عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

درجِ زیل میں عورتوں کے بیماریوں Women Sexual Diseases خاص طور پر جنسی مسایؑل کی تفصیل اور انکا حل بیان کیا گیا ہے۔

  1. لیکوریا
  2. پستان کا چھوٹا بڑا ہونا
  3. حمل کے امراض
  4. اسقاطِ حمل (ضبطِ اولاد)
  5. درد کے بغیر بچہ کی پیدایؑش
  6. حیض کے امراض
  7. رحم کی خارش و ورم
  8. اختناق الرحم (ہسٹیریا)
  9. شرمگاہ کی خارش
  10. بانجھ پن
  11. پڑھاپا اور جنسی زندگی
  12. اٹھرہ
  13. آرگیزم
  14. ہم جنس پرستی
  15. بلوغت کے ہارمون
  16. شادی کے مسایؑل
  17. ورزشیں جو جنسی قوت کو بڑھاتی ہیں

صرف عورتوں میں ہونے والے کینسرز

1۔ لیکوریا (Leukorrhea)

سب سے عام پایا جانے والا مرض ہے۔ اسے سیلانِ رحم اور ہندی میں سوم روگ بھی کہتے ہیں۔ اس مرض میں سفید یا پیلا پانی شرمگاہ سے آتا ہے۔ عام حالت میں تھوڑی رطوبت کا نکلنا کیؑ بیکٹریا سے بچاتا بھی ہے مگر زیادہ مقدار میں خارج ہونا مسؑلہ ہے۔ مردوں کے جریان کی طرح کا مسؑلہ ہوتا ہے۔ یہ عموماً تین وجوہات سے ہوتا ہے یہی تین اقسام بھی ہیں۔ تھوڑی مقدار میں رطوبت نکلنا کویؑ مسؑلہ ہی نہیں ہے اسکے لیے نیچے علامات پڑھیں۔

  • انفیکشن
  • سخت ورزش
  • ایک طفیلیہ trichomonads کی وجہ سے۔

اسباب

  • مرطوب غزاؤں کا کثرت استعمال اور تحریک والی اشیاء۔
  • اسٹروجن ہارمون کا بیلنس خراب ہونا۔
  • قبض۔
  • انفیکشن (yeast)
  •  STDs
  • ٹیوم یا کینسر۔
  • حمل کے دوران۔
  • جنسی تحریک۔
  • سوزاک, آتشک، نقرس۔
  • رحم کا ورم، رحم کا ٹل جانا۔

تشخیص

ٹیست کے زریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ رطوبت مٰیں سفید خلۓ 10 سے زیادہ نہ ہوں۔ یاد رکھیں سیلانِ رحم میں خفیف سی ورمِ رحم کی شکایت ضرور ہوتی ہے۔

پروفیسر ارشد جاوید کے مطابق اگر اندام نہانی سے قطرے نکل آیؑں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ بارتھولین غدود کی وجہ سے نکلتے ہیں۔ یا پھر جنسی اشتعال سے اور اسکا کویؑ نقصنا نہیں ہے۔ نیم حکیم حضرات نے اسکو بڑی بیماری بنا کر پیسہ کمانے کا زریعہ بنا رکھا ہے۔

علامات

سفید لیس دار رطوبت آتی ہے۔ مردوں کے برعکس اس میں بیضہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں میوکس، مردہ خلیات اور بیکٹیریا (Lactobacillus) موجود ہوتے ہیں جو فرج (vagina) کو تر اور دوسرے جراثیم سے محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ یہ فرج کی pH تیزابی بناۓ رکھتے ہیں۔ یہ رطوبت فرج کی اندرونی دیوار اور سرویکس مل کر بناتے ہیں۔ دیگر علامات میں کمزوری، کمزور جسم، زرد چہرہ، بلڈ پریشر کم، سر چکرانا، مختلف عورتوں میں مختلف مقدار میں خارج ہوتی ہے۔ Lactobacillus دہی میں بھی ہوتے ہیں اور ھضم میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا 1 ملی لیٹر رطوبت میں 1 کروڑ سے 10 کروڑ کے درمیان ہوتے ہیں۔ جبکہ سپرم 1 ملی لیٹر میں 15 لاکھ سے 2 کروڑ تک ہوتے ہیں۔ جو بچی ابھی بالغ نہیں ہویؑ ہوتی اسکی رطوبت میں کسی اور قسم کے بیکٹیریا ہوتے ہیں مگر وہ بھی اچھے بیکٹیریا ہوتے ہیں۔

یہ رطوبت بچے کی پیدایؑش کے بعد بھی ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ جب حیض ختم ہونے کی 14ویں دن بیضہ خارج ہوتا ہے تو بھی رطوبت بہت زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہے۔ چند دن بعد پروجسٹرون کے اخراج کو وجہ سے رطوبت نارمل ہو جاتی ہے۔

غزا و پرہیز

اسباب کے مطابق کریں۔ گرم اور تحریک دیینے والی غزایں جسا کہ گرم مصالحہ، سرخ مرچ، چاۓ کافی کا کثرت استمال، عشقیہ ناول، سب چیزوں سے اجتناب کریں۔ کھانے میں کیلا، تازہ پھل، مونگ، کرین بیری، دہی، زیرہ بھون کر کھایں۔ قبض نہ ہونے دیں۔ اس سے بچنے کے لے رات کو تھوڑے سا دودھ میں 2 چمچ روغنِ بادام ڈال کر پیؑیں۔ واک اور ورزش ہفتہ میں 4 دن کریں۔

علاج

  1. پہلے مقامی طور پر صاف کریں۔ چنانچہ پھٹکری سوختہ 2 ماشہ، کتھ سفید 4 ماشہ، پانی ڈیڑھ چھٹانک میں نیم گرم میں ملا کر فیملی سرنج کے ساتھ دھو لیا کریں۔ اسکے بعد گل دھاوا، موچرس، ثمر مولسری ہر ایک 6 ماشہ میں 2 تولہ چینی ڈال کر کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں اور 6 ماشہ یعنی 6 گرام صبح کو تازہ پانی کے ساتھ لیں۔ (حاذق)
  2. سنگِ جراحت 2 تولہ، مایؑں خورد، چنیاگوند اور لودھ پٹھانی 6-6 ماشہ، مصری 2 تولہ کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ 6 ماشہ صبح کو ہمراہ دودھ۔ (حاذق)
  3. کشتہ فولاد، طباشیر، کوڑی سوختہ، دانہ الایؑچی سبز، کشتہ صدف مرواریدی۔ ہر ایک 6 ماشہ کو آپس میں پیس کر سفوف بنا لیں۔ 4 رتی یعنی چاول کی مقدار صبح اور 4 رتی شام مکھن یا بالایؑ کے ساتھ 6 دن کھایں۔
  4. بھنے چنے، مصری، چندیا گوند، چھوٹی الایؑچی سب چیزیں حسبِ ضرورت سفوف بنا کر بوتل میں رکھ لیں۔ صبح شام 1-1 چمچ کھایں۔ مرض شدید ہو تو دو چمچ کھایں۔
  5. دو گلاس پانی میں 2 چمچ میتھی دانہ ڈال کر آدھے گھنٹہ ابال کر پی لیں۔
  6. تلسی کے پتوں کا رس اور شہد ہموزن ملا کیر پیؑں۔
  7. دس گرام سونٹھ 1 گلاس پانی میں اتنا پکایں کہ چوٹھایؑ رہ جاۓ۔ چھان کر 3 ہفتے استعمال کریں۔
  8. گل پستہ، مایؑں، نسپال ہر ایک 20 گرام کشتہ بیضہ مرغ 10 گرام سب کو کوٹ چھان لیں۔ 1 گرام صبح شام دیں۔
  9. موچرس، سپاری، طباشیر، تشاستہ، مازو سبز، گل سرخ، حبِ الآس، ہلیلہ، بلیلہ، آملہ، موصلی سفید، موصلی سیاہ، ہر ایک 2 تولہ، پوست انار 3 تولہ، آبِ بہی، آبِ ترش ہر ایک 10 تولہ، چینی اور شہید دواؤں کے ہموزن سے 3 گنا۔ سب دواؤں کو کوٹ چھان کر قوام بنا کر معجون بنا کر رکھ لیں۔ مقدار خوراک: صبح کو 1 تولہ ہمراہ دود یا پانی۔ (بیاض اجمل)
  10. حلواۓ سپاری پاک: یہ مردوں اور عورتوں کے جریان، احتلام، باہ کی طاقت، سیلانِ رحم، مردوں و عورتوں کے نامعلوم اندرونی بیماریاں اور اولاد کی محرومی دور ہو جاتی ہے۔ کافور 1 تولہ، تج، پترج، ناگیسر، موتھ، فلفل دراز، پودینہ، اجوایؑن خراسانی، الایؑچی خورد، ہر ایک ڈیڑھ تولہ، تالیس پتر، جوتری بنسلوچن، صندل سفید، فلفل سیاہ، بیر کی گٹھلی کا مغز، ہر ایک 2 تولہ، جایؑفل، زیرہ سفید ہر ایک 4 تولہ، بیخ بیدانجیر، گل نیلوفر، مغز پنبہ دانہ (بنولہ کا مغز)، تخم نیلوفر، لونگ، کشنیز، پیپلامول ہر ایک 5 تولہ، سنگھاڑا، ستاور ہر ایک 8 تولہ، مغز تخم کھرنی 9 تولہ، مغز چرونجی 18 تولہ، مغز پستہ اور مویز منٰقی 3-3 تولہ، سپاری دکھنی 2 سیر۔ کوٹنے والی ادویات کو کوٹ چھان لیں۔ پستہ اور چرونجی دونوں کی چھیل اور کوٹ کر رکھ لیں۔ منقٰی کا شیرہ نکال لیں۔ سپاری کے 4-4 ٹکڑے کر کے 20 سیر دودھ میں پکایں یہاں تک کے دودھ جزب دیں۔ پھر سپاری کو کوٹ چھان کر الگ رکھ لیں۔ پھر گاۓ کے گھی میں بھون کر 24 کلو چینی کے قوام میں حلواہ بنا لیں۔ (حکیم اجمل دھلوی)

 


 

2۔ حیض کے امراض

حیض کے بارے فرمانِ نبویﷺ ہے کہ “یہ وہ شے ہے جسے اللہ نے آدم کے بیٹیوں میں مقرر کیا ہے“۔ اصولی طور پر کم سے کم 15 دن گزر کۓ ہوں اور 3 دن سے کم نہ ہو، 19 دن سے زیادہ نہ ہو۔ مقدار میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ رنگ کے لحاظ سے 6 رنگ ہیں سرخ، سیاہ، زرد، گدلا، مٹیالا۔ جبکہ کم سے کم عمر 9 سال سے 12 سال کے درمیان ہے۔ بالعموم 55 سال کے بعد حیض آنا رک جاتا ہے اسے سن یاس کہتے ہیں۔ فطرتاً خون اس لیے آتا ہے کہ حمل نہیں ٹھہرا اگر حمل قرار پا جاۓ تو یہی خون بچے کی دودھ اور غزا میں کام آتا ہے۔

کثرتِ حیض heavy menorrhea

اسکو استحاضہ اور کثرتِ طمث یعنی ایام کی زیادتی بھی کہتے ہیں۔ اس میں حیض کا خون زیادہ اور بے قاعدگی سے آتا ہے۔ مثلاً پانچ دن خون آتا تھا اب 7 دن آ رھا ہے۔ اور بے قاعدگی سے مراد مقررہ وقت سے آگے پیچھے ہو جانا۔

اسباب: گرم، مصالحہ دار غزاؤں کا کثرت استعمال، صفراء بڑھ کر خون کو پتلا کردیتا ہے، زیادہ اچھل کود، زینہ چڑھنا، خون کی زیادتی، ایام کے دوران مجامعت۔

علامات: کمزور بدن، نبض تیز، پیاس، زرد چہرہ، ایام میں تکلیف و جلن، اعضاۓ ریؑسہ کی کمزوری۔

علاج: سنگِ جراحت 2 تولہ، مایؑں خورد، چنیاگوند اور لودھ پٹھانی 6-6 ماشہ، مصری 2 تولہ کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں۔ 6 ماشہ صبح و شام کو ہمراہ دودھ۔ (حاذق)

ماھوری کے دنوں میں ناف میں تیل لگا لیا کریں۔ پیٹ اور کمر درد میں افاقہ ھو گا۔

 

حیض کا کم یا بند ہو جانا amenorrheaa/dysmenorrheaa

اس میں حیض کم یا بالکل نہیں آتا ہے۔ اسے عربی میں عسر الطمث یا احتباس الطمث بھی کہتے ہیں۔ خون صرف اس وقت بند ہوتا ہے جب حمل قرار پا جاۓ کیونکہ وہ خون جنین کی پیدایؑش میں استعمال ہوتا ہے۔

اسباب: سردی لگنا، بارش میں بھیگنا، کثرت مجامعت، رنج و غم، خون کی کمی، نقاہت، کسی اور بیماری کی وجہ سے، جگر و گردے کی بیماری کی وجہ سے، غلیظ غزایؑں (جو سودا و صفراء پیدا کریں) کھانے سے اور موٹاپے سے یہ مرض ہو سکتا ہے۔ دیگر اسباب میں جب لڑکیاں بہت زیادہ ورزش کر کے اپنے وزن کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ کھچھ انگریزی ادویات جیسے کہ Anti-psychotic اور مانع حمل سے بھی مسؑلہ ہو سکتا ہے۔ نشہ کرنے سے جیسا کہ ہیروین۔ دودھ پلانے کے 6 ماہ تک حیض کا خون بند ہو سکتا ہے۔

علامات: مریضہ کے ہوش قایؑم نہیں رہتے کیونکہ جس غلیظ خون کو نکلنا تھا وہ بدن کے اندر ہے۔ شروع جوانی میں بعض اوقات 2 یا 3 ماہ بعد حیض کا خون آیا کرتا ہے۔ پھر بعد میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔

علاج: اگر مریضہ فربہ ہو تو دو دن پہلے مسہل دیں پھر رایؑ کا سفوف پانی کے ٹب میں ڈال کر 15 منٹ بٹھایں، اگر سردی یا بھیگنے سے ہو تو بھی یہی عمل کریں۔ اگر کمی خون یا عام جسمانی کمزوری کی وجہ سے ہو تو کشتہ فولاد 1 قرص، دواء المسک معتدل جواہر والی 5 ماشہ اور شربت فولاد 3 چمچ صبح شام یہ ادویات دیں ساتھ مقوی مگر زود ہضم غزایؑں دیں۔ دوسرا نسخہ یہ ہے کہ معجون سپاری پاک 7 ماشہ روزانہ کھلایں۔ اگر سیلانِ رحم کو وجہ سے ہو تو مناسب علاج کرنا چاۓ۔ (حاذق)


 

2. رحم کے امراض Uterus Diseases

1. ورمِ رحم Endometritis

کبھی رحم اپنی جگہ سے ہٹ کر سامنے یا پیچھے جھک جاتا ہے۔ اور کبھی سرویکس میں ورم آ جاتا ہے۔

اسباب: رحم کی چوٹ، معایؑنہ کے دوران زخم، ٹی بی، chlamydia, STD استقاطِ حمل اور مباشرت کے دوران بے ڈھنگے طریقے آزمانہ، وضع حمل کے 10 دن میں ہو سکتا ہے لہزا احتیاط کریں۔

علامات: پیڑو اور کمر نچلے پیٹ میں درد، چلنے پھرنے میں تکلیف، بخار، رطوبت کا اخراج لیسدار رطوبت کا آنا، تکلیف دہ مباشرت و ایام، چھونے سے رحم دبیز یا پلپلا ہونا، دورانِ جماع تکلیف، پیشاب میں رکاوٹ، دست، نفخ پیٹ۔ جب شکایت پرانی ہو جاۓ تو رحم میں زخم اور سیلانِ رحم کی شکایت ہو جاتی ہے۔

ورمِ رحم کا مناسب علاج نہ کیا جاۓ تو بانحھ پن، اسقاط، پیدایؑش میں مسایؑل اور رحم میں پیپ پڑ سکتی ہے۔

علاج:

  1. اردجو، تخم خطمی، گل خطمی، رسوت، صندل سرخ، ہر ایک 6 ماشہ، مغز فلوس خیار شنبر 9 ماشہ ان سب کو حسبِ ضرورت آب مکوہ سبز اور آب کاسنی سبز میں پیس کر بقدر ضرورت اندام نہانی میں احتیاط سے رکھوایں۔ (حاذق)۔
  2. گل بنفشہ، بیخ کاسنی، بادیان، تخم خیارین ہر ایک 7 ماشہ۔ مویز منقٰی 9 ماشہ، گاؤزبان اور عنب الثعلب خشک دونوں 5-5 ماشہ سب کو رات نیم گرم پانی میں بھگو کر صبح مل چھان کر خمیرہ بنفشہ 4 تولہ اور گلقند 4 تولہ میں ملا کر پلا دیا کریں۔ (حاذق)۔
  3. نرسل کی جڑ 2 تولہ لے کر آدھا سیر پانی میں جوش دیں جب آدھا پاؤ رہ جاۓ تو صبح شام چھان کر پلایں۔

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

2. رحم کا ٹل جانا Retroverted Uterus

بہت زیادہ اچھل کود کی وجہ سے اکثر رحم اپنے جگہ سے ہٹ کر مثانے کی طرف جھک جاتا ہے۔ ہر 5 میں سے 1 خاتون کا رحم تلی کی طرف ٹل جاتا ہے اور یہ ایک نارمل مسؑلہ ہے۔

اسباب: اچھل کود، پیلوک سرجری، دردِ زہ، رسولی۔

تشخیص: اندرونی الٹراساؤنڈ، معایؑنہ،

علامات: مباشرت کے دوران درد، ایام میں تکلیف،

علاج: اسکے علاج کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔  کچھ خاض ورزشیں کریں تفصیل دیکھیں.

 

3۔ رحم میں جربی کا بڑھ جانا

جو عورتیں عیش و عشرت کی زندگی گزارتی ہیں اور کام کاج اپنے ھاتھ سے نہیں کرتی انکے جسم میں جربی بڑھتی ہے تو رحم کی خون کی نالیاں بھی تنگ ہو جاتی ہیں جنکی وجہ سے خونِ حیض کھل کر نہیں آتا۔ اگر فرہبی اس قدر برھ جاۓ کہ توند نکل آۓ تو حمل قرار نہیں پاتا۔

علاج: خوراک میں چربی اور چینی کم کریں۔ ورزش سے جسم کا وزن کم کریں۔ یوگا کریں۔ واک کریں۔

 

4. اختناقِ رحم Hysteria

یہ بہت عجیب مرض ہے۔ اسکو مرض نہیں علامت کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ عام طور پر ہسٹیریا سے مراد غم، خوشی، جزبات، غصہ، بد تمیزی، حیرانی وغیرہ جیسی کیفیات کو کہتے ہیں۔ مگر یہاں خواتین کا ہسٹیریا بیان کیا جاتا ہے۔ ویسے مردوں میں بھی یہ کیفیت پایؑ جاتی ہے۔ اسکو انگریزی میڈیکل سایؑنس کویؑ مرض نہیں مانتی، اور اسکو نفسیاتی مسؑلہ گردانتی ہے۔

اسباب: اسکی دو وجوھات ہیں۔ ایک تو غم و غصہ، وقت پر شادی نہ ہونا یا شوہر کی عدم توجہ، اسکی وجہ حیض میں رکاوٹ یا تکلیف سے آنا، دایؑمی قبض کے ساتھ نفح، اور اپنے پیاروں کے بے اعتنایؑ۔ دودری وجہ احتباسِ منی ہے جس میں عشقیہ ناول، عشق میں مبتلا ہونا، شادی کی عمر سے لیٹ ہونا، جنسی خواہشات کو دبانا، جب بیضہ خارج ہوتا ہے تو اس وقت ھارمون کی وجہ سے طبعیت کو قدرتی طور پر مرد کے نطفے کی ضرورت پڑتی ہے اس وقت دورہ شدید ہوتا ہے۔ کثرت شراب نوشی کرنے والوں کے بچوں کو یہ مرض لاحق ہو سکتا ہے۔

علامات: یہ مرض دورہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ دورہ چند منٹ سے لے کر بعض دنوں تک رہ سکتا ہے۔ معدہ سے ایک گولہ سا اٹھ کر گلے کی طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے جس سے سانس گھٹتا اور سانس میں تنگی محسوس ہوتی ہے۔ جہلا اسکو آسیب کہتے ہیں۔ بدن کو نوچنا، پستر پر نڈھال لیٹنا وغیرہ۔

علاج: مناسب وقت پر شادی کر دیں۔ اور نفح کے لیے پودینہ، لیموں، تھوڑا سا نمک سیاہ، اور تھوڑی سی چینی مکسر میں ڈال کر جگ میں برف ڈال کر پلایں۔ انزال کے لیے فرفیون اور اور فلفل سیاہ دونوں کو پیس کر چتکی بھر اندام نہانی میں رکھیں۔ اگر بندش حیض کی وجہ سے ہو تو اسکا علاج کریں۔ دورہ کے وقت سرد پانی کے چھینٹے ماریں لہسن پیاز سنگھایں۔ ہینگ 1 ماشہ، بالچھڑ 2 ماشہ، گل بابونہ 2 تولہ، اصل السوس 1 تولہ باریک پیس کر پانی کے ساتھ چنے برابر گولیاں بنا لیں 1-1 گولی دن میں 3 بار دیں۔

پریہز و غزا: بادی، دیر ھضم، ثقیل، تبخیر پیدا کرنے والی غزا نہ دیں۔ تحریک کرنے والی خوراک اور اشیاء ہٹا لیں۔


 

3۔ بانجھ پن Infertility

اسکی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ایک پیدایؑشی اور دوسری بعد میں ہونی والی۔ پہلی کا علاج نہیں جبکہ دوسری کا علاج ہوتا ہے۔ بانجھ پن کی بے شمار وجوھات ہو سکتی ہیں۔ ٖجنوبی ایشیا، افریقہ، مڈل ایشیا، وسطی و مشرقی یورپ میں کل 50 کروڑ کے قریب عورتیں بانجھ ہیں۔

اسباب:

جو پیدایؑشی نہیں انکی تین بنیادی وجوھات ہیں پھر آگے ان کی کیؑ وجوھات ہو سکتی ہیں۔

  1. قاذف نالیوں میں رکاوٹ
  2. رحم کی وجہ سے
  3. سرویکس کی وجہ سے

ثانوی اسباب میں بڑھتی عمر، تمباکو نوشی، STDs، بہت موٹاپا، بہت لاغری، انگریزی ادویات، امینوتھراپی، سن یاس، سن یاس جلدی شروع ہونا، رحم اور اوری کا کینسر، رحم کے فایبرایؑڈ، دیگر بیماریاں، جینیاتی تبدیلی، پیچوٹری گلینڈ کے ایک 8 ھارمونز میں سے ھارمون ھایؑپو تھیلامس پیچوٹری کی رطوبت مییں کمی سے FSH, LH متاثر ہوتے ہیں۔ جبکہ Hyperprolactinaemia اس وقت بنتا ہے جب چھاتیوں میں دودھ پیدا ہونا ہو۔ اسی وجہ سے دوسری حمل قرار نہیں پا سکتا اور آیام رکے رہتے ہیں جبکہ نارمل حالت میں یہ علامات بانجھ پن پیدا کرتا ہے۔ تقریباً 33 اقسام کے جنز عورتوں میں بانجھ پن کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی دیگر بہت ساری وجوھات ہو سکتی ہیں جنکا علاج بھی ہو جاتا ہے۔

علامات:

اسباب کے مطابق علامات ہوتی ہیں۔

تشخیص:

اسباب کے مطابق تشخیص ہوتی ہے۔

غزا و پرہیز:

بانجھ پن کی کویؑ بھی وجہ ہو اعضاۓ ریؑسہ کو تقویت ضرور دیں۔ عورتوں کو خاص طور پر اپنی خوراک کو ٹھیک رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انکا تولیدی نظام زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ مرد سگریٹ پے لے تو اتنا نقصان دہ نہیں جتنا ایک عورت یا پھر حمل والی عورت تمباکو نوشی کرے۔ یہاں بھی اسباب کے مطابق غزا و پرہز کریں۔

عورتوں میں بارآوری 27 سال کی عمر سے ہی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے جبکہ اس میں 35 سال کے بعد تیزی آجاتی ہے۔ لہزا بیضہ کو freeze کروایا جا سکتا ہے۔

علاج:

  • اسباب دور کر کے یہ نسخہ تجویز کریں۔ شولنگی تخم پختہ 5 دانہ کو گڑ کے ساتھ 5 گولیاں بنا لیں۔ بعداز حیض 1 گولی روزانہ گاۓ کے دودھ کے ساتھ دیں۔ جب پانچ گولیاں کھا لیں تو مباشرت کریں۔
  • غسل کے بعد حبِ حمل 1 عدد، معجونِ موچرس 1 تولہ صبح کو جبکہ شام کو حبِ مروارید 2 عدد، عرقِ عنبر 3 تولہ، عرقِ گاؤزبان 7 تولہ، مصری 2 تولہ میں ملا کر دیں۔ علاوہ ازیں برادہ دندان فیل اور ریش برگد دونوں 2-2 ماشہ سفوف چند روز کھلایں۔ (حاذق)
  • حمل کی حفاظت کیلۓ معجون حمل عنبری علویخاں والی 5 ماشہ روزانہ حمل کے تیسرے ماہ سے کھلاتے رہیں۔ (حاذق)

کن عورتوں کے بچہ پیدا نہیں ہو سکتا؟

  1. جن عورتوں کے ماہواری نہیں آتی۔
  2. سن یاس کے بعد۔
  3. جن عورتوں کی Flopian Tubes بند ہوں
  4. جنکا بیضہ کمزور یا چھوٹا یا نہ بنے
  5. بیضہ دانی میں سست (cyst) کا ہونا
  6. رحم کا کینسر
  7. رحم کا فایؑبرایؑڈ (fibroid)
  8. ھارمون میں عدم توازن
  9. ایام میں عدم توازن
  10. فولاد کی کمی
  11. تھایؑرایؑڈ
  12. رحم کی اندرونی دیوار کا موٹا ہونا (Endometriosis)
  13. جنسی اعضاء کی ٹی بی یا انفیکشن
  14. پانی ملی چکناہٹ کا استعمال
  15. مناسب ٖغزا کی کمی
  16. پریشانی، تھکاوٹ، نیند کی کمی
  17. تمباکو نوشی، شراب نوشی
  18. ادویات کے برے اثرات
  19. موٹاپا
  20. آلودگی
  21. کیموتھراپی
  22. پیدایؑشی یا جینیاتی نقص

جنسی مسایؑل (مردانہ و زنانہ)

Pregnancy Test Kit

4- حمل کے مسایؑل

مرد ہو یا عورت دونوں کے تولیدی مادہ میں 46 کروموسوم 23 جوڑوں کی شکل میں ہوتے ہیں جبکہ ملاپ میں 23 مرد کے طرف سے جبکہ 23 عورت کی طرف سے ملتے ہیں۔ ڈاکٹر شیٹل کے مطابق آنے والے بچے کی جنس کا تعین کرنے والے کروموسوم کے جوڑے میں عورت کے کروموسوم xx اور مرد کے xy ہوتے ہیں۔ y کروموسوم لڑکی کے لیے ہوتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکیاں ہی پیدا ہونا مرد کی طرف سے ہوتا ہے۔ xx کا مطب لڑکا ہے اور یہ نشان بلیو فلموں پر بھی موجود ہوتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ویسے بھی حمل کے معنی گمان کے ہیں۔ مرد کے ہر بار انزال میں سپرم ہوتے ہیں جبکہ عورت کے مادہ تولید میں بیضہ صرف آیام ختم ہونے کے 14ویں دن ہی آتا ہے تب حمل قرار پاتا ہے۔

لڑکا پیدا کرنے کے لیے: یہ بات بھی یاد رکھیں کہ Y کروموسوم کمزور، چھوٹے مگر تیز ہوتے ہیں۔ لہزا ایک ٹوٹکہ تو یہ ہو سکتا ہے کہ گہرایؑ میں دخول کیا جاۓ، جبکہ X عورت کے بدن میں زیادہ عرصہ رہ سکتے ہیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عورت کے مادہ تولید اساسی ہوتی ہے جو سپرم کے لیے اچھی ہوتی ہے اس لیے بیضہ کے دونوں میں عورت اساسی غزا زیادہ کھاۓ۔

مفید معلومات براۓ حمل

  • ایک ماہ بعد جنین کی جسامت آدھا انچ یعنی مکھی سے تھوڑی بڑی اور وزن 28 گرام ہوتا ہے۔
  • چوٹھے ہفتے کے آخر میں دل، بازو، کان، ٹانگیں، مرکزی عصبی نظام جیسے بہت نازک اعضاء بننا شروع ہو جاتے ہیں۔
  • چار ماہ بعد جنس کا تعین ہوتا ہے اور حرکت نوٹ کی جاسکتی ہے۔ لڑکا ہو تو طویل اور لڑکی سے بھاری ہوتا ہے۔
  • جب تک وضع حمل نہیں ہو جاتا حاملہ کو اپنا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ جو اشیاء عام حالت میں کھاتی پیتی تھی اب ان میں سے 80٪ منع ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر گرم و تحریک دینے والی غزا, مسہل، قے آور، مدربول، اور ادویات تو بغیر معالج کے کھانی ہی نہیں چاۓ۔ پہلے 3 ماہ تو کودنے پھاندے اور پھسلنے سے احتیاط کرنی چاۓ۔
  • متعدی بیماریوں مثلاً خسرہ، چیچک، ہیضہ، طاعون، سرخ بخار وغیرہ سے بچنا چاۓ کیونکہ اس سے بچے کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
  • حمل کو چیک کرنے کے لیے stick بازار سے 20 روپے کی مل جاتی ہے وہ پیشاب سے چیک کی جاتی ہے۔
  • حمل کی مدت ماہ قمری 9 ماہ اور 12 دن ہوتی ہے مگر زیادہ تر 40 ہفتے سمجھنا چاۓ۔ وضع حمل کے بعد بھی 1 ہفتہ مکمل بیڈ ریسٹ کرنا چاۓ ورنہ رحم سے خون جاری ہو سکتا ہے اور رحم ہمیشہ کے لیے بڑھا ہوا رہتا ہے۔ 3 ہفتے تک کویؑ مشقت والا کام نہ کرے اور 1 ماہ تک سرد پانی نہ ڈالے ورنہ نفاس بند ہو کر بیمار ہو جاۓ گی، لہزا گرم پانی ھاتھ منہ دھونے کے لیے بھی استعمال کرے۔ پیدایؑش کے 6 گھنٹے تک پیشاب آنا چاۓ اگر دیر لگے تو پیڑو اور اندام نہانی کو گرمایؑش دیں۔ 24 گھنٹے تک اجابت ہونی چاۓ اگر نہ ہو تو روغن بید انجیر سوا تولہ دیں۔
  • وضع حمل کے بعد چھاتیوں میں دودھ آنے سے خفیف بخار آ جاتا ہے۔ پیدایؑش کے 6 گھنٹے تک بچہ کو دودھ پلانا شروع کر دینا چاۓ۔
  • حمل کے دوران کھانے پینے میں خاص احتیاط کرنے سے عادات سدھارنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بھی خام خیالی ہے کہ ڈبل کھانا چاےؑ۔
  • قدیم اطباء کے نزدیک کچھ رحم کی بیماریاں ایسی ہیں کہ صرف نپل مسلنے سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔
  • حاملہ کو فلو کی وہکسین لگوانی چاۓ یہ پہلے اور بعد میں بچے کی بھی حفاظت کرتی ہے۔ ویسے تو کالی کھانسی کی بھی لگ سکتی ہے مگر یہ معالج سےمشورہ کر کے لگوانی چاۓ۔ دونوں سرکاری طور پر مفت ملتی ہیں۔
  • اگر بچے کا سر پیلوک کی ہڈی میں ایڈجسٹ نہ ہو تو بیرونی مشقوں سے کوشش کرنی چایۓ۔ ڈاکٹر الٹراساؤنڈ کنٹرول روم میں بچے کی کلابازی لگواتا ہے۔ 37ویں ہفتے ایسا کرنا چاۓ تاکہ اپریشن سے جان چھوٹ جاۓ۔
  • اگر پہلا بچہ اپریشن سے ہو تو ضروری نہیں ہے کہ دوسرا بھی اپریشن سے ھی ہو۔ اپریشن صرف خاص حالات میں ہی کرنے چاۓ جیسا کہ جڑواں بچے، بچے کے وزن میں کمی یا کمزور بچہ بوجہ کسی بیماری۔
  • جن عورتوں کے بچے ساتویں مہینے کے بعد گر کر مر جاتے ہیں انکو ساتویں مہنے ہی پیدایؑش کروا لینی چاۓ۔ اور 2 سال کا وقفہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے رحم کی سابقہ عادت بچہ گرانے کی ٹوٹ جاۓ گی۔ نیز Viburnum prunifoliumپر مشتمل دوا 30 قطرے ہر 3 گھنٹے بعد تھوڑے سے پانی کے ساتھ کھلایں کیونکہ یہ اسقاطِ حمل کو روکتی ہے۔
  • رحم میں بچہ 16ویں ہفتے سے حرکت کرتا معلوم ہوتا ہے۔ بعض اوقات حرکات بہت زیادہ ہوتی ہیں اور بعض اوقات پورے حمل میں کویؑ حرکت نہیں ہوتی۔
  • فن لینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر حاملہ ماہ کا فری چیک اپ پورے ملک میں کیا جاتا ہے اور معلوماتی کتابچہ فری دیا جاتا ہے جس میں حمل سے پیدایؑش تک کے بارے میں تمام معلومات بہت آسان الفاظ میں لکھی ہوتی ہیں۔ ویسے بھی WHO کے مطابق 12ویں، 24ویں اور 36ویں ہفتے اپنا طبی معایؑنہ ضرور کروایں۔
  • جڑواں بچے پیدا ہونے کی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک یہ کہ دو بیضے پیدا ہو جایں تو دو نطفے علحدہ سے ہر بیضے کو بارآور کرتے ہیں اور اس سے لڑکا اور لڑکی پیدا ہوتے ہیں۔ دوسرے صورت میں جنین ہی دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اس میں دونوں کی جنس ایک ھی ہو گی۔
  • اگر بلڈ پریشر زیادہ ہے تو اپنا پروٹین ٹیسٹ کروایں اگر ٹیسٹ نارمل ہے تو فکر کی بات نہیں اور اگر بلڈ پریشر ہر ماہ زیادہ ہوتا جا رھا ہے اور ٹیسٹ میں پروٹین بھی زیادہ ہے اور ہاتھ پاؤں میں سوجن ہے تو یہ خطرناک ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر پیدایؑش کے قبل ہی اپریشن کر دیتے ہیں۔
  • اکثر ٹانگوں کی رگیں پھول جاتی ہیں لہزا تھوڑی دیر کے لیے کسی دیوار کے سہارے تھوڑی دیر اوپر رکھیں۔
  • ترقی یافتہ ممالک میں پہلے حمل میں وضع حمل کے دوران اندام نہانی میں چھوٹا سا کٹ ضرور لگاتے ہیں اسکے فایؑدے ہی فایؑدے ہیں اگر کٹ نہ لگایا جاۓ تو دگنی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

علاماتِ حمل

  • سب سے قبل آیامِ خاص رک جاتے ہیں۔ شازونادر عورتوں کو 3-4 ماہ تک حیض آتا رہتا ہے۔
  • حیض کا خون اب رحم میں لگنا شروع ہو جاتا ہے اور رحم بڑا ہو جاتا ہے۔ پیدایؑش کے بعد دودھ بننے مین لگتا ہے اسی لیے رضاعت کے دوران حیض نہیں آیا کرتا۔ پھر بھی شاز یہ حیض آنا شروع ہو سکتا ہے۔
  • اب پیشاب میں دشواری اور بار بار آتا ہے۔
  • حمل ٹھہرنے کے 1 ماہ سے 4 ماہ تک جی متلاتا ہے اور تھوک بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق متلی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپکے بچے کو مناسب خوراک مل رہی ہے۔
  • سب سے بڑی نشانی تھکاوٹ ہے جو پروجسٹرون کی زیادہ پیداوار سے ہوتی ہے۔
  • حمل کے ابتدایؑ دنوں میں ماں کے جسم کا دردجہ حرارت میں معمولی سا اضافہ ہو جاتا ہے۔

مسایؑلِ حمل

درجِ زیل نسخہ جات (حاذق) سے لیۓ گۓ ہیں۔

  1. اگر قبض ہے یا پھر نفح، گیس، کٹھی ڈکاریں اور بدہضمی ہو تو سونف 5 گرام، منقٰی بغیر بیج 9 دانہ، گلقند 4 تولہ کلایں اور اوپر سے آدھا گلاس نیم گرم پانی پلایں۔
  2. اگر تھوک بکثرت ہو تو 2 تولہ چھال کیکر آدھا سیر پانی میں جوش دے کر 2 ماشہ پٹکری ڈال کر کلیاں کرایں۔ جوارش مصطگی 7 ماشہ صبح کو دیں۔ مصالحہ دار غزاؤں سے پرہیز کرایں۔
  3. ابکایؑ بلکہ قے اور متلی بہت زیادہ آۓ تو شربتِ غورہ بار بار چٹایں۔ ساتھ سنگترہ کھلانا مفید ہے۔ سونف اور آلوبخارا 5-5 دانہ، عرق گاؤزبان 12 تولہ اور شربتِ غورہ 2 تولہ پلایں۔ 1 گرام روزانہ ادرک کھا کر یا اسکا قہوہ پی کر متلی دور کی جا سکتی ہے۔ نیز ناشتہ میں خشک اشیاۓ جسے بسکٹ کھایں
  4. اگر کھانسی ہو تو 1 تولہ لعوق سپستان یا شربتِ اعجاز 2 تولہ یا شربتِ خشخاش 2 تولہ تھوڑا تھوڑا چٹانے سے نفع ہوتا ہے۔
  5. اگر حاملہ کی دھڑکن بے ترتیب یا تیز ہو جاۓ تو تیز مصالحہ اور گرم اسیاء سے پرہیز اور نفخ نہ ہونے دیں۔ دل کی تقویت کے لیے دوپہر کو آملہ و سیب کا مربہ ورق نقرہ میں لپیٹ کر کھلانا چاۓ۔ شام کو عرق بید مشک 3 تولہ، عرق گاؤزبان 9 تولہ شربت انگور 2 تولہ میں ملا کر پینا چاۓ۔
  6. اگر نیند نہ آے تو دماغ پر روغن کدو اور روغن کاہو 6-6 ماشہ ملا کر مالش کریں۔
  7. حمل کے آخری ایام میں چونکہ بچہ بہت بڑا ہو کر معدہ کو دباتا ہے تو حاملہ کو بدۃضمی اور جلن ہو جاتی ہے۔ اگر دودھ موافق ہو تو پی لیں یا دہی کھایں یہ جلن دور کرتا ہے۔ لیزا ایک دفعہ مکمل کھانے کی بجاۓ تھوڑا تھوڑا کھایں۔ ساتھ ایؑرن اور وٹامن کسی اچھی کمپنی کی لے سکتی ہیں۔ زایؑد تکیے لگا کر سویں۔ جلن کے لیے انگریزی ادویات لی جاسکتی ہیں مثلاً Gelusil یا Tricil دو گولیاں چوسیں۔
  8. اگر خارش جلد میں شروع ہو جاۓ تو 1 ماشہ کافور کو سرسوں کے تیل میں مکس کر کے رکھ لیں نہانے کے بعد لگایں اور خاض طور پر سوتے وقت لگایں۔

مردانہ و زنانہ جنسی مسایؑل کی تفصیل دیکھیں۔

جنسی مسایؑل (مردانہ و زنانہ)

Menses Cup

اسقاطِ حمل

اگر کسی وجہ سے حمل کے 7 ماہ سے قبل جنین خارج ہو جاۓ تو اسے اسقاطِ حمل کہتے ہیں۔ عموماً پہلے 3 ماہ میں اسقاط ہوا کرتا ہے اور پہلے تین مہنے میں چانس زیادہ ہوتے ہیں۔ اسقاط میں بھی وضع حمل جیسی تکالیف پیش آتی ہیں۔ اگر پہلے حمل گر چکا ہو تو بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر 50٪ حمل میں خود ہی اسقاط ہو جاتا ہے جبکہ بعد والے مہنوں میں یہ تناسب 15٪ سے 30٪ تک ہو سکتا ہے۔

اسباب: اچھلنا، کودنا، گرنا، وزنی چیز اٹھانا، ھارمون میں تغیر، ماں باپ کے بلڈ گروپ میں فرق، دل یا گردوں کی بیماری، سیڑیاں چڑھنا، دشور سفر کرنا، جسمانی کمزوری، کمی خون، پیٹ پر چوٹ، خوف و دہشت، کثرتِ مجامعت، تیز مسہل کی استعمال، آتشک، سوزاک، منشیات، امراض رحم، زیابطیس، تھایرؑایڈ، ھارمون کے توازن میں بگاڑ، مدافعت نظام میں ہلچل، بڑی عمر میں حمل قرار پانا۔

علامات: خون جاری ہو جانا جو بعد میں زیادہ ہو جاۓ، شدید اکڑاؤ، پیٹ درد، بخار، کمزوری، کمر درد۔ اگر تو اسقاط میں رحم مکمل خالی ہو جاۓ تو کسی دوا کی ضرورت نہں۔ دوسری صورت میں خاص نالی ڈال کر رحم کو صاف کیا جاتا ہے۔ سفر کے دوران بہت زیادہ پانی پیں۔

علاج: اگر خون کم آۓ اور درد خفیف ہو تو حمل باقی رہنے کی امید کی جاسکتی ہے۔ حاملہ کو آرام سے لٹایں اور ہلنے جلنے سے منع کر دیں۔ خون روکنے والی ادویات خارجی اور داخلی طور پر دیں۔ گیرو اور سنگجراحت 1-1 ماشہ پیس کر مربہ آملہ کے ساتھ کھلایں۔ اس کے بعد حبِ الآس، بیخ انجبار، تخم خرفہ سیاہ ہر ایک 3 ماشہ، عرقِ گاؤزبان 12 تولہ میں پیس کر شربتِ خشخاش 2 تولہ کے ساتھ پلایں۔ (حاذق) 

Viburnum prunifoliumپر مشتمل دوا کھایں کیونکہ یہ اسقاطِ حمل کو روکتی ہے۔

اگر خون زیادہ ہو تو روکنا نہیں چاۓ۔ جن کو حمل بار بار گر جاتا ہو تو وہ معجون حمل عنبری علوی خاں والی 5 ماشہ کھلاتے رہیں اور 40 دن تک حرکات سے بچیں۔

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

مانع حمل (Birth Control or Contraception)

غیلہ یہ ہے کہ بندہ اپنی عورت سے اس مدت میں جماع کرے کہ وہ ابھی دودھ پلاتی ہے” (جامع ترمزی 277)

بعض اوقات والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو کویؑ ایسی بیماری ہے کہ آگے نسل میں منقل ہو سکتی ہے یا ماں حمل کی مشکلات نہیں سہ سکتی یا معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ یا بچے ابھی چھوٹے ہیں یا پھر دیگر وسایؑل یعنی جگہ کم ہے بہرحال یاد رہکھیں کہ مانع حمل ادویات کے بہت خطرناک ضمنی اثرات ہوتے ہیں۔ اسکے درج زیل طریقے رایؑج ہیں۔

1۔ کنڈوم: یہ سب سے عام اور نسبتاً سستا طریقہ ہے۔ برتھ کنٹرول کے علاوہ دیگر متعدی بعماریاں جیسے کہ STDs بھی نہیں لگتی۔ آج کل ملایؑشیا سے بہت سستے کنڈوم آتے ہیں تقریباً 100 کا پیکٹ 120 کا مل جاتا ہے۔ دھیان رہے کہ بعض عورتوں کو سستے اور غیر معیاری کنڈوم سے انفیکشن یا الرجی بھی ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ میں ربڑ کے کنڈوم بھی مل جاتے ہیں۔ کامیابی کا تناسب 95٪ ہے۔ اگر کنڈوم پھٹ جاۓ تو Gynonil Tab نامی 2 گولیاں لی جا سکتی ہیں اس سے 3-6 روز میں حیض کا خون آ جاۓ گا بعض کو 15 دن بعد بھی آتا ہے اگر پھر بھی نہ آۓ تو معالج سے رابطہ کریں اور باقاعدہ حمل قرار پانے کے بعد نہ لیں۔

2۔ نین پیسری کی ٹکیہ: اندام نہانی میں رکھ لی جاتی ہے اور یہ سپرم کو ختم کر دیتی ہے۔ پھر بھی یہ مکمل اور محفوظ طریقہ علاج نہیں ہے۔ کامیابی کا تناسب 80٪ ہے۔ غریب لوگ اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ کنڈوم سے تھوڑا مہنگا طریقہ ہے۔

3۔ اسفنج کا طریقہ: اعلیٰ درجہ کا اسفنج اخروٹ سے تھوڑا بڑا لے کر اخروٹ کی طرح گولایؑ میں کاٹ لیں اور ابال کر صاف کرلیں۔ دھاگہ کے ساتھ باندھ کر جب مباشرت مقصود ہو تو پانی کے ساتھ تھوڑا تر کر کے اندام نہانی میں رکھیں۔ یہ سپرم کو رحم کے منہ تک جانے سے روکے گی اور آلا تناسل میں محسوس بھی نہ ہو گی۔ بعد از دھو کر آیؑندہ کے لیے رکھ لیں۔ اسکے علاوہ انگریزی جھاگ (foam) اور جل بھی مل جاتی ہے۔ بہرحال یہ طریقہ 78٪ تک کامیاب ہے۔

4- کیسٹر آیؑل کا طریقہ: مرد اپنے سر قضیب کو کیسٹر ایؑل سے تر کر کے دخول کرے۔ بہت مناسب طریقہ ہے۔

5۔ عزل کا طریقہ: اس طریقہ میں بوقتِ انزال قضیب نکال لیا جاتا ہے۔ یہ بھی 100٪ محفوظ طریقہ نہیں ہے۔

6. ھارمونل طریقہ: اس طریقہ میں ھارمون کے زریعے حمل روکا جاتا ہے۔ یہ خطرناک ہے۔ کیونکہ انگریزی ادویات کے بہت سارے خطرات ہوتے ہیں خاص کر کینسر تک صورتِ حال پہنچ جاتی ہے۔

7۔ بیضہ فریز کروانا: یہ طریقہ فی الحال پاکستان میں نظر نہیں آیا۔ اس طریقہ میں عورت کے بیضہ کو فریز کر کے سٹور کر لیا جاتا ہے پھر بعد میں نارمل حالات میں بچے کی پیدایؑش کی جاتی ہے۔ 2018 تک پوری دنیا میں کویؑ 20،000 بچے پیدا کیے گۓ ہیں اور یہ طریقہ خاص طور پر ان عورتوں کے لۓ موزوں ہے جنکو رحم یا سرویکس کا کینسر ہو مگر بیضہ دانی سے دھڑادھڑ انڈے آرۓ ہوں۔

اسکے عللاوہ دیگر بہت سارے طریقے ہیں مگر وہ یا تو مشکل ہیں یا پھر ہمارے معاشرے میں عورتیں استعمال کرنے سے شرم محسوس کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ ان سے دیگر پیچیدگیاں جنم لے کر زندگی کو روگ بنا دیتی ہیں۔

مردانہ عضو کے زریعے

زمانہ قدیم میں روم اور برطانیہ میں ایک خاص چھلا fibula مرد کے عضو کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ مباشرت سے بچ سکے اور اسکو پاکبازی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعض قبایؑل کے رسومات میں subincision کی رسم ہے جس میں مردانہ عضو کے نیچے سے پیشاب کی نالی کو کاٹ کر کھلا کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کینسر یا کسی دوسری وجہ کے عضو کو ہی کاٹ دیا جاتا ہے تاکہ حمل قرار نہ پاۓ۔

شہوت کم کرنا: عورت فطرتاً سرد مزاج واقع ہویؑ ہے اس لیے مرد کی طرح شہوت پرست نہیں۔ چونکہ عورت تاطع ہے اس لیے مرد کے مجبور کرنے پر امادہ ہو جاتی ہے لیکن سرد مزاج ہونے کی وجہ سے جلد انزال نہیں ہوتا۔ پھر بھی آج کل کے ماحول میں بڑھی ہویؑ شہوت کم کرنے کے لیے کافور 4 رتی، گوند کتیرہ 1 ماشہ، گل سرخ 2 ماشہ، باریک پیس کر پانی سے 1 ہفتہ استعمال کرایں۔

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

احتیاطِ حمل

کچا دودھ، کچی غزا، کچی سمندری خوراک، کچا گوشت، پھپھوندی لگی ڈبل روٹی، مصنوعی چینی نہ کھایں بلکہ تازہ دودھ میں بھی سونف الایؑچی ڈال لیں۔ کچی سبزیاں خوب دھو کر کھایں۔ تمباکو نوشی اور شراب نوشی تو زہر ہیں۔ جبکہ انگریزی میڈیکل کے مطابق تھوڑی مقدار میں چاۓ اور کافی پی سکتے ہیں جبکہ ایورودیک کے مطابق یہ دونوں استعمال نہ ہی کریں۔ فوڈ سپلیمنٹ لینے کی بجاۓ تازہ پھل اور سبزیاں دھو کر کھایں۔ حمل کے دوران جنسی تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں اگرچہ معالج نہ کسی سبب کی وجہ سے منع نہ کیا ہو۔ کبھی کبھار بالوں کو رنگنے کے لیے کھلی ہوا میں جایں۔ دوایں صرف معالج کے مشورے سے کھایں۔ گھر کے کام اور مناسب ورزش کی جا سکتی ہے۔ جدید ریشرچ کے مطابق حمل کے دوران بہت زیادہ وٹامن اے بچے کی جسمانی ساخت کو متاثر کرتا ہے لہزا بہت زیادہ کلیجی نہ کھایں۔ جبکہ نمک سوجن کرتا ہے۔ کافی اور مونگ پھلی سے بھی اجتناب کریں۔ سفر کے دوران بہت زیادہ پانی پیؑں۔

وضع حل

اگر آپ اپنے بچے کو گیس سے بچانا چاہتی ہیں تو ایسی چیزوں خود نہ کھایں جن سے گیس بنتی ہو مثلاً دالیں، گوبھی، مونگ پھلی وغیرہ۔ فیڈر کے پل کا چھوٹا سوراخ پیٹ میں گیس بناتا ہے۔ دودھ پینے کے دوران تھوڑی تھوڑی دیر بعد بچے کو کمر پیچے ھاتھ پھیر کر ڈکار دلوایں۔ اگر ٹھوس غزا دینا شروع کی ہے تو فی الحال بند کر دیں۔ کھانا کھلانے کے فوراً بعد کھیلنے نہ دیں۔ دن میں اکثر بیڈ پر الٹا لیٹایں تاکہ وہ گردن اٹھانے کی مشق کر سکے۔ ڈاکٹر لوگ چوسنی سے اجتناب کرواتے ہیں۔

اگر دردِ زہ میں تکلیف زیادہ ہو اور بچہ پیدا نہ ہو رھا ہو تو 2 تولہ تلسی کے پتے آدھ سیر پانی میں جوش دیں جب پانی آدھ پاؤ رہ جاۓ تو 2 تولہ دیسی گھی اور چینی ملا کر گرم دیں۔ بچہ بغیر تکلیف کے تھوڑی دیر میں پیدا ہو جاۓ گا۔ کویؑ ڈاکٹر یہ دایہ یہ نہیں کیہ سکتی کہ فلاں دن بچہ پیدا ہو گا یہ علم صرف خدا کے پاس ہے۔ اسی لیے کبھی جلدی نہین کرنی چاۓ اور 1-2 ہفتے انتظار کرنا بہتر ہے۔

بعض عورتوں میں دایہ کی ٖغفلت یا کسی اور سبب سے انول کی آلایؑشیں رحم میں رہ جایؑں تو پیٹ درد، اپھارہ، اس حالت میں جو بخار آتا ہے اسے پرسوتی بخار کہتے ہیں۔ اسکی علامات اور علاج وہی ہیں جو کہ سردی یا بھیگنے سے حیض بند ہو جاۓ۔ ناگ کیسرا، اسگندھ، پپلی ہر ایک 1 تولہ۔ سنگرف اور میٹھا تیلیہ مدبر 6-6 ماشہ ادرک کے پانی میں پیس کر بقدر دانہ چال چنا گولیاں بنا لیں۔ صبح شام 1-1 گولی پانی کے ساتھ دیں۔

آخری ایام میں اندام نہانی سے سفید مادہ زیادہ نکلتا ہے کیونکہ یہ بچے کی پیدایؑش کے قریب ہونے کی نشانی ہے۔ عام سادے پانی سے صاف رکھیں۔ وضع حمل کے لیے اوپر والی دعاپڑھیں۔ بچہ کی پیدایؑش کے فوراً بعد آپکو ایام کا خون آے گا جو کہ صفایؑ کا موجت ہوتا ہے اگر بہت زیادہ خون آۓ تو اسکا مطلب ہے کہ آپکو انفیکشن ہے۔

اگر آپکا بچہ بے چین ہے اور سونے میں دشواری محسوس کر رھا ہے تو اسے تھوڑا سا پیناڈول سیرپ پلا سکتی ہیں۔ اگر ہلکی پھلکی الرجی ہے تو پورے جسم پر نرم ھاتھوں سے سرسوں کا تیل مالش کریں۔ ناروے میں مین نے خود دیکھا ہے کہ بچے کو سلانے کے لیے تمام رہشنیاں بالکل بند کر دیتے ہیں پھر بچہ خود ہی سو جاتا ہے۔ دودھ ہمیشہ دونوں چھاتیوں سے باری باری پلایں۔ جڑواں بچوں کے لیے آپکو زیادہ خوراک کی ضرورت ہو گی۔ کوشش کریں اپنا دودھ دیں ورنہ گاۓ کا دودھ دیں۔

بعض اوقات کسی بیماری دوسری وجہ کہ سپرم اور بیضہ کا رحم سے باہر ملاپ کروایا جاتا ہے۔ 5 دن بیرونی ماحول میں رکھا جاتا ہے پھر اسکے بعد ماہ یا کسی دوسرے عورت کی رحم میں جنین منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اسکو انگریزی میں IVF) Invitro fertilization) کہتے ہیں۔ جیسا کہ نیچے تصویر میں دیکھایا گیا ہے۔

Blausen 0060 AssistedReproductiveTechnology.png


 

5- شرمگاہ کی خارش

(Vulvar Pruritus)

یہ کسی ثانوی بیماری کی وجہ سے ہو سکتی ہے مثلاً سیلاب زدہ علاقہ اور کپڑے و موسم، انفیکشن، HPV، کسی غزا کے لگنے سے، فنگس (candidal) کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ دیگر اسباب میں سیلان الرحم، فتورِ حیض، زیابطیس، سوزاک، زیر ناف بال کی گندگی وغیرہ۔

علاج: متاثرہ مقام کو صابن سے دھو کر روغن گل، روغن بنفشہ، ہر ایک 1 تولہ، کافور 1 ماشہ، کتھ سفید 3 ماشہ، گل ارمنی 1 ماشہ باریک پیس کر ملا کر لگایں۔

پرہیز: گرم، ترش، مصالحہ، گڑ سے پریز کرایں۔ ٹھنڈے پانی کے چھنٹے ماریں۔ ہلکی زود ہضم غزا مکھن دے سکتے ہیں۔


6۔ پستانوں کے امراض

بعض ممالک میں چھوٹی چھاتیاں پسند کی جاتی ہیں جبکہ دوسرے ممالک میں بڑی۔ ہم یہاں وہ مسایؑل بیان کریں گے جس میں جسامت بہت زیادہ چھوٹی یا بڑی ہو جاۓ۔ کبھی چربی اور بلغم کی زیادتی اور بعض دفعہ خاندانی اثرات کی وجہ سے پستان بڑھ جاتے ہیں۔ اگر دورانِ خون کی زیادتی سے ہو تو سرخی کی علامات پایؑ جاتی ہیں۔

پستان کا بڑا ہونا: لٹکاؤ سے بچیں اگر دورانِ خون کی زیادتی سے ہو تو مازو سبز اور کھریا مٹی 1-1 تولہ، سفید کاشغری اور بزرالنیح 6-6 ماشہ ان سب کو سرکہ میں پیس کر لیپ کریں۔ کھانے کے لیے مازہ سبز 6 ماشہ، تمر ہندی 3 ماشہ، پوست انار 3 ماشہ، شکر سرخ 2 تولہ سفوف بنایں اور 1-1 تولہ صبح شام پانی کے ساتھ دیں۔ اگر بلغم کی زیادتی اور فرہبی سے ہو تو خبث الحدید 1 گولی، جوارش جالینوس7 ماشہ کے ساتھ صبح شام دیں۔ سفوف مہزل 3 ماشہ تازہ پانی کے ستھ دیں۔ چھونے ملنے سے پرہہز کریں تنگ انگیا پہنیں۔ بادی اور ثقیل چیزوں سے دور رہیں۔ (حاذق)

پستان کا چھوٹا ہونا: مغرب میں چھوٹے پستان خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ عموماً زیادہ چھوتے ہونے سے دودھ کم ہو سکتا ہے۔ اسکے اسباب میں اعضاۓ تولیدی میں نقص، کمزوری، لاغری، خلطی سدے، خشک مزاج اور فسادِ خون شامل ہیں۔ اگر رگوں میں سدہ ہو تو بادیان، تخم کثوث، دونوں 5-5 ماشہ پوٹلی میں باندھ کر برنجاسف 3 ماشہ، دار چینی 3 ماشہ سب کو رات کو پانی میں بھگو دیں۔ صبح کو گرم کر کے خمیرہ بنفشہ 4 تولہ کے ساتھ دیں۔ (حاذق)

اگر لاغری سے ہو تو مغز بادام شریں 5 دانہ، کتیرا 6 ماشہ، نشاستہ 6 ماشہ، چینی 1 تولہ کوٹ چھان کر سفوف بنا لیں 1 تولہ صبح اور 1 تولہ شام بکری کے دودھ کے ساتھ دیں۔ بھینس کی چربی چند روز مالش کریں۔

اگر گرمی خشکی کی وجہ سے ہو تو دودھ مٰن دیسی گھی ڈال کر پلاتے رہیں۔ اور ساتھ اوپر والا نسخہ دیں۔ اگر پیدایؑشی ہو تو علاج مشکل ہوتا ہے۔

پستان کا ڈھیلا ہونا: عموماً دودھ کم بنتا ہے بدن موٹایا لاغر، بادی اور پھولا ہوا ہوتا ہے۔ اسکی وجہ بلغم کی زیادتی، دورانِ خون کا پستان کی طرف نہ ہونا، دودھ کم اترنا، حمام کا کثرتِ استعمال وغیرہ شامل ہیں۔

علاج: اگر دودھ زیادہ پلانے سے ہو تو دودھ چھڑا دیں۔ روغن مصطگی کی مالش کریں۔ یہ روغن زیادہ مفید ہے۔ ترش انار کے پتے، اندرونی زرد گودے، پھولوں اور چھال سب کو 2-2 تولہ لے کر 3 پاؤ پانی میں بھگو کر صبح جوش دیں۔ جب چوتھای رہ جاۓ تو روغن کنجد 5 تولہ ملا کر نرم آگ کر پکایں جب پانی خشک ہو جاۓ اور تیل باقی رہ جاۓ تو تھنڈا کر کے حفاظت سے رکھیں۔ حسبِ ضرورت پستانوں پر مالش کریں۔ مرطوب، بادی، تھنڈی اشیاء سے بچیں۔ پستانوں کو سہارا دیں۔

جنسی مسایؑل (مردانہ و زنانہ)

Persona Ovulation Contraception Monitor

دودھ کا پستانوں میں ٹھہر جانا

ایسا ایک جاننے والے کے ساتھ ہو چکا ہے اسکی بیوی کے دودھ کے دودھ بکثرت اترنے سے پستانوں میں ٹھہر گیا پھر کامیاب اپریشن سے مسؑہل حل ہو گیا۔ بعض اوقات کسی ضرب سے، بلغم کی زیادتی سے، گاڑھا ہونے سے، رسولیوں سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اسکا سواۓ اپریشن کے حل نہیں مگر لقمانی گایؑڈ نسواں میں ایک نسخہ لکھا ہے وہ قاریؑن کی نظر کرتا ہوں۔ ناگر موتھ بکری کے دودھ میں گس کر ضماد کریں۔ مگر یہ ابتدایؑ صورتوں میں کریں۔

دوسرا ٹوٹکا برسٹ پمپ کا استعمال کریں پہلے گرم پانی سے ٹکور کر لیں۔ جب تک افاقہ نہ ہو بچے کو دودھ نہ دیں۔ غیر ضروری دبایں نہیں بلکہ صرف نپل کے ساتھ پمپ لگا کر کریں۔ اگر پمپ میسر نہ ہو تو کھالی بوتل کو دبا کر چھوڑیں تو خلا پیدا ہو جاتا ہے اسے نپل پر لگا دیں۔

جب دودھ نکل آۓ تو گاڑھا پن ہے تو اسکے لیے گل بابونہ، خشک پودینہ، تخم حلبہ، تخم خطمی، تخم کتاں ہر ایک 1 تولہ سب کو پانی میں جوش دے کر اسی سے تکمید (سینکیں) اور نطول (گرم پانی ڈالنا) کریں۔ یا کینچوے خشک صاف شدہ پانی میں جوش دے کر اسے پیس کر روغن نرگس ملا کر ضماد کریں۔ یہ خون کی نالیوں ڈھیلا کرتا اور رسولیوں کو تحلیل کرتا ہے۔ دہی پنیر سے دودھ جم جاتا ہے۔  (حاذق)

عام حالت مین پستان سوجھ جایں تو برف کے ٹکٹے ایک شاپر میں گوبھی کے پتوں کے ساتھ رکھ کر پستانوں پر 20 منٹ رکھیں۔ اگر یہ مسؑلہ سردی کی وجہ سے ہے تو گرم پانی کی ٹکور کریں اور دودھ زیادہ پلایں تاکہ سوجن کم ہوتی جاۓ۔

پستان کی خارش: اگر کسی خلط کی زیادتی کی وجہ سے ہو تو اسکا علاج کریں۔ اگر جلن اور سرخی زیادہ تو یہ سفوف صبح شام دیں۔ پودینہ خشک، بادیان، مصطگی، دانہ الایؑچی، کسنیز خشک، مکوہ خشک، زیرہ سفید، سیاہ مرچ، سیاہ نمک، سہاگہ بریاں ہر ایک 6 ماشہ۔ (حاذق)

پستان کا ورم: ابتداۓ ورم میں برگ کاسنی سبز، برگ مکوہ سبز 2-2 تولہ کوٹ کر روغن گل و سرکہ 6-6 ماشہ ڈال کر ضماد کریں۔ اگر فساد خون کی وجہ سے  ہو تو روغن قسط 1 تولہ میں 4 رتی زعفران ملا کر ضماد کریں۔ اگر سوداوہ ہو تو بادیان 5 ماشہ، عناب 5 دانہ، گاؤزبان 6 تولہ، عرق ماءالجبن 6 تولہ پیس کر شیرہ نکال کر عمراہ سربت عناب 4 تولہ پلایں۔ (حاذق)

پستانوں میں دودھ کی کمی: ستاور، زیرہ سفید 1-1 تولہ، مغز پنبہ دانہ3 تولہ، شکر 5 تولہ، سفووف بنایں۔ 6 ماشہ ہمراہ شیر گاؤ صبح شام دیں۔ یا تخم سویا باریک کر کے گندم کے دلیے کے ساتھ پکا کر دیں۔ یا زیرہ سفید، تودری سفید اور ستاور ہموزن لے کر چینی ملا کر پیس لیں۔ 1تولہ ہمراہ شیرگاؤ دیں۔

پستانوں میں دودھ کی زیادتی: اگر کسی وجہ سے دودھ روکنا ہو تو لاکھ 6 ماشہ، مردار سنگ 6 ماشہ، گل روغن 2 تولہ کوٹ چھان کر پستانوں پر لگایں۔ یا گاچنی مٹی کا لیپ کریں۔


جنسی مسایؑل (مردانہ و زنانہ)

Pregnancy Test Strips Kit Combo (50 LH + 20 HCG)

8۔ شادی کے مسایؑل

شادی کے متعلق مسایؑل، رسومات وغیرہ کے لیے سماجی جہالت میں تفصیل دیکھیں۔

 

9- بڑھاپا اور جنسی زندگی

اس میں کویؑ شک نہیں کہ عورت کی جنسی زندگی ماردوں سے کم ہوتی ہے کیونکہ سن یاس 50 سال سے 55 سال تک آنے کے بعد اولاد پیدا نہیں کر سکتی۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہں ہے کہ اسکی جنسی خواہش بالکل نہیں ہوتی۔ البتہ کافی سارے جنسی یا سیکس ھارمون پیدا ہونا بند ہو جاتے ہیں کیونکہ حیض کا خون اور بیضہ دانی سے بیضہ نہیں آتا جسکی وجہ سے پرہجسٹرون،LH, FSH اور دیگر ھارمون پیدا نہیں ہوتے۔ اس عمر میں جنسی خواہش بہت کم ہو جاتی ہے اور جنسی اعضاء میں تحریک نہیں رہتی۔

بوڑھی عورتوں کے ساتھ جنسی فعل سے انکو تکلیف پہنچتی ہے اسے انگریزی میں Vaginismus کہتے ہیں۔ جدید سایؑنس کی ترقی کی وجہ سے ھارمون تھعراپی سے جنسی تحریک بڑھاکر سن یاس کے اثرات کو تھوڑا کم کیا گیا ہے۔

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases

عورتوں کی بیماریاں Women Sexual Diseases (بشکریہ وکی پیڈیا)

 


 

اسکے علاوہ جنسی تعلقات سے درج زیل بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

  • chlamydia
  • chancroid
  • crabs, also known as pubic lice
  • genital herpes
  • genital warts
  • hepatitis B
  • (human immunodeficiency virus (HIV
  • human papillomavirus (HPV)
  • molluscum contagiosum
  • syphilis, gonorrhea
  • trichomoniasis, or trich
  • optionforsexualhealth.org
  • مفیدالنساء والصبیان
  •  دورانِ حمل اور بچے کی پیدایؑش – دارالسلام

 

 

 

 

 

 

 

 

 


ماخوذ

  • اذدواجی خوشیاں از پروفیسر ارشد جاوید
  • ویکی پیڈیا wikipedia.org
  • لقمانی نسواں گایؑڈ
  • حاذق از خکیم اجمل خان
  • livestrong.com
  • webmd.com
  • india times
  • رہنماۓ جوانی از پروفیسر ارشد جاوید

Comments are Closed