan Cancer Support
  • امریکن کینسر سوسایؑٹی American Cancer Society

Comments are Closed