آتشک کا علاج Treatment Syphilis

2015 تک پوری دنیا میں 4 کروڑ 54 لاکھ آتشک کے مریض تھے جن میں سے 1 لاکھ 7 ہزار اس مرض کے ھاتھوں مارے گۓ۔ آتشک ایک بیکٹیریا Treponema pallidum سے پھیلنے والا متعدی جنسی مرض ہے جو کہ مباشرت سے پھیلتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ حاملہ ماں سے بچے کو بھی ہو سکتا ہے۔ اسکے تین درجے ہوتے ہیں جبکہ تیسرے درجے میں علاج بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آتشک صرف جنسی اعضاء میں ہوتا ہے یہ جلد کے کسی بھی حصے پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ بھی ایک جلدی مرض ہے۔ جس میں جلد کے اوپر سوراخ کو جاتا ہے جسے السر کیہ سکتے ہیں۔ اگر مرض کافی پرانا ہو جاۓ تو آتشک کا علاج Treatment Syphilis بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

آتشک کا علاج Treatment Syphilis

مفید معلومات

  • یہی بیکٹیریا تین اور بیماریاں بھی پیدا کرتا ہے جو کہ جنسی تعلق سے نہیں پھیلتی۔

  • امریکہ میں قانون ہے کہ جو بھی حاملہ ہے اسکا آتشک ٹیسٹ ضرور کیا جاۓ۔

  • انگریزی ادویات سے بخار، سردرد، عضلاتی درد اور دیگر عوارض لاحق ہو سکتے ہیں۔ البتہ پینسیلین کے ٹیکے کافی کارآمد ہیں۔ مگر پرانا آتشک جوڑوں، دل اور دماغ کی بیماریوں کی شکل میں موجود رہتا ہے۔

  • 2015 میں کوبا پہلا ملک تھا جس نے ماں سے ہونے والے بچے کو آتشک سے مکمل محفوظ ملک بنا لیا۔

  • آتشک میں چونکہ مادہ رستا رہتا ہے اس لۓ یہ کسی دوسرے کو ہو سکتا ہے۔

  • 44٪ عورتوں کو آتشک سرویکس پر ہوتا ہے۔

  • جبکہ مردوں میں 95٪ اعضاۓ تناسل پر ہوتا ہے۔

  • 34٪ آتشک ان مردوں کو بھی ہو جاتا ہے جو ہم جنس پرست ہیں۔

  • 90٪ آتشک کے مریضوں کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہوتا ہے۔

  • ہر سال 16 لاکھ حمل اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

  • ترقی یافتہ ممالک میں آتشک ان ممالک میں زیادہ ہوتا ہے جو ہم جنس پرست ہیں۔

  • سب سے پہلے یہ بیماری یورپ کے ملک فرانس میں 1495 میں دریافت ہویؑ۔ وجہ شایؑد گندہ رہنا تھا۔ جبکہ کہا جاتا ہے کہ  1991 میں کولمبس کے ساتھی امریکہ عورتوں سے یہ مرض ہسپانیہ (Spain) لاۓ۔

  • آتشک فارسی نام ہے جو آتش سے نکلا ہے جس میں متاثرہ حصہ زہر سے جل جاتا ہے۔

  • یہ مرض بہاڑی اور کشمیری علاقوں میں اکثر شایؑد اس لیے پایا جاتا ہے کہ وھاں لوگ نہاتے نہیں ہیں۔

  • رطوبت سے مچھلی سی بو آتی ہے۔

  • عورتوں سے زیادہ مردوں میں مرض شدید ہوتا ہے۔

  • مردانہ امراض میں سب سے مہلک اور تباہ کن آتشک اور سوزاک ہیں۔

  • پرانی طبی کتب میں اسکا زکر نہیں ملتا لہزا زیادہ پرانا مرض نہیں ہے۔

تشخیص

عام بلڈ ٹیسٹ سے شناخت کی جا سکتی ہے۔ اگر اعضاۓ تناسل پر ہو تو ماہر معالج پہچان لیتا ہے اگر جلد کی کسی دوسرے حصے پر ہو تو کینسر کی طرح لگتا ہے جبکہ یہ کینسر نہیں ہوتا اور نہ بن سکتا ہے۔

اسباب

چونکہ یہ ایک متعدی مرض ہے اور اسکی متاثرہ رطوبت سے بچنا چاۓ۔ یہ ضروری نہیں کہ صرف جنسی تعلق سے ہو۔ یہ متاثرہ برتن مین کھانے پینے، بوسہ لینے، ھاتھ لگانے، کپڑے پہننے، دایہ کو، خون منقلی سے ہو سکتا ہے۔ فاحشہ عورتوں سے جو متاثر ہوں۔ دیگر اسباب میں گندہ رہنے اور کثرت مجامعت سے ایسے زخم ہو سکتے ہیں۔ بعض دفعہ خنازیری مزاج والے عصبی طبعیت والے اور زود رنج اسکا شکار جلد ہو جاتے ہیں۔

آتشک کا علاج Treatment Syphilis

بچاؤ

جنسی تعلق کنڈوم سے کیا جاۓ جبکہ حاملہ کا ٹیسٹ ہونا چاۓ بالکل ایسے جیسے کہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں قانون موجود ہے۔ اپنے اعضاۓ تناسل کا خود معاینہ کر لیں اگر خشکی محسوس ہو تو سرسوں کا تیل لگا لیں۔ کیونکہ بعض مرد مباشرت کے بعد قضیب کو صیح طرح نہیں دھوتے جسکی وجہ سے وہ خشک ہو کر زخم بنا دیتا ہے۔ یہ آتشک نہیں ہے۔ مناسب طہارت کیا کریں۔ حاملہ سے نومولود بچے کا مواد سخت متعدی ہوتا ہے کیونکہ بچہ تو احتیاط نہیں کر سکتا۔ یہ متاثرہ منہ، ناک یا جسم کے کسی حصہ سے دایہ یا کسی اور کو منتقل ہو سکتا ہے۔

علامات

پیشاب کی نالی میں زخم پڑ جاتے ہیں جسکی وجہ سے پیشاب لگنے سے جلن ہوتی ہے۔ رات کو وقت انتشار کی وجہ سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اسکی تین سٹیج ہوتی ہیں پہلی سٹیج میں جلد پر کہیں بھی ایک یا زایؑد سوراخ کو جاتے ہیں جن میں کویؑ خارش یا درد نہیں ہوتا۔ اور اسے انسان پسِ پست ڈال دیتا ہے۔ اسکی علامات 2-3 ہفتے میں نمودار ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات اگر قوت معدفعت مظبوط ہے تو خودبخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ دوسری سٹیج میں یہ پھیل کر اندرونی سطح پر چلا جاتا ہے اور کسی دوسرے حصے میں بھی ہو جاتا ہے۔ دوسرے سٹیج 1-2 ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔ جبکہ حیرت انگیز طور پر بعض لوگوں کو براہ راست دوسری سٹیج سے شروع ہو سکتا ہے۔ تیسری سٹیج میں یہ زخم گہرے گڑھے کی صورت دھار لیتے ہیں۔ اس سٹیج پر پہنچنے سے قبل یہ دب جاتا ہے۔ یہ سٹیج عموماً 3 سال سے 15 سال بعد شروع ہوتی ہے۔ یہ سٹیج اس وقت شروع ہوتی ہے جب دوسری سٹیج کا مناسب علاج نہ کروایا جاۓ۔

دیگر علامات میں بخار، گلہ خراب، وزن میں کمی، بال گرنا، سر درد شامل ہیں۔ دخول کے دوران گرمی محسوس ہو۔ فرج کے لب موٹے ہوتے ہیں۔ اگر آزمانہ ہو تو لیموں کے چند قطرے اندام نہانی میں کپڑے سے ڈال کر دیکھیں کافی چیخیں نکلیں گیں ایسی عورت جماع کے قابل نہیں ہوتی۔

پرہیز و غزا

مرد حضرات کو باہر کھلے میں پیشاب میں احتیاط برتنی چاۓ کہ کہیں متاثرہ شے سے عضو صاف تو نہیں کر لیا۔ بہت گرم اور تحریک دینے والی اشیاء کی کثرت۔

علاج

  • اگر مرض 1 ہفتے سے زیادہ پرانا نہ ہو تو کاسٹک یا شورے کے تیزاب (nitric acid) سے جلا سکتے ہیں۔ مگر احتیاط کریں یہ تیزاب بہت تیز ہوتا ہے اور خود سے کویؑ کام نہ کریں۔ اگر زخم پرانا ہو گیا ہو اور اس میں سوزش ہو تو یہ طریقہ کام نہیں آۓ گا۔

  • دو تولہ tannic acid ،ractified spirit تین تولہ، پانی 6 تولہ میں ملا کر رکھ لیں اور رویؑ کی مدد سے زخم پر لگایں۔

  • انگریزی دوا پینسیلین سے شافی علاج ہو جاتا ہے۔

  • کشتہ نیلا تھوتھا: 1 تولہ نیلا تھوتھا لیں۔ ریٹھے کا چھلکا پاؤ بھر نگدی بنا لیں اور اسکے درمیان نیلا تھوٹھا چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے رکھیں۔ اس کو مٹی کے دو پیالے میں رکھ کر مٹی اور کپڑا لگا کر بند کر دیں۔ 100 اپلوں کی آگ دیں جب ٹھنڈا ہو جاۓ تو نکال کر دیکھیں اگر دہی میں اسکی ایک تیلی ڈالنے سے رنگ چھوڑے تو دوبارہ اسی طرح آگ دیں۔ مقدار خوراک: 2 چاول کیپسول میں ڈال کر عرق، چرایؑتہ کے ساتھ دیں۔ (بشکریہ حکیم سیف اللہ سیکھو)

 

 


ماخوذ

  • وکی پیڈیا
  • دافع آتشک و سوزاک 1896
  • جنسی امراض اور انکا علاج از حکیم سیف اللہ سیکھو

Comments are Closed