ضعفِ باہ Week Sperm

ایک دفعہ کے اخراج میں 3،5 ملی لیٹر سیمن خارج ہوتا ہے جس میں 40 کروڑ سے 1 ارب سے زایؑد سپرم خارج ہوتے ہیں۔ اسکے برعکس عورتیں پوری زندگی میں 300 سے 400 بیضے خارج کرتی ہیں۔ ضعفِ باہ Week Sperm میں سپرم اور سیمن کی طاقت بڑھانے سے متعلق تفصیل یہاں بیان کی جاتی ہے۔ سپرم کو منی جبکہ سیمن کو مذی کہتے ہیں۔

سپرم کم سے کم 5 منٹ اور زیادہ سے زیادہ 3 دن میں بیضہ کو بارآور کر سکتے ہیں۔ کیونکہ 3 دن سے زیادہ فلوپین ٹیوبس میں رہ نہیں سکتے۔ اسکے لیۓ بیضہ کو بھی بیضہ دانی سے نکل کر ٹیوب میں آنا پڑتا ہے اور اس عمل میں بھی زیادہ سے زیادہ 7 دن تک لگ سکتے ہیں مگر عموماً جلد بیضہ آ کر ٹیوب میں چپک جاتا ہے۔

سپرم کی تشکیل خصیوں میں ہوتی ہے۔ جسم کے ہر عضو کا اپنا درجہ حرارت ہوتا ہے اسی طرح خصیوں کا درجہ حرارت تھوڑا کم ہوتا ہے۔ اسی لیے بیکری مزدور اور ٹرک ڈرایؑور کے نطفے کم ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جنکے نطفے کم ہوتے ہیں انکے ھاں بیٹیوں کی پیداؑیش زیادہ ہوتی ہے۔ کمپوٹر پر زیادہ کام کرنے والوں کے ھاں بھی بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں جبکہ سایؑنس اسکو نہیں مانتی۔ بہرحال اپنے خصیوں کو بدن کے درجہ حرارت سے ٹھنڈا رکھیں۔ اسکا سب سے اچھا طریقہ استنجا کرنا ہے۔

اسباب

ضعفِ باہ کے اسباب بھی وہی ہیں جو نامردی کے ہیں۔ اسکے علاوہ دیگر اسباب میں

  • نفسیاتی (95٪)
  • سر، خصیوں اور ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ
  • شوگر اور کولیسٹرول
  • دل، جگر اور گردوں کی بیماریاں
  • دورانِ خون اور خون کی نالیوں کی تنگی
  • جوڑوں کا درد
  • جنسی ھارمون کی کمی بیشی
  • تھایؑ رایؑڈ غدود
  • پراسٹیٹ کا کینسر
  • درد و خوف
  • انگریزی ادویات جیسے درد دور کرنے والی، بلڈ پریشر، انٹی بایوٹکس، ڈپریشن اور معدے کی بعض ادویات
  • تمباکو و شراب نوشی، نشہ آور
  • موٹاپا
  • پیدایؑشی یا جینیاتی

سپرم کا پتلا گاڑھا ہونا

عضو کی جسامت کے بعد نوجوان سب سے زیادہ سپرم کے پتلا ہونے کے بارے میں پریشان ہوتے ہیں۔ نیم حکیم اسکو بھی مرض بنا کر ڈراتے اور پیسے بٹورتے ہیں۔ خصیۓ دو کام کرتے ہیں ایک ٹیسٹوسٹران ہارمون بناتے ہیں جو مردانہ صلاحیتیں پیدا کرتا ہے۔ دوسرا کام سپرم بناتے ہیں جو نسل انسانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ لہذا سپرم کا پتلا یا موٹا ہونا کچھ ضروری نہیں ہے اور نہ اس سے سرور میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے۔ البتہ اگر اخراج رحم کے منہ کے پاس ہو تو بیٹا ہونے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ بیٹے والے کروموسوم زیادہ حرکت پزیر ہوتے ہیں مگر تادیر بیٹی والے رہتے ہیں۔

یہ بھی یاد رکھیں سیمن پیشاب اور پاخانے کی طرح ناپاک نہیں ہوتی کیونکہ اس میں پروٹین اور شوگر ہوتی ہے جو کہ سپرم کی خوراک ہوتی ہے۔ یہ بھی جہالت ہے کہ 100 قطرے گھی کے 1 قطرہ خون کا اور 100 قطرے خون کے ایک قطرہ منی کا۔ اگر کسی نے خون کی بوتل عطیہ دی ہو تو وہ عام روٹی سے بھی خون کی کمی پوری کر لیتا ہے۔ لہذا یہ محض خام خیالی اور جہلاء والا قول ہے۔ اگر یہ سچ ہوتا تو ایک بار کے انزال سے 500 ملی لیڑ خون نکل جاتا جو کہ ایک بوتل خون کے برابر ہے۔ قرآن نے اسے غلیظ کہا ہے۔ جتنی تھوک بنانے میں طاقت صرف ہوتی ہے اتنی ہی منی بنانے میں لگتی ہے۔ (پروفیسر ارشد جاوید)

جریان کوئی بیماری ہی نہیں

پروفیسر ارشد جاوید کی کتاب “رہنماۓ نوجوانی” کے بقول نیم حکیم اسے بہت ہی خطرناک بیماری خیال کرتے ہیں اور نوجوان انکے چکر میں پڑ کر علاج پر ہزارورں خرچ کرڈالتے ہیں۔ جبکہ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ جریان کوئی بیماری ہی نہیں ہے بلکہ یہ urethral glands گلینڈ سے نکلی والی رطوبت (میوکس) ہے جو عموماً اس وقت نکلتا ہے جب فرد پیشاب یا پاخانہ کے لیے زور لگاتا ہے۔

علاجِ جریان

  • حکیم طارق محمود چغتایؑ نے ایک نسخہ بتایا ہے آپ ٹرائی کریں۔ 1 چھٹانک دانہ سبز الایؑچی، 1 چھٹانک میتھرے کے بیج۔ دونوں باریک پیس لیں۔ صبح شام آدھا چمچ دودھ یا پانی کے ساتھ۔ اسکے فوایؑد یرقان، شوگر، بلڈ پریشر، کمر ٹانگوں کا درد، پٹھوں کا کچھاؤ، جنسی امراض مردانہ و زنانہ، پرانی بواسیر، گیس قبض، بادی تبخیر معدہ، فالج، دماغی و اعصابی کمزوری۔

  • سپرم زیادہ کرنے کے لیے یہ کھیر بنایں۔ چاروں مغز 4 تولہ، خرونچی، مغز بادام و پستہ، دار چینی، ثعلب ستاور، کونج کے بیج، موصلی سفید، سونف، دال ماشی گھی میں بھنی ہویؑ، بھوسی اسپغول ہر ایک 1 تولہ۔ زعفران، عنبر، کستوری ہر ایک 3 ماشہ۔ تمام ادویات کا اہتمام سے سفوف بنا کر 1 تولہ لیں اور ڈیڑھ پاؤ گاۓ کے دودھ میں نرم آنچ پر پکایں۔ جب کھیر سی بن جاۓ تو اس میں گاۓ کا گھی1 تولہ ملا کر کھایں۔ دبلے موٹے، چہرہ سرخ اور دیرج بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ گاڑھا ہو جاتا ہے۔ سرعت انزال کے لیے بھی نافع ہے۔

  • نہایت آسان اور سستا علاج ہے۔ 6 ماشہ موصلی سفید ڈیڑھ پاؤ گاۓ کے دودھ میں شکر ڈال کر پکایں جب گاڑھا ہو جاۓ تو فریج میں رکھ کر ٹھنڈا کر کے کھایں۔

  • معجونِ خاص: مازو سبز، موصلہ سنھبل، موصلی سفید و سیاہ، مصطگی، خار خشک خورد، کمرکس، گل سپاری، گل دھارا، گل پستہ، گوند ببول بریاں، بنسلوچن اصلی، بہمن سرخ، بہمن سفید، تخم تلمکھانا، پوست کوکنار، مغز تخم کوچ بریاں، دانہ الایؑچی خورد، چکنی چھالیہ، بوپھلی، کزماج، مغز تخم املی، ہر ایک 1 تولہ۔ ثعلب مصری، شقاقل مصری ہر ایک 2 تولہ سفوف تیار کریں۔ شکر 3 پاؤ اور شہد 1 پاؤ کا قوام تیار کریں۔ اور ملا کر معجون بنا لیں۔ صبح شام 1-1 تولہ ہمراہ گاۓ کا دودھ۔ سرعت انزال، جریان، احتلام، رقتِ منی، ضعفِ باہ کیلیۓ خاص ہے۔ (کتاب جنسی امراض از ڈاکٹر مجید احمد ناروی)

  • مقویاتِ و مولد باہ: شلجم، پیاز، مولی، فندق، بادام، خرما، چرونجی، پستہ، تخم قرطم، سورنجاں شیریں، کچی پیاز، بہمن، بوزیدان، حب الزلم، ناریل، السی، مکھانا، تودری سفید، زعفران، مہوا، گل چکاں، دودھ، چلغوزہ، ثعلب مصری، شقاقل مصری، خولنجاں، بہمن، گوگھرو، بوزیدان، موصلی سفیدوسیاہ، کنجد مقشر، ھالون، عاقرقرحا، تخم گندنا، تخم پیاز، تخم گاجر، سونٹھ، چھڑیلہ، باقلا خشخاش، اندرجو، مشک، دارچینی، تخم کونچ، گوشت اندرجو شیریں کنجشک، گوشت تیتر، رکگ ماہی، ماہی روبیان مچھلی، گوشت مرغ، بیضہ مرغ، گوشت کبوتر، گھی وغیرہ (کتاب المفردات)

  • باہ کو ضرد دینے والی اشیاء: تلسی، کاسنی، کاہو، دھنیا، مکو، بیخ نیلوفر، عناب، جڑ بنفشہ، کالی خشخاش، تخم سنبھالو، لیموں، نمک، تھنڈا پانی، چوکا، کافور، بڑحل، املی، آلوبخارا وغیرہ۔ (کتاب المفردات)


ماخوذ

  • سرعتِ انزال از پنڈت ٹھاکر شرما
  • جنسی امراض از ڈاکٹر مجید احمد ناروی

Comments are Closed